نعت شریف امام اہل سنت امام احمد رضا خاں قدس سرہ کا نعتیہ دیوان حدائق بخشش میں یہ نعت شریف یوں لکھا ہے وصلِ اول در نعتِ اکرم حضور سید عالم ﷺ۔ذریعۂ قادریہ۔ اس نعت شریف میں سیدی سرکار اعلی حضرت قدس سرہ اپنے آقا حضور نبئ رحمت ﷺ کی تعریف وتوصیف میں رطب اللسان ہیں اور سیدی سرکار اعلی حضرت قدس سرہ اسنعت شریف میں امت مسلمہ کو اپنے آقا ﷺ سے پیار ومحبت کا درس دیتے ہیں
واہ کیا جود وکرم ہے شہ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ذرہ تیرا
فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانیں
خسروا عرش پہ اڑتا پے پھریرا تیرا
امام اہل سنت کیا خوب ارشاد فرماتے ہیں
میں تو مالک ہی کہوں گا کے ہو مالکِ حبیب
یعنی محبوب ومحب میں نہیں میرا تیرا
دل عبث خوف سے پتا سا اڑاجاتا ہے
پلہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسہ تیرا
ایک میں کیا مرے عصیاں کی حقیقت کتنی
مجھ سے سو لاکھ کو ہے کافی اشارہ تیرا
تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا
کس کا منہ تکیے کہاں جائیے کس سے کہیے
تیرے ہی قدموں پہ مٹ جائے یہ پالا تیرا
تو نے اسلام دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئ پھرتا عطیّہ تیرا
تیرے صدقے مجھے ایک بوند بہت ہے تیری
جس دن اچھوں کو ملے جام چھلکتا تیرا
تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں
کون نظروں میں چڑھے دیکھ کے تلوا تیرا
تیری سرکار میں لاتا ہے رضا اس کو شفیع
جو میرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا
مزید نعت کے لئے کلک کریں

نعت شریف /