کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل سوال کے بارے میں کہ:اختلاج قلب کی وجہ سے روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا ہوگا یا کیا کرنا ہوگا۔
اختلاج قلب کی وجہ سے روزہ توڑنے کا کفارہ
آپ کا مخلص س ا قادری دہرہ دون
الجــــــــــــواب بعون الملک الوھــــــــاب
اختلاجِ قلب کے مریض کو اگر مرض بڑھ جانے کا غالبِ گمان تھا اس وجہ سے روزہ توڑدیا تو صرف قضا ہے کفارہ نہیں ، اور اگر محض وہم کی بنیاد پر روزہ توڑ دیا تو کفارہ لازم ہے ـ
ایسی صورت میں غالبِ گمان کی قید لازم محض وہم ناکافی ہےـ غالب گمان کی تین صورتیںہیں
۔(۱) اس کی ظاہری نشانی پائی جاتی ہےیا ۔(۲) اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا
۔(۳) کسی مسلمان طبیبِ حاذق مستور یعنی غیر فاسق نے اس کی خبر دی ہو ،اور اگر نہ کوئی علامت ہو، نہ تجربہ نہ اس قسم کے طبیب نے اُسے بتایا بلکہ کسی کافر یا فاسق طبیب کے کہنے سے افطار کر لیا تو کفارہ لازم آئے گا
جیساکہ در مختار میں ہے
وصحیح خاف المرض بغلبۃ الظن بامارۃ او تجربۃ او باخبار طبیب حاذق مسلم مستور
رد المحتار میں ہے :۔ قلت واذا اخذ بقول طبیب لیس فیہ ھذہ الشروط وافطر لزوم فالظاھر لزوم الکفارۃ، کما لو افطر بدون امارۃ ولا تجربۃ لعدم غلبۃ الظن والناس عنہ غافلون
مرض کے شدت اختیار کرنے کی وجہ سے روزہ توڑنے کے بارے میں حضور سیدی سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۔
اس صورت میں نہ ساٹھ روزے ہیں نہ ساٹھ مسکین غرض کفارہ نہیں صرف اس روزہ کی جو توڑا اور ان روزوں کی جو نہ رکھے قضا ہے ہر روزہ کے بدلے ایک روزہ وبس فی الدرالمختار من مبیحات الفطر خوف ھلاک او نقصان عقل ولو بعطش او جوع شدید ولسعۃ حیۃ شامی میں ہے فلہ شرب دواء ینفعہ