ازقلم-محمد قمرانجم فیضی۔ریسرچ اسکالرسدھارتھ یونیورسٹی سدھارتھ نگر موم بتی دیا جلانے کی حقیقت
موم بتی دیا جلانے کی حقیقت
علمائے دین ومفتیان عظام کے نزدیک کورونا وائرس سے بچنے کے لیے گھروں میں موم بتی۔ ٹارچ،موبائل کافلیش ٹارچ، ودیا جلانا وغیرہ غیر شرعی کام اور احکام ہے۔
کوروناوائرس جو ایک مہلک بیماری ہے جس کی وجہ سے آج پوری دنیا میں خوف و دہشت کا ماحول ہے۔ اس سے بچنے کے لیے لیے اطباء و ڈاکٹرز سے مشورہ کر کے مناسب اور احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔اور حکومت کے محکمہ صحت کی جانب سے جو بھی احتیاطی تدابیر اپنانے کو کہا گیا ہے مثلاسوشل ڈیسٹنسنگ، سماجی دوری بنائے رکھنا, بنا کسی ضرورت کے گھر سے نہ نکلنا, حفاظت کے لییماسک وسینیٹائزر وغیرہ کا استعمال کرنا,صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا, لوگوں سے زیادہ میل جول سے بچنا وغیرہ ان باتوں پر عمل کیا جائے۔
لیکن اس کے خطرات سے بچنے کے لیے گھروں میں موم بتیاں، ٹارچ، ودییجلانا اس میں ضیاعِ مال ہے اور یہ غیر سَائنٹیفِک بھی ہے۔ لھذا اس طرح کے ہندوانہ رسم ورواج نیز موہوم و غیر سَائنٹیفِک امور سے پرہیز کیا جائے اور دفعِ ضرر و وبا کے لیے انہیں باتوں پر عمل کیا جائے جن کی اسلامی شریعت نے اجازت دی ہے۔
اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کثرت کے ساتھ توبہ و استغفار کریں اور غرباء و مساکین کی امداد کریں,جان کاصدقہ نکالیں, تلاوتِ قرآن, درود و سلام اور ذکر و دعاکی کثرت کریں اور گھروں میں دفعِ وباء و حصولِ برکت و رحمت کے لیے بنا مائک کے اذان کہیں اور اس بات کا لحاظ رکھیں کہ اس سے کسی کو تکلیف نہ ہو۔
حدیث میں ذکر اللہ کی فضیلت
ترجمہ: حضرت عبدللہ ابن عمر رضی للہ تعالٰی عنہما کی سند سے حضوراکرم صلی للہ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے: ہر شَے کی صفائی کے لئے کوئی نہ کوئی چیزہے اور دلوں کی صفائی للہ تعالٰی کے ذکر سے ہوتی ہے کوئی چیز خدا کے عذاب سے نجات کے سلسلے میں ذکرالٰہی سے بڑھ کر مفید نہیں۔
محققِ جلیل,امام اہل سنت اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے مصیبت کے وقت روشنی کرنے کے بارے میں ایک سوال کیا گیا کہ برائے دفعِ وَبا اکثر محلوں میں چند چند لوگ ایک ایک جماعت ہوکر راتوں کو مع عَلم ونشان وروشنی وغیرہ نکلتے ہیں اور ہرگلی کوچہ وشارعِ عام میں آوازیں ملا ملا کر بآواز بلند ۔ شعر:لی خمسۃ اطفی بھا. حرالوباء الحاطمہ.المصطفٰی والمرتضٰی. وابناھما والفاطمہ.پڑھتے ہیں۔کیا یہ جائز ہے؟۔
آپ جواب میں تحریر فرماتے ہیں: مضمونِ شعرفی نفسہٖ حَسن ہے اور محبوبانِ خدا سے تَوَسُّل محمود۔ اور آگے تحریر فرماتے ہیں:مگر عَلم ونشان مُہْمَل اور ان سے تَوَسُّل باطل اورہیأت مذکورہ لہواشبہ۔
ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں: عملیات وتعویذ اسمائے الٰہی وکلام الٰہی سے ضرورجائزہیں جبکہ ان میں کوئی طریقہ خلافِ شرع نہ ہو مثلاً کوئی لفظ غیرمَعلومُ المعنی جیسے حفیظی، رمضان، کعسلہون۔اور دعائے طاعون میں طاسوسا، عاسوسا، ماسوسا، ایسے الفاظ کی اجازت نہیں جب تک حدیث یا آثار یااقوالِ مشائخِ معتمدین سے ثابت نہ ہو.
ان سب سے احتیاط کریں!۔ ایک اور بات بتاتا چلوں جیسا کہ آپ تمامی حضرات نے سنا ہوگا کہ ہندوستان کے وزیراعظم نے 5 اپریل بروزاتوار رات نوبجے نومنٹ تک موم بتی، ٹارچ، اور موبائل کی فلیش جلانیکی اپیل کی تھی، تاکہ ہم کورونا سے جنگ جیت جائیں۔
اس ہندوانہ رسم ورواج کو ہندوؤں نے بہت زوروشور سے استعمال بھی کیا،اور رات میں نوبجکر نو منٹ تک اپنے اپنے گھروں، چھتوں، بالکنیوں کی لائٹیں بند کرکیٹارچ اور موم بتی کو جلایا، یہ ان کا ہندووانہ رسم ورواج ہے اس پر انھوں نے خوشی خوشی روشنیوں کا انتظام کیا اور خوب چراغاں کیئے،
مگربہت ہی افسوسناک بات یہ ہے کہ ندوۃ العلماء لکھنؤ میں بھی، بروزاتوارکو رات 9 بجے9منٹ تک موم بتی اوردیا جلایاگیا،اور وہ بھی ہندووانہ رسموں کی ادائیگی اور توہم پرستی پر عمل کرتاہوادنظرآیا۔ندوۃ العلماء آج کسی مندر کا تصور پیش کررہا تھا، پورے درو دیوار پر دئے سجائے گئے تھے،9 بجنے پر لائٹ بجھادی گئی تھی۔
اور یہ منافقین ندوہ کے مشن و منہج کو پاؤ تلے دباتے ہوئے اعلانیہ شرکیہ اعمال انجام دے رہے تھے، آج جو کچھ بھی ہوا اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، ایک توحید کا علم بردار اور ہندوستان کا مرکزی ادارہ کفروشرک کی عملی تصویر پیش کررہا تھا۔
کیا ہوگیا ہے ہمارے علماء کو کتنے بزدل ہوگئے ہیں یہ۔جبکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ مشرکین ہم سے راضی نہیں ہوسکتے. حتی تتبع ملتھم،،۔افسوس صد افسوس یہ مذہبی قائدین وعمائدین ملت کو کہاں لے جارہے ہیں ان کا یہ عمل عوام کے لئے مثال بنتا ہے۔
اب میڈیا میں پھر اسلام کو بدنام کرنے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا خدارا اُن علاقوں کے مسلمانوں کی فکر کریں جہاں وہ اقلیت میں ہے وہاں انہیں مجبور کیا جاتا ہے ایسی تصاویر اور خبریں بتاکر کہ وہ بھی شرکیہ اعمال کریں۔
اس بارے میں۔کچھ لوگوں کا یہ کہناہے کہ نہیں بس..ہمیں تو اب کچھ تاویل نہیں چاہئے..بڑے احترام سیآپ لوگوں کا نام لیتے تھے…اب تو ہمارے اپنے ہی ہم سے آپ کے متعلق سوال کر رہے ہیں…کیا جواب دیں..؟۔
کتنا مایوس کروگے اور…” الوہن ” نامی وائرس ہے جس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔افسوس صد افسوس کہ قوم کے ٹھیکدار قوم کو مصلحت کے نام پرکہاں لیجارہے ہیں۔۔۔جو اپنے ادارے کی حفاظت نہیں کرسکے۔وہ پوری امت کی حفاظت کیاخاک کریں گے۔۔یہ لوگ خود سپرد ہوچکیں ہیں یوگی اور مودی کے سامنے۔
آج جو کچھ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مرکزی گیٹ اور اس کی چوطرفہ دیواروں پر ہندو تہذیب کی رسموں کو سجایا گیا، جس طرح دیے جلا کر ان کو شرک کی طرف لے جانی والی توہم پرستی نے
پوری دنیا میں ندوۃ العلماء سے نسبت رکھنے والوں کو شرمسار کردیا ہے، ہر ندوی کی ہی نہیں مسلمانان ہند کی بھی یہ بے عزتی ہے وزیراعظم کی طرف سے 5 اپریل کی رات 9بجے 9منٹ تک ایسے افعال کی ترغیب تھی، جس کو بجا لانے کے لیے دارالعلوم ندوۃ العلماء کا استعمال کیاگیا.
جب یہ خبر باہر آئی تودنیائے اسلام میں عالم اضطراب پھیل گیا۔ صورتحال یہ ہیکہ ندوہ کی مرکزی چہاردیواری اور صدر گیٹ کو اس نحوست سے ناپاک کیاگیا۔اور آج جو کچھ ہوا ہے بہت ہی افسوس اورغوروفکرکرنیوالی بات ہے۔
اسی طرح آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ دار رکن نے تو جیسے مستقل یہ ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ وہ عظیم فرنگی محل اور لکھنو کی عیدگاہ کی عزت اچھالتے پھریں گے اور پرسنل لا بورڈ کی رکنیت کا استحصال کرتے ہوئے بورڈ کو بھی رسوا کرینگے۔
آج یہ صاحب سڑک پر نکل موم بتی جلا کر کھڑے ہوگئے تھے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں مولانا ولی رحمانی، مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی، مولانا سجاد نعمانی، مولانا ارشد مدنی انجینئر سعادت اللّٰہ حسینی اور مولانا جلال الدین عمری جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں اسوقت ان بڑوں اور بزرگوں کی ذمہ داریاں دوچند ہوگئیں ہیں مذکورہ عمل کے متعلق، ان حضرات کو آگے آنا چاہیے اور خود بورڈ کے صدر محترم سے پہلے سوال کرناچاہیگی،۔
مزید برآں آج ایک نیوز اسٹوڈیو کاویڈیووائرل ہواہے جس میں بی جے پی کے سنبت پاتراکیساتھ میں ایک مولوی صاحب دیاجلانے موم بتی روشن کرنے کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ اسلام میں یہ سب جائزہے اورقرآن پاک سے بھی انہوں نے دلیل پیش کی ہے
افسوس ہے،حدہوگئی،، اور بھی کچھ درباری چاپلوس مولوی میڈیا پر بیٹھ کر شرکیہ ہندوانہ رسم و رواج کے کرنے پر تاویل پیش کررہے ہیں، اور مسلمانوں کو بھی اس شرکیہ عمل میں شریک ہونے کی دعوت دے رہے ہیں، یہ درباری لوگ ایک طرح سے مسلمانوں کو مشرکانہ عمل کو کرنے کی دعوت دے رہیں، کوئی بھی شخص ان درباری لوگوں کی باتوں پر توجہ نہ دیں، یہ منافقین اپنے ساتھ ساتھ آپ لوگوں کو بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔
لہذا یہ واضح کردیا ہے کہ 05 اپریل کی رات کو شمع روشن کرنا۔ یہ عمل شرکیہ اور سفلی (جادوئی) عمل ہے، اس عمل کے کرنے سے ایمان کے سلب ہونے کا بھی اندیشہ ہے، کیونکہ اس دیا جلانے والے عمل کے کچھ مفاہیم تو واضح ہیں جیسا کہ دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنا،برائی سے اچھائی پر غلبہ حاصل کرنا جبکہ اس عمل کے کچھ مفاہیم پوشیدہ اور مخفی ہیں جیسا سفلی اور کالے علم کا اس عمل سے تعلق ہونا اور اس عمل سے شیطانی قوتوں سے مدد مانگنا۔
ہر دو صورت میں یہ شرکیہ عمل ہے -لہذا کوئی بھی شخص رات ۹ بجے اس مشرکانہ عمل میں شریک نہیں ہوا،، یہ عمل ناجائز و حرام ہے-علماء کرام نے بھی سوشل میڈیا پر اس شرکیہ عمل کی قباحت کو اجاگر کیا ہے، اور لوگوں کو اس سے متعلق آگاہی دے رہے ہیں۔
لہذا کل رات سبھی مسلمانوں نے وقت متعینہ پر ماثور و منقول دعاؤں کا ورد کیا اور اس شرکیہ عمل کے کرنے سے اجتناب کیااور دوسروں کو بھی دور رہنے کی تلقین کی- امت باطلہ کے مقابلہ میں امتِ حقہ ہونے اور غیرتِ ایمانی کا ثبوت پیش کیا۔
مصائب دور کرنے کے لیے موم بتی، اگر بتی، دیا وغیرہ سے چراغاں کرنا یا تالی، تھالی اور گھنٹی بجانا، یہ سب ہندوانہ عقیدے و رسمیں ہیں، جس پر ہندوستان کا وزیر اعظم غیر ہندوؤں کو آہستہ آہستہ اپنے مذہب (شرک)کی طرف لے جا رہا ہے.اور موحدین بھی بلاتردد شامل ہوتے جا رہے ہیں.
واللہ آج اگر ہم نہیں سنبھلیں تو ہماری اولادیں گونگی بہری پیدا ہونگیموم بتی دیا جلانے کی حقیقت
کورونا بحران اور آمد رمضان المبارک
کھائی والوں کا واقعہ ہمارے لیے درس عبرت
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےلب پہ آ سکتا نہیں
محوحیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو