Homeحالات حاضرہآج کے چترویدی خطیب اور وید و پران سے استدلال کا المیہ

آج کے چترویدی خطیب اور وید و پران سے استدلال کا المیہ

آج کے چترویدی خطیب اور وید و پران سے استدلال کا المیہ

از: محمد صادق مصباحی
مہراج گنج


آج کل کے چترویدی خطیبوں کا حال یہ ہے کہ چند اشلوک رٹ کر محفلوں میں دھاک جماتے ہیں۔ اور بقیہ خطبا زمانہ کا حال بھی ان سے بہت الگ نہیں ہے۔ علم و تحقیق کی گہرائی اور قرآن و حدیث سے استدلال کے بجائے محض غیر مانوس اشلوک پڑھ کر عوام کو مرعوب کرنا ایک فیشن بن گیا ہے۔
حکمت کا “ضالۃ المؤمن” ہونا مسلم ہے، اس سے کسے انکار! حدیث پاک میں حکمت کو مومن کی گمشدہ چیز کہا گیا ہے۔
مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر کس و ناکس غیروں کی ویدوں اور پرانوں میں سر کھپائے، خود گم راہ ہو اور دوسروں کو بھی گم راہ کرے۔ حکمت سے مراد وہ اچھی بات ہے جو حق کے موافق ہو، نہ کہ باطل مذاہب کی گمراہ کن تعلیمات کو منبر پر سجانا۔
یاد رہے کہ کچھ اچھی اور حکمت کی باتیں ہر دھرم کی کتاب میں مل جائیں گی، خواہ وہ قادیانی کی کتاب ہو یا یہود و نصاریٰ کی یا ہنود کی! مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہر عام و خاص کے لیے ان کتابوں کو پڑھنا دیکھنا درست ہو جائے۔ زہر میں بھی کبھی شفا کی تاثیر ہو سکتی ہے مگر اس کے لیے
زہر کو عام غذا نہیں بنایا جا سکتا۔
اہل علم و تحقیق اگر دفاعِ اسلام اور اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے ان کا علم حاصل کریں تو ماجور بھی ہوں گے۔ یہود کی زبان سیکھنے کا حکم خود حدیث سے ثابت ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی زبان سیکھنے کا حکم دیا۔
تو مقصد اگر ردِ باطل اور اظہارِ حق ہو تو یہ علم محمود ہے، ورنہ مذموم۔
مگر تجربہ شاہد ہے کہ آج کے چترویدی حضرات کا یہ ایک پیشہ اور دھونس جمانے کا ہتھیار بن کر رہ گیا ہے۔ اس فکر کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔ قرآن و حدیث کی آیات و احادیث یاد کرنے میں محنت لگتی ہے جبکہ دو چار اشلوک یاد کر کے “محقق” کہلانا آسان ہے۔
اس کے دو بہت بڑے نقصانات ہیں:
الف: علماے حق کی بے وقعتی: وید اور پران سن کر عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اصل عالم اور قابل یہی حضرت ہیں، بقیہ علما جو قرآن و حدیث سے استدلال کرتے ہیں، ان کی وہ وقعت عوام کی نظر میں نہیں ہوتی۔
ب: مصادرِ شرع سے بے اعتنائی: اور ساتھ ہی عوام کی نگاہ میں اِن کتابوں کی اہمیت بیٹھتی جاتی ہے۔ اور یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ مصادرِ شرع یعنی قرآن و سنت سے بے اعتنائی ہو اور فرضی کتب کی محبت دل میں بیٹھ جائے!
لہٰذا اعتدال یہ ہے کہ جہاں حاجت و ضرورت ہو، یا سامعین میں غیر مسلم بھی ہوں، جنھیں اسلام کی جانب رغبت دلانا مقصود ہو، یا اہل علم کی مجلس ہو جن کا ان سے متاثر ہونے کا خطرہ نہ ہو تو
وہاں بقدرِ ضرورت پیش کرنے میں حرج نہیں۔
ورنہ ہر محفل میں ضرورت بلا ضرورت وید و پران کی اڑان سے بچنا ہی چاہیے۔ یہی تقویٰ اور دینداری کا تقاضا ہے

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.in/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن