Home مخزن معلومات ہمارا پہیہ چلانے والے عربی شہر دمام میں پانچ دن

ہمارا پہیہ چلانے والے عربی شہر دمام میں پانچ دن

0

تحریر:- خالد ایوب مصباحی شیرانی  سفر نامہ عرب کی 1 قسط: ہمارا پہیہ چلانے والے عربی شہر دمام میں پانچ دن

ہنگامہ خیز دنیا کے بیچ پر سکون فضا، دیدہ زیب لیکن معتدل تعمیرات اور شفاف ہوا کے شہر دمام کے مطار الملک فھد الدولی یعنی کنگ فہد انٹرنیشنل ایرپورٹ پر 23/ مارچ 2022 کو ہمارا دو نفری قافلہ اس وقت اترا، جب ہماری پرواز گاہ دہلی میں رات کے سوا ایک اور جائے ورود دمام میں سوا گیارہ بج رہے تھے۔ 2800 کلومیٹر کا یہ ہوائی سفر بخیل انڈگو نے چار گھنٹے میں طے کیا۔

بخیل اس لیے کہ چار گھنٹے کی درمیانی سے زیادہ مسافت کے باوجود یہاں 20 ایم ایل لیٹر پانی کی بوتل کے علاوہ مفت میں کچھ بھی دستیاب نہیں تھا۔ رفیق سفر حضرت حافظ اشرف صاحب کچھ حد تک آرام دہ تنگ کرسی پر سستاتے ہوئے نیم خوابی میں چلے گئے اور میں بھی دائیں بائیں آگے پیچھے لیبر کلاس طبقے کی اکثریت کو الگ الگ زاویوں سے دیکھتے سمجھتے کسی وقت خواب خرام میں مست ہو چکا تھا، اس طرح کچھ حد تک دونوں اپنی کچھ نیند اور کچھ تکان دور کر چکے تھے اور ایرپورٹ پر اترتے ہوئے قدرے تازہ دم تھے۔

دمام ایرپورٹ پر ماربل کے کام یاب تاجر حافظ صاحب نے سب سے پہلے یہ مشاہدتی تاثر دیا کہ یہاں فرش پر ہمارے راجستھان کے جالور کا ماربل لگا ہوا ہے۔ لیکن کچھ دنوں بعد یہ راز کھلا کہ جالوری ماربل سے ٹھیک ملتا جلتا یہ پتھر عرب ہی کی پیداوار ہے۔ یہاں ایرپورٹ پر نہ وہ ہنگامہ تھا، جو ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے اور نہ ہی وہ بے ہنگم بھیڑ۔ اس سکون پر ان سفید پوشوں کی امیگریشن کو مستزاد مانا جائے جو ہماری پہلی انڈین نظر میں عالمانہ شکلوں کے حامل نظر آتے ہیں۔

 

ایرپورٹ پر حضرت مولانا دولت صاحب، مولانا صدام حسین صاحب اور یونس خان شیرانی ہمارے منتظر کھڑے تھے۔ مولانا دولت صاحب کی فراٹے بھرتی کار نے ایرپورٹ سے یونس بھائی کی قیام گاہ تک کا چمکتا، جھلملاتا اور نورانی قمقموں سے منور کوئی 31 کلومیٹر کا سفر نا قابل محسوس دورانیے میں طے کر لیا۔ دمام کا یہ دوسرا اور نیا ایرپورٹ ہے، جو 28 نومبر 1999 کو تجارتی ٹریفک کے لیے شروع کیا گیا۔

اس ایرپورٹ کی خوب صورتی اپنی جگہ، نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے، اتنا بڑا کہ دمام کے ٹھیک بغل میں واقع پوری مملکت بحرین کے پورے رقبے سے بھی بڑا ہے، جس کا ٹوٹل رقبہ 776 اسکوائر کلومیٹر ہوتا ہے، جس میں سے تعمیراتی حصہ 3 لاکھ اور 52 ہزار اسکوائر فٹ ہے۔ ہم مسافروں کا پہلا عربی کھانا یونس خان کے فلیٹ میں اور تا مدت قیام، قیام دمام سے متصل شہر الخبر میں واقع مسجد عبد اللہ بن عباس میں ہوا، جہاں ہمارے میزبان حضرت مولانا صدام حسین شیرانی نائب امام اور معلم ہوا کرتے ہیں۔ در اصل ہمارے حافظ صاحب کا فکری نظریہ یہ ہوتا ہے کہ سب سے بہترین قیام گاہ مسجدوں کے حجرے ہوا کرتے ہیں، جہاں جہاں سکون ہوا کرتا ہے، وہیں مولویانہ مزاج سے انتہائی قربت بھی۔

حضرت مولانا صدام حسین رضوی شیرانی دار العلوم فیضان اشفاق، ناگور سے فاضل اور سن 2015 سے یہاں بر سر روزگار ہیں۔ ابتداء آزادانہ کام کرتے تھے لیکن بعدہ بطور معلم یہاں قیام پذیر خارجیوں یعنی پردیسیوں کے بچوں کو ابتدائی تعلیم دینے لگے اور پچھلے کچھ وقت سے مسجد عبداللہ بن عباس میں نائب امام اور مؤذن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

عربی نظام کے مطابق اصل مؤذن اور امام عربی ہی ہو سکتا ہے۔ ہاں! مسجد کی لوکل انتظامیہ اپنی طرف سے نائب امام کا تقرر کر سکتی ہے اور وہی انھیں وظیفہ بھی دیتی ہے۔ چوں کہ عام طور پر ہر کسی مسجد کے نمازیوں کی بڑی تعداد اردو دانوں اور خارجیوں کی ہوا کرتی ہے، اس لیے ہند و پاک نژاد یا اردو دانوں کے لیے یہاں اس کی گنجائش ہو سکتی ہے۔

ٹھیک اسی طرح کا شغل حضرت مولانا دولت صاحب کا عزیزیہ کی جامع راشد البلوی مسجد میں ہے۔ البتہ یہ مسجد عبداللہ بن عباس کے مقابل بہت کشادہ اور نہایت خوب صورت ہے کیوں کہ یہ مسجد ایک پرائیویٹ کمپنی کی مسجد ہے اور اس کا پورا نظم و نسق بھی وہی کمپنی دیکھا کرتی ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت بے جا نہیں ہوگی کہ ہمارے ہاں مسجدوں کے تزئین کاری میں جس قدر پیسہ صرف ہوتا ہے، یہاں کی مسجدوں کے طرز تعمیر سے لگتا ہے کہ تقریبا اتنے ہی یا اس سے ملتے جلتے بجٹ میں یہاں کی مسجدوں میں کچھ الگ ہی دیدہ وری اور کشش پیدا ہوتی ہے۔

بہت ممکن ہے اس کی بنیادی وجہ اسلامی مملکت کی وجہ سے عام عمارتوں کے مقابل اسلامی تعمیرات کو خاص رنگ دینے کا فن، فن کارانہ مزاج اور کثرت تعمیرات کی وجہ سے نئے خیالات کا ورود ہو جبکہ عام نگاہ میں اس کی وجہ ان کے بیرونی نقش ونگار سے زیادہ انفراسٹرکچر اور اندرونی رنگ و روغن، سہولیات اور مناسب ہائٹ وغیرہ ہیں۔

مولانا صدام صاحب از روئے منصب بھلے نائب ہوں لیکن در اصل امام اور مسجد کے سب سے بڑے ذمہ دار وہی ہیں کیوں کہ اصل امام صاحب صرف جمعہ اور رمضان المبارک کی نماز عشا کے علاوہ بقیہ دنوں میں گاہے گاہے مغرب میں آ جاتے ہیں۔

اس لیے وہ نہ صرف شکل و شباہت، انداز قراءت بلکہ لال رومال اور عربی عبا سے بھی تقریباً اتنے ہی عربی بن چکے ہیں، جتنے اپنی بے تکان مہمان نوازی اور ملنسار اخلاق سے اچھے انسان ہیں۔ ہم مہمانوں سے ہی نہیں اپنے ہر آشنا نا آشنا مقتدی سے بھی خنداں پیشانی سے ملنا۔

معاصرت کے باوجود ہمارے ساتھ بزرگانہ سا سلوک کرنا۔ آداب ضیافت کا بے پناہ خیال رکھنا اور سب سے نباہ کرتے ہوئے چلنا مولانا کی وہ خوبیاں ہیں، جو ان کو بہتوں سے ممتاز کرتی ہیں اور ان کے روشن نصیبے کی غماز ہیں۔ (جاری)

تحریر:- خالد ایوب مصباحی شیرانی

چیرمین: تحریک علمائے ہند، جے پور

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here