حج اسلام کی چوتھی عمارت ہے
حج بیت اللہ کی اہمیت وفضیلت وافادیت اظہرمن الشمس کی طرح قرآن واحادیث سے عیاں ہے اور یہی ادب واحترام عزت وعظمت رفعت و بلندی مسلمانان عالم کے قلوب میں مسندنشیں ہے جیسے ہی ماہ ذی القعدہ شروع ہوتاہے ویسے ہی عازمین حج کی تیاریاں زور و شورپرہوتی ہیں ۔
جب کوئی سفرحج کے لیےنکلنے والے ہوں تو ان کی خوشیوں میں سب برابر کے شریک ہو جاتے ہیں اوراس خوشی میں کیا کوئی گاؤں کیا کوئی شہر کیا کوئی بستی کیا کوئی محلہ اورسب رشتہ دار دوست و احباب محفل دعا میں بڑے ذوق و شوق سے شریک ہوتے ہیں ۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ان کے حج کی مقبولیت کے لیے دعا فرماتے ہیں اورجب حج بیت اللہ کی روانگی کا وقت آتا ہے تو صرف عازمین حج ہی نہیں بلکہ ان کورخصت کرنے کے لیے حج بھون اور وہاں سے ہوائی اڈہ پہنچ کر الودع کہتے ہیں اس درمیان سب اپنی اپنی مصروفیات کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں ہرجگہ حج کے تذکرے ہر سو عام ہوتے ہیں
قرآن و احادیث میں ذکرحج موجود ہے
پارہ 4 سورہ ال عمران آیت نمبر 97میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اوراللہ کے لیے لوگوں پراس گھر کا حج کرنا ہےجو اس تک چل سکے۔
تفسیر خزائن العرفان میں ہےکہ اس آیت میں حج کی فرضیت کا حکم ہے اور اس میں استطاعت شرط ہے
زادراہ یعنی توشہ کھانے پینے کا انتظام اس قدر ہونا چاہیے کہ جا کر واپس آنے تک کے لیے کافی ہو اور یہ واپسی کے وقت تک اہل وعیال کے نفقہ کے علاوہ ہونا چاہیے اور راہ کا امن بھی ضروری ہے ۔
حج کتنی مرتبہ فرض ہے
ترمذی شریف ماجاءکم فرض الحج جلد اول میں یہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے:
حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں : جب یہ آیت کریمہ (وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا)
ترجمہ۔اوراللہ کے لیے لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض ہے جووہاں تک جانےکی استطاعت رکھتے ہوں ۔نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیاکہ یارسول اللہﷺ کیا ہرسال حج فرض ہے تو مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ خاموش رہے پھرعرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا ہرسال حج فرض ہے آپﷺنے فرمایا نہیں اور فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہرسال حج واجب ہوجاتا اس پریہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔
پارہ 7سورہ مائدہ آیت 101۔ترجمہ کنزالایمان ۔اےایمان والوں ایسی چیزوں کے بارےمیں نہ پوچھو اگر تمہارے لئے ظاہر کردی جائیں توتمہیں بُری لگیں گی۔
اگر زبان مصطفیٰ ﷺسےنکل جاتا کہ ہاں ہرسال حج فرض ہےتوضرور ہرسال حج فرض ہوجاتا تومعلوم ہواجوزبان مصطفیٰ ﷺسے نکل جائے وہ وحیِ خداہے
وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا
چشمہ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام
وہ زباں جس کوسب کن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام
فرضیت حج کےباوجودبھی حج ادانہ کرنا
جن پر حج فرض ہوچکا ہےوہ حج کی ادائیگی میں جلدی کریں اس لیےکہ فرضیت حج کے باوجود حج نہ کرنے پر وعید موجود ہے
ترمذی شریف مترجم ابواب الحج جلداول ص 435پریہ حدیث موجودہے۔حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہےنبی کریم ﷺنے فرمایا جس شخص کے پاس سامان سفراورسواری ہوجواسےبیت اللہ شریف تک پہنچادے پھروہ حج نہ کرے پس اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ یہودی ہوکرمرے یانصرانی ہوکرمرےاور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہےسورہ آل عمران آیت نمبر97۔اور اللہ کےلئے لوگوں پراس گھرکاحج کرناہےجواس تک چل سکے
حج اسلام کی چوتھی بنیاد ہے
ہم سب واقف ہیں کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر استوارہے یہ حدیث شریف بخاری شریف کتاب الایمان میں موجودہےحضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہﷺکاارشادگرامی ہےکہ اسلام کی عمارت پانچ چیزوں پر استوارہے
(1)اس امرکی گواہی دینا کہ اللہ کے سواکوئی معبودنہیں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺاللہ کےبندےاوراس کے رسول ہیں
(2)نمازقائم کرنا
(3)زکوةاداکرنا
(4)حج کرنا
(5)اورماہ رمضان المبارک کے روزے رکھنا
ان پانچوں میں چوتھی بنیاحج بیت اللہ ہے۔توہرمالک نصاب پرزندگی میں ایک مرتبہ کعبة اللہ کاحج فرض ہے
حج اورعمرہ سےمحتاجی دورہوتی ہے
دورحاضر میں حج اورعمرہ کرنےکےلئےکافی رقم کی حاجت درپیش ہوتی ہے جن کےپاس مال ودولت ہےوہ حج کےیاعمرہ کی ادائیگی فرما کرشکرخدا بجا لاتے ہیں اورجن کے پاس کچھ نہیں ہےوہ کوشش کےساتھ ساتھ اپنی دعائوں میں اللہ سےفریادکرتےہیں یہاں پران لوگوں کی بات ہےجن کے پاس سب کچھ رہتے ہوئے بھی اس تصورمیں رہتے ہیں کہ اگرمیں حج یاعمرہ کروں تو مال ودولت میں کمی آجائےگی تو یہ حدیث رسول ضرور پڑھیں
جامع ترمذی ابواب الحج میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنےفرمایا حج اور عمرہ ایک دوسرے کےبعدکرتے رہوکیونکہ یہ دونوں محتاجی اور گناہوں کو اس طرح دورکرتےہیں جس طرح بھٹی لوہےسونے اورچاندی کی میل کچیل کودورکرتی ہےاور حج مقبول کاثواب جنت ہے۔
ماشاء اللہ حضور مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ فرماتے ہیں حج اور عمرہ کرتے رہو محتاجی دورہوگی جب محتاجی دورہوگی تومال ودولت میں برکت ہی برکت ہوگی مال ودولت میں اضافہ ہی اضافہ ہوگا اور حج اورعمرہ ادا کرتےرہواس لئے کہ حج اور عمرہ کرنےسےتمہارے گناہ مٹ جاتےہیں
حج مبرورسےگناہ معاف ہوجاتےہیں
جس کو بھی حج مبرورنصیب ہوجائے اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتےہیں صحیح بخاری شریف کتاب المناسک جلداول میں ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ روایت ہےکہ میں نے رسول اللہ ﷺکوفرماتے سناجس نے اللہ کےلئے حج کیا فحش اورگناہ کا ارتکاب نہ کیا وہ یوں لوٹےگاکہ ابھی ماں کے پیٹ سے پیداہواہو۔
تواس کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہےکہ فحش کلامی سےبچیں اورگناہوں کےارتداد سےبچیں توماں کےپیٹ سےبچہ بے گناہ پیداہوتاہےاسی طرح ان گناہوں سےبچنےوالوں کوخوشخبری سنائی گئی ہے
سب سے افضل عمل کون سا ہے؟
ماہ ذی الحجہ میں کون سا عمل افضل ہے یوں توذی الحجہ میں حج کیاجاتا ہے قربانی کی جاتی ہےنیک اعمال کئےجاتے ہیں اورحاجی فرائض حج وارکان حج کی تکمیل سےفارغ ہوتےہیں مگرسب سے افضل عمل کون ساہے؟۔
صحیح بخاری شریف کتاب المناسک جلداول میں حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺسےپوچھاگیا کون سا عمل افضل ہے رسول اللہ ﷺنےفرمایا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا اورکہاگیاپ ھر۔جداکی راہ میں جہاد کرنا عرض کیا گیا اس کے بعد حضور ﷺنےفرمایاحج مبرور(مقبول حج)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سب سے افضل عمل حج مبرور بھی ہے اللہ پاک ہم سب کو بھی حج مقبول اور مقبول عمرہ کی سعادتیں عطاکرے آمین
حج بیت اللہ میں پیغامِ اتحاد ہے
پوری دنیاسےعازمین حج فرائض حج کی ادائیگی کے لیے تشریف لاتے ہیں وہ کیا سماں ہوگا جہاں پانچ دن ایک ساتھ طواف کعبہ صفا مروا کی سعی میدان عرفات مزدلفہ اول تا آخرمکمل ارکان ادا کرتے ہیں۔
خدا کی عبادت میں صدقِ دل سے مشغول رہتے ہیں اور پوری دنیاکی نظر ایک ساتھ طواف کعبہ کرنے والوں پرٹکی رہتی ہےایک ساتھ رکوع سجود کرنےوالوں پرٹکی رہتی ہےاور وہ کسی بھی ملک کےباشندے ہوں یہاں ایک ساتھ حج کے فرائض انجام دیتے ہیں یہاں کالےگورے پیلے نیلے جوبھی رنگ وروپ کے ہوں شکل وصورت کے ہوں حسب ونسب کےہوں مسلم امہ کہلاتے ہیں امت محمدیہ کہلاتے ہیں بندگان خدا کہلاتے ہیں اور اللہ پاک نے ہم تمام مسلمانوں کوایک دوسرے کا بھائی بھائی بنادیاہے دنیابھرسےیہاں آنے والےقوم مسلم ہونے کےایک دوسرے کےبھائی ہیں یہ پیغام قرآن اورسنت میں موجود ہے
حج کا پیغام یہی ہوتا ہے کہ انسان جسم وروح کےساتھ حاظرہواہےاب متحدہوکرقلوب کی پاکیزگی کےساتھ امن وامان وامن وعافیت وسلامتی کے ساتھ رہیں یہی پیغام اتحاد ہے
تحریر ۔محمد توحیدرضا علیمی بنگلور
نوری فائونڈیشن بنگلور
tauheedtauheedraza@gmail.com
رابطہ ۔9886402786
یہ مضامین نئے پرانے مختلف قلم کاروں کے ہوتے ہیں۔
ان مضامین میں کسی بھی قسم کی غلطی سے ادارہ بری الذمہ ہے۔