تحریر: محمد دانش رضا منظری (پیلی بھیت) مسلمانوں کی زندگی اور ان کی بے فکری
مسلمانوں کی زندگی اور ان کی بے فکری
زندگی الله تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، انسان کے اوپر اللّٰہ تعالیٰ کا بے حساب فضل و کرم ہے،اس کو زندگی جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی، انسان کا کوئی بھی طبقہ ہو یا کوئی بھی فرقہ یا کسی بھی مذہب و دہرم کا ماننے والا کوئی بھی انسان ہو، کوئی بھی زندگی کے عظیم نعمت ہونے کا منکر نہیں، بھلے وہ اپنی زندگی گزارنے میں پیش آمدہ ہزارہا قسم کے مصائب و آلام سے دوچار ہورہا ہو۔
اگر کوئی بھی شخص میری بات سے متفق نہ ہو تو وہ کسی بھی صد سالہ ضعیف اور شیخ فانی سے یہ سوال کرے، کیا تم مرنا چاہتے ہو تو وہ یہی جواب دے گا، میں ابھی مرنا نہیں چاہتا بلکہ میں دعائیں کرتا ہوں، میری عمر سو سال اور دراز ہوجائے،میں نے ابھی زندگی کے کچھ ہی ایام گزارے ہیں،ابھی میں اپنی زندگی سے لطف اندوز بھی نہیں ہوا، یہی سوال چاہیے آپ کسی سے بھی کرے لیکن جواب( نہیں) ہی ہوگا کیوں کہ انسان اپنی جان کی سلامتی کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے کوشاں اور مستعد رہتا ہے ، ہر انسان خوشگوار اور بہتر زندگی گزارنا چاہتا اور اس کے لیے وہ حلال و حرام میں بھی امتیاز نہیں کرتا۔
آج لوگ زندگی ضرور گزارتے ہیں لیکن کسی نے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ زندگی کس طرح گزاری جائے اور ہم کو اللّٰہ تعالیٰ نے زندگی کیوں دی اور کیا کرنے کا حکم دیا اور ہمیں کیا کرنا چاہیئے اور ہم کیا کررہے ہیں- آج معاشرہ کی گمراہی ہم دیکھتے تو ہمیں اور سلیم الطبع حضرات کو اپنی قوم کے حال خستہ، بے بسی اور ان کی بد حالی پر رونا آتا ہے کیا
یہ وہ قوم نہیں ہے جس قوم میں حضرت ابوکر صدیق جیسے صدق و صداقت کے داعی برحق ، حضرت عمر فاروق اعظم جیسے عدل و مساوات کے پیکر، حضرت عثمان غنی جیسے سخی بے نظیر ،حضرت علی المرتضی جیسے شجاعت و بہادری کے خوگر، حضرت خالد بن ولید جیسے عظیم جنگوں، حضرت صلاح الدین ایوبی جیسے بے مثال فاتح ، حضرت نور الدین زنگی جیسے ناموس رسالت کے عظیم محافظ (رضیَ اللّٰہ تعالیٰ عنہم) پیدا ہوئے جنہوں نے اسلام کی نشر و اشاعت میں نمایا کردار ادا کیا اور ایک نئی تاریخ کی بنا ڈالی
لیکن آج ان کے جیسا کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ ایسا کیوں اس لیے کہ آج ہم نے اپنے کردار و عمل کو ان کی سیرت کے عین مطابق نہیں بنایا اور نا ہی ان کے طرز زندگانی کو اپنایا، اور ہم گمراہیوں کی راہوں پر چل دیئے اور شیطان کے پیروکار اور متبعین بن گئے،اور اس کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال لیا ۔
اب ہمارے سارے اعمال اسلامی طور پر بہت کم لیکن فلمی ہیرو اور کافرین جسے زیادہ ہوتےہیں،اور ہمارےنوجوان اکثریت کے ساتھ ان کے بے جا ملبوسات اور ان کے چال چلن کو بروئے کار لاتے ہیں اور مکمل طور سے ان کے جیسا بننا چاہتے ہیں اور انہی کو اپنی زندگی گزارنے میں اپنا آڈیل اور رہنما سمجھتے ہیں، اور جہنم کا ایندھن بننے کے اسباب مہیا کررہے ہیں ،اسی طرز زندگانی کو علامہ اقبال نے بہت پہلے اپنی شاعری میں بیان کیا تھا،
وضع میں تم ہوں نصاری تو تمدن میں ہنود
یہ وہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائے یہود
اس کو پڑھیں کیا مسلم بادشاہوں نے جبراً غیر مسلموں کو مسلم بنایا
لیکن آج ہم نے اپنی زندگیوں کے شب و روز کو صرف کھانے کمانے تک محدود کر رکھا ہے،ناہی ہمیں اپنے دین و مذہب کی ترویج و اشاعت کی فکر ہے اور نا ہی آئے دن دین اسلام پر حملہ آوروں ہونے والوں کو جواب دینے کی طاقت و قوت، نا ہی ہمیں اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اور انکے مستقبل کی فکر ہے
بس ہمیں یہ فکر رہتی ہے، کہ ہمارا پڑوسی عزت کے ساتھ دو روٹی کیسے کھا رہا یہ اپنی پر سکون زندگی کیسے گزار رہا ہے، اس کو اتنی ترقی کیسے مل رہی ہے یہ ہم سے زیادہ مالدار کیسے ہوگیا، اس کی چار آدمی عزت کیوں کررہے ہیں، اب اپنے پڑوسی کو پریشان کرنے اور بے عزت کرنے کی اور اس کی ترقی کی راہوں کو مسدود کرنے کی فکر رہتی اس سے کسی کو کوئی مطلب نہیں کہ ہر چہار جوانب سے متنفرین اسلام اسلام و مسلمان کو بد نام کرنے اور ان کا وجود دنیا سے مٹا دینے کی نا کام کوشیشیں کررہے ہیں
کیا آج تک ہم نے اور ہمدرد قوم و ملت کے القابات سرخیوں اور جلی حروفوں میں پوسٹروں اور اشتہارات میں لکھوانے والوں نے اپنے اسلام ،مذہب،اور قوم کی فکر کی ہے،کیا انہوں نے متنفرین مسلمین و دشمنان اسلام کی ناپاک کوششوں و شازشوں کو لگام لگانے کی کوشش کی ہے
کیا کسی نے ان کو ان کے کیفر کردار تک پہونچانے کی کوششں کی ہے، یا پھرکبھی کسی نے حکومت سے اس بات کا سوال کیا ہے کہ آپ کے ہاتھوں حکومت کی باگ ڈور ہے،کچھ لوگ نفرتوں کے بیج بو رہیں اور دنگا بھڑکانے کی نا کام کوشیشیں کررہے ہیں، کیا آپ کو اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ ایسے لوگوں کو فوراً حراست میں لیکر ان کے اوپر سخت کاروائی کریں
یہ دنیا ایک خواب ہے پورا مضمون پڑھ ضرور شئیر کریں
تاکہ پھر کبھی کوئی بھی شخص کسی کے مذھی یا دھرمک معاملے کو لیکر کسی کے اوپر انگشت نمائی کرنے سے پہلے لاکھ بار سوچے۔ زندگی یہ نہیں ہے کہ ہماری نظروں کے سامنے برائیاں اور بے حیائیاں ہوتی رہیں، اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، بلکہ زندگی یہ کہ ہم ان کو سماج اور معاشرہ سے مٹانے اور ختم کرنے کی کوشش کریں۔
اللّٰہ ہمیں ہدایت نصیب فرمائے اور دین و مذہب کی حفاظت و صیانت میں مرمٹنے کا بے حساب جذبہ عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ
تحریر: محمد دانش رضا منظری (پیلی بھیت)۔
استاذ: جامعہ احسن البرکات للولی، فتحپور، یوپی
رابطہ نمبر: 9410610814