تحریر ۔ ازہرالقادری،جامعہ مٹہنا،سدھارتھ نگر(یو ۔ پی ۔ )،انڈیا ۔ ابھی وقت ہے اپنا محاسبہ کرلیں
ابھی بھی وقت ہے اپنا محاسبہ ضرور کریں
عالمی وبا’’کروناوائرس‘‘ کے چلتے یہ لاک ڈاوَن کاچوتھا ہفتہ ہے ۔ انسانی رفتاروگفتار، اکل و شرب، رہن سہن، سلام وکلام، مصافحہ ومعانقہ ، قربت ومصاحبت، میل جول، قیام وطعام، نششت وبرخاست
اور ہروہ تمام حرکات وسکنات جوانسانی زندگی کے لوازمات میں شمارکی جاتی ہیں ،سب پرقدغن لگاہواہے!!! ۔
کورونا آزمائش یا عذاب خداوندی از علامہ محمد غفران رضا قادری خلیفہ حضور تاج الشریعہ قدس سرہ
مگر اب بھی ہماری آنکھیں نہیں کھل رہی ہیں ، ہم اپنامحاسبہ نہیں کرپارہے ہیں ، ہم موجودہ لاک ڈاوَن کا مکمل لحاظ کرتے ہوئے تمام ترآلام ومصائب برداشت کرزندگی گزارنے کی تگ ودو میں ہیں ، لیکن شرع شریف کی حدود کا ہ میں بالکل پاس ولحاظ نہیں ! بغض وحسد، کینہ پروری، بدخواہی،۔ بدعہدی، دھوکا دھڑی، فریب کاری، بدمعاشی، بدقماشی، عیاری ومکاری ظلم وستم ، جبروجفا، منافقانہ رویہ، چغل خوری، غیبت ، ۔ عیب جوئی غرض کہ ہم اب بھی ان تمام صفات مذمومہ اورحرکات قبیحہ کے علم بردارنظرآتے ہیں !!! ۔
ایک طرف یہ بھی کہاجارہاہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ عالمی وبا درحقیقت عذاب الٰہی ہے اوربلاشبہ ہے بھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھربھی ہم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے سماج، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوساءٹی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معاشرے میں ایک دوسرے کی قبرکھودنے کے لیے بالکل تیارہیں ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک دوسرے کے درپے آزارہیں ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھائی چارہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اخوت ومحبت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موَدت والفت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باہمی رواداری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عفووکرم ۔ ۔ ۔ ۔ صلہ رحمی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شفقت ومہربانی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کا فقدان آج بھی سماج کے اکثر افرادکا جزولاینفک بناہواہے!!! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
افسوس صدافسوس! انسانی رفتاروگفتارسمٹ کررہ گئی ہے، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اکل وشرب کامعمول بدل چکاہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رہن سہن کارنگ ڈھنگ خلاف معمول ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سلام و کلام کا طورطریقہ حیران کن ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مصافحہ ومعانقہ کا تصورعنقاہوگیاہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قربت ومصاحبت کا جنازہ شہرخموشاں کی طرف رواں دواں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میل جول کی خوب صورت تصویرانسانی پیشانی پرایک بدنماداغ متصورہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قیام وطعام کی دنیا ایک کونے میں سمٹ کررہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نششت وبرخاست کاچکا جام ہوچکاہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!۔
لاک ڈاؤن بڑھا بھوک و بیامری سے بچنے والے نکمے ہوجائیں گے از علامہ شعیب رضا نظامی
ہماری آنکھیں کب کھلیں گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم اپنامحاسبہ کب کریں گے موجودہ لاک ڈاوَن کا مکمل لحاظ توہم کررہے ہیں لیکن شرع شریف کی حدودکی پاس داری کا جذبہ ہمارے اندرکیوں نہیں بغض وحسد ہمارامطمح نظربنا ہوا ہے کینہ پروری ہماری فطرت ثانیہ بن چکی ہے! ۔
بدخواہی کا علم بردارہم کیوں بنے ہوئے ہیں بدعہدی ہماراجزولاینفک کیوں ہے دھوکا دھڑی ہماری سرشت میں کیوں داخل ہے فریب کاری ہماراشعارکیوں بن چکا ہے بدمعاشی میں ہم ایک نمبرکیوں ہیں بدقماشی ہماراشیوہ کیوں ہوچکاہے عیاری ومکاری کا داغ ہماری پیشانی سے کب دھلے گا ظلم و ستم سے عاری ہم کب ہوں گے۔
جبروجفا کا منحوس دامن ہمارے اسلامی ہاتھوں سے کب چھوٹے گا منافقانہ رویہ ہم کب چھوڑیں گے چغل خوری کی قبیح عادت ہم سے کب دورہوگی غیبت کے سہارے معاشرہ،سماج اورسوساءٹی کوہم کب تک قعرمذلت کے حوالے کرتے رہیں گے عیب جوئی کا برا کردارکب ہم سے الگ ہوگا۔
بھائی چارہ کی علم برداری کب کریں گے۔ اخوت ومحبت کاپیغام عام کب ہوگا موَدت والفت کادرس کب دیں گے اہمی رواداری کا پیکرکب بنیں گے عفووکرم کاجذبہ کب ہمارے اندرپیداہوگا صلہ رحمی کاجوش کب ہمارے خون میں طغیانی لائے گا شفقت ومہربانی کی نشانی کب ہماری پیشانیوں سے ظاہرہوگی ۔
قرآن وحدیث، سیروتواریخ، سیرت وسوانح، اور نقوش رفتگاں کے تناظر میں جوصفات حسنہ ہماری کام یابی و کام رانی کا جوہرجمیل تھیں ، افسوس ہم نے انھیں پس پشت ڈال دیا !!! ۔ اور جملہ احوال وآثارکے پیش نظر جوصفات قبیحہ ہمارے لیے مضراورنقصان دہ تھیں ، افسوس ہم نے انھیں کواپنی حیات کارکن رکین تصورکرلیاہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!
یادرہے!عظمت رفتہ کی بازیابی کے لیے ہ میں ’’ما آتاکم الرسول فخذوہ ومانھٰکم عنہ فانتھوا‘‘ کومشعل راہ اورمینارہَ نوربناناہوگا ۔ بلاشبہ ہماری کام یابی و کام رانی کا رازسربستہ مذکورہ آیت کریمہ میں مضمرہے ۔ ابھی وقت ہے اپنا محاسبہ کرلیں
تحریر ۔ ازہرالقادری
جامعہ مٹہنا،سدھارتھ نگر(یو ۔ پی ۔ )۔
انڈیا
+910559494786 رابطہ
sfraza78692@gmail۔com