تحریر مولانا محمد دانش رضا منظری پیلی بھیت نماز کے روحانی جسمانی اخلاقی معاشرتی فوائد
نماز کے روحانی جسمانی اخلاقی معاشرتی فوائد
جب انسان ہر طرف سے پریشانیوں، تکلیفوں، مصیبتوں،تفکرات،الجھنوں،بیماریوں،میں گھرجاتاہے۔موت کے سائے اس کے سر پر منڈلانے لگتے ہیں،اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ دنیا،اس کو اپنے اوپر تنگ ہوتے ہوئے محسوس ہوتی ہے،ہرطرف سے خوف و ہراس کے بادل سر پر منڈلاتے نظر آتے ہیں ان سب کیفیتوں سے نکلنے کا صرف ایک حل اور ایک علاج ہے۔
ساری دنیا سے منہ موڑ کر اپنے خالق کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔اپنے رب کے سامنے سر بسجود ہوجاؤ،اپنی تمام کمزوریوں کے ساتھ اپنے آپ کو رب کے سامنے سرنڈر کردو کہ اے میرے رب میں نے بالیقین اپنے نفس پہ ظلم کیا کہ صحت و جوانی کے عالم میں میں تیری عبادت کی طرف متوجہ نہ ہوا۔ اب اگر تو نے مجھ پر رحم نہ کیا اور میرے گناہوں کو معاف نہ کیا تو میں یقینا خسارہ پانے والے میں سے ہوجاؤں گا۔
ان حالات میں جب آپ پر خوف طاری ہو غم گھیر لے، تفکرات محاصرہ کرلیں،تو آپ فورا اپنے رب کی طرف بھاگو۔نماز کی طرف آؤ جس سے آپ کی روح کو فرحت وسکون ملے گااور دل کو راحت و اطمینان ملے گا۔
نماز ہر طرح کی پریشانیوں، تکلیفوں،غموں،مصیبتوں، الجھنوں، بیماریوں اور حزن و ملال کے بادل چھانٹ دے گی۔ اس لئے کہ جب کبھی حضور علیہِ السلام کو کوئی اہم مسئلہ پیش ہوتا تو آپ اپنے رب کی بارگاہ میں نماز کی حالت میں رجوع کرتے، نماز کی ادا سے اپنے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے،اور نماز سے ہی اپنے تمام معاملات کو بہتر کرتے۔ کائنات میں صرف ایک ذات اللہ عزوجل کی ہے جو دل کو جمانے اور ڈھارس بندھانے والی ہے۔
ہم لوگ آج ہر طرف سے نفسیاتی،جسمانی،دماغی، معاشرتی،پریشانیوں، الجھنوں میں پھنسے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی طرف رجوع کرنے اور نبی کریم کے بتائے ہوئے طریقہ سے صبر و سکون حاصل کرنے کے بجائے ہم مادی وسائل کا انتخاب کرتے ہیں،جب کہ سکون،اطمینان حاصل کرنے اور ان تمام بیماریوں کے علاج کا ایک ہی ذریعہ، ایک ہی مداوا اور حل ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے خالق و مالک کے سامنے نماز کی حالت میں جھک جائے
نماز ارکان اسلام میں توحید و رسالت کی شہادت کے بعد سب سے بڑا رُکن ہے۔ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایمان اور کفر کے درمیان حدِ فاصل قرار دیا ہے۔نماز اسلام میں ایسا عمل ہے جو ہر امیر،غریب،مرد،عورت،کمزور،طاقتور سب پر بلا کسی تفریق کے سفر و حضر ہر صورت میں فرض ہے اور اس کو ادا کرنے کا حکم ہے۔
جب کہ دیگر عبادات کا ایسا حکم نہیں بلکہ ان میں حالات کو پیش نظر رکھا گیا مثلا۔زکوة، حج صرف اغنیا،اور اس کی استطاعت رکھنے والے کے اوپر فرض ہے وغیرہ وغیرہ۔نماز قرب الہی کا ذریعہ ہے۔ نماز تمام عبادات میں افضل ترین عبادت ہے، نماز تمام عبادات کی اصل اور اہل ایمان کی معراج ہے،نماز اسلام میں سب سے پہلی عبادت ہے۔ قرآن حکیم میں نوے سے زیادہ مرتبہ نماز کا ذکر کیا گیاہے (تبیان القرآن جلد:1،ص276) ۔
چند قرآنی مفھوم کو ثبوتا،برکتا ذکر کیا جاتا ہے ۔(مفہوم)اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو(پ2،البقرہ:43)۔
۔(مفہوم)اور صبر اور نماز سے مددحاصل کرو(پ2، البقرہ: 45)۔(مفہوم)پھر جب تم نماز پڑھ لوتو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے اللہ کو یاد کرو پھر جب تم مطمئن ہو جاؤ توحسب ِ معمول نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔(النساء:103)۔
۔ (مفہوم)بیشک میں ہی اللہ ہوں ،میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔(طہ:14)۔
۔(مفہوم)اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود
بھی نماز پر ڈٹے رہو۔ ہم تجھ سے کوئی رزق نہیں مانگتے
(بلکہ) ہم تجھے روزی دیں گے اور اچھاانجام پرہیزگاری کے لیے ہے۔(طہ:132)
(مفہوم)وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو نما زقائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں اور اللہ ہی کے قبضے میں سب کاموں کا انجام ہے۔(آپ:41)
(مفہوم)اور نمازقائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو اس امید پر کہ تم پر رحم کیا جائے۔(النار:56)
نماز کی اہمیت و فضیلت احادیث کی روشنی میں
حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں، پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہو گا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہو گی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہو گا، اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے(ابوداؤد:1420)۔
پانچ نمازوں کی مثال نہرکی طرح ہے جس کا پانی صاف ستھرا اور گہراہو جو تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے سے گزرتی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ بار غسل کرتا ہو تو تم کیا خیال کرتے ہو کہ اس کے جسم پر کچھ میل باقی رہے گا۔
صحابۂ کرام نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا پانچ نمازیں (صغیرہ) گناہوں کو اس طرح ختم کردیتی ہیں جیسے پانی میل کو ختم کردیتاہے۔(مسلم)۔
بے شک نمازیں گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہ سے بچا جائے۔(مسلم)قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب پہلے نماز دیکھی جائے گی،اگر وہ کامل پائی گئی تو وہ بھی اور اس کے سارے اعمال بھی قبول ہوں گے،اگر اس میں کمی ہوئی تو وہ بھی اور دیگر سب اعمال بھی مردود ہوجائیں گے۔(موطا امام مالک:428)۔
حضرت جابر سے روایت ہے،نبی کریم نے فرمایا کسی شخص اور اس کے کفر و شرک کے درمیان ( فرق) نماز کا ترک کرنا ہے(مسلم:ج1)۔
بعض علماء کرام فرماتے ہیں،نمازی کی مثال اس تاجر کی سی ہے جو اس وقت تک نفع حاصل نہیں کرسکتا جب تک پورا مال خرچ نہ کرے۔ یونہی نمازی کی نفل نماز اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک وہ فرض ادا نہ کرلے۔(احیاء العلوم،دعوت اسلامی: ج1،)۔
حضرت ابو سعید خدری رَضِی اللہ عَنْہُ سے روایت ہے، حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس نے جان بوجھ کرنماز چھوڑی تو جہنم کے اُس دروازے پر اِس کا نام لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہوگا۔(حلیۃ الاولیاء: 10590)۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس نے نماز پر مداومت کی تو قیامت کے دن وہ نماز اس کے لیے نور ،برہان اور نجات ہو گی اور جس نے نماز کی محافظت نہ کی تو اس کے لیے نہ نور ہے، نہ برہان ،نہ نجات اور وہ قیامت کے دن قارون ، فرعون ، ہامان اور اُبی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔(مسند امام احمد)۔
بچوں سے نماز کب پڑھوائیں
جب بچوں کی عمر سات سال کی ہوجائے تو ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے اور جب دس سال کی ہوجائے تو مار کر پڑھوائی جائے جس کا ذکر حدیث میں مذکور ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر ( یعنی نماز نہ پڑھنے پر ) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو ۔ (ابوداؤ)۔
نماز کے روحانی فوائد
نماز حکم الہی ہے اور اس کے حکم کو بجالانے سے تقویٰ حاصل ہوتاہےاس طرح نماز قرب الہی کا ذریعہ بنتی ہے ۔اللہ نے فرمایا کہ نماز بے حیائیوں سے اور بری باتوں سے بچاتی ہے ،انسان جب برائیوں سے بچ جاتا ہے اور اس میں نیکیوں کی طرف ایک قلبی لگاؤپیدا ہوتاہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی،قلبی سکون حاصل کرتاہے۔
جو اس بات کی واضح دلیل ہوتی ہے کہ اس کی روح کو پاکیزگی حاصل ہو رہی ہے اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہورہاہے۔ نماز صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہے،ظہر کی نماز ادا کرنے سے فجر سےظہر تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، عصر کی نماز ادا کرنے سے ظہر سے عصر تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، مغرب کی نماز ادا کرنے سے عصر سے مغرب تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں،عشاء کی نماز ادا کرنے سے عشاء سے فجر تک کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں-انسان ہونے کے ناطے پورے دن میں بہت سی غلطیاں ہونے کے مکمل امکانات ہوتےہیں- اس لیے اللہ عزوجل نے نماز کو ان غلطیوں کا کفارہ بنادیا۔
نماز کے ظاہری اور باطنی حقوق ادا کرتے ہوئے نمازپڑ ھی جائے۔نماز کے ظاہری حقوق یہ ہیں کہ ہمیشہ، ٹھیک وقت پر پابندی کے ساتھ نماز پڑھی جائے اورنماز کے فرائض، سنن اور مستحبات کا خیال رکھا جائے اور تمام مفسدات و مکروہات سے بچا جائے جبکہ باطنی حقوق یہ ہیں کہ آدمی دل کوغیرُاللہ کے خیال سے فارغ کرکے ظاہروباطن کے ساتھ بارگاہِ حق میں متوجہ ہواوربارگاہِ الٰہی میں عرض و نیاز اور مناجات میں محو ہو جائے۔
گناہوں اور خواہشات سے بھرے ہوئے دلوں پر نماز بہت بوجھل ہوتی ہے اور عشق و محبت الہٰی سے لبریز اور خوفِ خدا سے جھکے ہوئے دلوں پر نماز بوجھ نہیں بلکہ نماز ان کیلئے لذت و سرور اور روحانی و قلبی معراج کا سبب بنتی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات پر یقین رکھتے ہیں اور اُس مولیٰ کریم کے دیدار کی تڑپ رکھتے ہیں۔
جسمانی فوائد
نماز ایک بہترین عبادت کے ساتھ ساتھ بہترین ورزش بھی ہے۔ سستی،کاہلی اور بے عملی کو مکمل ختم کرنے کا ایک بہترین ورزش اور علاج ہے۔جس کو حضور علیہِ السلام کے سو فیصد طریقے کے مطابق ادا کرکے دنیا، آخرت کے تمام دکھوں، غموں،پریشانیوں،سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے ہمارے بدن اور روح دونوں کو تقویت بھی دیتا ہے۔
نماز ہمارے بیرونی اعضاء کی خوشنمائی،خوبصورتی اور طاقت کا ذریعہ ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہمارے بدن کے اندرونی اعضاء دل،دماغ،گردے،جگر،پھیپھڑے،معدہ، آنتیں، ریڑھ کی ہڈی، گردن،سینہ اور تمام اقسام کے مسلز عضلات ہرقسم کے گلینڈز کو تقویت دیتی ہے۔نماز ایسا عمل ہے جس سے عمر میں اضافہ یعنی صحت مند عمر حاصل ہوتی ہے، انسان اس کے قائم کرنے سے غیر معمولی طاقت کا مالک بن جاتا ہے ۔
نماز کی پہلی شرط طہارت ہے،نمازی کے لیے ضروری ہے کہ پاک جسم اور پاک و صاف لباس میں ملبوس اللہ عزوجل کے حضور حاضر ہو۔جدید سائنس نے ثابت کیا ہے،دن میں پانچ بار ہاتھ منہ دھونے سے انسان جلد کی موذی بیماریوں کے علاوہ اور بھی بہت سی بیماریوں سے نجات پاجاتاہے،اس کے علاوہ وضو میں مسح کرنے سے گردن پر تر ہاتھ پھیرنے سے ذہنی قوت میں اضافہ ہوتاہے۔
پانچوں نمازیں ہلکی، پھلکی ورزش کا بہترین ذریعہ ہیں،جو صحت کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ اطبا کا قول ہے،صبح کی سیر اور شام کے کھانے کے بعد گشت کرنا صحت کے لیے بہت مفید اور انہتائی ضروری ہیں،نماز فجر و عشاء باجماعت ادا کرنے سے مذکورہ صبح و شام کی سیر اور واک کا حق کافی حد تک پورا ہوجاتاہے ۔
یوں ہی مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے ساتھ ہم متوازن صحت کے اصولوں پر بھی کار بند رہتے ہیں ، الغرض نماز میں انسان کی کامل صحت و تندرستی کے اسرار ورموز مخفی ہیں جو مصلیان پنجوقتہ پر روشن و منور ہوتے ہیں۔
نماز کے اخلاقی،معاشرتی فوائد
نماز برائیوں اور بے حیائیوں کے فعلوں سے بچاتی ہے،نیکیوں کی طرف مائل کرتی ہے۔نماز پرمداومت کے سبب ایک اعلی اخلاق و کردار شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ اگر نماز کی حقیقی روح کو سمجھ لیا جائے تو پھر معاشرہ بہت جلد تمام معاشرتی و سماجی برائیوں سے پاک ہوسکتا ہے
جھوٹ،غیبت،فریب،زنا،چوری، بدعہدی، خیانت،ملاوٹ،رشوت، سود اور اس طرح کے معاشرتی جرائم بہت جلد ہمارے معاشرہ سے ناپید ہو سکتے ہیں۔مگر شرط یہ ہے کہ نماز کو اس کے تمام حقوق کے ساتھ ہمیشہ قائم کیا جائے۔جس طرح نماز برائیوں سے اور بے حیائی کے کام سے منع کرتی ہے اسی طرح نماز طہارت و پاکیزگی کی ترغیب دیتی ہے ۔
لہذا نماز کا پابند شخص اپنی روحانی، جسمانی صفائی کے علاوہ اپنے گھر،گلی اور محلے کو صاف ستھرا رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتاہے،وہ لوگوں کو صفائی کی ترغیب دینے میں،اور ماحول، معاشرے کو صاف ستھرا بنانے میں اپناکردار بہتر طور پر ادا کرسکتا ہے، صفائی نصف ایمان ہے اس حدیث کا مصداق بن جاتاہے۔
نماز واحد ایسی عبادت ہےجس میں رکوع،سجود کے علاوہ اللہ اکبر کے ورد کا خصوصی اہتمام ہے۔سجدہ محض ایک وقتی،رسمی نوعیت کاجسمانی فعل ہی نہیں ہے بلکہ وہ بندہ کو رب تعالیٰ کے آگے جھکاتاہے،وہ اپنی پوری زندگی کو حق وصداقت کے تابع بنا دیتا ہے،سجدہ خدائی، بزرگی اور وحدانیت کا کھلا اظہار ہے کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی ہستی اس قابل نہیں کہ اس کے سامنے جھکا جائے۔
اس سے انسان اپنے عاجز و ملنسار ہونے کا برملا اظہار کرتاہے۔نماز ہی ایسی عبادت ہے جس میں اللہ اکبر کا ورد کثرت سے آتا ہے،انسان اللہ اکبر کا ورد کرتے ہو ئے پراثر الفاظ میں اس بات کا اعلان کررہا ہوتاہے کہ اللہ کے علاوہ اس دنیا میں کوئی ایسی ہستی موجود نہیں جو بڑائی،عظمت کے لائق ہو۔
یوں انسان اپنی انسانیت و بشریت بر ملا اظہار کررہا ہوتاہے اور اللہ عزوجل کی بادشاہت اور بزرگی کو تسلیم کررہا ہوتاہے، اللہ اکبر کے ورد سے انسان کے دل سے تکبر،غرور،گھمنڈ، بڑائی،شوخی،اور چکنی، چوڑی باتوں کے بڑے بڑے دعووں جیسی تمام خرافات ختم ہوجاتی ہیں۔یوں وہ دونوں جہانوں میں اللہ عزوجل کی خاص نعمت،رحمت، برکت اور احسانات کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
سجدہ اور اللہ اکبر کا ذکر ہمیں عجز،انکساری کی زندگی بسر کرنےکی ترغیب دیتے ہیں۔نماز سے دنیا آخرت کی بھلائیاں حاصل ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے مذکورہ گفتگوں کے مطالعہ سے حاصل کی لیکن ہم میں بہت سے ایسے لوگ بھی پائے جاتے جو نماز کی طرف کچھ خاص توجہ نہیں دیتے اور نماز کی رحمتوں،برکتوں سے محروم رہتے ہیں اور پریشانیوں مبتلا رہتے ہیں۔
سرکار غوث پاک فرماتے ہیں کسی بے نمازی کا ایک نظر کسی گھر کی جانب دیکھ لینا اس گھر کو تباہ،ویران کردینے کے لئے کافی ہے، ذرا کچھ ہوش کریں جس گھر کا ہر فرد بے نمازی ہو اس گھر کی تباہی کا کیا عالم ہوگا آپ غور فکر سے ایک درست نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں۔
آئیےہم استغفار کرتے ہیں اور پھر عہد کرتے ہیں کہ آج سے کبھی بھی کوئی بھی نماز بلا ضروت شرعی نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی دیگر امور فرائض۔اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے اللہ عزوجل ہم تمام مومنین و مومنات کو کو توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور نماز و دیگر امور مفروضہ کو ان کے وقتوں پر ادا کی توفیق عطا فرمائے۔اور تمام قوم مسلم و پوری دنیائے انسایت کو تمام بیماریوں سے خاص کر کروناوائرس سے محفوظ فرمائے اور متأثرین کو شفا عطا کریں. اور اس کا دنیا سےاختتام فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ
تحریر: مولانا محمد دانش رضا منظری پیلی بھیت
استاذ: جامعہ احسن البرکات للولی
فتحپور،یوپی
رابطہ نمبر: 9410610814