تحریر محمد ہاشم اعظمی مصباحی ہندوچین سرحد پر کشیدگی اور وادئ گالوان
ہندوچین سرحد پر کشیدگی اور وادئ گالوان
بھارت کی تاریخ نے اپنے وسیع تر دامن میں مسلمانوں کی جدو جہد اور قربانیوں کے انمِٹ واقعات کو انصاف کے ساتھ اپنے سینے محفوظ رکھا ہے جن کو نظر انداز کرنا تاریخ کے اعتماد کو ٹھیس پہونچا نے کے مترادف ہے
جب کبھی آپ تاریخ کے ان بکھرے ہوئے واقعات پر غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ بات چاہے 1965ء میں پاکستان سے لڑائی کے موقع پر لال بہادر شاستری کو ہندوستان کی تاریخ کا سب سے بڑا چندہ پانچ سو کلو سونا دینے والے حیدر آباد کے نظام میر عثمان علی کی ہو یا وطن کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والے غازی پور کے ویر عبدالحمید کی ہو یا “جے ہند” کا نعرہ دینے والے آندھرا پردیس کے محی الدین عابد حسن کی ہو یا “مادر وطن زندہ باد” جیسے نعرے کے موجد عظیم اللہ خان کی ہو
یا “انقلاب زندہ باد” جیسا انقلابی نعرہ دینے والے مولانا حسرت موہانی کی ہو چاہے نیتاجی سبھاش چندر بوس کے ساتھ جہاز حادثے میں شہید ہونے والے کرنل حبیب الرحمان کی ہو یا پھر انہیں کے ڈرائیور مبارکپور اعظم گڈھ کے کرنل نظام الدین کی ہو
یا بات گاندھی جی کی ستیہ گرہ تحریک سے پہلے ہی نیل کی کھیتی کے نام پر انگریز ی حکومت کے جبر و ناحق ظلم و زیادتی اور ناجائز ٹیکس وصولی کے خلاف پوری قوت کے ساتھ آواز بلند کرنے کے جرم میں 60؍بیگہہ زمین کی قربانی دینے والے گلاب شیخ کی ہو یا پھر اپنے ایمان کی آواز پر بابائے قوم گاندھی کی جان بچانے والے بطخ میاں کی ہو یا “انگریزو بھارت چھوڑو” کا نعرہ دینے والے یوسف مہر علی کی ہو
چاہے بات ہندوستان کا قومی پرچم ترنگا بنانے والی مسلم لڑکی ثریا طیب علی کی ہو یا “سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ” جیسا بے مثال ترانہ لکھنے والے ڈاکٹر اقبال کی ہو یہ سب کے سب بھارت کے وقار وناموس کی حفاظت کے لیے دی گئی ہماری قربانیوں، حب الوطنی اور تعمیر ہند کے لیے کی جانے والی جہد مسلسل کے وہ سنہرے باب ہیں
جن پر تعصب وتنگ نظری کے سہارے خاموشی کی ایسی دبیز چادر ڈال دی گئی ہے کہ آج ہمیں ان تاریخی حقائق کو جاننے کے لیے سینکڑوں صفحات الٹنے پڑتے ہیں۔
حالیہ دنوں ہند و چین سرحد پر جاری کشیدگی اور جھڑپ کی بات کریں تو یہ رسہ کشی و کشیدگی بھی جس بنیاد کو لے کر ہے اس کی کڑیاں بھی اس ملک کی عظمت وآبرو پر قربان ہونے والے مسلمانوں سے ہی جڑتی ہیں کیوں کہ جس گلوان گھاٹی کو لے کر پچھلے تقریباً ڈیڑھ مہینے سے ہند وچین کی فوجیں آمنے سامنے ہیں جس کی حفاظت کرتے ہوئے ہمارے 20 جوانوں نے شہادت دی ہے
اس کی تلاش وکھوج بھی غلام رسول گلوان نامی ایک مسلمان نے ہی کی تھی یہ اور بات ہے کہ ہماری دیگر قربانیوں کی طرح اس قربانی پر بھی تعصب کی منحوس کالی چادر تان دی گئی لیکن کہتے ہیں نا کہ “حقیقت خود کو منوا لیتی ہے“۔
آج ایک بار پھر غلام رسول گلوان کا نام پورے کردار کے ساتھ شہ سرخیوں میں ہے گالوان کا علاقہ اگرچہ موجودہ وقت میں ہند چین تنازعہ کا باعث بنا ہوا ہے لیکن تاریخی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس علاقے اور دریا کا نام لداخ کے ایک محنت کش، سخت جان قلی غلام رسول گالوان کے نام پر ہے۔
غلام رسول گالوان کون ہے؟
ہند وچین کشیدگی کے درمیان جس کی شخصیت مرکزی کردار کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے آخر وہ غلام رسول گالوان کون ہے؟ اس کا اس گالوان گھاٹی سے کیا تعلق ہے؟ان سوالات کے جواب جاننے کے لئے آئیۓ تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھتے ہیں.
نام اور پیدائش
۔سنہ2001 میں شائع ہونے والی کتاب ’سروینٹس اور صاحبس‘ کے مطابق ہندوستانی جاں باز غلام رسول گالوان سنہ 1878 میں لداخ اور وادی کشمیر کے نواحی علاقے میں ایک پسماندہ گھرانے میں پیدا ہوئے جو رسول گلوان کے نام سے جانے جاتے تھے ایک صوفی بزرگ کے کہنے پر آپ نے اپنے نام سے پہلے لفظ ”غلام“ شامل کر لیا تب سے غلام رسول گالوان ہو گئے پھر اسی نام سے شہرت کے عروج پر پہنچے

گلوان کا نقشہ ویکی پیڈیا کا
گلوان کی وجہ تسمیہ
گلوان دراصل ایک خانہ بدوش قبیلے کا نام ہے جس کا کشمیری زبان میں مطلب ہوتا ہے ”گھوڑوں کا پالنے والا“ چونکہ غلام رسول کے آبا و اجداد کا پیشہ گھوڑوں اور ٹٹوؤں کی دیکھ بھال کرنا تھا لہذا اس برادری کا نام پیشے کی وجہ سے گالوان پڑ گیا شاید یہ گلہ بان کی بگڑی ہوئی شکل ہے جو کثرت استعمال کی وجہ سے مرور ایام کے ساتھ گالوان یا گلوان ہوگیا
غلام رسول گالوان کارنامے
انڈین ڈیفنس ریسرچ ونگ کی تفصیلات کے مطابق غلام رسول گلوان بہت زیادہ پڑھے لکھے تو نہیں تھے لیکن انہیں نئی نئی چیزوں کو سیکھنے کا بہت شوق تھا وہ لداخی کے علاوہ چینی، انگلش، ترکی، اردو، کشمیری اور تبتی زبان بھی اچھی طرح بول سکتے تھے۔انھوں نے مختلف یورپی سیاحوں کے ساتھ وادی کے سنگلاخ علاقے میں متعدد بار مشکل بھرے سفر کئے یہ سفر اس لیے بھی انتہائی مشکل ہوتے تھے کیونکہ وہ ایسا علاقہ تھا جہاں نہ آدم نہ آدم زاد بس، پہاڑ، پتھر، دریا اور جنگل۔
سطح سمندر سے اس علاقے کی بلندی پانچ ہزار سے سات ہزار فٹ تک ہے جہاں گرمیوں میں بھی بعض مقامات پر درجۂ حرارت منفی میں ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ جاڑوں میں درجہ حرارت منفی 30 ڈگری تک چلا جاتا ہے اس مقام پر حفاظت کے لیے مناسب کپڑے نہ پہنے جائيں تو کھلی فضا میں دس منٹ گزارنے پر کوئی بھی شخص ہائپوتھرمیا کا شکار ہو سکتا ہے
غلام رسول گالوان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے تبت، سنکیانگ، قراقرم، پامیر اور دوسرے وسط ایشائی علاقوں میں خوب سفر کیا۔ انھوں نے اپنے زمانے کے مشہور کوہ پیما کے گائیڈ کا کام بھی کیا ہے بچپن سے ہی غلام رسول گالوان نے انگلینڈ، اٹلی، آئرلینڈ اور امریکہ کے مشہور ایکسپلوررز کھوجی مسافر کے ساتھ تلاشی سفروں کی رہنمائی کی
غلام رسول گالوان جب 12 سال کے تھے اسی وقت سے انھوں نے بڑی سفری مہمات میں شرکت شروع کردی تھی 1890ء میں انھوں نے کیپٹن ینگشبینڈ کے ساتھ یارک لینڈ کا سفر بھی کیا تھا جو کہ اب چین کے سنکیانگ کے صوبے میں واقع ہے اور اسی کے ساتھ ان کے سفری مہمات کا آغاز ہوتا ہے 1892 کی مہم کے دوران انھوں نے جس دریا کو دریافت کیا تھا اس دریا کو ان کا نام دیا گیا۔
انڈین ڈیفنس ریسرچ ونگ کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق مختصر واقعہ یہ ہے کہ غلام رسول گالوان 1892ء میں برطانوی مہم کی جس ٹیم کا حصہ تھے وہ ڈن مور کے ساتویں ارل کی تھی ایک مرتبہ ڈن مورمرے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ایک کھوجی مشن پر تھا اتفاقاً یہ ٹیم لیہہ کے علاقے میں ایک گھاٹی میں پھنس گئی وہاں سے نکلنے کا اسے کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا
ایسی جان گسل صورتحال میں 14 سالہ غلام رسول گلوان اکیلے ہی آگے بڑھتے گئے اور ایک راستہ تلاش کرلیا جو نسبتاً آسان بھی تھا اسی راستے سے اپنی پوری ٹیم کو بحفاظت باہر نکال لائے اسی میں ایک نامعلوم دریا کی تلاش بھی ہو گئی راستہ تلاش کرنے کی وجہ سے ڈن مور مرے نے اس چودہ سالہ مسلم بچے کی جاں بازی اور ذہانت سے متاثر ہو کر انعام کے طور پر غلام رسول گالوان سے منسوب کرتے ہوئے اس ندی کا نام گلوان رکھ دیا
اور پھر 1917ء غلام رسول گالوان کو لیہہ میں برطانوی جوائنٹ کمشنر کا چیف اسسٹنٹ بنایا گیا تاریخ کے صفحات میں کھو چکے پسماندہ آدیواسی معاشرے سے تعلق رکھنے والے غلام رسول گالوان کا ٹٹوؤں کے دیکھ ریکھ کرنے والے سے لیکر برطانوی جوائنٹ کمشنر کے چیف اسسٹنٹ تک کا سفر بہت ہی سنسنی خیز اور جرأتوں سے بھرا ہوا ہے۔
غلام رسول کے پوتے محمد امین گلوان کہتے ہیں کہ ان کے دادا پہلے شخص تھے جو گلوان وادی میں ٹریکنگ کرتے ہوئے اکسائی چن کے علاقے میں پہنچے تھے۔ انہوں نے 93 – 1892 میں انگریزوں کے ساتھ اس وادی میں ٹریکنگ کی تھی محمد امین کہتے ہیں کہ ”اکسائی چن جانے کے دوران راستے میں موسم خراب ہوگیا اور برطانوی ٹیم کو بچانا مشکل ہوگیا تھا موت ان کی آنکھوں کے سامنے تھی
لیکن ایسے ناگفتہ بہ حالات کے باوجود غلام رسول نے ٹیم کو منزل مقصود تک پہنچا دیا ان کے اس کام سے برطانوی کافی خوش ہوئے اور بطور انعام اس ندی کا نام گالوان ندی رکھ دیا پھر بعد میں پورا علاقہ بشمول پہاڑیوں کے گالوان وادی کے نام سے جاناجانے لگا اور اسی نام سے آج بھی مشہور ہے
تاریخ نگار بتاتے ہیں کہ غلام رسول کے دادا کرّا گلوان کو ڈوگرا راجہ کے فوجیوں نے گرفتار کر کے زبردستی قتل کر دیا تھا اس کے بعد گالوان قبیلہ لیہہ اور بلتستان منتقل ہوگیا بہت سے گلوانی سنکیانگ کے یارکند علاقے میں بس گئے بالآخر 1925 میں 47 برس کی عمر میں غلام رسول گالوان کا لیہہ میں انتقال ہوگیا.
گالوان وادی
مشرقی لداخ میں واقع وادی گالوان ایک اسٹریٹجک علاقہ ہے جس کا نام دریائے گالوان سے ملتا ہے جو اکسائی چن علاقے سے نکلتا ہے اور دریائے شیوک سے ملتا یہ دریا قراقرم کے پہاڑی سلسلے سے نکل کر چین ہوتے ہوئے لداخ میں شیوک دریا میں شامل ہو کر ’شیر دریا‘ یعنی دریائے سندھ میں شامل ہو جاتا ہے۔
دریائے گالوان تقریبا 80 کلومیٹر طویل ہے گالوان میں کٹے ہوئے پہاڑوں کی چٹانیں اور کچے خطے بھی بکثرت پاۓ جاتے ہیں اس کی آب و ہوا بہت سخت اور موذی ہے اونچائی والے خطوں کے ساتھ ملا ہوا یہ علاقہ اکسائی چن کے قریب واقع ہے
گالوان وادی کیوں اہم ہے؟
اوپر بیان کیا جا چکا کہ وادی گالوان کا متنازعہ علاقہ اکسائی چن سے لگا ہوا ہے اور ساتھ ہی ساتھ گالوان وادی لداخ اور اکسائی چن کے درمیان ہند-چین سرحد کے قریب واقع ہے یہاں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) چین کو انڈیا سے الگ کرتا ہے
انڈیا اور چین دونوں اکسائی چن پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں یہ وادی چین میں جنوبی سنکیانگ اور انڈیا میں لداخ تک پھیلی ہوئی ہے گالوان وادی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور بین الاقوامی امور کے ماہر ایس ڈی منی نے کی تحریر کے مطابق یہ علاقہ انڈیا کے لیے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ہے
کیوں کہ یہ پاکستان، چین کے سنکیانگ اور لداخ کی سرحدوں سے متصل ہے یہاں تک کہ 1962 کی جنگ کے دوران دریائے گالوان کا یہ علاقہ جنگ کا مرکز تھا جو متنازعہ علاقہ ہے یہ ایل اے سی کے ساتھ مل کر دنیا کی سب سے اونچی لینڈنگ گراؤنڈ دولت بیگ اولڈی (ڈی بی او) کے ساتھ اہم روڈ لنک کے قریب ہے اور یہ ایک اہم فضائی سپلائی لائن کا کام کرتا ہے اور یہاں عسکری اہمیت بھی بہت زیادہ ہے
برہمنوں کی مضبوط سیاست بھارتیوں کی کمزور سیاست
تنازع کی وجہ
گزشتہ چند برسوں میں چین نے اس علاقے میں بہت سی تعمیرات کی ہیں اور شاہراہ ریشم یعنی سلک روڈ کے ساتھ اس راستے کو بھی فروغ دینے کا کام کیا ہے دوسری جانب انڈیا نے بھی نقل وحمل کے لیے گالوان کے علاقے میں سڑکوں کی تعمیر کی ہے دونوں ممالک کی جانب سے علاقے میں تعمیرات اور ترقیاتی کاموں کی وجہ سے اب علاقے میں حد بندی کا تنازع پیدا ہوگیاہے
جس کی وجہ سے وادی گالوان شہ سرخیوں میں ہے جہاں چین اس گھاٹی پر اپنا دعوی کرنے اور قبضے میں لینے پر بضد ہے وہیں ہندوستان کا دعوی یہ ہے کہ اس گھاٹی کی کھوج غلام رسول گالوان نے کی تھی اور وہ ہندوستانی تھا اس لیے یہ گھاٹی ہمارے حدود کا حصہ ہے جس پر چین کو کسی بھی طرح کی در اندازی کی اجازت نہیں دی جاسکتی
اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کیوں کہ جب سے اس گلوان وادی کی کھوج ہوئی ہے اس کے پہلے دن سے ہی یہ خطہ ہندوستان کا حصہ رہا ہے یہی وجہ کہ غلام رسول گلوان کے پوتے محمد امین گلوان نے بھی حالیہ ہند چین تنازع کو غیر ضروری قرار دے کر صاف کہا کہ چین اس معاملے میں سراسر غلطی پر ہے ان کا کہنا ہے کہ”وادی گلوان ہمیشہ سے بھارتی علاقے کا حصہ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا
چین کے پاس اپنے دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن ہمارے پاس ثبوت ہے میرے دادا وہاں صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ گئے تھے. انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ برطانوی دور حکومت میں تیار کردہ سرکاری گزٹ کو دیکھیں گے تو پتہ چل جائےگا کہ گالوان وادی بھارت کا حصہ ہے
آج کل حکومت ہند نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں چینی فوج بڑی تعداد میں گیلوان ، ہاٹ اسپرنگس ، پیانگونگ تس اور گوگرا اور لداخ کے مختلف مقامات تک پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے سر حد پر شدید کشیدگی جاری ہے متعددجھڑپوں میں 20 جوان بھی شہیدہوچکےہیں
علم نجوم کی شرعی حیثیت اس مضمون کو بھی پڑھیں اور اپنے دوست و احباب میں شیئر کریں
تحریر : محمد ہاشم اعظمی مصباحی
نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی
رابطہ 9839171719