مولانا محمد قمرانجم قادری فیضی ریسرچ اسکالرسدھارھ یونیورسٹی سدھارتھ نگریوپی کھائی والوں کا واقعہ ہمارے درس عبرت
کھائی والوں کا واقعہ
مذہب عالم میں جس قدر انفرادی خصوصیات اپنی الگ الگ حیثیات کےساتھ موجودہیں، وہ اسلام میں اجتماعی طورپر بیک وقت موجودہیں اسلام صرف ہمہ گیر مذہب ہی نہیں بلکہ وہ انسانی عروج وارتقاء کی فیصلہ کن منزل بھی ہے۔
اسلام ہمارے لئے صرف ایک مذہب ہی نہیں ایک طرزِحیات اور نظم زندگی ہے اسلام ترقی، قوت، تشخص، استحکام اور معنویت کا سرچشمہ ہے عصرحاضرمیں اسلامی احیاء کاعمل دراصل تدریجاً اسی تابناک منزل کے باضابطہ حصول کی کوشش کا نام ہے۔
یہ وسیع تردانش ورانہ، ثقافی، معاشرتی عملی، اورمذہبی تحریک ہے جو ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے مغرب سے مشرق تک ایک ارب سے زیادہ تعداد میں مسلم آبادی اور غلامان رسول کے اسلام سے تجدید عہدو وفا کاتعلق یہ ہرگزانتہا پسندانہ نہیں بلکہ کائنات دل پر چھاجانےوالاہے۔
حدیث وقرآن اور تاریخوں میں بہت سارےایمان افروزوتاریخ سازواقعات وحکایات موجودہیں جنہیں پڑھ کرہمارےقلب وروح کو تسکین حاصل ہوتی ہے مزید ان میں ایک نئی روشنی پیداہوتی ہے،جو ہمارےقلوب واذہان کو ایک جدید تازگی اورجِلا بخشتی ہے۔
بوڑھے والدین اور اسلامی تعلیمات
ایسا ہی ایک ایمان افروزوتاریخ سازواقعہ آپ لوگوں کے خوبصورت بصارتوں کےحوالے کررہاہوں، پڑھئے اور غور و فکر کیجئے کیونکہ آج ہماری جو حالت ہے،آج جو ہم چاروں طرف سے گھِر چکےہیں، آج جوہم ذلت وپستی،بےروزگاری ،بھوک مری، فاقہ کشی، کےشکارہیں اور ہم پر جوعذابات، زلزلہ وائرس اور بشکل بیماریاں نزول ہورہی ہیں۔
یہ کہیں نہ کہیں ہمارے برے اعمال اور کارقبیحہ کی بنیادپر آرہی ہیں، ہمیں آج اپنا محاسبہ کرنا چاہئے، مزید یہاں پر کھائی والوں کاجو واقعہ ذکر کیا گیا اس کے بارے میں حضرت سیدنا صہیب رومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ۔
نبئ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم سے پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادو گر تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا :اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں ،آپ میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیں تاکہ میں اسے جادوسکھادوں۔
بادشاہ نے اس کے پاس جادو سیکھنے کے لئے ایک لڑکا بھیج دیا،وہ لڑکا جس راستے سے گزر کرجادو گر کے پاس جاتا اس راستے میں ایک راہب رہتا تھا،وہ لڑکا (روزانہ) اس راہب کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سننے لگا اور اُس راہب کا کلام اِس لڑکے کے دل میں اترتاجا رہا تھا ۔
جب وہ لڑکا جادو گر کے پاس پہنچتا تو (دیر سے آنے پر) جادو گر اسے مارتا۔لڑکے نے راہب سے اس کی شکایت کی تو راہب نے کہا:جب تمہیں جا دو گر سے خوف ہو تو کہہ دینا:گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب گھر والوں سے خوف ہو تو ان سے کہہ دینا کہ جادو گر نے مجھے روک لیا تھا۔
یہ سلسلہ یونہی جاری تھا کہ اسی دوران ایک بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ بند کر دیا، لڑکے نے سوچا : آج میں آزماؤں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب؟۔
چنانچہ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا:اے اللّٰہ ! عَزَّوَجَلَّ ، اگر تجھے راہب کے کام جادو گر سے زیادہ پسند ہیں تو اس پتھر سے جانور کو ہلاک کر دے تاکہ لوگ راستے سے گزر سکیں۔
چنانچہ جب لڑکے نے پتھر مارا تو وہ جانور اس کے پتھر سے مر گیا۔ پھر اس نے راہب کے پاس جاکر اسے اس واقعے کی خبر دی تو اس نے کہا: اے بیٹے! آج تم مجھ سے افضل ہو گئے ہو،تمہارا مرتبہ وہاں تک پہنچ گیا ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں ۔ عنقریب تم مصیبت میں گرفتار ہو گے اور جب تم مصیبت میں گرفتار ہو تو کسی کو میرا پتا نہ دینا(اس کے بعد اس لڑکے کی دعائیں قبول ہونے لگیں )۔
اور اس کی دعا سے مادر زاد اندھے اور برص کے مریض اچھے ہونے لگ گئے اور وہ تمام بیماریوں کا علاج کرنے لگا ۔ بادشاہ کا ایک ساتھی نابینا ہوگیا تھا ، اس نے جب یہ خبر سنی تو وہ اس لڑکے کے پاس بہت سے تحائف لے کر آیا اور اس سے کہا:اگر تم نے مجھے شفا دے دی تو میں یہ سب چیزیں تمہیں دے دوں گا۔
لڑکے نےکہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفا تو اللّٰہ تعالیٰ دیتا ہے،اگر تم اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ تو میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعاکروں گا اور وہ تمہیں شفا عطا کردے گا۔ چنانچہ وہ اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لے آیا تو اللّٰہ تعالیٰ نے اسے شفا دے دی۔
جب وہ بادشاہ کے پاس گیا اور پہلے کی طرح اس کے پاس بیٹھا تو بادشاہ نے پوچھا: تمہاری بینائی کس نے لوٹائی ہے؟۔ اس نے کہا: میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے ۔بادشاہ نے کہا:کیا میرے سوا تیرا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا :ہاں ! میرا اور تمہارا رب اللّٰہ تعالیٰ ہے۔
یہ سن کر بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس وقت تک اسے اَذِیَّت دیتا رہا جب تک اس نے لڑکے کا پتا نہ بتا دیا۔ پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور بادشاہ نے اس سے کہا: اے بیٹے!تمہارا جادو یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ تم مادر زاد اندھوں کو ٹھیک کر دیتے ہو، برص کے مریضوں کو تندرست کر دیتے ہو اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کرتے ہو۔
اس لڑکے نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفا تو میرا اللّٰہ تعالیٰ دیتا ہے۔ بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس وقت تک اسے اَذِیَّت دیتا رہا جب تک اس نے راہب کا پتا نہ بتا دیا۔ پھر راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ۔راہب نے انکار کیا تو بادشاہ نے آرا منگوا کر اس کے سر کے درمیان رکھا اور اسے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔
پھراس نے اپنے ساتھی کو بلایا اور اس سے کہا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ۔ اس نے انکار کیا تو بادشاہ نے اسے بھی آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔ پھر اس لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ۔اس لڑکے نے انکار کیا تو بادشاہ نے اپنے چند ساتھیوں سے کہا: اس لڑکے کو فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے لے کر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاؤ، اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو ٹھیک ورنہ اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا۔
وہ لوگ اس لڑکے کو لے کر گئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے۔اس لڑکے نے دعا کی! ائے اللّٰہ ! عَزَّوَجَلَّ ، تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔اسی وقت ایک زلزلہ آیا اور وہ سب لوگ پہاڑ سے نیچے گر گئے۔اس کے بعد وہ لڑکا بادشاہ کے پاس چلا گیا تو بادشاہ نے اس سے پوچھا!۔
جو لوگ تمہارے ساتھ گئے تھے ان کا کیا ہوا؟ لڑکے نے جواب دیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا۔ بادشاہ نے پھر اسے اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اسے ایک کشتی میں سوار کر کے سمندر کے وسط میں لے جاؤ،اگر یہ اپنا دین چھوڑ دے تو ٹھیک ورنہ اسے سمندر میں پھینک دینا۔
وہ لوگ اسے سمندر میں لے گئے تو ا س نے دعا کی:اے اللّٰہ ! عَزَّوَجَلَّ،تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔وہ کشتی فوراً الٹ گئی اور اس لڑکے کے علاوہ سب لوگ غرق ہو گئے۔وہ لڑکا پھر بادشاہ کے پاس چلا گیا تو بادشاہ نے پوچھا:جو لوگ تمہارے ساتھ گئے تھے ان کا کیا ہوا؟۔
اس نے کہا: اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا۔پھر اس نے بادشاہ سے کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکو گے جب تک میرے کہنے کے مطابق عمل نہ کرو۔ بادشاہ نے وہ عمل پوچھا تو لڑکے نے کہا: تم ایک میدان میں سب لوگوں کو جمع کرو اور مجھے کھجور کے تنے پر سولی دو، پھر میرے تَرکَش سے ایک تیر نکال کر بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامْ کہہ کر مجھے مارو،اگر تم نے ایسا کیا تو وہ تیر مجھے قتل کر دے گا۔
چنانچہ بادشاہ نے تمام لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور اس لڑکے کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کر کے تیر چھوڑدیا، وہ تیر لڑکے کی کنپٹی میں پَیْوَسْت ہو گیا،لڑکے نے تیر لگنے کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھا اور انتقال کرگیا۔
یہ دیکھ کر تمام لوگوں نے کہا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے،ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے،ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ کو اس واقعے کی خبردی گئی اور اس سے کہا گیا کہ کیا تم نے دیکھا کہ جس سے تم ڈرتے تھے اللّٰہ تعالیٰ نے وہی کچھ تمہارے ساتھ کر دیا اور تمام لوگ ایمان لے آئے۔
اس نے گلیوں کے دہانوں پر خندقیں کھودنے کا حکم دیا،جب ان کی کھدائی مکمل ہوئی تو ان میں آگ جلوائی گئی،پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ جواپنے دین سے نہ پھرے اسے آگ میں ڈال دو۔
چنانچہ لوگ اس آگ میں ڈالے جانےلگے یہاں تک کہ ایک عورت آئی اور اسکی گودمیں بچہ تھا ،وہ ذرا جھجکی توبچے نے کہا: اے ماں صبر کر! اور جھجھک نہیں تو سچے دین پر ہے اور وہ بچہ اور ماں بھی آگ میں ڈال دیئے گئے(مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود الخ، ص ۱۶۰۰ ، الحدیث: ۷۳(۳۰۰۵)۔
اور حضرت ربیع بن انس رضی المولی عنہ فرماتے ہیں کہ جو مومن آگ میں ڈالے گئے اللّٰہ تعالیٰ نےاُن کے آگ میں پڑنے سے پہلے ہی اُن کی رُوحیں قبض فرما کر انہیں نجات دی اور آگ نے خندق کے کناروں سے باہر نکل کر کنارے پر بیٹھے ہوئے کفار کو جلا دیا۔ خازن، البروج۔
عدالت فاروقی تاریخ کے حسیں اوراق میں
کھائی والوں کے واقعے سے حاصل ہونے والی معلومات:اس واقعہ سے6 باتیں معلوم ہوئیں
۔(۱)۔ حضرت امام عبداللّٰہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس واقعہ میں اہلِ ایمان کو صبر کرنے اور کفارِ مکہ کی ایذا رسانیوں پر تَحَمُّل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ( مدارک، البروج، تحت الآیۃ: ۷ ، ص ۱۳۳۶ )۔
۔( 2 ) اللّٰہ تعالیٰ کے اولیاء کی کرامات برحق ہیں ۔( 3 ) ولایت عمل اور عمر پر مَوقوف نہیں بلکہ چھوٹے بچوں کو بھی ولایت مل جاتی ہے،حضرت مریم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا مادر زاد وَلِیَّہ تھیں ۔
۔( 4 ) بزرگوں کی صحبت کا فیض عبادات سے زیادہ ہے۔
۔( 5 )جس دین میں اولیاء موجود ہوں وہ اس دین کی حقّانِیَّت کی دلیل ہے۔
۔( 6) اللّٰہ والوں سے ان کی وفات کے بعد بھی ہدایت ملتی رہتی ہے، وہ اپنےقبروں میں زندہ رہتے ہیں، مگر ہم ان کی زندگی کو سمجھ نہیں سکتے