Home مخزن معلومات اسلامی عدل و مساوات

اسلامی عدل و مساوات

0
اسلامی عدل و مساوات
اسلامی عدل و مساوات

تحریر گل حسن مصباحی  اسلامی عدل و مساوات

اسلامی عدل و مساوات

سرور کائنات ﷺ اور حضرت عیسی علیہ السلام کے مابین 571 سال کا زمانہ  گزرا ہے اس زمانے کو فترہ کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے 

 یہ انتہائی تاریکی, ظلم و بربریت, فحاشی, زناکاری اور شراب نوشی کا دور تھا. اس دور میں انسانیت دم توڑتی ہوئی نظر آرہی تھی یتیموں بیواؤں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے

 آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ آپ کی تاریخ سے عدم واقفیت کی دلیل ہے اگر آپ کو تاریخ سے سناشائی ہوتی تو ایسی بات نہ کہتے .تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو یونانی تہذیب ملے گی جہاں کےفلاسفر دنیا سے اپنی ذہانت کی داد و تحسین حاصل کر رہے ہیں. کیا ان فلسفیوں نے اپنے معاشرے کو آگ میں جلنے کے لئے ایسے ہی چھوڑ دیا ہوگا؟ 

آپ کو ہندوستانی ویدک دھرم کا معاشرہ نظر آئے گا کیا اس نے اپنے ماننے والوں کی رہبری نہ کی ہو گی؟

  مصری اہرام جو آج بھی دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈالے ہوئے ہیں کیا ان انجینئروں کے پاس عقل نہیں تھی جس کے ذریعے اپنے معاشرے میں امن وامان قائم رکھتے  عرب جن کی بہادری کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں کیا معاشرے کی اصلاح کے لیے ان کی بہادری بزدلی میں تبدیل ہوگئی تھی؟

 یقیناً یہ سوالات آپ کے ذہن و فکر میں گردش کر رہے ہوں گے لیکن اگر آپ تاریخ کا تعصب کی عینک اتار کر غیر جانبدار ہو کر مطالعہ کریں گے تو اس دور کی حقیقت عیاں ہو جائے گی اور آپ بھی میری گفتار کے دوش پر سوار ہو کر میرے ہم سفر ہو جائیں گے

 آئیے آپ کو تاریخ کےایک تجزیاتی مطالعہ کی سیر کراؤں 

                ویدک دھرم کی تہذیب

 تلسی داس کا قول ہے  ڈول, گنوار ,سودر, پشو, ناری یہ سب تاڑن کے ادھپکاری یعنی ڈھول گنوار شودراور عورت یہ سب مارکھانے کے لیے ہیں  ہندوستانی دھرم کے ماننے والوں نے اپنے معاشرے کو چار حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا برہمن ,کھشتری ,ویش اور شودر.ان کے کاموں کو بھی بانٹ دیاتھا

 برہمن مذہب کے ٹھیکے دار تھے .کھشتر ی,راج گردی کا مالک تھا .ویش, تاجر تھا.شودر ,ان سب کا نوکر تھا اس کا کام صرف ان سب کی جوتیاں سیدھی کرنا تھا

یہ تھی ان کی عدالتی تقسیم 

 اگر برہمن کسی کو قتل کر دیتا تو اس کے لیے کوئی سزا نہیں قانون دوسروں کے لیے بنائے جاتے تھے(منوسمرتی اشلوک 78/91)۔

 ان پر قانون کا نفاذ نہیں ہوتا تھا دیکھئے ان کی دھرم پستک منواسمرتی کیا کہہ رہی ہے 

 منوجی نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ دنیا میں برہمن سے زیادہ بہتر کوئی نہیں ہے وہ دھرم کی مورت ,نجات کا حقدار ,دھرم کے خزانے کا محافظ ہے دنیا میں جو کچھ ہے سب برہمن کے لیے ہے (مقالات پیر کرم شاہ اسیری)۔ 

 یہ ہے ان کی تہذیب اور ان کا عدل و انصاف 

اب آیے میں آپ کو دنیا میں بڑے ذہین و فطین مانےجانے والے فلاسفر افلاطون اور ارسطو کے ملک یونان کی سیر کراؤں

 دنیا سے داد و تحسین حاصل کرنے والے افلاطون اور ارسطو کے نظریات عدل و انصاف کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ذہن حیرت و استعجاب کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے کہ  کیا یہ ہیں وہ جلاد دنیا جن کی تعریف کے پل باندھتےنہیں تھکتی ,جن کا دل رحمت و شفقت کے احساسات و جذبات سے یکسر خالی ہے افلاطون کا نظریہ ملاحظہ فرمائیں

 اگر عوام الناس اور اہل لشکر کے بچے مقررہ وقت پر پیدا نہ ہوں تو انہیں قتل کر دیا جائے اسی طرح وہ بچے جوجسمانی طور پر ناقص ہو وہ لڑکا جس کے اخلاق بگڑے ہوئے ہو وہ کمزور مرد سے کوئی نفع نہ حاصل ہوسکتا ہو وہ بیمار جس کےتندرست ہونے کی کوئی امید نہ ہو ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے (مقالات پیر کرم شاہ ازہری )۔

جو فلسفی بےگناہ بچوں ,کمزوروں اور بیماروں کو تہ تیغ کر دینے کا مشورہ دے رہا ہو اس سے عدل وانصاف کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے 

اس کے ساتھ ارسطو کو بھی ملاحظہ فرمائیں 

وہ کہتا ہے  اہل یونان سردار ہیں, آزاد ہیں اور باقی سب ملکوں کے باشندے ان کے غلام ہیں .کوئی یونانی, کسی یونانی کو غلام نہیں بنا سکتا 

یہ ہی وہ نظریہ ہے جس نے معاشرے کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا اپنی قوم کی برتری کا بھوت جب ہٹلر کے ذہن پر سوار ہوا تو دوسری جنگ عظیم کی نوبت آئی جس میں بے شمار افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ,یہی خبط جب برہمن کے دماغ پر سوار ہوا تو دوسروں کا جینا دوبھر ہوگیا, وہ زندگی سے تنگ آگئے موت کی تمنا میں ان کی آنکھوں کے آنسوں سوکھ گئے 

یہ سب نظریہ تقسیم معاشرہ ہی کی دین ہے

فتح مکہ اور رحمت عالم ﷺ کا کریمانہ اخلاق اس مضمون کو بھی پڑھیں 

 اب آئیے اسلام کی بھی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیے سب سے پہلے قرآن مقدس کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں 

اللہ رب العزت کا یہ فرمان نظر آتا ہے ” ان الله يأمر بالعدل والإحسان “۔   اور دوسری آیت کریمہ” یايھا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثی

ان آیتوں میں نظریہ قومیت ووطنیت رنگ و نسل کے سارے بتوں کو پاش پاش کر دیا گیا ہے  اور واضح طور پر یہ اعلان کر دیا گیا کہ اے لوگو تم مختلف قبائل اور قوموں میں صرف اس لیے ہو کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ورنہ تمھارے مابین کوئی امتیاز نہیں ہے

صرف تقوی پر عزت و افتخار کی بنیاد اس لیے رکھے کیونکہ جو متقی ہوتا ہے اس کا دل نخوت وکبرسے خالی ہوتا ہے وہ ساری دنیا کا درد اپنے دل میں سمائے ہوئے ہو تا ہے ایسے شخص کا وجود نہ صرف اپنی قوم کے لیے بلکہ ساری ملت کے لیے باعث برکت ہوتا ہے

آئیے عدل و انصاف کے پیغمبر کا آخری خطبہ سماعت فرمائیں دیکھیں وہ کیسے عدل و مساوات کا درس دے رہے ہیں اے لوگو! خوب سن لو! تمہارا پروردگار ایک ہے کسی عربی کو عجمی پر نہ کسی عجمی کو عربی پر برتری حاصل ہے نہ کوئی کالا کسی سرخ سےاور نہ کوئی سرخ کسی کالے سے افضل ہے مگر تقویٰ کے ساتھ اللہ کے نزدیک تم سب میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے کیا تم کو میں نے پیغام پہنچا دیا 

الغرض دین اسلام نے در س عدل و مساوات کے ذریعے دنیاۓ انسانیت سےظلم و سفاکیت کا خاتمہ کر کے امن وامان عدل وانصاف اور مساوات کی ایسی فضا قائم کی جسے آج نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی مستفید ہو رہے ہیں 

گل حسن مصباحی رام پور ی

8937900920   رابطہ 

Amazon    Havelles   Flipkart

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here