Home احکام شریعت فضائل عشرہ ذی الحجہ و مسائل قربانی

فضائل عشرہ ذی الحجہ و مسائل قربانی

0
فضائل عشرہ ذی الحجہ و مسائل قربانی
فضائل عشرہ ذی الحجہ و مسائل قربانی

پیش کش مفتی غفران رضا قادری فضائل عشرہ ذی الحجہ و مسائل قربانی

فضائل عشرہ ذی الحجہ و مسائل قربانی

اسلامی سال کاآخر ی مہینہ ذی الحجہ رواں دواں ہے، ان مبارک گھڑیوں میں ہم نے قدم رکھ دیاہے، ماہ ذی الحجہ کی فضیلت قرآن وحدیث سے ثابت ہے، اس مہینہ کی عظمت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتاہے کہ ماہ ذی الحجہ اشہر حرم میں سب سے افضل مہینہ ہے

بخاری شریف میں ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن کے بارے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے، ان ایام میں اللہ تبارک وتعالی کونیک اعمال دوسرے ایام کی بنسبت زیادہ پسندیدہ ہیں، اس مہینہ کی عظمت فضیلت کے لئے پیارے آقا کایہ مبارک فرمان کافی ہے

جب کہ قرآن میں بھی اللہ تبارک وتعالی نے ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتوں کی قسم کھائی ہے، جواس کی فضیلت و عظمت و شان و جلالت و اہمیت و افادیت اور قدر و منزلت پر وارد  ہیں

 ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ماہ ذی الحجہ کے پہلےعشرہ میں ایک دن روزہ رکھنے کا ثواب سال بھرروزہ رکھنے اور ایک رات عبادت کرناشب قدر میں عبادت کرنے کے برابر ثواب ہے۔

کیاعشرہ ذی الحجہ

کیا عشرہ ذی الحجہ رمضان کے اخیر عشرہ سے بھی افضل ہے؟۔

پیارے آقا و مولیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا مبارک فرمان بخاری شریف میں یہ ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں عبادت کرنا اللہ تبارک وتعالی کو دیگر ایام کے بنسبت زیادہ پسندیدہ ہے

تواب سوال یہ پیداہوتا ہے کیا عشرہ ذی الحجہ کو رمضان کے اخیر عشرہ پر بھی فضیلت حاصل ہے،تواس کا جواب دیتے ہوئے مشہور محدث حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ نے مرقات المفاتیح میں فرمایا،عشرہ ذی الحجہ اوررمضان کے آخری عشرہ کی افضیلت کے سلسلہ میں علماء کااختلاف ہے

آگے قول فیصل بیان کرتے ہوئے  حضرت ملاعلی قاری رحمۃ اللہ نے فرمایا، رمضان کا آخری عشرہ رات کے اعتبار سے افضل ہے کیونکہ رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر ہے اور شب قدر تمام راتوں سے افضل ہے، اور عشرہ ذی الحجہ دن کے اعتبار سے افضل ہے، کیوں کہ عشرہ ذی الحجہ میں یوم عرفہ ہے، اور عرفہ کا دن تمام دنوں پرفضیلت رکھتاہے، خلاصہ یہ نکلا یہ جوایام گامزن ہیں دن کے اعتبار سے یہ رمضان کے آخری عشرہ پر بھی فضیلت رکھتاہیں، لہذا ان بابرکت ایام کی قدردانی کریں۔

قربانی کس پر واجب؟

 ہمارےامام صاحب حضرت سیدنا و مرشدنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک صاحب نصاب شخص پر قربانی واجب ہے، قربانی کانصاب وہی ہے جوزکوہ کانصاب ہے، دونوں میں بس فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ میں اس مال پر سال کاگزرنا شرط ہے

جب کہ قربانی کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ جوشخص ایام نحر میں صاحب نصاب ہو، اس پرقربانی واجب ہے، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کے وجوب قربانی کے سلسلہ میں مضبوط دلائل ہیں، ابن ماجہ شریف کی روایت میں فرمایا جو شخص صاحب حیثیت ہو، قربانی کی استطاعت رکھتا ہو اور پھربھی قربانی نہ کرائے توہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے اور ایک دوسری حدیث میں ہے جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی اس کی قربانی ہی نہیں ہوئی وہ شخص قربانی کااعادہ کرے

اس حدیث سے بھی ثابت ہواکہ قربانی واجب ہے، کیونکہ اعادہ کاحکم وجوب کے لیے دیاجاتاہے، اسی لئے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ نے فرمایا، نصاب کے مالک شخص پر قربانی واجب ہے، نصاب سے مراد ساڑھے باون تولہ چاندی یاساڑھے سات تولہ سونا یاان دونوں کی قیمت کامالک ہو، توقربانی واجب ہے

ایسے ہی اگر سونے کانصاب تومکمل نہیں ہے لیکن ساتھ میں کچھ چاندی یاپسیہ ہو تواسے چاندی کے نصاب میں منتقل کیاجائے گا اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مقدار کوپہنچ جائے تب بھی قربانی واجب ہے

مثلاً کسی کے پاس چارتولہ سوناہے ساتھ کچھ چاندی یاروپیہ ہے، تواب سب کوچاندی کے نصاب کی طرف منتقل کیاجائے گا اگر سونا اورروپیہ مل کر چاندی کے نصاب کوپہنچ جائیں توقربانی واجب ہوگی۔

افکار رضا اس کتاب کو خریدنے کے لیے کلک کریں

فضائل عشرہ ذی الحجہ و مسائل قربانی
فضائل عشرہ ذی الحجہ و مسائل قربانی

قربانی صرف جانور کی مقصودنہیں

قربانی کی حیثیت کے سلسلہ میں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ تمہارے باپ ابراھیم کی سنت ہے، سوال کرنے کامقصد یہ تھا، قربانی صرف ہماری امت میں ہے یا ہم سے پہلے جو لوگ تھے، ان کے لئے بھی قربانی کاعمل تھا

 چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کاطریقہ ہے،حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کےرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اس میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہربال کے عوض نیکی ہے

 لیکن یہ ثواب تبھی ہے جب اللہ کی رضا کے لئے ثواب کی امید سے قربانی کی گئی ہو نام نمود ریاکاری کے لئے یا گوشت کھانے کے ارادے سے قربانی کی تونہ ذمہ سے وجوب ساقط ہوگا اور نہ ہی اس پر کوئی ثواب ملے گا، فقہاء نے قربانی کی جوتعریف کی ہے اس میں قربت کی شرط لگائی ہے،  حضرت علامہ امام شامی رحمۃ اللہ فتاوی شامی میں فرماتے ہیں۔

فلاتجزئ التضحیہ بدونہا لان الذبح قدیکون للحم وقدیکون للقربہ والفعل لایقع قربہ بدون   فتاوی شامی جلد ۹.صفحہ۴۵۶۔

یعنی بغیر ثواب کی امیدکے قربانی کرناکافی نہیں اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ کبھی ذبح گوشت کھانے کے ارادہ سے کیاجاتاہے اورکبھی ثواب کی نیت سےاور نیت کے ذریعہ ہی ممتاز ہوگا، اب نیت کامسئلہ یہ ہے کہ اگر خریدتے وقت نیت کرلی تب بھی کافی ہے اور سورہ حج میں خود اس کااعلان کردیا کہ اللہ کےیہاں گوشت اور خون نہیں پہنچتابلکہ تمہارے دلوں کاتقویٰ خداکے یہاں پہنچتاہے، قربانی کا ثواب تبھی ہے، جب رضائے الہی کے لئے ذبح کیاجائے۔

جانور کوقربان کرناضروری

البتہ قربانی کاتعلق جانور سے بھی جڑاہواہے، ہماراعمل باعث ثواب تبھی بنے گا، جب ہم جانور کواللہ کی راہ میں قربان کریں، علامہ شامی رحمۃ اللہ نے فتاوی شامی میں اس بات کی صراحت کی ہےکہ اگر کوئی شخص قربانی کے جانور کی قیمت قربانی کے ایام میں صدقہ کردے تواس سے اس کے ذمہ سے قربانی کاوجوب ساقط نہیں ہوگا، کیونکہ شریعت نے جس فعل کوجس طرح مشروع کیاہے اس کی ادائیگی اسی طرح ضروری ہے

لہذاان لوگوں کااعتراض دفع ہوگیا کہ جانورکوذبح کرنے کی کیا ضرورت غریبوں کوروپیہ صدقہ کردیاجائے، قربانی میں نیت کی اصلاح کے ساتھ ساتھ خوش دلی کے ساتھ فربہ جانور کے ذبح کرنے کا حکم ہے۔

جیسا کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے چلتے کچھ کم فہم یا گورنمنٹ کے چمچے ہمیشہ حالات کا رونا رو کر بھولی بھالی قوم کو  ٹھگنے والے افراد کی پوسٹس سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں اللہ پاک ان کو ہدایت دے یا ایسے ٹھیکداروں سے امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے آمین

خبردار ایسے لوگوں پر کوئی دھیان نہ دے بلکہ ہر سال کی طرح اس سال بھی قربانی کرے قانون کے دائرے میں رہ کر ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیں امید ہے ہماری قوم کے علماء کرام جو شریعت مطہرہ کے پاسبان ہیں قوم کا درد رکھنے والے ہیں وہ ضرور حکومت وقت سے مل کر مشاورت کریں گے اور کوئی لائحہ عمل ضرور نکالیں گے

تکبیر تشریق

ایام تشریق جوکہ ۹ ذی الحجہ سے تیرہویں ذی الحجہ کے ایام کوکہا جاتا ہے، تشریق کہنے کی وجہ ہے، اہل عرب ان ایام میں گوشت سکھاتے تھے، تشریق کےمعنی گوشت سکھانے کے ہیں، اس لیے ان ایام کوایام تشریق کہاجاتاہے، نویں ذی الحجہ کی فجر سے لے کرتیرہویں ذی الحجہ کی عصرتک بلند آواز سے تکبیر تشریق یعنی

 اللہ اکبراللہ اکبرلاالہ الااللہ واللہ اکبراللہ اکبروللہ الحمد

 ہرنماز کے بعد مردوعورت منفرد اورمسبوق ہر شخص کے لئے واجب ہے، البتہ عورتیں تکبیر آہستہ کہیں گی۔

قربانی پہلے دن افضل

قربانی پہلے دن کرنا افضل ہے، اور خود اپنے ہاتھ سے کرنا بہتر ہے اگر ذبح شرعی پرقادر ہو، ورنہ دوسرے سے کراسکتاہے۔

فضائل عشرہ ذی الحجہ و مسائل قربانی
فضائل عشرہ ذی الحجہ و مسائل قربانی

قربانی کا پیغام

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے، اللہ تبارک وتعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو طرح طرح کے امتحان میں مبتلاکیا، آزمائش کے طور اللہ تبارک وتعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کواپنے فرزند ارجمند جومدتوں بعد بڑھاپے کی عمر میں وجود میں آئےتھے، اس کوذبح کرنے کا حکم دیا، یقینا یہ امتحان بہت ہی مشکل تھا لیکن اللہ کے احکام پوری طرح بجا آوری کرنے والے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مشکل امتحان میں بھی کامیابی حاصل کی

اللہ تبارک وتعالی کو حضرت کایہ عمل اس قدر پسند آیا کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قربانی کے عمل کومشروع کیا، تاکہ قربانی کرنے والے کے ذہن میں یہ واقعہ ہو، قربانی کامقصد یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی راہ میں ہرلمحہ خواہ وہ کتناہی مشکل امر ہو اس کے لئے تیاررہناچاہیے، اللہ تبارک وتعالی ہم سب کواپنی مرضیات پرچلائے…

آمین یارب العالمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

خادم مشن قطبِ اعظم ماریشس و افریقہ و خلیفہ مجاز

حضور تاج الشریعہ محمد غفران رضا قادری رضوی

بانی دارالعلوم رضا ۓ خوشتر و جامعہ رضاۓ فاطمہ قصبہ سوار

ضلع رامپور انڈیا

اس کو بھی پڑھیں کیک کاٹ کر عید منانے میں کتنا بڑا خسارا ہے

بک کرنے کے لیے کلک کریں

Bigbasket  Havells   Flipkart  FirstCry

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here