امام اہل سنت امام احمد رضا خاں محقق بریلوی علیہ الرحمہ کا ایک فتوی نقل کررہے ہیں ( قسط اول پڑھیں) ۔ چوں کہ امام اہل سنت سیدی سرکار اعلی حضرت قدس سرہ جب کسی مسئلے کا جواب لکھتے تو مسئلہ جتنا اہم ہوتا آپ اتنے ہی پایہ کی احادیث سے استدلال کرتے ہیں. امام اہل سنت سیدی سرکار اعلی حضرت قدس سرہ سب سے پہلے اپنی تحقیق کا آغاز قرآنی آیات سے کرتے تھے پھر احادیث مصطفی ﷺ سے ۔امام اہل سنت سیدی سرکار اعلی حضرت قدس سرہ کے جس فتویٰ کو ہم نقل کر رہے ہیں اس کا عنوان ہے شفاعت مصطفی ﷺ۔ اس کی پہلی قسط میں قرآنی آیات کو لکھے تھے اب احادیث مصطفی ﷺ کو نقل کر رہے ہیں۔آپ خود پڑھیں اور اپنے دوست و احباب کو ثواب کی نیت سے شئیر کریں ۔
شفاعت مصطفی
شفاعتِ کبری کی حدیثیں جن میں صاف صریح ارشاد ہوا کہ عرصاتِ محشر (محشر کے میدان)میں وہ طویل دن ہوگا کہ کاٹے نہ کٹے اور سروں پر آفتاب اور دوزخ نزدیک ۔اس دن سورج میں دس برس کامل کی گرمی جمع کریں گے۔
اور سروں سے کچھ ہی فاصلہ پر لا کر رکھیں گے ، پیاس کی وہ شدت کہ خدا نہ دکھائے ،گرمی وہ قیامت کہ اللّہ بچائے ، بانسوں پسینہ زمین میں جذب ہو کر اوپر چڑھے گا یہاں تک کہ گلے سے بھی اونچا ہوگا ،جہاز چھوڑیں تو بہنے لگیں ،لوگ اِس میں غوطے کھائیں گے، ،گھبرا گھبرا کر دل حلق تک آجائیں گے ۔
لوگ اِن عظیم آفتوں میں جان سے تنگ آکر شفیع کی تلاش میں جا بجا پھریں گے ، حضرت آدم و نوح ، خلیل و کلیم و مسیح علیھم الصلوۃ والتسلیم کے پا س حاضر ہوکر جواب صاف سنیں گے ،سب انبیاء فرمائیں گے ہمارا یہ مرتبہ نہیں ہم اس لائق نہیں ، ہم سے یہ کام نہ نکلے گا۔
نفسی نفسی ! تم اور کسی کے پاس جاؤ یہاں تک کہ سب کے بعد حضور پُر نور خاتم النبئین ، سید الاولین والاخرین ، شفیع المذنبین ،رحمةٌ لّلعالمین ، ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے ، حضور اقدس ﷺ اَنَا لَھَا اَنَا لَھَا فرمائیں گے یعنی میں ہوں شفاعت کے لئے میں ہوں شفاعت کے لئے۔ پھر اپنے رب کریم جلّ جلا لہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر سجدہ کریں ان کا رب تبارک و تعالی ارشاد فرمائے گا ۔
یَا مُحمّد ارفَع رَأسَكَ وَ قُل تُسمَع وَ سَل تُعطَہ وَاشَع تُشَفَّع
اے محمد !اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو تمھاری بات سنی جائے گی اور مانگو کہ تمھیں عطا ہوگا اور شفاعت کرو کہ تمھاری شفاعت قبول ہے۔(بخاری شریف) ۔
گرتے ہوؤں کو مژدہ سجدے میں گرے مولیٰ
رو رو کے شفاعت کی تمہید اٹھائ ہے
یہی وہ ماقامِ محمود ہوگا جہاں تمام اوّلین و آخرین میں حضور کی تعریف و حمد وثناء کا غُل پڑ جائے گا اقر موافق ومخالف سب پر کھل جائے گا ۔
بارگاہِ الہی میں جو وجاہت ہمارے آقا کی ہے کسی کی نہیں اور ملک عظیم جلّ جلالہ کے یہاں جو عظمت ہمارے مولیٰ کے لئے ہے ، کسی کے لئے نہیں والحمد للہ رب العالمین ۔ اسی لیے اللّہ تعالےٰ اپنی حکمتِ کاملہ کے مطابق لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا کہ پہلے اور انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام کے پاس جائیں گے اور وہاں سے محروم پھر کر ان کی خدمت میں حاضر آئیں تاکہ سب جان لیں کہ منصبِ شفاعت اسی سرکار کا خاصہ ہے ، دوسرے کی مجال نہیں کہ اس کا دروازہ کھول سکے ۔
یہ حدیثیں صحیح بخاری و صحیح مسلم و تمام کتابوں میں مذکور اور اہلِ اسلام میں معروف ومشہور ہیں ۔ان مشہور حدیثوں کی آخر میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ بخششِ گنا ہگار ان کے لئے بار بار شفاعت فرمائیں گے اور ہر دفعہ اللّہ تعالیٰ وہی کلمات فرمائے گا اور حضور ہر مرتبہ بےشمار بندگانِ خدا کو نجات بخشیں گے ۔
ان مشہور حدیثوں کے سوا ایک اربعین یعنی چالیس حدیثیں لکھا جارہا ہے جو گوشِ عوام تک کم پہنچی ، ان کے بیان سے مسلمانوں کا ایمان ترقی پائے گا منکر کا دل آتشِ غیظ میں جل جائے بالخصوص جن سے اس ناپاک تحرف کا رد ہو جو بعض بد ینوں ، خدا نا ترسوں ،ناحق کوشوں ،باطل کیشوں نے معنیٰ شفاعت میں کیں اور انکار شفاعت کے چہرۂ نجس چھپانے کو ایک جھوٹی صورت نام کی شفاعت دل سے گھڑی۔
ان حدیثوں سے واضح ہوگا کہ ہمارے آقائے اعظم ﷺ شفاعت کے لئے متعین ہیں ، انھیں کی سرکار بیکس پناہ ہے ،انھیں کے در سے بے یاروں کا نباہ ہے ۔یہ حدیثیں ظاہر کریں گی کہ ہمیں خدا ورسول نے کان کھول کر شفیع کا پیارا نام بتا دیا اور صاف فرمایا کہ وہ محمد رسول اللّه ہیں ﷺ ۔
یہ حدیثیں مژدۂ جانفزا دیں گے کہ حضور کی شفاعت نہ اس کے لئے ہے جس سے اتفاقًا گناہ ہوگیا ہو اور وہ اس پر ہر وقت نادم پریشان وترساں ولرزاں ہے جس طرح ایک درزِ باطن کہتا ہے کہ چور پر تو چوری ثابت ہوگئ مگر وہ ہمیشہ کا چور نہیں اور چوری کو اس نے اپنا پیشہ نہیں ٹھرایا مگر نفس کی شامت سے قصور ہوگیا سو اس پر شرمندہ ہے اور رات دن ڈرتا ہے ، نہیں نہیں ان کے رب کی قسم جس نے انھیں شفیع المذنبین کیا ان کی شفاعت ہم جیسے روسیاہوں ، پُر گناہوں ، سیہ کاروں ، ستم گاروں کے لیے ہے جن کا بال بال گنا ہ میں بندھا ہے جن کے نام سے گناہ بھی ننگ وعار رکھتا ہے
ترسم آلودہ شود دامنِ عِصیاں از مَن
حدیث نمبر 1۔2
امام احمد بسند صحیح اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے اور ابنِ ماجہ حضرتِ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین ﷺ فرماتے ہیں۔
خُیّرتُ بَینَ الشَّفَاعةِ وَ بَینَ اَن یَّدخُلَ نِصفُ اُمَّتِیَالجَنَۃَ فَختَرتُ الشَّفَاعَۃَ لِاَنَّھَااَعَمُّ وَ اَکفیٰ تَرَونَھَا لِلمُتَّقِینَ وَ لٰکِنَّھَا لِلمُذنِبِنَ الخَطَّائِینَ المُتَلَوِّثِینَ
ترجمہ: اللّه تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو شفاعت لو یا یہ کہ تمھاری آدھی امت جنت میں جائے ،میں نے شفاعت لی کہ وہ زیادہ تمام اور زیادہ کا م آنے والی ہے ۔کیا تم یہ سمجھ لئے ہو کہ میری شفاعت پاکیزہ مسلمانوں کے لئے ہے ۔نہیں بلکہ وہ ان گناہ گاروں کے واسطے ہے جو گناہوں میں آلودہ اور سخت خطاکار ہیں ۔
حدیث نمبر 3:- ابن عدی حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے راوی حضور شفیع المذنبین ﷺ فرماتے ہیں شِفَاعَتِی لِلھَالِکِینَ مِن اُمَّتِی ۔
ترجمہ:- میری شفاعت میرے ان امتیوں کے لئے ہے جنھیں گناہوں نے ہلاک کر ڈالا۔ واہ سبحان اللہ ۔حق ہے اے شفیع میرے ،میں قربان تیرے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
حدیث نمبر 4،5،6،7،8:- حضرت ابوداؤد ، ترمذی ،ابن حبان ،حاکم ، بیہقی بافادۂ تصحیح حضرتِ انس بن مالک اور ترمذی، ابن ماجہ،ابن حبان و حاکم حضرتِ جابر بن عبداللہ ابن عمرفاروق وحضرتِ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنھم سے راوی حضور شفیع المذنبین ﷺ فرماتے ہیں :۔ شَفَاعَتِی٘ یَو٘مَ ال٘قِیٰمَةِ لِاَ ھ٘لِ ال٘کَبَائِرِ مِن٘ اُمَّتِی٘ ترجمہ ۔میری شفاعت میری امت میں ان کے لئے ہے جو کبیرہ گناہ والے ہیں ۔
حدیث نمبر 9:۔ابوبکر احمد بن علی بغدادی حضرتِ ابودرداء رضی اللہ عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین ﷺ نے فرمایا ۔ شَفَاعَتِی٘ لِاَھ٘لِ الذُّنُو٘بِ مِن٘ اُمَّتِی
ترجمہ ۔میری شفاعت میرے گنہگار امتیوں کے لئے ہے ۔حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کی وَاِن٘ زَنٰی وَاِن٘ سَرَقَ “اگرچہ زانی ہو اگر چہ چور ہو ،فرمایا : وَاِن٘ زَنٰی وَاِن٘ سَرَقَ عَلٰی رَغ٘مِ اَن٘فِ اَبِی الدَّر٘دَاءِ۔ اگر چہ زانی ہو ،اگرچہ چور ہو ،بر خلاف خواہش ابودارداء کے۔
حدیث نمبر 10-11:- طبرانی و بیہقی حضرتِ بریدہ اور طبرانی معجمِ اوسط میں حضرتِ انس رضی اللہ تبارک و تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین ﷺ فرماتے ہیں ۔اَ ن٘ اَش٘فَعَ یَو٘مَ ال٘قِیٰمَةِ لِاَک٘ثَرَ مِمَّا عَلٰی وَج٘هِ ال٘اَر٘ضِ مِن٘ شَجَرٍ وَّ حَجَرٍ وَّ مَدَرٍ۔
ترجمہ ۔ روئے زمین پر جتنے پیڑ پتھر ڈھیلے ہیں ،قیامت میں ان سب سے زیادہ آدمیوں کی شفاعت فرماؤں گا۔
حدیث نمبر 12:- بخاری، مسلم ،حاکم ، بیہقی حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین فرماتے ہیں:-۔ شَفَاعَتِی٘ لِمَن٘ شَھِدَ اَن٘ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّهُ مُخ٘لِصاً یُصَدّقُ قَل٘بَہٗ لِسَانَہٗ
ترجمہ ۔میری شفاعت ہر کلمہ گو کے لئے ہے ،جو سچے دل سے کلمہ پڑھے کہ زبان کی تصدیق دِل کرتا ہو۔
حدیث نمبر 13:- احمد، طبرانی، وبزار حضرتِ معاذ بن جبل وحضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین ﷺ فرماتے ہیں ۔
اِنَّھَا اَو٘سَعُ لَھُم٘ وَھِیَ لِمَن٘ مَّاتَ وَ لاَیُش٘رِكُ بِا للّهِ شَی٘ئاً ۔ترجمہ ۔شفاعت میں امت کے لئے زیادہ وسعت ہے کہ وہ ہر شخص کے واسطے ہے جس کا خاتمہ ایمان پر ہو۔
حدیث نمبر 14:-طبرانی، معجم اوسط میں حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین ﷺ فرماتے ہیں ۔ اٰتِی٘ جَھَنَّمَ فَاَض٘رِبُ بَابَھَا فَیُف٘تَحُ لِی٘ فَاَد٘خُلُھَا فَاَح٘مَدُ اللّهَ مَحَامِدَ مَا حَمِدَہٗ اَحَدٌ قَب٘لِی٘ مِث٘لَھَا وَ لَا یَح٘مَدُہٗ اَحَدٌ بَع٘دِی٘ ثُمَّ اُخ٘رِجُ مِن٘ھَا مَن٘ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّهُ مُلَخّصًا۔
ترجمہ ۔میں جھنم کا دروازہ کھلوا کر تشریف لے جاوں گا وہاں خدا کی تعریفیں کروں گا ‘ ایسی نہ مجھ سے پہلے کسی نے کیں نہ میرے بعد کوئی کرے’ پھر دوزخ سے ہر شخص کو نکال لوں گا جس نے خالص دل سے لا الہ الا اللہ کہا”۔
حدیث نمبر 15۔ حاکم بافادۂ تصحیح اور طبرانی بیہقی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھم سے راوی حضور شفیع المذنبین فرماتے ہیں ۔ یُو٘ضَعُ لِل٘ان٘بِیَاءِ مَنَابِرُ مِن٘ ذَھَبٍ فَیَجْلِسُوْنَ عَلَیْھَا وَ یَبْقیٰ مِنْبَرِیْ لَا اَجْلِسُ عَلَیْہِ اَوْلَا اَقْعُدُ عَلَیْہِ قَائِماً بَیْنَ یَدَیْ رَبّیْ مَخَافَۃَ اَنْ یَّبْعَثَ بِیْ اِلَی الجَنَّۃِ وَ یَبْقیٰ اُمَّتِیْ مِنْ بَعْدِیْ فَاَقُوْلُ یَا رَبِّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ فَیَقُوْلُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ یَا مُحَمَّدُ مَا تُرِیْدُ اَنْ اَصْنَعَ بِاُمَّتِكَ فَاَقُوْلُ یَا رَبِّ عَجّلْ حِسَابَھُمْ فَمَا اَزَالُ اَشْفَعُ حَتَّیٰ اُعْطٰی صِکَاکًا بِرِجَالٍ قَدْ بُعِثَ بِھِمْ اِلَی النَّارِ حَتَّی أَنَّ مَالِکًا خَازِنَ النَّارِ لَیَقُوْلُ یَا مُحَمَّدُ مَا تَرَکْتَ. ۔
ترجمہ… ۔ انبیاء کرام کے لئے سونے کے منبر بچھائے جائیں گے، وہ ان پر بیٹھیں گے اور میرا منبر باقی رہے گا کہ میں اس پر جلوس نہ فرماؤں گا بلکہ اپنے رب کے حضور سَر وقد کھڑا رہوں گا اِس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو مجھے جنت میں بھیج دے اور میری امت میرے بعد رہ جائے. ۔
پھر عرض کروں گا اے میرے رب! میری امت میری امت ۔ اللّہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے محمد! ﷺ تیری کیا مرضی ہے، میں تیری امت کے ساتھ کیا کروں؟… عرض کروں گا اے میرے رب! ان کا حساب جلد فرمادے. پس میں شفاعت کرتا رہوں گا یہاں تک کہ مجھے ان کی رہائی کی چھٹیاں ملیں گی جنھیں دوزخ بھیج چکے تھے یہاں تک کہ مالک داروغۂ دوزخ عرض کریں گے. اے محمد! ﷺ آپ نے اپنی امت میں رب کا غضب نام کو نہ چھوڑا۔”…۔
حدیث نمبر 16-17-18-19-20-21-۔بخاری، مسلم، و نسائی حضرت جابر بن عبداللہ اور احمد بسند حَسَن اور بخاری تاريخ میں، اور بزار اور طبرانی و بیہقی و ابو نعیم حضرت عبداللہ بن عباس اور احمد بسند حسن و بزار بسند جَیَّد و دارمی و ابن شیبہ و ابو یعلٰی و ابونعیم و بیہقی حضرت ابوذر اور طبرانی، معجم اوسط میں بسند حضرت ابوسعید خدری اور کبیر میں حضرت سائب ابن یزید اور احمد باسناد حسن اور ابن شیبہ و طبرانی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللُّہ تعالیٰ عنھم سے راوی ۔ وَ لَّفْظُ لِجَابِرِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلّیٰ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاُعْطِیْتُ مَا لَمْ یُعُطَ أَحَدٌ قَبْلِیْ اِلٰی قَوْلِہٖ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاُعْطِیْتُ الشَّفَاعَةِ
ان چھوں حدیثوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ فرماتے ہیں کہ میں شفیع مقرر کردیا گیا ہوں. اور شفاعت خاص مجھی کو عطا ہوگی۔میرے سوا کسی نبی کو یہ منصب نہ ملا۔
حدیث نمبر 22-23…۔ حضرت ابن عباس و ابو سعید و ابو موسیٰ سے انھیں حدیثوں میں وہ مضمون بھی ہے جو احمد و بخاری و مسلم نے انس اور شیخین نے ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے (رضی اللُّہ تعالیٰ عنھم أجمعين) کہ حضور شفیع المذنبین ﷺ فرماتے ہیں ۔… ۔ اِنَّ لِکُلّ نَبِیٍّ دَعْوَةً قَد دَعَابِھَا فِی اُمَّتِهٖ وَاسْتُجِیْبَ لَهٗ وَ ھٰذَ اللَّفْظُ لِاَنَسٍ وَلَفْظُ اَبِیْ سَعِیْدٍ لَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ إِلَّا وَ قَدْ اُ عْطِیَ دَعْوَةً فَتَعَجَّلَھَا ۔
ولفظ ابن عباس…. لَمْ یَبْقَ نَبِیٌّ إِلَّا اُعْطِیَ لَهٗ رَجَعْنَا اِلٰی لَفْظِ وَ اَلْفَاظُ الْبَاقِیْنَ کَمَثَلِهٖ مَعْنٰی قَالَ وَ اِنّی اخْتَبَاْتُ دَعَوَتِیْ شَفَاعَةً لّاُمَّتِیْ یَوْمَ الَقِیٰمَةِ (زاد ابو موسیٰ) جَعَلَتُھَا لِمَنْ مَّاتَ مِنْ اُمَّتِیْ لَا یُشْرِكُ بِا للّهِ شَیْئًا…۔
ترجمہ….. ۔ انبیاء علیہم السلام کی اگرچہ ہزاروں دعائیں قبول ہوتی ہیں مگر ایک دعا انھیں خاص جناب باری تبارك و تعالیٰ سے ملتی ہے کہ جو چاہو مانگ لو، بے شک دیا جائے گا، تمام انبیاء آدم سے عیسیٰ تک (علیھم الصلاۃ والسلام) سب اپنی اپنی وہ دعائ دنیا میں کر چکے اور میں نے آخرت کے لئے اٹھا رکھی۔ وہ میری شفاعت ہے، میری امت کے لئے قیامت کے دن میں نے اسے ساری امت کے رکھا ہے جو ایمان پر دنیا سے اٹھی ۔
اللّه اكبر
اے گنگاران امت! کیا تم نے اپنے مالک و مولی رسول ﷺ کی بہ کمال رأفت و رحمت اپنے حال پر نہ دیکھی کہ بارگاہ الہی عزوجل آلہ سے تین سوا ل حضور کو ملے کہ جو چاہو مانگ لو عطا ہوگا، حضور ﷺ نے ان میں کوئی سوال اپنی ذات پاك کے لئے نہ رکھا، ۔
سب دعا ہمارے تمھارے لئے کام فرمادئے، دو سوال دنیا میں کئے وہ بھی ہمارے تمھارے واسطے. تیسرا آخرت کو اٹھا رکھا، وہ ہماری تمھاری اس عظیم حاجت کے واسطے جب اس مہربان مولیٰ رؤف رحیم آقاۓکریم رسول ﷺ کے سوا کوئی کام آنے والا، بگڑی بنانے والا نہ ہوگا۔
حق فرمایا ﷲ تعالیٰ نے عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رءوف رحیم
واللہ العظيم !….. ۔
قسم اس کی جس نے انھیں آپ مہربان کیا ہرگز ہرگز کوئی ماں اپنے عزیز پیارے اکلوتے بیٹے پر زنہار اتنی مہربان نہیں جس قدر وہ اپنے ایک امتی پر مہربان ﷺ ۔
الہی تو ہمارا عجز وضعف اور ان کے حقوق عظیمہ کی عظمت جانتا ہے، اے قادر! اے ماجد ! ہماری طرف سے ان پر اور ان کی آل ِپاک پر وہ برکت والی درودیں نازل فرما جو ان کے حقوق کو وافی ہوں اور ان کی رحمتوں کو مکافی۔
سبحان اللہ.! امتیوں نے ان کی رحمتوں کا معاوضہ رکھا کہ کوئی افضلیت میں تشکیکیں نکالتا ہے، کوئی ان کی شفاعت میں شبہہ ڈالتا ہے، کوئی ان کی تعریف اپنی سی جانتا ہے کوئی ان کی تعظیم پر بگڑ کر کرّاتا ہے، افعالِ محبت کا بدعت نام، اجلال و ادب پر شرک کے احکام…. أنا لللہ و انا الیہ راجعون
حدیث نمبر… :-۔24 صحیح مسلم میں حضرت ابی بن کعب رضی اللُّہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس شفیع المذنبین رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ ﷲ تعالیٰ نے مجھے تین سوال عطا فرمائے، میں دو بار تو دنیا میں عرض کر لی. “اللهم اغفر لامتی اللهم اغفر لامتی “الہی میری امت کی مغفرت فرما ،الہی میری امت کی مغفرت فرما۔ وَاَخَّرُْتُ الثَّالِثَةَ لِیَوْمٍ یَّرْغَبُ اِلَیَّ فِیْهِ الْخَلْقُ حَتَّیٰ اِبْرَاھِیْمَ. اور تیسری عرض اس دن کے لئے اٹھا رکھی جس میں تمام مخلوق الہی میری طرف نیاز مند ہوگی، یہاں تک حضرت ابراھیم علیہ الصلاۃ والسلام.ﷺ ۔
حدیث نمبر.. :-۔25 بیہقی حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین رسول ﷺ نے شب اسریٰ اپنے رب سے عرض کی تو نے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو یہ یہ فضائل بخشے، رب عز مجد نے فرمایا ۔اَعْطَیْتُكَ خَیْراً مّنْ ذٰلَكَ (الی قولہ) خَبَأْتُ شَفَاعَتَكَ وَلَمْ اَحْبَأْھَا لَ نَبِیٍّ غَیْرِكَ۔…… ۔ میں نے تجھے عطا فرمایا وہ ان سب سے بہتر ہے، میں نے تیرے شفاعت چھپا رکھی اور تیرے سوا دوسرے کو نہ دی
حدیث نمبر… :-۔26 آبی شیبہ و ترمذی بافادۂ تحسین و تصحیح اور ابن ماجہ و حاکم بحکم تصحیح حضرت ابی بن کعب رضی اللُّہ تعالیٰ عنہ سے راوی حضور شفیع المذنبین ﷺ فرماتے ہیں. ۔اِذَ کَانَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ کُنْتُ اِمَامَ النَّبِیّنَ وَ خَطِیْبَھُمْ وَ صَاحِبَ شَفَاعَتِھِمْ غَیْرَ فَخَرٍ
ترجمہ…… ۔”قیامت کے دن میں انبیاء کا پیشوا اور ان کا خطیب اور ان کا شفاعت والا ہوں گا اور یہ کچھ فخر کی راہ سے نہیں فرماتا” ۔
حدیث نمبر…. :-27.تا 40..۔ابن منیع حضرتِ زید ابن ارقم وغیرہ چودہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھم سے راوی حضور شفیع المذنبین رسول خدا ﷺ فرماتے ہیں.شَفَاعَتِی٘ یَو٘مَ ال٘قِیٰمَةِ حَقٌّ فَمَنْ لَّمْ یُؤْمِنْ بِھَا لَمْ یَکُنْ مِنْ اَھْلِھَا.. ۔
ترجمہ….. ۔”میری شفاعت روز قیامت حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائیگا، اس کے قابل نہ ہوگا۔… منکر مسکین اس حدیثِ متواتر کو ریکھے اور اپنی جان پر رحم کرکے شفاعت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔

ﷲ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب سرکار مصطفیٰ ﷺ کا سچا غلام دنیا میں بنائے رکھے اور خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے اور قیامت کے دن حضور شفیع المذنبین ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے ۔آمین ثم آمین
شفاعت کرے حشر میں جو رضا کی
سوا تیرے کس کو یہ قدرت ملی ہو
گنہگاروں کو ہاتف سے نویدِ خوش مآلی ہے
مبارک ہو شفاعت کے لئے احمد سا والی ہے
قبر پر اذان کے احکام اس مضمون کو بھی پڑھیں
افکار رضا. کم کو وزٹ کرتے رہیں اور امام احمد رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ کے افکار و نظریات سے باخبر رہیں نیز نعت، منقبت ،اور دیگر مضامین کا بھر پور لطف اٹھائیں ۔ afkareraza.in