تحریر محمد آصف :۔ اسلامک رسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی کورونا کی مصیبت اور اپنا محاسبہ
کورونا کی مصیبت
کرونا وائرس پوری دنیا میں خاص کر ہمارے ملک ہندستان پر عذاب الٰہی کی صورت میں پھیلا ہوا ہے اور برابر بڑھتا ہی جا رہا ہے اور ہماری ہر تدبیر ،لاک ڈاؤن وغیرہ بے اثر ہوتی جا رہی ہے۔یہ مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ اس صورتحال کے حوالے سے چند اصولی باتیں مندرجہ ذیل ہیں ۔
ہمارا عقیدہ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:‘‘ ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت أیدی الناس’’ ( الروم : ۴۱) یعنی خشکی اور تری میں جو بھی حالات آتے ہیں وہ سب اللہ رب العزت کی طرف سے اور انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں طرح طرح کے حالات آتے جاتے رہے بیماریاں اور وبائیں پھیلتی رہیں ۔ اللہ تعالی کی طرف سے عذاب کی مختلف شکلیں ظاہر، نازل ہوتی رہیں مختلف قوموں اور قبیلوں پرایسے میں تما م انبیاء کرام ،علماء ومشائخ اور مصلحین نے ہمیشہ لوگوں کو رجوع الی اللہ کا درس دیا۔
اچھا تو یہ ہے میری محبت کا صلہ
اجتماعی توبہ واستغفار کی تلقین کی قرآن کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے طرزعمل کو بطور حوالہ ذکر کیا گیا ہے ۔قوم یونس کے بارے میں آتاہے کہ ان پر عذاب کے آثار مکمل طور پر ظاہر ہوگئے گہرے سیاہ بادل چھاگئے قوم یونس کو لگا کہ ان پر عذاب آیا ہی ہے وہ سب باہر نکلے ،کھلے میدان میں جمع ہوئے، آہ وزاری کی ،توبہ واستغفار کا اہتمام کیا آ خر کار اپنے اللہ کو منالیا اور اللہ رب العزت نے ان پر آیا ہوا عذاب ٹال دیا۔
اسی طرح کا طرز عمل ہر قوم اور ہر عہد کو اپنانے کی تلقین کی گئی ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ جوبھی حالات آتے ہیں وہ محض عذاب خداوندی نہیں ہوتا بلکہ گاہےبگا ہے ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے ،تنبیہ اور چتاونی ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے‘‘ اخذنا ہم بالباساء والضراء لعلھم یتضرعون’’ (انعام :۴۲) کہ ہم نے ان کو سختی اور مصیبت میں اس لیے گرفتار کیا تاکہ وہ گڑگڑائیں، تضرع اور آہ وزاری کریں۔
اسی طرح ایک دوسرے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: و ما أَصابکم من مصیبة فبما کسبت أیدیکم’’ (شوریٰ: ۳۰) اور تم کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، یہ تمہارے ہی کئے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے۔
یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہمیشہ مصیبت عذاب اور تکلیف کے طور پر آئے، کبھی امتحان و آزمائش کے لئے بھی آتی ہے ۔اس لیے بسا اوقات بیماریاں ،پریشانیاں ،مسائل اور مشکلات انسان پر عذاب بن کرنازل ہوتے ہیں اور گاہے بگا ہے انسان یاانسانوں کے کسی علاقے کے لیے وہ آزمائش رحمت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اس لئے ایسے ماحول میں ضرورت ہے خود احتسابی کی، ہم قرآن وحدیث کی روشنی میں غور کریں کہ آخر ہماری کیا کوتاہی ہے، کیا بد اعمالیاں ہیںاور گناہ ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس وقت ہماری پکڑ فرمائی ہےاور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوتی ہے تو اس وقت جو برائی کا ارتکاب کرنے والے لوگ ہوں ، اللہ کی پکڑ ان تک محدود نہیں رہتی؛ بلکہ پورا سماج اور پورا معاشرہ اس کی گرفت میں آجاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اذا ظھر السوءف الأرض أنزل اللہ بأسہ بأھل الأرض’’ (طبرانی، حدیث نمبر: ۹۷۰۲) کہ جب زمین پر برائیاں زیادہ ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ انسانوں کی پکڑ کرتا ہے تو اگر ان میں نیک لوگ بھی ہوں تو وہ بھی اس مصیبت میں مبتلا کر دیے جاتے ہیں؛ اس لئے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ رب کریم جس کی محبت ۷۰ ماؤں کی محبت سے بڑھ کر ہے، جس کی صفت رحیم اوررحمٰن ہے، آخر اس نے آج پوری دنیا کو کرونا جیسی بیماری سے کیوں دو چار کیا ہے؟
یادرہے کہ کرونا وائرس ایک عمومی بیماری ہے اگر چہ اس نام کے ساتھ پہلی دفعہ سامنے آئی لیکن اس سے قبل بیماریوں اور وباؤں کی مختلف شکلیں ظاہر ہوتی رہیں۔
خاص طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں طاعون کی وباء پھیلی تھی اس لیے اس کے بارے میں بہت واضح اصول موجود ہے ۔پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا‘‘ جس علاقے میں طاعون کی وبا ء پھیلی ہو تو اس علاقے میں مت جاؤ لیکن اگر وہ وبا اس علاقے میں آجائے جس میں تم پہلے سے مقیم ہو تو وہاں سے بھاگو مت !۔
یہ ایک ایسی ہدایت ہےایسا اصول ہے جسے توازن اور اعتدال کا عنوان قرار دیاجاسکتاہےاس حدیث کو مد نظر رکھتے ہوے لاپرواہی اور غیرذمہ داری کا ثبوت نہ دیتے ہوئے، لا ک ڈاون کا احتیاط لازم ہے۔اس معاملے میں قرآن کریم کا واضح حکم موجود ہے کہ خود کو ہلاکت میں مت ڈالو! یاد رہے کہ یہ دونوں انتہائیں درست نہیں بلکہ احتیاط لازم ہے۔
علاج سنت ہے ،جان کا تحفظ فرض ہے جبکہ خوف وائرس کسی ایمان والے کو زیب نہیں دیتا موت کا ایک دن مقرر ہے اس سے فرار کی کوئی صورت نہیں اس میں تقدیم وتاخیر کوئی گنجائش نہیں اس لیے اگر احتیاط کے باوجود بھی اللہ رب العزت کی طرف سے موت ہی لکھی ہے تو پھر اس بات کو یاد رکھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کی وجہ سے ہونے والی موت کو شہادت کی موت قراردیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وباء سےشکارہونے والوں کو بھی یہ رتبہ نصیب فرما دیں گا۔اس لیے اس صورتحال میں اعتدال اور توازن والا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔
اس بات کا ضرور خیال رکھےکہ جن جن لوگوں کو اللہ رب العزت نے کوئی اختیا ر دیاہے،سماجی حیثیت اور اثر ورسوخ عطافرمایا ہے جیسےحکومتی ذمہ داران ،مساجد کے ائمہ وخطباء ،معاشرے کے بااثر افراد وغیرہ اس موقع پر قوم کی فکری ،نظریاتی رہنمائی اور تربیت کا اہتمام کریں ،لوگوں کواداسی ، خوف و ڈر ،ڈپریشن ،غیرذمہ دارانہ طرزعمل سے بچائیں،آزمائش کی اس گھڑی میں اپنا بھر پو ر کردار ادا کریں اوردعاؤں کاخاص اہتما م کیاجائے۔
یادرہے کہ دعائیں کرتے ہوئے مسلم اور غیر مسلم کی تفریق نہ کی جائے، اپنے پرائے میں فرق نہ رکھا جائے، بلکہ پوری انسانیت کے لیے دعائیں کی جائیں ۔تاکہ اللہ کی رحمت ہم پر متوجہ ہواور اللہ کی پکڑ سے ہم بچ سکیں اوراللہ ہم پر رحم فرمائے اور اس مصیبت سے ہمیں نجات دے۔( آمین )۔