تحریر: مولانا عبد الکمال عطاری قادری تعارف اولیاے احمد آباد
تعارف اولیاے احمد آباد
ٓاللّٰہ تبارک و تعالٰی نے اپنے نبی آدم علیہ السلام کو ہندوستان کی سرزمین پر بھیجا اور حضرت آدم علیہ السلام کی پیشانی میں نورِ مصطفی بھی تھا تو یوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہندوستان میں سب سے پہلے آئے اور یوں ہندوستان کو سارے جہاں سے اچھا کہا
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
اسی ہندوستان میں ایک ایسا شہر ہے جو ہندوستان میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے اس کا نام احمدآباد ہے جی ہاں! احمدآباد ایک تاریخی شہر ہے اور یہاں پر اولیاے کرام کے مزارات بکثرت ہیں اسی لیے اس کو مدینۃ الاولیا بھی کہا جاتا ہے
احمدآباد شہر کو مظفر شاہ کے پوتے سلطان احمد نے آباد کیا واقعہ کچھ اس طرح ہےکہ سلطان گجرات کو فتح کرنے کے بعد یہاں کے ایک قصبہ اشاول میں سکون پزیر رہے اور آپ کو یہاں کے دریائے سابرمتی کی فضا کافی اچھی لگی اور آپ نے یہاں ایک شہر بسانا چاہا اور آپ اولیاے کرام سے کافی محبت کرتے تھے
اسی لیے آپ اس ارادے کو لے کر یہاں کے ایک بزرگ احمد شاہ کھٹو کے پاس گئے جن کا مزار آج سرخیز میں موجود ہے اور شیخ احمد شاہ کھٹو نے آپ کے اس ارادے کو سن کر فوراً اپنی زبان مبارک سے یہ کلمات ادا کۓ ( بارک اللہ فی اراد تک) اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس احمدآباد کو چار احمد نامی بزرگوں نے بسایا جن کے نام یہ ہیں
۔ 1. حضرت شیخ احمد کھٹو( سرخیز)
۔2.حضرت سلطان احمد(تین دروازہ)
۔3.حضرت ملک احمد( کالوپور)
۔4.حضرت قاضی احمد( پٹن)۔
ان چاروں بزرگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی عصر کی سنتیں کبھی فوت نہ ہوئی
آئیے اب ہم بات کرتے ہیں یہاں کے مشہور اولیاے کرام کے بارے میں جن کی فہرست درج ذیل ہے
۔1 شاہ عالم
۔2 قطب عالم
۔3 شاہ وجیہ الدین
۔4 موسی سہاگ
(حضرت محمد بن قطب عالم معروف بشاہ عالم)شیخِ طریقت،اَمیرِ اہل سنت،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ان دونوں تختوں ( جو حضرت شاہ عالم کی مسجد میں معلق ہیں) کے مسجد کے دائیں کونے میں مُعَلَّق ہونے کے متعلق اِرشادفرمایا کہ) ۔
حضرتِ سیِّدُنا شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ بَہُت بڑے عالمِ دِین اور پائے کے ولِیُّ اللہ تھے۔
آپ نہایت ہی لگن کے ساتھ علمِ دِین کی تعلیم دیتے تھے۔ ایک بار بیمار ہو کر صاحبِ فِراش ہوگئے اور پڑھانے کی چھٹیاں ہوگئیں۔ جس کا آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بے حد افسوس تھا۔ تقریباً چالیس دن کے بعد صحّت یاب ہوئے اور مدرَسے میں تشریف لا کر حسبِ معمول اپنے تخت پر تشریف فرما ہوئے۔ چالیس دن پہلے جہاں سبق چھوڑا تھا وَہیں سے پڑھانا شروع کیا۔
طلبا نے متعجب ہو کر عرض کی:حُضُور! آپ نے یہ مضمون تو بَہُت پہلے پڑھا دیا ہے۔ گزشتہ کل تو آپ نے فُلاں سبق پڑھایا تھا !یہ سُن کر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ فورًا مُراقِب ہوئے۔ اُسی وقت سرکارِ مدینہ،قرارِقلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی زِیارت ہوئی۔
سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لبہائے مُبارَکہ سے مشکبارپھول جھڑنے لگے اور اَلفاظ کچھ یوں ترتیب پائے:’’شاہِ عالَم! تمہیں اپنے اَسباق رہ جانے کا بَہُت افسوس تھا لہٰذا تمہاری جگہ تمہاری صورت میں تخت پر بیٹھ کر میں روزانہ سبق پڑھا دیا کرتا تھا۔
جس تخت پر سرکارِ نام دار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تشریف فرما ہوا کرتے تھے اب اُس پر حضرتِ قبلہ شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کس طرح بیٹھ سکتے تھے لہٰذا آپ فورًا تخت پر سے اُٹھ گئے۔ تخت کو یہاں مسجد میں مُعَلَّق کر دیا گیا۔اس کے بعد حضرتِ شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کے لیے دوسرا تخت بنایا گیا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کے وِصال کے بعد اُس تخت کو بھی یہاں مُعَلَّق کر دیا گیا۔
آج بھی کئ عقیدت مند آپ کے مزار پر حاضری دینے کے بعد ان تختوں کے نیچے نوافل ادا کر کے دعا کرتے ہیں یہاں دُعا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس مقام پر دُعا قبول ہوتی ہے۔ پیرِ طریقت حضرتِ علّامہ مولانا قاری محمد مُصلح الدِّین صِدِّیقی قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کو میں نے فرماتے سنا ہے
مُصنِّفِ بہارِ شریعت،صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے ہمراہ مجھے احمدآباد شریف میں حضرت سیِّد شاہِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کے دَربار میں حاضری کی سعادت حاصِل ہوئی ان دونوں تختوں کے نیچے حاضر ہوئے اور اپنے اپنے دِل کی دُعائیں کر کے جب فارِغ ہوئے تو میں نے اپنے پیر و مرشِد حضرتِ صدرُ الشَّریعہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ سے عرض کی
حُضُور! آپ نے کیا دُعا مانگی؟ فرمایا:’’ہر سال حج نصیب ہونے کی۔‘‘میں سمجھا حضرت کی دُعا کا مَنشا یہی ہو گا کہ جب تک زندہ رہوں حج کی سعادت ملے۔
لیکن یہ دُعا بھی خوب قبول ہوئی کہ اُسی سال حج کا قصد فرمایا۔ سفینۂ مدینہ میں سوار ہونے کے لیے اپنے وطن ضِلع اعظم گڑھ قصبہ گھوسی سے بمبئی تشریف لائے۔ یہاں آپ کو نُمونیہ ہو گیا اور سفینے میں سُوار ہونے سے قبل ہی آپ وفات پا گئے۔ وہ دُعا کچھ ایسی قبول ہوئی کہ آپ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قِیامت تک حج کا ثواب حاصِل کرتے رہیں گے۔
خود صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب’’بہارِ شریعت‘‘حصَّہ 6 صفحہ 1034 پر یہ حدیثِ پاک نقل فرمائی ہے کہ۔
رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: جو حج کے لیے نکلا اور فوت ہو گیا تو قِیامت تک اُس کے لیے حج کا ثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کے لیے نکلا اور فوت ہوگیا اُس کے لیے قِیامت تک عمرہ کرنے کا ثواب لکھا جائے گا
اور جو جہاد میں گیا اور فوت ہو گیا اس کے لیے قِیامت تک غازی کا ثواب لکھا جائے گا۔(ماخوذ از رسالہ قطب عالم کی عجیب کرامت) اے ہم شبیہ رسول اعظم بر تخت شما رسول اکرمدیاں کرے تھے کئ دنوں تک جنابِ عالی خطاب عالی
حضرت قطب عالم رحمۃ اللّٰہ علیہ امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں
احمدآباد (ہند) ہی میں’’وَٹوا‘‘کے مقام پر حضرتِ سیِّدی قُطبِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے مَزار پر بھی حاضِری کا شرف حاصل ہوا۔ وہاں اینٹ نُما ایک عجیب و غریب چیز ہے جس کا بعض حصَّہ پتھر ، بعض لوہا، بعض لکڑی ہے جبکہ کچھ حصَّہ وہ ہے جسے آج تک شناخت نہیں کیا جا سکا۔
اس ضِمن میں حضرتِ سیِّدی قُطبِ عالَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کی یہ کرامت مشہور ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تہجد کے لیے اُٹھے اور طہارت کی غرض سے اپنے حُجرۂ مبارَکہ سے باہر تشریف لائے اندھیرے میں آپ کا مبارَک پاؤں کسی چیز سے ٹکرایا۔ آپنے جھک کر اُس کو ٹَٹولتے ہوئے فرمایا:’’پتھر ہے! لکڑی ہے! لوہا ہے! نہ جانے کیا ہے؟
جہاں جہاں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ کا دَستِ مبارَک لگتے ہوئے جو جو اَلفاظ زبانِ اَقدس سے نکلے وہ چیز وُہی بنتی گئی اور جہاں ہاتھ مبارَک رکھتے ہوئے فرمایا:’’نہ جانے کیا ہے؟
وہ حصَّہ ایسی چیز بن گیا کہ سائنسدان تجربات کرنے کے باوُجود بھی اُس حصّے کو کوئی نام نہ دے سکے۔ لوگ اپنی مُراد ذِہن میں رکھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اُس اینٹ نُما شَے کو اُٹھاتے ہیں۔کہا جاتا ہے اگر مُراد برآنی ہو تو وہ شے بآسانی اُوپر تک اُٹھ جاتی ہے ورنہ نہیں۔میں نے بھی اُسے اُوپر اُٹھا لیا تھا اورمیری یہ نیّت تھی کہ مجھے اس سال حج کرنا ہے۔
چوں کہ میں اسے اُٹھانے میں کامیاب رہا اس لیے میں نے کہا اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی سال حج نصیب ہو گا اور ظاہِر ہے حج کرنا ہے تو اس سے پہلے موت بھی نہیں آئے گی تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسی سال ۱۴۱۸ ھ میں حج اور زیارتِ مدینہ منوّرہ کی سعادت مل گئی ۔تمہارے مُنہ سے جو نکلی وہ بات ہو کے رہیکہا جو دن کو کہ شب ہے تو رات ہو کے رہی(ایضاً)
حضرت شاہ وجیہ الدین گجراتی
بیٹھا ہوں ترے در پر اے شاہ وجیہ الدین
ہو نظر کرم مجھ پر اے شاہ وجیہ الدین
فرما کے کرم مجھ پر دینا مجھے چشمِ تراے کاش مرے یاور اے شاہ وجیہ الدینزبدة المحققین، مفسر، محدث، فقیہ، اصولی، متکلم، ملک العلماء والمشائخ، استاذ الاساتذہ، استاذ الهند، سید المدرسین، حضرت سید شاہ احمد وجیہ الدین علوی الحسینی گجراتی احمدآبادی رحمة اللہ تعالی علیه کی ذات بابرکات بے شمار صوری و معنوی فضائل کا مجموعہ تھی۔
آپ کا نسب مبارک حضرت امام سیدنا محمد تقی الجواد رضی اللہ تعالی عنہ پر منتہی ہوتا ہے۔ آپ کے جد امجد حضرت سید بہاء الدین مکی قدس اللہ سرہ ہند میں تشریف لائے۔ اس سے قبل آپ کے مورث اعلی ملک یمن مقام حضرموت میں مسکن کزیں تھے۔
لیکن جب مکہ معظمہ قیام ہوا تو مکی مشہور ہوئے۔ ایک روز سید بہاء الدین خانہ کعبہ میں مراقب تھے۔ اسی عالم میں جناب سرور کائنات رسالت پناہ حضرت احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا – ائے فرزند ملک ہند میں جاؤ۔ [ تذكرة الوجیه، ص 25 ]
۔2 نام و نسب آپ کا اسم گرامی احمد اور لقب وجیہ الدین ہے اور اسی لقب سے آپ خلق خدا کے درمیان مشہور ہوئے بلکہ علما و مشائخ بھی آپ کو اسی لقب سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔ آپ کا نسب نامہ اس طرح ہے سید وجیه الدین احمد بن قاضی سید نصر اللہ
بن قاضی سید عماد الدین بن قاضی سید عطاء الدین بن قاضی سید معین الدین بن سید بہاء الدین بن سید کبیر الدین بن قاضی سید ظہیر الدین بن قاضی سید شمس الدین بن قاضی سید بدر الدین بن قاضی سید علم الدین بن قاضی سید بہاء الدین بن سید جمال الدین بن سید احمد بن سید احمد منتخب بن سید علی مرتضی بن سید محمد عریض بن سید احمد مبرقع بن سید موسی بن سیدنا امام محمد جواد تقی بن سیدنا امام علی رضا
بن سیدنا امام موسی کاظم بن سیدنا امام جعفر صادق بن سیدنا امام محمد باقر بن سیدنا امام زین العابدین بن سیدنا امام حسین شہید کربلا بن سیدنا امیر المؤمنین مولی المسلمین حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ ورضی اللہ عنہم اجمعین
اس طرح آپ کا نسب نامہ حضرت سید الشہداء سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوتا ہوا پچیس واسطوں سے حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم تک جا ملتا ہے [ حضرت شاہ وجیہ الدین علوی گجراتی شخصیت اور کارنامے، ص 14 تا 15 ]
۔ 3 تعلیم و تربیت آپ نے ایک علمی گہوارے میں آنکھیں کھولیں اور اپنے گرد و پیش خوش نما علمی ماحول دیکھا، لہذا بچپن ہی سے آپ کی طبیعت علم کی طرف مائل تھی۔ چناں چہ آپ نے کم سنی ہی میں قرآن مجید حفظ کر لیا بعدہ علوم دینیہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اساتذہ وقت سے پورے شوق اور لگن کے ساتھ تحصیل علم میں مصروف ہو گئے۔
علوم عربیہ کی بیشتر کتابیں اپنے چچا حضرت مولانا سید قاضی شمس الدین قدس سرہ سے پڑھیں اور کچھ کتابیں اپنے ماموں شاہ بڑا بن ابو القاسم سے بھی پڑھیں، اس طرح آپ اپنے چچا اور ماموں دونوں کے علمی وارث اور امین بن گئے۔
اور کتب احادیث کا درس شیخ محدث ابو البرکات بنبانی عباسی قدس سرہ سے قراءتا اور سماعتا لیا۔ علاوہ ازیں ملک المحدثین علامہ محمد بن محمد مالکی مصری ( متوفی 929ھ ) شاگرد رشید حضرت علامہ حافظ شمس الدین سخاوی ( متوفی 902ھ ) سے علوم حدیث میں سند تکمیل حاصل کی اور علوم عقلیہ کی تعلیم فاضل اجل حضرت علامہ مولانا عماد الدین طارمی ( متوفی 941ھ )۔
شاگرد رشید حضرت علامہ مولانا جلال الدین محمد بن اسعد صدیقی ( متوفی 918ھ ) معروف بہ محقق دوانی سے حاصل کی۔
اس وقت حضرت علامہ عماد الدین کی درسگاہ کا ہر طرف شہرہ تھا، اور دور دور سے طالبان علم آ کر آپ کی بارگاہ سے علمی تشنگی بجھاتے تھے، حضرت شاہ وجیہ الدین نے بھی آپ کے علمی سر چشمہ سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور معروف خطیب و مفسر قرآن حضرت علامہ مولانا ابو الفضل گاذرونی سے بھی علوم و فنون خصوصا تفسیر کا درس لیا۔
اور آپ کا طریقہ تھا کہ دوران درس علامہ گاذرونی جو نکات بیان کرتے تھے، آپ اسے لکھ کر محفوظ کر لیا کرتے تھے اور تفسیر بیضاوی پر علامہ کے حواشی آپ ہی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں۔[ حضرت شاہ وجیہ الدین علوی گجراتی شخصیت اور کارنامے، ص 30 تا 31 ]
۔4 درس و تدریس عرصہ دراز تک علوم و فنون کی تحصیل کے بعد، آپ نے درس و تدریس کی انجمن آراستہ کی اور ایک درسگاہ کی بنیاد رکھی جس کا نام “مدرسہ علویہ” رکھا۔ اس وقت صوبہ گجرات پر سلطان بہادر شاہ کی حکمرانی ( 932 تا 943ھ ) تھی۔
آپ انتہائی جانفشانی سے طالبان علم نبوت کو درس دینے لگے اور آپ کے علم و فضل اور خداداد قابلیت و استعداد کا جوہر خود بخود نمایاں ہونے لگا اور مدرسہ دن بہ دن ترقی کرنے لگا۔ مدرسہ کا نظم و نسق نہایت عمدہ تھا۔
تعلیم کے ساتھ آپ طلبہ کی اخلاقی، دینی اور روحانی تربیت فرماتے۔ دن میں تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، منطق، فلسفہ، ہیئت، غرضیکہ جملہ علوم نقلیہ وعقلیہ کی تعلیم ہوتی اور رات میں جب آپ اذکار و اوراد سے فارغ ہوتے تو طلبہ کی نگرانی فرماتے، ان کے احوال اور ضروریات معلوم کرتے اور روحانی حقائق و دقائق کو دلنشیں اسلوب میں بیان کرتے۔
اس طرح سے تلامذہ علمی کمالات کے ساتھ حسن عمل اور حسن اخلاق سے بھی آراستہ ہوتے اور جس طرح آپ کے علمی فیضان سے مالامال ہوتے اسی طرح روحانی انوار سے بھی مستفیض یوتے۔ ان تمام خوبیوں کے باعث ہر طرف آپ کی درسگاہ کا شہرہ ہو گیا
اور دور دراز سے بے شمار تشنگان علوم اور طالبان علم نبوت آ کر آپ کی درسگاہ فیض سے خوب فیض یاب اور سیراب ہوئے اور علم و فضل کے آفتاب و مہتاب بن کر نکلے، جن میں بہت سے اسی مدرسہ میں درس دینے پر مامور ہو گئے جن میں آپ کے فاضل فرزند گرامی بھی شامل تھے اور بیشتر تلامذہ آپ کے علمی فیضان کو عام کرنے کے لیے اکناف عالم میں پہنچے۔
اور ہند سے لے کر عرب تک کی سرزمین کو علوم و معارف کے انوار سے روشن کر دیا۔ اور 80 تلامذہ نے اپنے اپنے مقامات پر ادارے قائم کر کے زندگی، درس و تدریس کے لیے وقف کر دی۔ اس طرح آپ کے مدرسہ کی شاخیں، آپ کے تلامذہ کے ذریعہ جگہ جگہ قائم ہو گئیں اور مختصر سے وقت میں آپ کی درس گاہ اعلی نے اپنے دور کی عظیم یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرلیا۔
اس کی سند تمام علماے عصر کے نزدیک بہت معتبر اور مستند سمجھی جانے لگی۔ حکومت کی طرف سے مدرسہ کی تعمیر جدید کروائی گئی، طلبہ کے رہائش و آسائش کا معقول انتظام کیا گیا، ان کے وظائف روزانہ مقرر کیے گئے اور ایک طبیب بھی علاج و معالجہ کے لیے رکھا گیا۔ [ حضرت شاہ وجیہ الدین علوی گجراتی شخصیت اور کارنامے، ص 41 تا 42 ]
۔ 5 تبحر علمی اور نبوی عطا و نوازش حضرت شاہ وجیہ الدین علوی کے بھتیجے سید شاہ ہاشم علوی کے ملفوظات “مقصود المراد” میں ہے کہ بائیس سال کی عمر میں ایک سو بیس علوم و فنون حاصل ہو چکے تھے۔ [ حضرت شاہ وجیہ الدین علوی گجراتی شخصیت اور کارنامے، ص 37 ]۔
عبد القادر بدایونی رقم طراز ہیں : ہمیشہ دینی علوم کی درس و تدریس میں ۔مشغول رہتے تھے۔ تمام عقلی و نقلی علوم پر ان کو قدرت اور عبور حاصل تھا۔ چنانچہ صرف ہوائی سے لے کر قانون و شفا، شرح مفتاح اور عضدی جیسے کتابوں میں شاید ہی کوئی ایسی کتاب ہوگی جس پر انہوں نے شرح یا حاشیہ نہ لکھا ہو۔ ایک مخلوق ان کے علمی افادہ سے فیض اٹھاتی تھی [ منتخب التواریخ ( اردو )، ص 584 ] ۔
شیخ عبد القادر عیدروس حضرمی لکھتے ہیں : وہ صاحب علم و زہد میں سے تھے۔ انہیں لوگوں میں بڑی مقبولیت اور ہر دلعزیزی حاصل تھی۔ طلبہ نے آپ سے بہت سے فنون میں نفع اٹھایا اور اس کی بڑی شہرت ہے۔ [ النور السافر عن أخبار القرن العاشر، ص 582 ] ۔
خواجہ نظام الدین احمد بخشی رقم طراز ہیں : ہر وقت درس دیا کرتے تھے۔ علوم نقلی و عقلی سے خوب آگاہ تھے۔ عمدہ تصنیفات آپ کی ہیں اور اکثر علمی کتابوں پر آپ نے شروح و حواشی لکھے ہیں۔ [ طبقات اکبری، جلد 2، ص 483 ]۔
علامہ عبد الباقی نہاوندی جنہوں نے آپ سے استفادہ بھی کیا ہے، رقم طراز ہیں : ہندوستان کے اکثر متبحر علما میاں صاحب موصوف سے شاگردی کا تعلق رکھتے ییں۔ اس زمانے کے فضلا میں کوئی بھی جامعیت میں ان کی ہمسری نہیں کر سکتا[ مآثر رحیمی، حصہ سوم، ص 17 تا 18 ] ۔
ملا صادق لکھتے ہیں : شیخ وجیہ الدین قدس سرہ اپنے زمانے کے علمائے کبار میں ہیں۔ صاحب تقوی اور بڑے محتاط۔ شریعت کے راستے پر مضبوطی سے قائم رہنے والے تھے۔ ہمیشہ درس و افادہ میں مشغول رہتے۔ [ طبقات شاہ جہانی ( اردو )، ج 1، ص 312 ]۔
حضرت علامہ عماد الدین طارمی ڈھائی سو علوم و فنون جانتے تھے اور آپ کی حیات تک حضرت شاہ وجیہ الدین نے آپ سے 125 علوم حاصل کیے تھے اور بقیہ علوم کے رہ جانے کا انہیں کافی قلق اور غم تھا۔
ایک روز خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ائے فرزند! غم مت کر، جتنے علوم تمہارے استاذ کو معلوم تھے، ان سے تیس زائد علوم ہم تمہیں عنایت کرتے ہیں۔ اور ایک کاغز بھی عطا کیا جس پر ان سارے علوم کے نام درج تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب میری آنکھ کھلی تو وہ کاغز میرے ہاتھ میں تھا۔
اس کے بعد ان علوم میں سے جس علم کی طرف میں متوجہ ہوتا تو ایسا معلوم ہوتا کہ برسوں سے اس علم کا درس دیا ہوں۔ اور اس کاغز کو آپ بہت حفاظت سے رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ ان تمام علوم پر آپ کو عبور حاصل ہو گیا تو وہ کاغز گم ہو گیا۔ [ روضة الاولیاء بیجاپور، ص 109 ]
۔6 ذوق مطالعہ آپ کو مطالعہ کتب سے بے حد درجہ شغف تھا اور بیشتر اپنے فاضل اوقات کو کتب بینی میں گزارتے تھے اور اسی مطالعہ کی برکت سے آپ کا سینہ علوم و معارف کا مخزن بن گیا۔
آپ کے ذوق مطالعہ سے شیخ عبد القادر ایک انتہائی حیرت انگیز اور چشم دید مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت شاہ وجیہ الدین علوی کے نکاح کی تقریب تھی اور آپ کو نوشہ بنا کر باراتیوں کے مجمع کثیر کے ہمراہ آپ کی زوجہ کے دولت خانہ پر لے جایا گیا
اور ہندوستان میں قدیم زمانے سے یہ رائج ہے کہ دولہا اور دلہن کو ایک عالی شان اور آراستہ تخت پر بٹھایا جاتا ہے پھر خویش و اقارب، باپ دادا سے چلی آئی کچھ رسوم ادا کرتے ہیں۔ ٹھیک اس وقت آپ کہیں چلے جاتے ہیں اور لوگ ان رسوم کی ادائگی کے لیے آپ کو تلاش کرتے ہیں، مگر تلاش بسیار کے باوجود آپ کہیں نہیں ملے
بالآخر وہ سب آپ کے والد گرامی کے پاس آئے اور پوچھا کہ نوشہ کہاں ہے؟ کافی دیر سے جستجو جاری ہے مگر کہیں اتا پتا نہیں ہے۔ حضرت سید نصر اللہ نے فرمایا کہ میرا فرزند علم کا اتنا شائق ہے کہ شمار اور بیان سے باہر ہے۔
میں پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ مدرسہ کے علاوہ وہ کہیں نہیں جا سکتا، تم ان کے مدرسہ میں جاؤ، ان شاء اللہ انہیں وہیں پاؤ گے کچھ لوگ آپ کے مدرسہ میں جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آپ انتہائی انہماک کے ساتھ کتابوں کا مطالعہ کر رہے تھے۔ [ حضرت شاہ وجیہ الدین علوی گجراتی شخصیت اور کارنامے، ص 39 ][ گلزار ابرار ( اردو )، ص 408 تا 409 ]
۔7 – بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کے درس کی عظمت اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اخیر عمر میں آپ کا ارادہ ہوا کہ درس و تدریس کا سلسلہ موقوف کر دیں اور مدرسہ کی ادارت اور نظامت سنبھالیں۔
مگر سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیبی اشارہ فرمایا کہ ہم اکثر تمہارے درس سننے کی خاطر تشریف لاتے ہیں لہذا اس کو ترک نہ کرو۔
اس مژدہ جانفزا کو سن کر آپ نے اخیر عمر تک درس جاری رکھا اور مدرسہ کا نام “درس محمدی” رکھا۔
اس طرح کامل چونسٹھ سال تک آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ [ روضة الاولیاء بیجاپور، ص 110، قدیم نسخہ ]۔
درس کی پابندی آپ کے درس کی یہ خصوصیت بھی قابل ذکر ہے کہ جب آپ نے درس دینا شروع کیا، آخر عمر تک صرف چار مواقع ایسے پیش آئے کہ کچھ روز تک درس موقوف رہا۔ جس کی مثال تاریخ میں بہت کم ملے گی۔ [ تذکرة الوجیه، ص 42 ]
۔8 زہد و تقوی آپ اپنے والد کی عظمت و جلالت شان کے باوجود ان کے یہاں کا کھانا نہیں کھاتے تھے اور خود ہی کسب معاش کر کے اپنا گزارہ کرتے تھے۔ عرصہ تک کسی کو اس کی خبر نہ ہوئی۔
جب آپ کے والد گرامی کو یہ معلوم ہوا تو آپ سے اس کا سبب دریافت کیا۔ آپ نے جوابا عرض کیا کہ چوں کہ آپ منصب قضا پر متمکن ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے ملازم خرید و فروخت میں احتیاط نہ رکھتے ہوں۔
آپ کے والد نے فرمایا کہ اس منصب رفیع پر قائم ہونے کے باوجود میں رزق حلال کے معاملہ میں مکمل احتیاط رکھتا ہوں اور شبہات سے بھی دور رہتا ہوں اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے تم جیسا پرہیزگار اور تقوی شعار فرزند عطا کیا مثل مشہور ہے ۔
الولد سرلأبیه یعنی لڑکا اپنے باپ کا سربستہ راز ہوتا ہے۔
لہذا تمہارا زہد و تقوی میرے تقوی و پرہیزگاری کی بین دلیل اور واضح علامت ہے۔ [ حضرت شاہ وجیہ الدین علوی گجراتی شخصیت اور کارنامے، ص 104، بحوالہ رسالة الوجیه ( قلمی )، ص 10 ]
۔9 ذھانت جب شہنشاہ جلال الدین اکبر احمدآباد آیا اور بھدر کے شاہی محل میں آپ سے ملاقات کی، تو چوں کہ اکبر آپ کے تبحر علمی کا شہرہ پہلے سن چکا تھا لہذا باتوں باتوں میں اس نے سوال کیا کہ بتائیے کہ چاروں مذاہب میں سب سے عمدہ اور بہترین کون سا مذہب ہے؟۔
آپ نے برجستہ جواب دیا کہ اس محل شاہی کے چار دروازے ہیں اور بادشاہ محل کے بیچو بیچ میں تخت شاہی پر جلوہ افروز ہیں۔ لہذا جو شخص بھی شرف باریابی حاصل کرنے کے لیے چاروں میں سے جس دروازے سے داخل ہوگا، اسے شرف حضوری حاصل ہوگا اور دیدار سلطانی سے مشرف ہوگا۔ اتنا کہہ کر آپ خاموش ہو گئے۔ بادشاہ آپ کا مطلب سمجھ گیا کہ مذاہب اربعہ میں سے ہر مذہب خدا سے ملا دیتا ہے اور آپ کی ذہانت اور حاضر جوابی سے بہت متاثر ہوا اور جب تک آپ بقید حیات رہے، انتہائی تعظیم و تکریم کے ساتھ پیش آیا۔ [ تذکرة الوجیه، ص 76 ]
۔10 بیعت و ارادت حضرت شاہ وجیہ الدین علوی گجراتی علیہ الرحمہ کم سنی ہی میں حضرت شیخ قاضن چشتی نہروالی قدس سرہ ( متوفی 920ھ ) کے روحانی دامن سے وابستہ ہو گئے اور آپ سے بیعت و ارادت کا شرف حاصل کیا۔
اس وقت عمر مبارک 9 سال تھی یا اس سے بھی کم سن تھے۔ اور والد گرامی حضرت سید شاہ نصر اللہ قدس سرہ سے مغربیہ اور چشتیہ سلاسل کی اجازت و خلافت پائی۔ اور حضرت بدر الدین شاہ بڑا بن ابو القاسم صدیقی اور شیخ نجم الدین صدیقی نہروالی سے سلسلہ سہروردیہ کے اشغال و اذکار حاصل کیے۔
اسی طرح حضرت محدث ابو البرکات بنبانی عباسی قدس سرہ اور حضرت علامہ شیخ عماد الدین طارمی قدس سرہ سے بھی حقیقت اور معرفت کی تعلیم حاصل کی۔ اور آخر میں حضرت غوث العالم سید محمد غوث بن سید خطیر الدین گوالیاری قدس سرہ ( وصال 970ھ ) سے شطاری سلسلہ میں خلافت و اجازت حاصل کی اور انہیں کی خدمت میں رہ کر سلوک کی تکمیل کی اور اپنی نسبت بھی انہیں سے استوار فرمائی اور طریقت میں اسی سلسلہ کے اصول و آداب کی پیروی کی۔
چناں چہ رسالہ وجیہ الدین میں ہے : “ان کان شیخنا حنفي المذھب، شطاري المشرب وکان ماھرا في جمیع المذاھب وشاربا في کل المشارب” ترجمہ : ہمارے شیخ ( حضرت وجیہ الدین ) مذبا حنفی اور مشربا شطاری تھے اور تمام مذاہب میں ماہر اور ہر مشرب کے فیض یافتہ تھے ( رسالة الوجیه، قلمی، ص 15 اور 6 )۔ [ حضرت شاہ وجیہ الدین علوی گجراتی شخصیت اور کارنامے، ص 70 تا 71 ]
۔11 باطنی تصرف احمدآباد میں ایک بزرگ تھے۔ جن کی باطنی قوت اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ بہت سے علما و صوفیہ ان کے گرویدہ ہو گئے تھے، ایک دن وہ حضرت شاہ وجیہ الدین علیہ الرحمہ کی خانقاہ میں آئے اور بے ادبی کے ساتھ نام لے کر آپ کو پکارا۔
آپ نے نگاہ جلال سے انہیں دیکھا تو اسی وقت ان کی ولایت سلب ہو گئی۔ اب ان کی حالت بالکل دگرگوں ہو گئی اور انہیں آپ کے مقام و مرتبہ کا علم ہوا اور اپنی جسارت پر بہت نادم ہوئے۔
بالآخر آپ کے خلیفہ شیخ بایزید کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا سارا واقعہ کہہ سنایا اور عرض کیا کہ آپ حضرت شاہ وجیہ الدین کی بارگاہ میں جا کر میری سفارش کر دیں اور میری خطا معاف کروا دیں۔
شیخ بایزید انہیں اپنے ساتھ لے کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ان کی خطا کو معاف فرما دیں۔
حضرت شاہ وجیہ الدین کو ان کے حال زار پر ترس آ گیا اور فرمایا کہ تین مرتبہ “سبحان ربي الاعلی” کہو۔ اس کے پڑھتے ہی دوبارہ انہیں ولایت مل گئی اور ان کی سابقہ حالت عود کرائی۔
ایک شخص جو آپ کی بارگاہ کے پروردہ و تربیت یافتہ تھے، ان پر جذب کی کیفیت طاری ہو گئی اور وہ کہنے لگے کہ میں نے یہ نعمت اپنے بزرگوں سے پائی ہے۔ لوگوں نے آ کر آپ کو اس کی اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا کہ اب وہ بزرگوں سے لے لیں۔
دو تین روز ہی گزرے تھے کہ وہ آپ کی خدمت میں آ کر قدموں میں گر پڑے اور عجز و زاری کرنے لگے کہ میرا حال مجھ سے سلب کر لیا گیا ہے پھر آپ کی دعا سے وہ بدستور اپنے مقام پر قائز ہو گئے کسی نے ان سے پوچھا کہ کتنے مقامات طے کیے؟ ۔
انہوں نے کہا کہ تمام منزلیں طے کر چکا تھا، آپ نے فرمایا کہ ابھی تو تم اسمائے الہی تک بھی نہیں پہنچے۔ یہ تو ان اسما کی ایک تجلی تھی جس کو تم مراتب کا طے کرنا سمجھ بیٹھے ہو۔ [ تذکرة الوجیه، ص 89 ]
۔12 تصنیف و تالیف حضرت شاہ وجیہ الدین نے درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی نمایاں اور گراں بہا خدمات انجام دی ہیں۔ اور آپ کے رہوار قلم نے تصانیف کا انمول ذخیرہ چھوڑا ہے۔
چوں کہ اس دور میں شرح و حواشی لکھنے کا زیادہ رواج تھا، اس لیے آپ کی بیشتر تصانیف شروح و حواشی ہی کی شکل میں ہیں۔
اور بعض کتابیں کسی ایک عنوان پر یا کسی قرآنی آیت کی تشریح و توضیح میں مستقل تصنیف فرمائی ہیں۔سطور ذیل میں آپ کے کچھ رسائل اور شروح و حواشی کے اسما لکھے جاتے ہیں
۔( الف ) رسائل : ( 1 ) رسالہ “جنات عدن”( 2 ) رسالہ “تحقیق والذين آمنوا واتبعتهم ذريتهم: ( 3 ) رسالہ “تحقیق فأما من ثقلت موازينه” ( 4 ) رسالہ الایمان ( 5 ) رسالہ “الترتیب في الصلوة” ( 6 ) رسالہ “الکلام”( 7 ) رسالہ “القلب” ( 8 ) رسالہ “تحقیق ابلیس” ( 9 ) رسالہ ” الانسکریة في جواب الطفقریة” ( 10 ) رسالہ “اوارد وجیه” ( 11 ) رسالہ “في اجوبة اعتراضات الفقیه الحیرتي علی الفاضل الهندي” ( 12 ) رسالہ طریقہ بیعت ( 13 ) رسالہ وقف اعراد( 14 ) رسالہ مختصر التعریف بالمولد الشریف للامام الجزري ( 15 ) رسالہ حقیقت محمدیہ ( 16 ) مکتوبات
۔( ب ) شروح و حواشی 🙁 1 ) حاشیة البیضاوي ( 2 ) حاشیه تفسیر رحامني ( 3 ) شرح نزھة النظر ( 4 ) حاشیه ھدایه ( 5 ) حاشیه شرح وقایه ( 6 ) حاشیه تلویح ( 7 ) حاشیه علی شرح العضد علی مختصر ابن الحاجب ( 8 ) حاشیه علی شرح التفتازاني علی الشرح العضدي( 9 ) حاشیه اصول البزدوي( 10 ) حاشیه شرح مواقف للجرجاني( 11 ) حاشیه شرح مقاصد للتفتازاني ( الف ) باب الهیات ( ب ) سمعیات
۔( 12 ) حاشیه علی شرح التجرید للقوشجي ( 13 ) حاشیه علی شرح التجرید للاصفهاني ( 14 ) حاشیه علی الحاشیة القدیمة الجلالیة علی شرح التجرید ( 15 ) حاشیه علی شرح العقائد ( 16 ) حاشیه علی حاشیة الخیالي( 17 ) حاشیه علی شرح المطالع ( 18 ) حاشیه علی حاشیة السید علی شرح المطالع ( 19 ) حاشیه علی الزبدہ شرح الشمسیه لعلاء الدین النهروالي ( 20 ) حاشیه علی شرح الشمسیه للقطب الرازي ( 21 ) حاشیه شرح حکمة العین ( 22 ) حاشیه شرح چغمیني ( 23 ) شرح رساله قوشجی ( فارسی )( 24 ) حاشیه علی شرح التذکره للنیسابوري
۔( 25 ) حاشیه شرح جامي ( 26 ) شرح الوافي ( 27 ) حاشیه علی المنهل الصافي للدمامیني ( 28 ) شرح ابیات المنهل والوجیز ( 29 ) شرح ارشاد النحو ( 30 ) حاشیه ضریري ( 31 ) شرح ابیات تسهیل لابن مالك ( 32 ) حاشیه شرح تهذیب ( 33 ) شرح تلخیص المفتاح ( 34 ) حاشیه علی المطول للتفتازاني ( 35 ) حاشیه علی مختصر التلخیص للتفتازاني و حاشیه علی شرح الجرجاني ( 36 ) شرح البسیط في الفرائض ( 37 ) حاشیه علی الشفاء للقاضي عیاض المالکي ( 38 ) شرح کلید مخازن ( فارسی ) للشیخ محمد غوث الگوالیری ( 39 ) شرح جام جهاں نما ( فارسی ) ( 40 ) شرح تحفه شاھیه ( 41 ) شرح لوائح جامی ( 42 ) وافیه شرح کافیه( 43 ) حاشیه عضدي [ حضرت شاہ وجیہ الدین علوی گجراتی شخصیت اور کارنامے، ص 47 تا 50 ]13 –
تلامذہ آپ کے درس گاہ بافیض سے بے شمار علما و فضلا نے فیض پایا جو اپنے عہد اور علاقہ کے ممتاز اور باکمال ارباب علم و دانش شمار کیے گئے۔
ان میں سے کئی حضرات نے مسند افتا کو زینت بخشی، بعض نے عہدہ قضا کو رونق بخشی اور بعض نے درس و تدریس کی خاموش خدمت پسند کی اور بہتوں نے خانقاہ میں بیٹھ کر ارشاد و ہدایت کے فرائض انجام دیے۔
جن میں ملک العلماء افضل المشائخ علامہ کبیر حضرت سید شاہ صبغة اللہ بھروچی مدنی ( متوفی 1015ھ ) ایسے بلند بایہ بزرگ تھے کہ جب آپ عرب گئے تو علماے حرمین نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر آپ کے علوم و معارف سے خوب مستفید ہوئے۔
اور حضرت علامہ قاضی جلال الدین ملتانی ( متوفی 999ھ )، حضرت علامہ حسن علی فراغی ( متوفی 1037ھ ) اور حضرت مولانا عبد الرحمن گجراتی اپنے علم و فضل کی بدولت اکبری اور جہانگیری عہد کے ممتاز علما میں شمار کیے گئے۔
چند مشاہیر تلامذہ کے اسما ذکر کیے جاتے ہیں جو بجائے خود علم و فضل کے ماہ و نجوم اور شریعت و طریقت کے مجمع البحرین ہیں
۔1 حضرت مولانا عثمان بن ابو عثمان بنگالی سنبھلی قدس سرہ ( متوفی 980ھ )
۔2 حضرت مولانا قاضی عبد العزیز بن عبد الکریم بن راجی محمد عینی اُجّینی گجراتی قدس سرہ ( متوفی 982ھ )
۔3 حضرت مولانا قاضی ضیاء الدین بن سلیمان بن سلونی عثمانی نیوتنی اودی قدس سرہ ( متوفی 989ھ )
۔4 حضرت مولانا شیخ صالح شطاری قدس سرہ ( متوفی 999ھ )۔
۔5 حضرت مولانا قاضی جلال الدین ملتانی قدس سرہ ( متوفی 999ھ ) ۔
۔6۔ حضرت مولانا سید جلال الدین ابو محمد بن حسن بن عبد الغفور حسینی بخاری مشہور بہ ماہ عالم قدس سرہ ( متوفی 1003ھ )
۔7۔ حضرت مولانا سید ضیاء اللہ بن سید محمد غوث گوالیاری قدس سرہ ( متوفی 1005ھ )
۔8 حضرت مولانا حکیم عثمان بن عیسی بن ابراہیم صدیقی بوبکانی برہانپوری قدس سرہ ( شہادت 1008ھ )
۔9۔ حضرت مولانا عبد اللہ بن بہلول بن چاند بن جنید بن محمد بن برہان الدین بن عز الدین بن محمود بن نجم الدین احمد بن شمس الدین عثمانی ہروی سندیلوی قدس سرہ ( وصال 1010ھ )
۔10۔ حضرت مولانا شیخ مفتی کمال محمد عباسی احمدآبادی قدس سرہ ( وصال 1013ھ ) ۔
۔11 اشرف العلماء والمشائخ حضرت علامہ سید صبغة اللہ بن روح اللہ بن جمال اللہ حسینی کاظمی بھروچی مدنی قدس سرہ ( وصال 1015ھ، بمقام مدینہ طیبہ ) 12۔ حضرت مولانا سید شاہ عبد اللہ بن حضرت سید شاہ وجیہ الدین علوی حسینی احمدآبادی قدس سرہ ( وصال 1017ھ ) ۔
۔13 حضرت مولانا سید عبد اللہ بن سید محمد غوث گوالیاری قدس سرہ ( وصال 1021ھ )
۔14۔ حضرت علامہ عبد القادر بن ابو احمد بن ہامون بغدادی سندی اُجّینی قدس سرہ ( وصال 1021ھ )
۔15۔ حضرت مولانا عبد الغنی جونپوری قدس سرہ ( وصال 1025ھ ) 16۔ حضرت مولانا شیخ فرید بن شیخ محمد شریف بن عزیز اللہ صدیقی قدس سرہ ( وصال 1026ھ)
۔17۔ حضرت علامہ شیخ محمد بن فضل بن صدر الدین صدیقی جونپوری برہانپوری قدس سرہ ( وصال 1029ھ )
۔18۔ حضرت مولانا علامہ عبد العزیز بن ولی محمد خالدی احمدآبادی قدس سرہ ( وصال 1030ھ )
۔19۔ حضرت مولانا حسن علی فراغی احمدآبادی قدس سرہ ( وصال 1037ھ ) ۔20۔ حضرت مولانا شیخ سید شاہ ہاشم بن برہان الدین علوی، حضرت سید شاہ وجیہ الدین علوی کے بھتیجے قدمت اسرارہم ( وصال 1056ھ )
۔21۔ حضرت مولانا سید ابو تراب شطاری بن سید نجم الدین بن سید شمس الدین حضرت موسیٰ سہاگ علیہ الرحمہ
حضرتِ سَیِّدی موسٰی سُہاگ رحمۃ اللہ علیہاعلٰحضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں! حضرت سَیِّدی موسٰی سہاگ رحمۃاللہ علیہ مشہور مجذوبوں میں سے تھے، احمد آبادشریف(ہند) میں مزار شریف ہے۔
میں ان کی زیارت سے مشرف ہوا ہوں۔ زنانہ وضع(عورتوں والاحلیہ) رکھتے تھے ۔ ایک بار قحطِ شدید پڑا۔ بادشاہ، قاضی واکابر! جمع ہوکر حضرت سَیِّدی موسٰی سہاگ رحمۃاللہ علیہ کے پاس دعا کے لیے گئے
آپ علیہ الرحمۃ انکار فرماتے رہے! کہ میں کیا دعا کے قابل ہوں۔جب لوگوں کی آہ وزاری حد سے گزری۔ تو آپ علیہ الرحمۃنے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کچھ فرمایا۔ آپ کا فرمانا تھا! کہ گھٹائیں پہاڑ کی طرح امنڈآئیں اور جل تھل بھر دئیے۔
ایک دن نماز جمعہ کے وقت آپ (یعنی سَیِّدی موسٰی سہاگ علیہ الرحمۃ) بازار میں جارہے تھے، ادھر سے قاضی شہر جامع مسجد کو جاتے تھے، انہیں دیکھ کر، امر بالمعروف کیا! کہ یہ وضع (زنانہ حلیہ)مَردوں کو حرام ہے۔ مردانہ لباس پہنيے اور نماز کو چلئے۔
آپ علیہ الرَحمتہ نے اس پر انکار و مقابلہ نہ کیا۔ چوڑیاں، زیور اور زنانہ لباس اتارکر (مردانہ لباس پہنا) اور مسجد کو چل دئیے۔ خطبہ سنا۔ جب جماعت قائم ہوئی۔ اور امام نے تکبیر تحریمہ کہی۔
اللہ اکبر سنتے ہی ان کی حالت بدلی،سر سے پاؤں تک و ہی سرخ لباس اور چوڑیاں آگئیں۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ مزید فرماتے ہیں!اندھی تقلید کے طور پر، ان کے مزار کے بعض مُجاوَروں کو دیکھا، کہ اب تک بالیاں، کڑے، جوشَن(بازو کا ایک زیور) پہنتے ہیں۔ یہ گمراہی ہے ۔ (الملفوظ شریف حصہ دوم،ص۲۰۸)
تحریر: مولانا عبد الکمال عطاری قادری
اس مضمون میں بہت سی بے بنیاد من گھڑت باتیں اور واقعات مذکور ہیں ، جن کا شریعت احکام شریعت سے کوئ واسطہ نہیں، ایک مسلمان کا ان خرافات پر ایمان لانا گویا اپنے ایمان کو خراب کرنا ہے ، اللہ صاحب مضمون کو ہدایت دے اور گمراہی و ضلالت پھیلانے سے باز رہنے کی توفیق عنایت فرمائے