از : شیخ عبد الرحمٰن ازہری نوشتہ دیوار
نوشتہ دیوار
ہر سال مدارس سے بڑی تعداد میں علماء فارغ ہوتے ہیں، ان میں سے اکثریت کا نہ کوئی مقصد ہوتا ہے نہ ہدف…جہاں جگہ ملی وہیں ایڈجسٹ کی کوشش یا مزید بہتر جگہ کی تلاش ہوتی ہے۔
گنتی کے فارغین ہوں گے جو کسی مقصد کے تحت دین کی خدمت کرنا چاہتے ہوں۔ بسا اوقات ان کی بھی فکری رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہماری اچھائی میں پوشیدہ ایک برائی یہ ہے کہ ہم سب کے سب ایک ہی سمت جانا چاہتے ہیں، اگر کسی نے قرآنیات کی افادیت کو ظاہر کردیا تو سب کے سب اسی سمت، کسی نے مجال حدیث کی ضرورت بتلادی ،تو ہماری دوڑ اسی جانب۔من جملہ یہ روش جماعت کے لیے سود مند نہیں۔ صرف کسی ایک مجال کو ترجیح دے کر دیگر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
پچھلے کچھ برسوں سے سنجیدہ علمی،فکری،اصلاحی کام کی ضرورت کی بات ہورہی ہے، قرآنیات، اخلاقیات، اصلاح اعمال وغیرہ پر زور دیا جا رہا ہے۔ان بنیادی کاموں کی افادیت سے بھلا کس کو انکار ہوسکتا ہے
مگر میں جس جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ مولنا ثاقب رضا مصطفائی، مولانا اجمل قادری جیسے سنجیدہ مقررین، دعوت اسلامی، سنی دعوت اسلامی جیسی تحریکیں، تنظیمیں ان بنیادی کاموں میں مصروف ہیں اور ہونا بھی چاہیے، مگر ایک گوشہ جو بتدریج نظر انداز ہوتے جارہاہے وہ فرق باطلہ کا علمی اور سنجیدہ رد
نوفارغین علماء رفتہ رفتہ اس سے بیزار ہوتے جارہے ہیں، باصلاحیت افراد اس سے کترانے لگے ہیں ۔ ہوسکتا ہے میری یہ بات کسی کو اچنبھا لگے مگر یہ حقیقت ہے
ہم نے مصر میں دیکھا ہے سنجیدہ علماء علمی تحقیقی کاموں میں لگ گئے، وہابیت کو قابل اعتنا نہ سمجھا، پورا میدان وہابیت کے لیے ہموار تھا، زہر گھولتے گئے عوام بہکتی گئی
آج عالم یہ ہے کہ تعلیم یافتہ، نوجوان نسل کی اکثریت وہابی فکر سے متاثر ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس دور میں وہابیت کا سیلاب آرہا تھا تب روکا نہیں گیا، اب پانی سر سے اوپر ہوچکا…!!!۔
آج ہمارے نوفارغین کی روش سے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہندوستان بھی دوسرا خلیج بن جائے۔
المیہ یہ ہے کہ دشمن کی ساری کی ساری توپیں سنیت کی جانب اندھا دھند چلائی جارہی ہیں، ٹارگیٹ صرف اور صرف سنی عوام ہے
آپ جانتے ہوں گے اہل حدیث نے کبھی تبلیغی چھلوں کو… ان کی جہالت کو دکھا کر اپنی دکان نہیں چلائی، مگر درگاہ، مزار، پیر، فقیر، رقص، قوالی…وغیرہ دکھا دکھا کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ ٹارگیٹ سنی بھولی بھالی عوام ہے۔ اور ان کے جال میں اکثر پنھستے بھی یہی ہیں۔
ہر باطل فرقہ بالخصوص اہل حدیث عصر حاضر کے تمام ذرائع استعمال کر کے یلغار کر رہے ہیں، جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے جارہے ہیں، ان کا ہر چھچھورا ” ترجمان اہل حدیث” بن کر شب و روز سنیت کی مخالفت پر تلا ہے
ہمارے یہاں اہل علم بھی مجال سنبھالنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔آپ سوچیں چند سال بعد اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟؟؟۔
ان کے مسلسل رد اور ہماری جانب سے بروقت تعاقب نہ ہونے کی وجہ سے سنی عوام ان کی جھولی میں…!!! (العیاذ باللہ)۔
لہذا…عرض مدعا یہ ہے کہ نوجوان علماء ابھی مورچہ سنبھالیں، اپنی دیگر مصروفیات کے ساتھ اس جانب بھی توجہ دیں، اور کچھ کر گزریں۔
از قلم: شیخ عبد الرحمن ازہری
حیدرآباد
رابطہ : 8522053480
اس کو بھی پڑھیں میڈیا کی گستاخیاں اور ہمارا رد عمل