Home حالات حاضرہ اسلام وطن سے محبت اور وفاداری کا درس دیتا ہے

اسلام وطن سے محبت اور وفاداری کا درس دیتا ہے

0
اسلام وطن سے محبت اور وفاداری کا درس دیتا ہے
سب سے اچھا سب سے نیارا اپنا ہندوستان ہے

از ققلم : نعیم الدین فیضی برکاتی اسلام وطن سے محبت اور وفاداری کا درس دیتا ہے  (جرأتِ اظہار)۔

اسلام وطن سے محبت اور وفاداری کا درس دیتا ہے

          وطن سے الفت و محبت اور اس سے متعلق ہر چیزسے حد درجہ قلبی تعلق بلا قید مذہب وملت ہرانسان بلکہ ہر ذی روح کے اندر قدرت کی طرف سے کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔اس کے لیے آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے ہی آس پاس نظر دوڑائیں توآپ کو بے شمار مخلوق آپ کو زمین وآسمان میں ایسی مل جائیں گی جو صبح اپنے رزق کی تلاش میں نکلتی ہیں اور شام ہوتے ہی اپنے محبوب گھر کی طرف واپس لوٹ جاتی ہیں

ایسے ہی ایک انسان چاہے جہاں چلا جا تا ہے مگر اس کے دل ودماغ میں وطن کی یادیں ہمیشہ تازہ اور زندہ رہتی ہیں جو وقفے وقفے سے اسے رلاتی رہتی ہیں۔ایک انسان کے لیے اس دیش کی اہمیت ماں باپ ،بھائی بہن سے بڑھ کر ہوتی ہے جس کا نظارہ سرحدوں پران جاں بازجوانوں کی شکل پرکیا جاسکتا ہے جو ملک کی حفاظت وصیانت کے لیے اپنے گھر بار کی پرواہ کیے بغیر پوری مستعدی کے ساتھ رات ودن ایک کیے ہوئے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ فطرتاً ہر ذی روح کے اندر اس کے وطن کے سلسلے میں اس قدر وابستگی ودیعت کر دی جاتی ہے جس کو وہ کبھی فراموش نہیں کر پاتا۔اور انسان تو اشرف المخلوقات ہے ۔

انسان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جس سر زمین پریہ اپنی آنکھیں کھولتا ہے،پرورش پاتا ہے،عنفوان شباب کو پہنچتا ہے،شادی بیاہ کرتا ہے،ملازمت وتجارت کرتاہے اور آخر میں اسی کی سرزمین کو اپنی آرام گاہ کے لیے پسند کرتا ہے ،اس کی یادیں اور اس سے متعلق ہر چیز کی محبت اس قداس کے رگ وریشہ میں سرایت کر جاتی ہیں کہ وہ وطن کی آن بان اور شان کے لیے جان تک کی بازی لگانے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا

اسلام وطن سے محبت اور وفاداری کا درس دیتا ہے

 جس کے شواہد آئے دن نیوز چینلوں ،اخباروں اور سوشل سائٹوں میں آئے دن دیکھنے کو ملتے ہیں۔اور ہونا بھی یہی چاہیے کہ ایک نوجوان کے لیے اس سے بڑھ کراپنے وطن کے لیے کوئی خراج ہوبھی نہیں سکتا کہ وہ اپنی جان کا نذرانہ دے کر اپنے دیش کا سر فخر سے اونچا کر دے۔           پچھلے کچھ سالوں سے ملک عزیز ہندوستان میں بعض شر پسند عناصرمسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کرتے ہیں اور ہندوستان سے غداری و بے وفائی کا الزام لگاتے ہیں جوشاید ان کی مجبوری بھی ہے۔

حد تو تب ہوجاتی ہے جب وقفہ وقفہ سے پڑوسی ملک میں جانے کی غلط اور جاہلانہ بیان جاری کرتے ہیں۔ ہمارا ان سے یہی سوال ہے کہ مسلمان اس سر زمین کو کیوں چھوڑ کر جائیں گے۔ جب کہ ہم نے اس سر زمین پرتقریباً ایک ہزار سال تک حکمرانی وخدمت کی ہے۔

اپنے خون سے اس کو سینچاہے،اس کی آگوش میں پروان چڑھے ہیں،اس کی آزادی کے لیے اپنا لہو بہایا ہے اور جانوں کی قربانیاں بھی پیش کی ہیں۔مگر ان سب روشن اور تابندہ حقائق سے قصداً چشم پوشی کرکے مسلمانوں کو ایک منظم اور منصوبہ بند طریقے سے بدنام کرنے کی بے جا کوشش کی جارہی ہے۔

اور دنیا کو یہ دکھانے کی ناپاک سعی کی جارہی ہے کہ مسلمان صرف اسلام پرست ہوتا ہے،ان کے نزدیک ملک اور وطن کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔جب کہ سچ بات یہ ہے کہ اسلام وطن سے محبت اور وفاداری کا درس دیتا ہے ۔

تاریخ کی کتا بوں میں حضور نبی کریمﷺ کے حب الوطنی کے بارے میں سنہرے کلمات نقش ہیں۔جس کو اختصار کے ساتھ میں بیان کرتا ہوں  تاکہ مدعیان یہ جان سکیں کہ مسلمان صرف اسلام پرست نہیں ہوتا بلکہ اس کا مذہبی فریضہ میں وطن سے محبت والفت لازم وضروری ہے۔

جس وقت آپ ﷺ اپنے وطن مالوف مکہ معظمہ سے کفار کی شدید ظلم و ستم کی بنا پر مجبوراًہجرت فرما رہے تھے۔اس وقت آپﷺ نے مکہ کی طرف باربار دیکھ کر فرمایا تھا:’’اے مکہ!تو کتنا پیارا شہر ہے۔تو مجھے کس قدر محبوب ہے۔ اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی دوسرے ملک میں سکونت اختیار نہ کرتا‘‘۔(حدیث)

          مکہ مکرمہ کفار کے زیر حکومت تھا،کفار ومشرکین کا غلبہ تھا،بت پرستی کا رواج عام تھا اس کے باوجود مکہ مکرمہ سے آپ کے محبت کا تعلق بہت گہرا تھا۔مکہ میںآپ کے اوپر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے گئے،لیکن آپ نے ترک وطن کرنا نہیں چاہا۔دیگر صحابہ کرام کو حبشہ ہجرت کرنے کاحکم فرمایا مگر خود مکہ ہی میں قیام پذیر رہے۔مگر جب پانی سر سے اونچا ہوگیا اورنرمی کی کوئی توقع باقی نہیں رہی تو بادلِ نخواستہ ہجرت فرمائی۔

          وطن سے فطری اور جبلی محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ اس کو چھوڑنا ہر انسان پر نہایت گراں گزرتا ہے اور سخت تکلیف کا باعث ہو تا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میںاپنی جان کی محبت کے ساتھ اپنے وطن سے محبت وتعلق کو ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔

          ’’ اور اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرلو اور اپنے گھروں سے نکل جاؤتو وہ ہرگز نہ کرتے سوائے چند افراد کے‘‘۔(سورہ نساء)۔

          اور دوسری جگہ پر وطن کی محبت کو دین و مذہب سے جوڑ کر فرماتا ہے: اللہ نے تم کو ان کے ساتھ نیکی اور انصاف سے منع نہیں کیا،جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ ہی تم کو تمہارے گھروں سے نکالا  ‘‘۔(سورہ ممتحنہ)۔

          جب نبی رحمتﷺ نے مدینہ منورہ کو وطن بنا لیا تو دعا میں فرما یا کرتے تھے:اے اللہ ہمارے اندر مدینہ کی اتنی محبت پیدا کر دے،جتنی تونے مکہ کی محبت دی ہے،مدینہ کی آب وہوا درست فرمادے اور ہمارے لیے اس شہر کو برکت والا بنادے۔مدینہ جو یثرب ہے اس سے بخار کو دوسری طرف منتقل فرمادے‘‘۔(بخاری)۔

          اس حدیث شریف سے وطن عزیز کی محبت کا بھی بخوبی پتہ چلتا ہے اور اس کی اقتصادی ترقی ،آب و ہوا کی درستگی اورصحت وعافیت کے ساتھ امن کے قیام کی بھی شدید رغبت ظاہر ہوتی ہے۔

          یہ حققیقت ہے کہ مسلمان اسلام پرست ہوتا ہے اور اس کی محبت دین و مذہب سے حد درجہ ہوتی ہے۔مگر اس کا یہ مطلب کہاں کہ وہ وطن سے محبت نہیں کرتا۔جس طرح ماں باپ کی محبت،اولاد کی محبت کے خلاف نہیں اور دوست واحباب کی محبت ،عزیز واقارب کی محبت کے معارض نہیں۔بالکل اسی طرح وطن سے محبت وعقیدت رکھنادین و مذہب کے خلاف نہیں۔

اسلام پرستی وطن سے نفرت اور ملک سے غداری کی طرف مائل نہیں کرتی بلکہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو ملک ووطن سے محبت و الفت کرنے کا حکم دیتا ہے۔

نعیم الدین فیضی برکاتی اسلامک ریسرچ اسکالر

اعزازی ایڈیٹر: ہماری آواز

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here