تحریر سجاد علی عالمی وبا کورونا سے متاثرین کے بارے میں اپنا تجزیہ پیش کر رہے ہیں عنوان ہے لاک ڈاؤن میں اضافہ پریشان حال عوام
لاک ڈاؤن میں اضافہ
آج پوری دنیا میں افرا تفری کا ماحول ہےکرونا نے تمام عالم پر قہر توڑ رکھا ہےکچھ ممالک میں ان کی بے انتہا کوشسوں کی بدولت حالات بہتر ہو رہے ہیں اور کچھ لڑتے لڑتے تھک گیےہیں اور خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔
لاک ڈاؤن بڑھا بھوک و کورونا سے بچنے والے نکمے ہوجائیں گے
ہمارے ملک مین بھی کرونا کے خلاف جدو جہد جاری ہےلوگوں کے تحفظ کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں دوبارہ توسیع کردی گئ ہے ،لیکن افسوس ناک پہلو یہ سامنے آ رہا ہے کہ ان حالات میں ملک عذیز کی عوام بے حد پریشان ہے،لوگ بھوکے ہیں بدحال ہیں،بیماروں کو دوا میسر نہیں ،بچوں کو دودھ میسر نہیں،غریبوں کو کھانا میسر نہیں، کرونا سے حفاظت کے لیے لوگ گھروں میں قید ہو گیے ہیں۔
اور ہونا بھی چاہیے۔لیکن جو لوگ کرونا کے علاوہ دوسری بیماریوں سے لڑ رہے ہیں اور انھیں ان سے لڑنے اور اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے جن دواؤں کی ضرورت ہےوہ ان تک نہیں پہنچ رہی ہے۔ان کے لیے حکومت نے کیا انتظامات کیے ہیں ؟۔
ابھی حال میں بہار کے جہان آباد ضلع کی ایک تصویر سامنے آئ جس میں ایک ماں اپنے بیمار بچے کو لیکر تیز دھوپ اور ویران سڑکوں پر بچے کی زندگی بچانے کی جدو جہد میں اسپتالوں کے چکر لگاتی رہی لیکن کسی بھی اسپتال میں بچے کا علاج نہیں کیا گیاعلاج نہ ہونے کی وجہ سے بچے نے ماں کے گود میں دم توڑ دیا۔
یہ تو ایک واقعہ ہے ایسے ہزاروں لاکھو ں مریضوں کی زندگی کے لیے کیا اقدامات کیے گیے ہیں؟ سیکڑوں غریب مزدور جن کےگھروں میں معصوم بچےہیں اور بوڑھے ماں باپ ہیں بچوں کو دودھ کی ضرورت ہے اور بوڑھوں کو دوا کی ضرورت ہے اور ان کے پاس پیسے بھی ختم ہو گیے ہیں ۔
فرض کروکہ کچھ ہمدرد اشخاص ان کے گھر کھانا پہنچا بھی دیں تو باقی ضروریات کے لیےیہ لوگ کیا کریں کس طرح سےحالات کا مقابلہ کریں حکومت کی طرف سے ان کے لیے ضروری اشیاء کی فراہمی کےلیے کیااقدامات کے گئے ہیں ؟۔
یہ لوگ کرونا سے اپنی حفاظت کریں یا بھوک سے مریں۔ جب کہ ہندوستان کی صوبائی سرکاروں کے ذریعہ غریب اور مزدور طبقے کے لوگوں کی ضروری اشیاء کی فراہمی کے لیے کچھ فیصلے لیے گئے تھےلیکن ان کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا ہے۔
کورونا کی مصیبت اور اپنا محاسبہ
ایسے حالات میں حکومت کی ذ مہ داری بنتی ہے کہ جو لوگ کرونا کے علاوہ دوسری بیماریوں سے لڑ رہے ان کے لیے بڑے اقدامات اٹھائے تاکہ غریب اور مزدور طبقے کے لوگ آسانی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔
عالمی وباء کورونا وائرس سے پوری دنیا میں وسیع پیمانے پر انسانیت ہلاک ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ کب ختم ہوگا خدا ہی بہتر جانتا ہے نفسا نفسی کا دور دورہ ہے اور معاشی میل جول ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اربوں افراد اب خوراک کی تلاش میں نکل پڑے ہیں اگر یہ بحران کچھ عرصہ مزید جاری رہا تو عین ممکن ہے کہ انسان ہی انسان کی خوراک بن جائے جیسا کہ زمانہ قدیم میں ہوتا تھا ۔
جنگلی جانور بھوکے مریں گے تو انسان بھی بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ چاند، سورج ، آسمان اور زمین بنانے والے خالق کی یہ ناراضگی کا اظہار نہیں تو اور کیا ہے ۔ بڑی بڑی طاقتیں اور ان کے بادشاہ اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتے تھے مگر چند ہی لمحوں میں خدا وند کریم نے انسان کے بے بس اور مجبور ہونے کا احساس دلا دیا ہے۔
اسی کا ذکر قران پا ک میں بار بار آیا ہے اے انسان تو اپنی تخلیق پر غور کر تو خواہ آسمان کی بلندیوں پر چلا جا یا زمین کی تہہ میں جو وقت تیری موت کا مقرر ہے موت کو تجھے اس وقت گھیر ہی لینا ہے ہم سب غفلت کا شکار تھے اور اس کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے کہ پوری دنیا خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں اجتماعی توبہ کر کے اللہ کی ناراضگی کو دور کر سکتے ہیں ۔ ہمارے اللہ کے حضور مانگنے میں تو دیر لگ سکتی ہے مگر اس کے معاف کرنے میں کوئی دیر نہیں لگتی ۔
محمد سجاد علی
شعبئہ اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ملیہ اسلامیہ نئ دہلی
