Homeحالات حاضرہفتنۂ اشراف و ارذال تقسیم ملت کا نیا حربہ

فتنۂ اشراف و ارذال تقسیم ملت کا نیا حربہ

فتنۂ اشراف و ارذال تقسیم ملت کا نیا حربہ

محمد شاہد علی مصباحی

روشن مستقبل دہلی، تحریک علماے بندیل کھنڈ

دنیا میں بے شمار قومیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے بعض قومیں زندہ اور متحرک ہوتی ہیں، جبکہ بعض قومیں مردہ اور بے اثر۔ کسی قوم کے زندہ یا مردہ ہونے کا اندازہ اس کے اتحاد، ترقی، بیداریِ فکر اور افراد کی فعالیت سے لگایا جاتا ہے۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

ایک اور شاعر نے اگرچہ یہ فلسفہ انسانی زندگی کے لیے بیان کیا ہے، لیکن قوموں کی زندگی پر بھی یہ پوری طرح صادق آتا ہے:۔

زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہورِ ترتیب

موت کیا ہے؟ انہی اجزا کا پریشاں ہونا

جس طرح انسانی جسم کی زندگی کے لیے مٹی، آگ، ہوا اور پانی جیسے عناصر کا متوازن اجتماع ضروری ہے اور ان میں سے کسی ایک عنصر کی کمی یا خرابی انسانی زندگی کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی طرح ایک قوم بھی اپنے افراد سے مل کر وجود میں آتی ہے۔ زید، عمر، بکر اور خالد جیسے افراد ہی قوم کے اجزا ہیں۔ جب یہ اجزا باہم متحد اور مربوط رہتے ہیں تو قوم زندہ، مضبوط اور ترقی یافتہ رہتی ہے، اور جب یہ اجزا بکھر جاتے ہیں تو قوم کمزور ہو کر زوال و تباہی کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض قومیں اپنی بداعمالیوں، بے راہ روی اور داخلی کمزوریوں کے باعث خود ہی موت کے دہانے پر پہنچ جاتی ہیں، جب کہ بعض قوموں کو ان کے دشمن سازشوں کے ذریعے تباہ کرتے ہیں۔ دشمن ان کے درمیان نفرت، اختلاف اور پھوٹ پیدا کرکے ان کی اجتماعی قوت کو ختم کر دیتا ہے۔

کسان کا سبق : محترم دوستو ! آپ سب نے یقیناً اس بوڑھے کسان کا مشہور واقعہ سنا ہوگا جس کے چار جوان بیٹے تھے۔ وہ چاروں آپس میں اکثر لڑتے جھگڑتے رہتے تھے اور بوڑھا کسان ہمیشہ انہیں متحد رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ اور آخری وقت کسان نے لکڑیوں کے ذریعے سبق دیا تھا کہ میرے بعد اگر تم سب اسی طرح متحد رہو گے تو کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، لیکن جیسے ہی تم بکھر جاؤ گے، دشمن تمہیں ایک ایک کرکے ختم کر دے گا۔

ہم سب بھی ایک قوم ہیں، جسے “قومِ مسلم” کہا جاتا ہے۔ جب تک ہمارے درمیان اتحاد، اخوت اور باہمی اعتماد قائم رہے گا، ہم عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہیں گے۔ اور جب تک ہماری قوم کے ہر شعبے سے وابستہ افراد ترقی کرتے رہیں گے، پوری قوم ترقی کی راہ پر گامزن رہے گی۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے دشمنوں نے ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے ہزاروں سازشیں کیں۔ جہاں وہ کام یاب ہوئے وہاں مسلمانوں کو تباہی، غلامی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ غرناطہ، اسپین اور دیگر مسلم سلطنتوں کی تاریخ اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔ اور جہاں مسلمانوں نے اتحاد کو مضبوطی سے تھامے رکھا وہاں وہ دشمنوں کے تمام حملوں کے باوجود محفوظ رہے۔

ہر دور میں فتنوں نے مختلف شکلیں اختیار کیں اور امتِ مسلمہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ آج کے دور میں بھی دشمنانِ اسلام نے ایک نیا حربہ اختیار کیا ہے، جسے “اشراف بنام ارذال” کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے۔ابتدا میں اس فتنے کو “اشراف بنام پس ماندہ” کا نام دیا گیا تھا، لیکن چونکہ “پس ماندگی” کا تصور زیادہ تر سماجی اور سیاسی دائرے میں اثر رکھتا ہے

مذہبی حلقوں میں اس کی وہ پذیرائی نہ ہوسکی جس کی منصوبہ سازوں کو امید تھی۔ چنانچہ اس فتنے کو زیادہ مؤثر اور جذباتی رنگ دینے کے لیے اس کا نام تبدیل کرکے “اشراف بنام ارذال” رکھ دیا گیا، تاکہ براہِ راست مذہبی طبقوں اور مذہبی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاسکے۔ اس نظریے کے تحت انہوں نے شیخ، سید، مغل اور پٹھان برادریوں کو “اشراف” قرار دیا ، جب کہ دیگر مسلم برادریوں کو “ارذال” کا نام دیا۔ پھر عوام کے ذہنوں میں یہ تصور بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اشراف طبقہ باہر سے آیا ہوا ہے اور باقی مسلمان اس سرزمین کے مقامی نو مسلم ہیں۔

مزید یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اشراف طبقے نے ان کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جو اس ملک کے بعض غیر مسلم معاشروں میں بالادست طبقات اپنے نچلے طبقات کے ساتھ روا رکھتے رہے ہیں۔اسی سوچ کے ذریعے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ تمہارے حقوق، وسائل، زمینیں اور مواقع تم سے چھین لیے گئے ہیں۔

اور تمہیں ایک منظم سازش کے تحت پیچھے رکھا گیا ہے۔ نتیجتاً مسلمانوں کے مختلف طبقات کے درمیان بداعتمادی، نفرت اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ اسلام نے رنگ، نسل، قبیلے اور خاندان کی بنیاد پر برتری کے تمام تصورات کو مسترد کرتے ہوئے تقویٰ اور کردار کو فضیلت کا معیار قرار دیا ہے۔

قرآن کا پیغام مساوات :قرآن مقدس میں ارشاد ہوا: یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ۔ (سورۃ حجرات، ۱۳)ترجمہ: اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ( ہی ) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے قبیلے بنا دیئے ہیں ، اللہ کے نزدیک تم سب میں سے با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے ۔

یہ آیت کریمہ واضح طور پر بتا رہی ہے کہ تمام مسلمان ایک ہی مرد یعنی حضرت آدم علیہ السلام اور ایک ہی عورت یعنی حضرت حواء رضی اللہ عنھا سے پیدا ہوے ہیں۔ اور جب بات اتنی واضح ہے تو پھر اسلام ذات پات، رنگ و نسل اور خاندان و قبیلے کی برتری کو کیسے قبول کر سکتا ہے۔ بلکہ اللہ رب العزت نے تو خاندان اور قبیلے صرف پہچان کے لیے بنائے ہیں جبکہ فضیلت اگر کسی کو حاصل ہے تو وہ تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ جو جتنا متقی اور پرہیز گار ہے وہ اتنی ہی فضیلت والا ہے بھلے وہ کسی خاندان یا قبیلے سے ہو۔

قانون مساوات :اب وہ قانون مساوات بھی سنتے چلیں جو حجۃ الوداع کے موقع پر محسن کائنات ﷺ رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے نافذ فرما دیا۔ آپ فرماتے ہیں: [يا أيُّها النّاسُ، ألا إنَّ ربَّكم واحدٌ، وإنَّ أباكم واحدٌ، ألا لا فَضْلَ لِعَربيٍّ على أعجَميٍّ، ولا لعَجَميٍّ على عرَبيٍّ، ولا أحمَرَ على أسوَدَ، ولا أسوَدَ على أحمَرَ إلّا بالتَّقْوى… (أخرجه أحمد ،٢٣٤٨٩) ترجمہ: “اے لوگو! سن لو، تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ (حضرت آدم علیہ السلام) بھی ایک ہے۔

خبردار! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں، نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی برتری حاصل ہے، مگر ( برتری ہے تو ) صرف تقویٰ ( و پرہیزگاری) کی بنیاد پر۔”یہ حدیث پاک اسلام کے عظیم ترین اصولِ مساوات کو بیان کرتی ہے۔ اسلام میں انسانوں کی عزت و فضیلت کا معیار نہ نسل ہے، نہ زبان، نہ رنگ، نہ قوم اور نہ برادری؛ بلکہ اللہ و رسول کے نزدیک فضیلت کا اصل معیار صرف اور صرف تقویٰ، نیک کردار اور اطاعتِ الٰہی ہے۔ اسی لیے اسلام ہر قسم کے نسلی، لسانی اور خاندانی تعصب کی نفی کرتا ہے۔

اور یہ بات صرف کتابی نہیں بلکہ سیرت رسول ﷺ میں اس کے ایسے ایسے عملی نمونے موجود ہیں جس کو دیک کر اپنے تو اپنے دشمن بھی پکار اٹھے کہ مساوات کی جیسی عملی مثالیں سیرت رسول ﷺ میں ملتی ایسی دنیا بھر میں کہیں نہیں ملتیں۔

غلام ابن غلام کے لیے قافلہ روکا : حجۃ الوداع ہی کے موقع پر پورا قافلہ میدان عرفات سے روانگی کے لیے تیار تھا حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ( جو سرکار دوعالم ﷺ کے غلام حضرت زید بن حارثہ کے بیٹے تھے ان ) کو وضو کی حاجت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عرفات سے روانگی (افاضہ) میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے انتظار میں کچھ تاخیر فرمائی

۔ “أخّرَ الإفاضة من عرفة من أجل أسامة بن زيد ينتظره،” پھر ( لوگوں نے دیکھا کہ) ایک چپٹی ناک اور کالی رنگت والا نوجوان آیا۔ “فجاء غلام أفطس أسود” اس پر اہلِ یمن میں سے بعض لوگوں نے (حقارت کی نظر سے ) کہا: “إنّما حُبِسْنا من أجل هذا،” ہمیں تو اسی شخص کی وجہ سے روکا گیا ہے! ۔ راوی کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے کہا گیا کہ اہلِ یمن نے اس معاملے میں کفر کا ارتکاب کیا

۔ “قال فلذلك كفر أهل اليمن من أجل ذا”۔ ( الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد ۴، صفحہ ۵۹)پیارے اسلامی بھایئو! سرکار دو جہاں ﷺ نے ایک غلام کے بیٹے کے لیے پورے قافلے کو روک کر عملی طور پر پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا تھا کہ مذہب اسلام اونچ نیچ، امیر و غریب، مالک و مملوک اور غلام و آقا کے فرق کو ہمیشہ کے لیے اکھاڑ پھینکنے آیا ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کالی رنگت اور موٹی ناک والے غلام کی توہین کی ان کے کفر کو بیان کرنا اس بات کو بخوبی ثابت کرتا ہے کہ یہاں ایک غلام کے بیٹے کی بھی تحقیر برداشت نہیں کی جاے گی۔ یہ اسلام ہے اس میں نہ کوئی چھوٹا ہے نہ بڑا، نہ کوئی غلام ہے نہ مالک ۔

اور سرکار دوعالم ﷺ کا یہ عملی درس مساوات دیکھ کر شاعر پکار اٹھتاہے:ہے مساوات کی ضامن وہی ذات اقدسجس نے طبقات کی تفریق کے کاٹے بندھنذرا غور کیجیے! جب اسلام نے انسانوں کے درمیان مساوات، عدل اور اخوت کا ایسا عملی درس دیا ہے، جب قرآن نے یہ اعلان کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت و فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے، نہ کہ نسل، خاندان، رنگ اور برادری؛ تو پھر یہ “اشراف بنام ارذال” کا تصور اسلام میں کہاں سے آگیا؟

اسلام نے تو کسی انسان کو پیدائشی طور پر اونچا اور کسی کو نیچا قرار نہیں دیا۔ اسلام نے تو غلاموں کو سردار بنایا، غریبوں کو عزت بخشی اور کمزوروں کو حقوق عطا کیے جس کے واقعات سے سیرت کی کتابیں مالامال ہیں۔ پھر یہ تقسیم کس نے کی ؟ اور یہ فتنہ کس کا پیدا کردہ ہے؟ اور اس سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟

اس پر ہمیں غور کرنا ہوگا اور اس فتنے کا قلع قمع کرنا ہوگا۔امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ ایسے تمام فتنوں اور سازشوں کو پہچانے جو اس کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کے لیے بند کمروں میں دنیاوی دولت اور معمولی عہدوں کے لیے کی جاتی ہیں، اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں باہمی اخوت، محبت اور اتحاد کو مضبوط بنائے۔ کیوں کہ قوموں کی بقا اتحاد میں ہے اور ان کی تباہی انتشار و افتراق میں۔ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”اتحاد زندگی ہے، اختلاف موت ہے“۔ہمیں زندگی کا انتخاب کرنا ہے موت کا نہیں ۔

زمینی حقیقت : اسلام میں سب سے بڑا عملی منصب امامت کا منصب ہے۔ امام لوگوں کی نماز پڑھاتا ہے، ان کی دینی رہ نمائی کرتا ہے اور ان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ آپ مجھے بتائیے، کیا آپ نے کبھی کسی امام کو صرف اس کی برادری کی وجہ سے مسجد سے نکالے جاتے دیکھا ہے؟ کیا کبھی کسی مسجد کی انتظامیہ نے امام مقرر کرتے وقت سب سے پہلے یہ سوال کیا ہے کہ “آپ کی ذات کیا ہے؟ آپ کس برادری سے تعلق رکھتے ہیں؟ میں تو آج تک ایسا نہیں دیکھ سکا۔

نیز آج تک ہماری مسجدوں میں کسی نے یہ اعلان نہیں سنا ہوگا کہ پہلی صف صرف سیدوں، شیخوں، مغلوں اور پٹھانوں کے لیے مخصوص ہے، باقی لوگ دوسری یا تیسری صف میں کھڑے ہوں۔ آج تک کسی نے یہ نہیں دیکھا ہوگا کہ نماز میں کسی شخص کو اس کی برادری کی وجہ سے پیچھے ہٹا دیا گیا ہو۔اسی طرح شادیوں، دعوتوں اور اجتماعی پروگراموں میں بھی یہ منظر دیکھنے کو نہیں ملتا کہ ایک طرف ایک مخصوص برادری کے لوگ بٹھائے جائیں

اور دوسری طرف باقی مسلمان !۔ بلکہ ہماری مسجدیں تو ببانگ دہل اعلان کرتی ہیں:ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازاگر زمینی حقیقت یہی ہے، اور حقیقت واقعی یہی ہے، تو پھر آخر یہ اشراف اور ارذال کی بحثیں کہاں سے پیدا ہو رہی ہیں؟کیوں ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر دن رات انہی موضوعات کو اچھالا جا رہا ہے؟کیوں مسلمانوں کے دلوں میں نفرت اور بداعتمادی کے بیج بوئے جا رہے ہیں؟

کیوں کچھ لوگ چند سکوں، چند لائکس، چند فالوورز یا وقتی مفادات کی خاطر دشمنوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن رہے ہیں؟ سوچیے!جب دشمن کسی قوم کو شکست دینا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اس کی فوج پر حملہ نہیں کرتا، بلکہ اس کے اتحاد پر حملہ کرتا ہے۔ وہ قوم کے افراد کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔ بھائی کو بھائی سے، پڑوسی کو پڑوسی سے اور ایک طبقے کو دوسرے طبقے سے لڑا دیتا ہے۔

آج یہی کھیل ہمارے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔اونچ نیچ اور رنگ و نسل کا فرق کرنا کفار و مشرکین کا کام ہے:پیارے اسلامی بھائٰو! ذات پات اور رنگ و نسل کا فرق اہل اسلام نہیں کرتے یہ کفار و مشرکین کا کام ہے کہ وہ اہل اسلام کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ابھی تک ایمان نہ لائے تھے۔


کفار قریش کی طرف سے سفیر بن کر مقام حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ سے صلح کے معاملات طے کرنے آئے تھے۔ یہ ایسے عقل مند، منجھے ہوے اور ہوشیار سفیر تھے جو قیصر و کسری کے درباروں میں بھی بحیثیت سفیر بھیجے جاتے تھے۔ جب یہ حدیبیہ پہنچے اور بات چیت شروع ہوئی تو انہوں نے پہلے تو ایک چال چلی کہ شاید اس میں پھنس جائیں اور وہ چال یہ تھی:”اے محمد (ﷺ)! مجھے بتائیے، اگر آپ (فاتح ہوئے تو) اپنی ہی قوم کو مکمل طور پر تباہ کر دیں، تو کیا آپ نے عرب میں کسی ایسے شخص کے بارے میں سنا ہے جس نے آپ سے پہلے اپنی قوم کی جڑ ہی کاٹ ڈالی ہو”؟۔

مگر جب یہ چال کام آتی نظر نہ آئی تو دوسری چال چلی اور کہا: “اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو گیا (یعنی آپ کام یاب نہ ہوئے) تو “فواللهِ إنِّي لَأرى وُجوهًا، وأرى أوباشًا مِنَ النّاسِ خَليقًا أن يَفِرُّوا ويَدَعوكَ”. اللہ کی قسم! میں ایسے چہرے اور ایسے (قبائل، علاقوں، اور رنگ و نسل کے اعتبار سے) مختلف قسم کے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو اس لائق ہیں کہ موقع پڑنے پر بھاگ جائیں اور آپ کو چھوڑ دیں

۔”یعنی وہ مسلمانوں کے درمیان رنگ و نسل، قبیلہ اور علاقے کی درار ڈالنا چاہتا تھا کہ اس بات سے یا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتماد کم ہوگا اپنے لوگوں پر یا آپس میں صحابہ ایک دوسرے پر رنگ و نسل کی بنیاد پر مشکوک ہو جائیں گے جس کا فائدہ کفار مکہ کو مل جائے گا۔
مگر اس کو کیا خبر تھی کہ جن سے بات کررہا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں اور دلوں کے حال پر بھی واقف ہیں۔ اور صحابہ کے درمیان رنگ و نسل کا تصور تک باقی نہیں رہا اگر ان کے درمیان کچھ باقی ہے تو ہو صرف اور صرف محبت رسول ﷺ اور اسی کی بنیاد پر اخوت کے ایسے مظبوط رشتے قائم ہیں جو کبھی کمزور نہ ہوں گے۔

عروہ بن مسعود کی یہ بات سن کر فوراً حضرت سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا:”امصُصْ بَظرَ اللّاتِ، نَحنُ نَفِرُّ عنه ونَدَعُه؟”۔ (اے عروہ تو جاکر اپنے خدا) “لات کی شرم گاہ چوس! کیا ہم رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ ہرگز نہیں!” (رواہ بخاری، ٢٧٣١)۔

حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ جواب سن کر عرہ بن مسعود کو سمجھ آگیا کہ یہاں دال گلنے والی نہیں ہے یہاں پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی پالیسی کام آنے والی نہیں ہے۔ اور واپس جاکر کفار مکہ سے کہا کہ میں قیصر و کسریٰ کے درباروں میں گیا ہوں اور ایسا ادب ان کے لوگوں کو بھی کرتے نہیں دیکھا جیسا ادب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے غلام ان کا کرتے ہیں، بھلائی اسی میں ہے کہ ان سے صلح کرلو۔اس پورے واقعہ سے دو باتیں واضح طور پر سمجھ آتی ہیں۔

پہلی بات : یہ کہ دشمن ہمیشہ آپ کے درمیان کسی نہ کسی طرح سے تفریق ڈالنا چاہتا ہے۔ کبھی اونچ نیچ، کبھی امیری و غریبی، کبھی ذات پات، قبیلہ و خاندان اور کبھی رنگ و نسل کی بنیاد پر۔ مگر جو قومیں دشمنوں کی ان چالوں کو سمجھتی ہیں اور اپنے اتحاد کو برقرار رکھتی ہیں وہ قومیں ہمیشہ فاتح اور کام یاب رہتی ہیں۔ اور جو ان چالوں کا شکار ہو جاتی ہیں وہ نیست و نابود ہو جاتی ہیں۔

دوسری بات : جب دشمن یہ دیکھ لیتا ہے کہ تم ہر صورت میں متحد ہو تو وہ نہ صرف یہ کہ تم سے خوف کھاتا ہے بلکہ تم سے لڑنے بھڑنے کے بجائے صلح و مصالحت کرنا بہتر سمجھتا ہے۔

متحد ہو تو بدل ڈالو زمانے کا نظام

منتشرہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو

اے عقل والو، یاد رکھو! ہمارے درمیان پہلے ہی مشربی، سیاسی، فکری اور علاقائی اختلافات کم نہیں ہیں۔ امت پہلے ہی بہت سے مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔

ایسے وقت میں یہ نیا فتنہ، یہ “اشراف بنام ارذال” کا نعرہ، قوم کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کا کام کر رہا ہے۔ میں آپ سے پوری دردمندی کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر آپ نے اس فتنے کو سمجھنے کی کوشش نہ کی، اگر آپ اس آگ میں ایندھن ڈالتے رہے، اگر آپ سوشل میڈیا پر نفرتوں کو پھیلاتے رہے، تو یاد رکھیں! آپ صرف اپنے کسی بھائی سے تعلق کمزور نہیں کریں گے، بلکہ امتِ مسلمہ کی بنیادوں کو کمزور کرنے میں شریک ہوں گے۔

اور یہ بھی یاد رکھیں کہ نفرت کی آگ کبھی ایک گھر تک محدود نہیں رہتی۔مرحوم راحت اندوری پکارتے رہے !۔

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

آج اگر کسی ایک طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کل کسی دوسرے طبقے کی باری آئے گی، اور پرسوں آپ کی۔ جو شخص آج دوسروں کے لیے کھودے گئے گڑھے پر خوش ہو رہا ہے، ممکن ہے کل خود اسی گڑھے میں گرایا جائے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں، دشمن کی چالوں کو پہچانیں، اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھام لیں۔

ہماری پہچان برادری نہیں، اسلام ہے۔ ہماری طاقت ذات نہیں، اتحاد ہے۔ہماری عزت خاندان نہیں، تقویٰ ہے۔اور ہماری کام یابی اسی میں ہے کہ ہم ایک امت، ایک ملت اور ایک جسم بن کر رہیں، کیوں کہ جب امت متحد ہوتی ہے تو کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی، اور جب امت بکھر جاتی ہے تو معمولی دشمن بھی اسے نقصان پہنچا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کو ہمیشہ قائم و دائم فرمائے۔آمین۔


پیارے بھائیو! آپ سب نے پڑھا کہ مذہب اسلام میں ذات برادری، اونچ نیچ، امیر غریب، مالک نوکر میں کسی بھی قسم کا کوئی فرق نہیں ہے۔ اور اگر کسی جگہ کوئی ذات برادری کے نام پر اونچ نیچ کی تفریق کرتا ہے تو وہ قرآن اور حدیث دونوں کے خلاف کام کرتا ہے ایسے آدمی کو فوراً توبہ کرنی چاہیے اور صلح حدیبیہ و حضرت اسامہ بن زید والی روایت سے عبرت حاصل کرنی چاہیے ۔

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.in/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن