حضور حافظِ ملت اور اصاغر نوازی
ماضی قریب میں جن بزرگوں نے اپنی پوری زندگی خدمتِ اسلام کے لیے وقف کردی ہے ، جن کے شب و روز قوم و ملت کی اصلاح، فلاح و بہبود اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل ہوئے، متلاشیانِ علم کو تعلیم و تربیت اور خردسالوں کی دل داری سے آراستہ کرنے کے لیے مدارس و مساجد کے قیام و ترقی کی خاطر ہمہ وقت کوشاں رہے، قرآنِ مجید کے اقوالِ زریں و فرامینِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیب العین بناکر ان پر گامزن رہے، انہیں سرخ رو اور بلند اقبال بزرگوں میں جلالۃ العلم حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ کا اسمِ گرامی بھی آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
حضور حافظِ ملت جہاں علم و حکمت، فکر و نظر، شعور و آگہی کے بلند مقام پر فائز تھے، وہیں اخلاقِ حسنہ اور عاداتِ شریفہ آپ کے امتیازی اوصاف تھے۔ آپ کے اخلاق کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ کم سنوں پر لطف و کرم کی بارش فرماتے، معاصرین کے ساتھ خوش دلی سے پیش آتے اور اپنے اکابر سے نیاز مندانہ برتاؤ کرتے۔ گویا بابِ اخلاقِ حسنہ میں آپ انفرادی طور پر مہتم بالشان اوصاف کے مالک تھے۔
اگر ابنِ آدم کے اندر دو چیزیں پیدا ہو جائیں تو انسان کیا، قدموں کے نیچے کی کنکریاں بھی اس کا احترام کریں گی: ایک اخلاق اور دوسرا استقلال۔ حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے لیل و نہار بھی کئی جہتوں سے ادب و احترام، اخلاق و کردار سے مملو اور نمایاں پہلوؤں کے حامل تھے۔
آپ کا حسنِ سلوک اتنا وسیع تھا کہ اس پر اگر روشنی ڈالی جائے تو اس مختصر سے مضمون میں اس کا احاطہ نہیں ہو سکتا۔
حضور حافظِ ملت کا استغناء اور لطف و عنایت اس قدر بلند تھا کہ اپنے لیے جو بھی چیز پکاتے، اس میں سے تھوڑا سا نکال کر طلبہ میں بھی تقسیم فرماتے تھے۔ آپ کی اس محبت و کرم نوازی کے سبب کوئی طالب علم اپنے آپ کو والد کی شفقت سے محروم نہ سمجھتا تھا۔ آپ کی زندگی باعث تخلیق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے حسب فرمان گزری ہے ۔ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ۔ (مسلم شریف )
ایثار و قناعت کا حال یہ تھا ،کہ خود آدھی روٹی پر اکتفا کرتے اور آدھی سائلوں میں تقسیم فرماتے۔ پوری حیات طلبا و رفقا کو یہی درس دئے ۔
نیم نانِ گر خورد مردِ خدا
بذلِ درویشاں کند نیمِ دگر۔
(گلستاں)
اسلامی اداروں میں عموماً عیدِ قرباں اور دیگر تہواروں میں کچھ طلبہ مدرسے میں ہی قیام فرماتے ہیں، جیسا کہ آج بھی ہم مشاہدہ کر رہے ہیں۔
آپ کی موجودگی میں کسی کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ اپنے والدین سے دور رہ کر عید کے لمحات غربت و تنگ دستی میں گزار رہے ہیں۔ ان کا معمول تھا کہ عید کے دن موجود تمام طلبہ کو دعوت دیتے اور خود ان کی ضیافت فرماتے تھے۔ کھلانے پلانے کا کام خود انجام دیتے تھے لیکن طلبہ کو کوئی زحمت نہیں دیتے تھے۔
اس کو بھی پڑھیں : حضور حافظ ملت ایک عہد ساز شخصیت
حضور حافظِ ملت کی نگہداشت و سرپرستی کا ایک نمایاں انداز یہ بھی تھا کہ عید کے دن تمام طلبہ میں ایک ایک روپیہ تقسیم فرماتے تھے۔ آپ اپنے آپ میں جہاں کوہِ علم تھے، وہیں خلوص و للہیت، حق و صداقت اور خرد و کلاں نوازی میں ممتاز تھے۔
آپ علیہ الرحمہ کے ہزاروں شاگرد ہیں، ہر ایک اپنی جگہ مثلِ آفتاب و ماہتاب ہے۔ آپ کی علمی تربیت و کردار ساز کاوشوں نے امت کو علامہ ارشد القادری جیسا قائد، مفتی عبد المنان جیسا بحر العلوم، مفتی شریف الحق جیسا فقیہِ اعظمِ ہند، علامہ محمد احمد مصباحی جیسا رئیس المحققین، علامہ ضیاء المصطفیٰ جیسا محدثِ کبیر، علامہ قمر الزمان خان اعظمی جیسا مفکرِ اسلام، علامہ سید مدنی میاں جیسا مفسر قرآن ،اور دیگر اکابر علماء و کرام کو بیش بہا تحائف کی شکل میں فراہم کیا۔
حضور حافظِ ملت کی اصاغر نوازی کے متعلق حضرت مفکرِ اسلام فرماتے ہیں کہ فراغت کے بعد حضرت سے ملاقات کرنے کے لیے میری آمد ہوئی۔ ان دنوں آپ بہت علیل تھے۔ سلام و دست بوسی کی۔ حضرت نے ہاتھ پکڑ کر قریب بٹھایا، خیریت دریافت کی۔ بعدہٗ خود علالت کی حالت میں اٹھ کر میرے لیے شربت بنایا پھر مجھے گلاس تھمایا حضرت نے مسکراتے اور شیریں آواز میں کہا: “اس کو پی لو۔”۔
یہ حافظِ ملت کی اصاغر پروری کا اعلیٰ ظرف تھا کہ ہم جیسے چھوٹوں پر لطف و کرم نچھاور فرماتے۔ آپ کی ذاتِ گرامی ہمیشہ اس حدیثِ مبارک کا مصداق رہی ہے:
لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا۔
(سنن ترمذی و مشکوۃ ص ٤٣٢)۔
حضور حافظِ ملت نے دنیا میں رشتۂ اخوت کا حق ادا کیا اور اہل دنیا کو اتحادِ زندگی اور اختلافِ موت کا درس دیا۔ مخالفین نے سینکڑوں اختلافات کیے، مگر آپ نے ہر مخالف کا جواب کام کہکر گزر گئے۔ آپ نے اپنی علمی و تربیتی وراثت کو مستقل سبز و شاداب کے لیے ازہرِ ہند، جامعہ اشرفیہ مبارک پور جیسا علمی شہر قائم کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث:
«صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ» (مسند احمد) پر پوری زندگی عمل پیرا ہوئے۔
آپ کی اصاغر نوازی نے آپ کی محبت کو دلوں میں ایسا بسا دیا ہے کہ آج بھی ہر دل آپ کی یاد سے معمور ہے، اور ان شاء اللہ ہمیشہ معمور رہے گا۔
ہمیں بھی حافظِ ملت کی روش و سیرت پر چلنے کی ضرورت ہے۔ پروردگارِ عالم ہمیں بڑوں کی عزت، اور چھوٹوں پر شفقت کرنے کی توفیق بخشے، اختلافات سے بچائے اور ایک دوسرے کے دلوں کو الفّت و عقیدت سے منور کرے۔۔۔۔۔۔
راشد عالم قادری
متعلم: جامعہ اشرفیہ مبارک پور
اعظم گڑھ ۔
اس کو بھی پڑھیں اور معلومات میں اضافہ کریں حضور حافظ ملت کے دینی علمی کارنامے
