تحریر عبـــدالقـــدوس مصباحی حالیہ دنوں میں دینی مدارس کی پکار
حالیہ دنوں میں دینی مدارس کی پکار
میرے فرزندو!۔
تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ کسی بھی اِدارے کی کل پونجی اُس کے علما، فُضلا اور طلبا ہوتے ہیں۔ یہی اُس کے سرمایۂ حیات ہونے کے ساتھ اُس کی ترقی کا ساماں ہوا کرتے ہیں۔ اِن کا رشتہ اِدارے سے جتنا مضبوط ہوتا ہے اِدارہ اُتنا ہی ترقی کی منزلیں طے کرتا نظر آتا ہے۔ اِنھیں سے اِدارے کی ساری اُمیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اِن کی کامیابیاں دیکھ کر اِدارے کا سر فخر سے بلند ہوتا ہے۔ بلکہ اِدارہ اپنا دیرینہ خواب، شرمندۂ تعبیر ہوتا دیکھ کر جھوم اٹھتا ہے، اور آسمان کی بلندیوں کو چھو کر اُس سے سرگوشی کرنا شروع کر دیتا ہے کہ
اے بلندی آسماں! دیکھ! یہی میرے لعل و گہر ہیں۔ یہی میرا فخر و امتیاز ہیں۔ بلکہ یہی میرا سب کچھ ہیں۔ اِنھیں کے دم قدم سے میری عظمت ہے۔ میری رفعت ہے۔ میری بلندی ہے۔ میری رونق و تابانی ہے؛ اِس لیے مجھے اِن سے بڑی عقیدت ہے۔ بڑی مَحبت ہے۔ بڑی چاہت ہے۔ بڑی اُلفت ہے۔ مجھے اِن پر ناز ہے۔ اِنھیں نہ دیکھوں، قرار نہیں ملتا۔
اگر یہ لمحہ بھر کے لیے دور ہو جائیں تو قلب و جگر پارہ پارہ ہونے لگتا ہے۔ اُس وقت بڑا قرار ملتا ہے جب یہ میری آغوشِ مَحبت میں چین کی نیند سو رہے ہوتے ہیں۔ شب بھر میرے لب، بس ایک ہی وظیفہ پڑھ رہے ہوتے ہیں:۔
نم كنومة العروس، نم كنومة العروس. میرے پیارے! میرے پیارے! سو جا! دولھن کی طرح سوجا!۔ اِن کی جدائی برداشت نہیں ہوتی۔
لاک ڈاؤن مدارس اسلامیہ اور ہماری ذمہ داریاں اس مضمون کا مطالعہ کریں نیز اپنے احباب تک ضرور شئیر کریں
میرے فرزندو!۔
میری حالت بالکل ایسی ہی ہے۔ میں ٹوٹ چکا ہوں۔ دیکھو تو سہی! آج دو مہینے سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے تمھیں رخت سفر باندھے ہوئے۔ اِنتظار کرتے تھک چکا ہوں۔ رستہ تکتے تکتے آنکھیں بھر آئیں ہیں۔ قلب و جگر پھٹنے لگے ہیں۔ روح، داغ مفارقت دے رہی ہے۔ بڑی بےقراری ہے۔ مگر ہاں! نئے تعلیمی سال کے آغاز نے جینے کا حوصلہ عطا کر دیا ہے۔ مرجھائے در و دیوار کی رعنائیاں، شہنائیاں اور شادابیاں لوٹ رہی ہیں۔
ہاں! سنو! ایک غم نے اب بھی نڈھال کر رکھا ہے۔ تمھیں تو معلوم ہی ہے کہ کوئی چھ مہینے سے ہندوستانی مسلماں سخت آزمائش میں ہیں۔ ابھی عالمی وبائی بیماری نے اِنھیں توڑ کر رکھ دیا ہے۔ نیز اکثروں کے ہاتھ ایک دم خالی ہو چکے ہیں۔ میرے جگر پارو! تمھاری کفالت کا بار اِنھیں کے زیرِ سر ہے۔
میرے فرزندو! آج کی اِس مشکل گھڑی میں تم ہی میرے سہارا ہو۔ اٹھو۔ سخاوت کے دریا بہاؤ اور اپنے فرزندی کا حق ادا کرو۔ سنو! گھبرانا نہیں۔ اِحساس کم تری کا شکار نہ ہونا۔ صبر و شکر کا دامن مضبوطی سے تھامے رہنا۔ اپنے کریم نبی کی پاکیزہ سیرت سامنے رکھنا۔ وہ سید الکونین ہیں۔ پھر بھی جیش عسرت کے موقع پر صحابۂ کرام کو راہِ خدا میں خرچ کرنے پر ابھارے جا رہے ہیں اور خرچ کرنے والوں کو بشارتوں سے نوازتے جا رہے ہیں۔ بس تم بھی ہر ممکن اُبھارتے رہنا۔ اللہ کریم تمھیں ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
ایسی سخت آزمائش میں صبر و شکر کا دامن تھامنے کے ساتھ، اپنے پالَنہار کی بارگاہ میں دست گداگری یوں دراز ہے
اے میرے کریم! میرے جگر پاروں کی حفاظت کرنا۔ اِنھیں ہر طرح کی آزمائش سے بچانا۔ اِن کے اندر حصول علم دین کی تڑپ پیدا فرمانا۔ دین متین کا سچا محافظ بنانا۔ یہی تیرے دین کے مُحافظ ہیں۔ مولا! اگر آج اِن کا رشتہ علمِ دین سے ٹوٹ گیا تو اِن سنگلاخ وادیوں میں تیرے دین کی حفاظت کون کرے گا۔ یہی تیرے دین کے سپاہی ہیں۔ اِنھیں دارین کی سربلندی و سرخ روئی عطا کرنا۔ آمين۔
دنیا میں ہر آفت سے بچانا مولا!۔
عقبیٰ میں نہ کچھ رنج دکھانا مولا!۔
بیٹھیں جو در پاک پیمبر کے حضور!۔
ایمان پہ اس وقت اٹھانا مولا!۔
از قلم عبـــدالقـــدوس مصباحی
دارالعلوم فیضِ رضا، شاہین نگر
حیدرآباد، تلنگانہ
رابطہ 7860225070
