تحریر مولانا انور علی مصباحی ہندوستانی مظالم انسانوں تک محدود نہیں، کیرلا واقعہ
ہندوستانی مظالم انسانوں تک محدود نہیں
ایک وقت تھا کہ ہندوستانی عوام اپنے آپ کو محفوظ گدارنتی اور بھارتی باشندہ ہونے پر فخر محسوس کرتی تھی، مظالم، درندگی، لوٹ مار اور دیگر ایذا رسانی معاملات چیدہ چیدہ نظر آتے تھے، لوگوں میں آپسی اتحاد، میل ملاب، محبت و الفت اعلیٰ درجے کو پہنچی ہوئی تھی، اختلاف، نفرت، بعض و حسد پروان نہیں چڑھی تھی، ایک طرح سے اسلاف کی زندگی مستقبل کے لیے رشد و ہدایت اور نمونہ عمل تھی، لیکن جب سے حکومتوں کا رد و بدل ہوا۔
ہندوستان کی باگ ڈور نفس پرست ،مذہب پرستوں کے ہاتھ میں پہنچی، شوشل میڈیا کو فروغ ملا ، تبھی سے ہندوستانی عوام معاشی بحران ،آپسی نفرت ،ہندو مسلم اور دیگر معاملات کی شکار ہو گئی، غرض کہ مذہبی منافرت نے اتنا طول پکڑا کہ ایک مذہب کے ماننے والے دوسرے مذہب والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے، یہاں تک کہ خوں ریزی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اب تک تو ظلم و تشدد انسانوں تک محدود تھا، لیکن فی الحال کہ کیرلا واقعہ نے پوری انسانیت کو شرمشار کردیا۔ ہوا یہ کہ کیرلا کے کسی علاقے میں ایک ہتھنی بھوک سے نڈھال کھانے کی تلاش میں کسی آبادی میں چلی گئی، اسے اپنی بھوک سے زیادہ اپنے بچے کی فکر تھی، کیوں کہ وہ حاملہ تھی اور بچہ کی تکلیف ماں ہی سمجھتی ہے۔
ٹڈی دل اللہ کا قہر یا اللہ کا لشکر اس مضمون کا مطالعہ ضرور کریں
جب وہ آبادی میں آئی تو کچھ لوگوں نے “اننناس” میں بم رکھ کر اس ہتھنی کو کھلایا، وہ بھوکی تھی اس نے کھانا شروع کیا، جب اننناس اس کے منھ میں گیا ،تو جو بم اس میں رکھا ہوا تھا وہ پھٹ گیا اور ہتھنی زخمی ہو گئی، جب وہ اس کی تاب نہ لا سکی تو وہ ایسی جگہ کی تلاش میں اس وادی سے نکلی جہاں اس کو آرام مل سکے، ہتھنی نے ندی کو دیکھا اوراس میں جاکر کھڑی ہو گئی کہ اس کو آرام ملے اور مکھی زخم پر نہ بیٹھ پائیں، وہ ہتھنی مسلسل تین دن تک بھوکی پیاسی، کرب سے نڈھال اسی پانی میں کھڑی رہی،لیکن ہونا کچھ اور ہی لکھا تھا، اس کی جلن میں کمی نہ ہوئی بلکہ اور اضافہ ہو گیا جس کی وجہ سے اس نے تین روز بعد اسی پانی میں دم توڑ دیا۔
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انسانی درندگی کس حد تک پہنچ گئی ہے کہ جانور بھی اس سے محفوظ نہیں رہ پا رہے ہیں، اب تک تو انسان انسان کو مارنے پہ تلا ہوا تھا، انسان کی جان سے زیادہ جانور کی جان کو اہمیت تھی، لیکن اب نہ انسان کی اہمیت رہی نہ جانور کی۔اور ہتھنی کی شرافت دیکھیے کہ جب اسے بم رکھا ہوا اننناس کھلایا گیا، ہتھنی وادی سے نکلتے ہوئے آبادی والوں کو تکلیف پہنچا سکتی ،ان کے گھر اجاڑ سکتی تھی۔
لیکن اس نے ایسا نہ کیا بلکہ اطمنان و سکون سے اپنی آنکھوں میں آنسوں لیے اس وادی سے نکل گئی۔ ایک جانور نے اپنے جانور ہونے کا ثبوت دیا،لیکن انسان نے انسان ہونے کا ثبوت دینے کے بجائے درندگی کا کردار ادا کیا اور پوری انسانیت کو شرمشار کردیا۔
اس کو بھی پڑھیں حالات اور ماحول سے بے خبری ٹھیک نہیں
اگر ملک کی یہی صورت حال رہی اور سخت کاروائی نہیں ہوئی، کوئی قانون نہیں بنایا گیا تو وہ دن دور نہیں کہ جانوروں کو ایذا رسانی اور بے زبان کی خوں ریزی کا سلسلہ عام ہو جائے گا اور انسانیت کی جگہ حیوانیت لے لے گی۔
اسی لیے ضروری ہے کہ ہم سب کو مل کر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے، آپسی اختلافات اور منافرت کو کافور کرکے امن کا کو اپنانا چاہیے، اس سے نہ صرف ملک کی ترقی ہوگی بلکہ معاشرے میں سدھار اور معاملات میں نکھار پیدا ہوگا۔
از قلم : انور علی مصباحی رام پوری ،اسلامک اسکالر
نزول حال: رام پور یو پی، پرسو پورہ
فون نمبر:۔ 6386463147