Home احکام شریعت کیا صحابۂ کرام عادل و مخلص نہ تھے قسط ہشتم

کیا صحابۂ کرام عادل و مخلص نہ تھے قسط ہشتم

0
کیا صحابۂ کرام عادل و مخلص نہ تھے قسط ہشتم
کیا صحابۂ کرام عادل و مخلص نہ تھے قسط ہشتم

تحریر : سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی کیا صحابۂ کرام عادل و مخلص نہ تھے قسط ہشتم

کیا صحابۂ کرام عادل و مخلص نہ تھے قسط ہشتم

(گزشتہ سے پیوستہ)

شیخ طبرسی اِس آیتِ کریمہ کا معنٰی بیان کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں : اَلْمَعْنٰی:لَمَّا تَقَدَّمَ ذِکْرُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْکُفَّارِ عَقَّبَہٗ سُبْحَانَہٗ بِذِکْرِ السَّابِقِیْنَ اِلٰی الْاِیْمَانِ فَقَالَ:[وَالسَّابِقُوْ نَ الْاَوَّلُوْنَ ]اَیْ : اَلسَّابِقُوْنَ اِلٰی الْاِیْمَانِ وَ اِلٰی الطَّاعَاتِ وَ اِنَّمَا مَدَحَھُمْ بِالسَّبَقِ لِاَنَّ السَّابِقَ اِلٰی الشَّیْئِ یَتْبَعُہٗ غَیْرُہٗ فَیَکُوْنُ مَتْبُوْعًا وَ غَیْرُہٗ تَابِعٌ لَّہٗ فَھُوَ اِمَامٌ فِیْہِ وَدَاعٍ لَّہٗ اِلٰی الْخَیْرِ بِسَبَقِہٖ اِلَیْہِ ۔ وَ کَذٰلِکَ مَنْ سَبَقَ اِلٰی الشَّرِّ یَکُوْنُ أسْوَأ حَالًا لِھٰذِہٖ الْعِلَّۃِ [مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ]اَلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مِنْ مَّکَّۃَ اِلٰی الْمَدِیْنَۃِ وَ اِلٰی الْحَبْشَۃِ [وَالْاَنْصَارِ]اَیْ مِنَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ سَبَقُوْ ا نُظَرَآءَھُمْ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ اِلٰی الْاِسْلَامِ وَ مَنْ قَرَأ[الْاَنْصَارُ] بِالرَّفْعِ لَمْ یَجْعَلْھُمْ مِنَ السَّابِقِیْنَ وَ جَعَلَ السَّبَقَ لِلْمُھَاجِرِیْنَ خَاصَّۃً [وَالَّذیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ]اَیْ بِأفْعَالِ الْخَیْرِ وَالدُّخُوْلِ فِی الْاِسْلَامِ بَعْدَھُمْ وَسُلُوْکِ مِنْھَاجِھِمْ۔ وَ یَدْخُلُ فِیْ ذٰلِکَ مَنْ یّجِیْئُ بَعْدَھُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔[رَضِیَ اللہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ]اَخْبَرَ سُبْحَانَہٗ اَنَّہٗ رَضِیَ عَنْھُمْ اَفْعَالِھُمْ وَ رَضُوْ عَنِ اللہِ سُبْحَانَہٗ لِمَا اَجْزَلَ لَھُمْ مِّنَ الثَّوَابِ عَلٰی طَاعَاتِھِمْ وَ اِیْمَانِھِمْ بِہٖ وَیَقِیْنِھِمْ [وَ اَعَدَّ لَھُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ تَحْتَھَا الْاَنْھٰرُ خَالِدِیْنَ فِیْھَا]یَبْقَوْنَ بِبَقَآءِ اللہِ مُنْعَمِیْنَ [ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ]اَیْ اَلْفَلَاحُ الْعَظِیْمُ الَّذِیْ یَصْغُرُ فِیْ جَنْبِہٖ کُلُّ نَعِیْمٍ ۔ وَ فِیْ ھٰذِہٖ الْآیَۃِ دَلَالَۃٌ عَلٰی فَضْلِ السَّابِقِیْنَ وَ مَزِیِّھِمْ عَلٰی غَیْرِھِمْ لِمَا یَلْحَقُھُمْ مِنْ اَنْوَاعِ الْمَشَقَّۃِ فِیْ نُصْرَۃِ الدِّیْنِ ۔[مجمع البیان فی تفسیر القرآن ، ج۵:، ص۸۶:]۔

ترجمہ مع تشریح : اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کفار و منافقین کے ذکر کے بعد[ثابت ہوا کہ اب جن کا ذکر ہونے جا رہا ہے وہ کفار ومنافقین میں سے نہیں ہیں] ایمان کی طرف سبقت کرنے والے صحابہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:’’ایمان اور فرماں برداری کی طرف سبقت کرنے والے‘‘[پتہ چلا کہ ایمان کی طرف سبقت کرنے والے صحابہ ،اپنے ایمان میں مخلص اور کامل تھے،اُن میں نفاق تو دور کی بات ضُعفِ ایمان بھی نہ تھا] اللہ تعالیٰ نے ’’سبقت کرنے‘‘ کو اُن کی صفتِ مدح قرار دیا ؛ کیوں کہ جو شخص خیر(کسی اچھی چیز)کی جانب سب سے پہلے سبقت کرتا ہے ،اُس میں دوسرے لوگ اُس کی پیروی کرتے ہیں ۔

نتیجۃً وہ متبوع ہوتا ہے اور دوسرے لوگ اُس کے تابع ؛لہذا اُس خیر کی طرف سبقت کرنے کے سبب وہ مقتدیٰ و امام بن کردوسروں کو اُس کارِ خیر کی طرف بلاتا ہے۔

۔[معلوم ہوا کہ سابقینِ اولین مثلاً حضرت سیدنا صدیقِ اکبر ، حضرت سیدنا فاروقِ اعظم ، حضرت سیدنا عثمان ذو النورین اورحضرت علی شیرِ خدا و غیرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین،دوسرے تمام مسلمانوں کے مقتدیٰ و امام ہیں

کیوں کہ سب سے پہلے انھوں نے ہی اسلام کی طرف سبقت کی اور دوسروں کو رسولِ پاک ﷺ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہونے کی ترغیب دی۔اب قیامت تک جتنے بھی اہلِ ایمان ہوں گے اُن کے ایمان و اعمالِ صالحہ کا مجموعی اجر وثواب اِ ن حضرات کے حصے میں آئے گا اور اُن کے ثواب میں کچھ بھی کمی واقع نہ ہوگی ۔

اب یہ کتنی بڑی زیادتی ؛ بلکہ بد بختی ہے کہ حضرتِ علی مولاے کائنات کرم اللہ وجہہ الکریم کو اولینِ سابقین میں شمار کرکے مسلمانوں کا مقتدیٰ و امام تسلیم کیا جائے اور خلفاے ثلثہ پر کفر و نفاق کا الزام لگاکر اُنھیں بر سرِ ممبر منہ بھر گالیاں دی جائیں اور دوسروں کو اُن کی توہین پر ابھارا جائے ۔ العیاذ باللہ تعالیٰ]۔

اِسی علت کے سبب شر(برائی )کی طرف سبقت کرنے والا سب سے زیادہ برا اور بد بخت کہلاتاہے۔[اِسی لیے ہم کہتے ہیں کہ جن بد بختوں نے رسول اللہ ﷺ کے مقدس صحابہ کی مذمت میں روایتیں گڑھیں،خلفاے ثلثہ کی خلافت کا انکار کرکے اُن کی شان میں مُغَلَّظات بکے،حضور ﷺ کے بعد تین کے علاوہ تمام صحابہ کے مرتدّ ہونے کا اعلان کیا

حضرتِ علی شیرِ خدا کو نبیوں سے افضل کہا، قرآنِ مقدس کو ناقص کہہ کر اسلام کی بنیاد کو منہدم کیا اور سبِّ صحابہ جیسے شرّ کی جانب سبقت کرکے، بعد کے لوگوں کو توہینِ صحابہ کی ترغیب دی،وہ سب کے سب بعد میں آنے والے تمام سڑے ہوئے، بدبو دار رافضیوں کے امام و مقتدیٰ ہیں، قیامت تک صحابۂ کرام کی شان میں جتنی بھی بد تمیزیاں ہوں گی سب کا وبال اُن شیطانوں کے سروں پر ہوگا اور گستاخی کرنے والوں کے عذاب میں کچھ کمی بھی واقع نہ ہوگی] ۔

۔ ’ ’مہاجرین میں سے ‘‘ یعنی اُن لوگوں میں سے جنھوں نے مکۂ مکرمہ سے مدینۂ منورہ اور حبشہ کی جانب ہجرت کی ۔’’اور انصار میں سے ‘‘یعنی جن اہلِ مدینہ نے مہاجرین کی طرح اسلام کی جانب سبقت کی ۔اور جن قُرَّا نے ’’الانصار‘‘ کو مرفوع پڑھا ہے

اُنھوں نے انصار کو سابقینِ اولین میں شمار نہیں کیا ہے ؛بلکہ سبقت الی الاسلام کو مہاجرین کا خاصہ قرار دیا ہے ۔’’اور جنھوں نے اچھائی کے ساتھ اُن کی پیروی کی ‘‘یعنی مہاجرین و انصار کے بعد جنھوں نے اسلام قبول کیا، نیکیاں کیں اور اُن کے منھج[راستے] کو اختیار کیا۔

اِس عموم میں مہاجرین و انصارکے بعد قیامت تک آنے والے تمام مسلمان داخل ہیں ۔’’اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ‘‘۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اُن کے کاموں سے خوش ہوا اور وہ اللہ عز وجل سے راضی ہوئے

کیوں کہ اللہ عز وجل نے اُنھیں اُن کے ایمان و یقین اور طاعت و فرماں برداری کے سبب بے حساب اجر و ثواب سے مالا مال فرمایا۔[ثابت ہوا کہ اللہ عز وجل نے حضرت ابو بکر ،حضرت عمر ، حضرت عثمان اور دیگر صحابۂ کرام کو اُن کے ایمان و یقین اور طاعات و عبادات کے سبب بے حساب اجر و ثواب سے مالا مال فرمایا ہے، یہ حکم اُسی وقت متحقق ہوسکے گا جب کہ اُنھیں تا دمِ حیات ایمان پر قائم ودائم تسلیم کیا جائے ؛

لہذا ثابت ہوا کہ یہ حضرات تا دمِ حیات ایمان و اخلاص پر قائم رہے، یہ ممکن ہی نہیں کہ حضور ﷺ کے وصالِ اقدس کے فوراً بعد یہ حضرات زمانۂ جاہلیت کی طرف پلٹ گئے ہوں]۔

’’اور اُس نے اُن کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے دریا جاری ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘‘یعنی مِنْ جَانِبِ اللہ ہمیشہ نعمتوں میں باقی رہیں گے ۔’’یہی بڑی کامیابی ہے ‘‘یعنی یہ ایسی عظیم کامیابی ہے جس کے سامنے ہر نعمت ہیچ ہے ۔

یہ آیت کریمہ اِس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ سابقینِ اولین کو دوسروں پر فضیلت و برتری حاصل ہے؛ کیوں کہ اُنھوں نے دین کی نصرت و حمایت میں بڑی مشقتیں برداشت کیں

۔[ اِس تفسیر سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ سابقینِ اولین کا مقام انتہائی بلند ہے ، کوئی دوسرا اُن کے مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا ۔اُنھیں یہ عظمت و رفعت اِس لیے ملی کہ اُنھوں نے پورے اخلاص کے ساتھ دینِ اسلام کی نصرت و حمایت کی، پیغمبرِ اسلام ﷺ  کی محبت میں سخت ترین مشقتیں اور زہرہ گداز پریشانیاں برداشت کیں،اپنے آبائی دین کو ترک کرکے،اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو نہ صرف یہ کہ چھوڑا؛ بلکہ وقت پڑا تو اُن سے جنگ بھی کی اور اُنھیں قتل بھی کیا۔اِسی لیے خوش ہو کر رب تعالیٰ نے انھیں اپنی رضا ، فوزِ عظیم اور جنت کی دائمی نعمتوں کا مژدہ سنایا ۔بعد میں جس کو بھی یہ مقام ملا یا ملےگااِنھیں نفوسِ قدسیہ کے طفیل مِلا اور ملے گا ۔

اللہ رب العزت علام الغیوب ہے ، بعد میں کیا ہونے والا ہے سب کچھ اُس کی نگاہِ قدرت کے سامنے ہے ؛ اگر اِن حضرات سے بعد میں کفر سرزد ہونے والا ہوتا اور یہ حضرات حضرت علی کا حقِّ خلافت غصب کرکے مرتد ہونے والے ہوتے تو وہ ہرگز اُنھیں اِس عظیم بشارت کا حق دار نہ ٹھہراتا ]۔

اِن چاروں آیاتِ کریمہ اور فریقین کی کتبِ تفاسیر سے واضح ہوا کہ رسولِ اکرم ﷺ  کے تربیت یافتہ تمام صحابہ اپنے ایمان میں انتہائی مخلص اور کفر و نفاق سے بالکل دور و نفور تھے

اپنے آقا و مولا ﷺ  کی حیاتِ ظاہری تک اپنے اخلاص پر قائم رہے ، دینِ کی سر بلندی کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں

اہلِ بیتِ کرام سے سچی اور بے نظیر محبت کی ، اپنی عزت و آبرو اور جان و مال کو حضور ﷺ  کے ایک اشارۂ ابرو پر قربان کیا ، جس کے نتیجے میں قرآنِ مقدس نے اُن کے مناقب بیان کیے اور اللہ رب العزت نے دنیا ہی اُنھیں جنت کی بشارت دی ۔

حضور ﷺ  کے وصال کے بعد بھی یہ حضرات دین کے بے لوث خادم رہےاور پوری طاقت و توانائی کے ساتھ اگر ایک طرف دینِ متین کی تبلیغ کی تو دوسری طرف دشمنانِ دین کے سر بھی اتارے ۔

انھیں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا کے گوشے گوشے میں اسلام کاپرچم لہرا رہاہے  اور مخالفین کی کثرت کے باوجود اسلام پھل پھول رہا ہے ۔

صرف چار آیات پر اکتفا کیا گیا ہے ؛ ورنہ قرآنِ مقدس میں ایسی درجنوں آیاتِ کریمہ ہیں جو صحابۂ کرام کی’’ عظمت و شان‘‘ کو بڑے واضح طور پر بیان کر رہی ہیں ۔کیوں کہ ماننے والے خوش نصیبوں کے لیے ایک آیت ہی کافی ہے اور نہ ماننے والے سرکشوں اور بد بختوں کے لیے دفتر کے دفتر بے کار ہیں ۔

جاری

 تحریر : سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی عفی عنہ

پرنسپل: دارالعلوم محبوب سبحانی کرلا ممبیٔ

پیش کش : نور ایمان اسلامک آرگنائزیشن کرلا ویسٹ ممبئی

کیا صحابۂ کرام عادل و مخلص نہ تھے : تمام قسطوں کا لنک نیچے ملاحظہ فرمائیں

قسط اول

قسط دوم

قسط سوم

قسط چہارم

قسط پنجم

قسط ششم

قسط ہفتم

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here