از قلم : علم الھدی رضوی شہادت بابری مسجد کے بعد ملک کے حالات بلکل خراب قسط دوم (قسط اول کے لیے کلک کریں )۔
شہادت بابری مسجد کے بعد ملک کے حالات بلکل خراب
(مدھ پردیش میں مسلم ہلاکتوں کی تعداد)
یہاں بابری مسجد کی شہادت کے دوسرے دن ہی ۔بجرنگ دل۔ وشو ہندو پریشد کے کارکنوں،
دیگر انتہاپسندوں اور مقامی اخباروں نے قبل اس سے کہ مسلمان احتجاجی جلوس نکالتے، بڑے پیمانے پر جشن منانا شروع کر دیا اور مسلمانوں پر حملے بھی کرنے لگے ، پولس خاموش تماشائی بنی رہی اور فسادی خوب جم کر مسلمانوں کا قتل عام کرتے رہے،
فساد کے دوران سنگھ برادر ہڈ کے کارکنوں نے کھلے عام فسادیوں میں ہتھیار تقسیم کئے اور انہیں مسلمانوں پر حملے کرنے پر ابھارا یہاں کے وزیراعلی سندر لال پٹوا نے اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالکل چپی سادھے رہے اور بلوائیوں کو اس وقت تک روکنے کی کوشش نہیں کی، جب تک انہیں اس بات کا مکمل احساس نہ ہو گیا کہ اب مزید حالات خراب ہوئے تو یہاں گورنر راج نافذ کر دیا جائے گا،
ذرائع کے مطابق یہاں مسلم کش فسادات کا سلسلہ 12 ستمبر تک جاری رہا، جن میں 180 مسلمان ہلاک کئے گئے، صرف بھوپال میں 95 اور دیگر شہروں میں 88 ہلاکتیں ہوئیں
(آسام میں مسلم ہلاکتوں کی تعداد)
آسام میں پہلے سے ہی بنگلہ دیشی گھس پیٹھیے کے نام پر فرقہ وارانہ تناؤ پایا جاتا تھا لہذا بابری مسجد کی شہادت کی خبر نے مقامی فرقہ پرستوں اور انتہا پسندوں کو اور زیادہ مشتعل کر دیا, پھر کیا تھا پوری ریاست میں بھیانک قسم کے فسادات کا سلسلہ شروع ہو گیا, ذرائع کے مطابق یہاں دونوں فرقوں کے لوگ مارے گئے تھے
لیکن مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی اس کے باوجود آسام کے کانگریسی وزیراعلی ہتیشور سیکیا نے مسلمانوں پر ہی فساد شروع کرنے کا الزام لگایا, اور کہا کہ وہ بڑے پیمانے پر بھڑکنے والے فساد کو اس لیے نہیں روک سکے کیوں کہ ان کے پاس پیرا ملٹری فورسیز کی کمی تھی اور مرکز نے انہیں بروقت کمک نہیں پہنچائی
مغربی بنگال میں مسلم ہلاکتوں کی تعداد۔
دیگر مقامات کی بنسبت یہاں بھی جم کر فسادات ہوئے جن میں 32 افراد ہلاک کیے گئے، ان میں سے 30 افراد مسلمان تھے یہاں سب سے زیادہ فساد کا اثر جس جگہ دیکھا گیا وہ ریاست کی راجدھانی کلکتہ تھا اس کے بعد ریاست کے بعض دیگر دیہی علاقے جو اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا دعوی کرتی ہوئی نہیں تھکتی ہے اس کے باوجود اس کی حکومت میں ہلاکتیں عمل میں آئیں حد تو یہ ہے کہ سی پی ایم کے بعض ورکروں کو فسادات میں حصہ لیتے ہوئے بھی دیکھا گیا,
بہار میں مسلم ہلاکتوں کی تعداد
ریاست کے شہروں رانچی. جمشید پور اور مونگیر میں حالات بے قابو ہوگئے تھے. جنہیں بعد میں جلد ہی کنٹرول کرلیا گیا . یہاں کے فسادات میں ہندو مسلم دونوں فرقوں کے لوگ ہلاک ہوئے تھے جن کی تعداد 24 تھی.
اہم بات یہ ہے کہ پولس فائرنگ کے ذریعے ایک کی بھی ہلاکت نہیں ہوئی تھی چوں کہ وزیر اعلی لالو پرساد یا دو بہت ہی سختی سے نظم و نسق بحال کیے ہوئے تھے اور کارسیوں کو اور دیگر فسادیوں کو بڑے پیمانے پر گرفتاری بھی شروع کر دی تھی اس لیے فرقہ پرستوں کی ہزار کوشش کے باوجود نہ تو فرقہ وارانہ فساد نے خطرناک صورت اختیار کی اور نہ ہی اس کا سلسلہ دراز ہو سکا
اترپردیش میں مسلم ہلاکتوں کی تعداد
بابری مسجد د یہاں پر واقع ہے ہے اس لیے خطرہ تھا کہ سب سے زیادہ خطرناک فسادات یہیں ہوں گے، اور سب سے زیادہ افراد یہی مارے جائیں گے، لیکن بابری مسجد کی شہادت کے سانحہ کے بعد چونکہ یہاں کے مسلمان سکتہ کے عالم میں آ گئے تھے، اور یہاں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے نہیں کیے گئے، اس لئے مہاراشٹر اور گجرات کی بنسبت کم افراد ہلاک ہوئے، صرف ریاست کے دو شہروں کانپور بنارس میں فساد کا اثر دیکھا گیا ، یہاں پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 205 تھی
راجستھان میں مسلم ہلاکتوں کی تعداد
راجستھان اتر پردیش کا پڑوسی صوبہ ہے اس لیے یہاں بھی یہ خطرہ کیا جا رہا تھا, کہ ہلاکتوں اور تباہیوں کی تعداد زیادہ ہوگی لیکن وزیراعلی بھیروں سنگھ شیخاوت نے اپنی ایمانداری اور دیانتداری کا ثبوت دیتے ہوئے بڑی چابکدستی کے ساتھ بلوائیوں کے خلاف کارروائی کی اور فساد کو زیادہ نہیں پھیلے دیا . یہاں پر کل 50 افراد مارے گئے،،،
کرناٹک میں مسلم ہلاکتوں کی تعداد
کرناٹک میں بھی بلوائیوں نے بھیانک قسم کا فساد برپا کیا. خوب جم کر لوٹ مار کا بازار گرم کیا. چنانچہ یہاں 60 افراد ہلاک کیے گئے. اور بے شمار افراد زخمی ہوئے. اہم بات یہ ہے کہ یہاں پر مسلمانوں کے علاوہ دیگر فرقوں کے افراد بھی کم ہلاک ہوئے
دیگر ریاستوں میں مسلم ہلاکتوں کی تعداد
کیرالہ اور آندھرا پردیش میں 12= 12 افراد ہلاک ہوئے جبکہ تملناڈو میں صرف دو افراد ہلاک ہوئ پنجاب اور ہریانہ میں بہت حد تک امن و امان قائم رہا، صرف مالیر کوٹلہ میں معمولی سا تناؤ ہو گیا تھا،
شہادت بابری مسجد کے بعد مسلم ہلاکتوں کی فہرست بمطابق اخباری ذرائع
مہاراشٹر ہلاک 👈 2600
گجرات ہلاک 👈246
مدھ پردیش ہلاک 👈 180
آسام ہلاک 👈 بے شمار افراد
مغربی بنگال ہلاک 👈32
بہار ہلاک 👈 24
اترپردیش ہلاک 👈 205
راجستھان ہلاک 👈 50
کرناٹک ہلاک 👈 60
کیرلا ہلاک 👈 12
آندھرا پردیش ہلاک 👈 12
تمل ماڈو ہلاک 👈 2
(کل تعداد 3323)
ان کے علاوہ دیگر صوبہ جات میں بھی ماحول ضرور کشیدہ ہوئے، لیکن وہاں سے ہلاکتوں کی کوئی رپورٹ نہیں موصول ہوئی،
(ہندوستانی مسلمان)
از قلم..✒️📚. علم الهدی رضوی
ریسرچ اسکالر، الجامعتہ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ.یوپی
مقیم حال. ہریا. بانسی سدھارتھ نگر
8052819052
اس کتاب کو خریدنے کے لیے کلک کریں
ONLINE SHOPPING
گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع