تحریر:- خالد ایوب مصباحی شیرانی ہماری تنظیمیں کام یاب کیوں نہیں ہوتیں؟
ہماری تنظیمیں کام یاب کیوں نہیں ہوتیں
گزشتہ کچھ روز سے ٹویٹر کی دنیا میں تہلکہ مچانے والے نوجوان اور حوصلہ مند علماے کرام کی طرف سے دبے لفظوں میں بار بار ایک سوال آ رہا ہے؟ ملی سطح پر ہماری تنظیمیں کام یاب کیوں نہیں ہوتیں؟
اپنے تنظیمی مزاج اور تجربات کی روشنی میں اس سوال پر میرا سوال یہ ہے کہ: آپ کو جس طرح کی تنظیموں سے شکوہ ہے، وہ کام یاب کیوں ہوں؟
سوال در سوال اس لیے کہ کیا ہماری ایسی تنظیموں کے اندر تنظیمی مینجمنٹ پایا جاتا ہے؟ کیا ان کا اسٹریکچر/ اسٹریٹیجی/ ٹریننگ/ مائنڈ سیٹ/ لیڈرشپ/ انوائرمنٹ آرگنائزیشنل ہوتا ہے؟
اگر آپ ان اصطلاحات کا قرینے سے مفہوم سمجھتے ہیں اور پھر ان کی روشنی میں آپ کے اندر ہماری تنظیموں کا بے لاگ تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی ہے تو آپ کو خواہی نخواہی نفی میں گردن ہلانی پڑے گی۔
کیوں کہ اس وقت گلی کوچوں سے لے کر شہری سطح تک کا ٹائٹل رکھنے والی تنظیموں کا عام طور پر ایک ہی انداز جنوں ہے:۔
چند افراد اکٹھے ہوئے، بڑی بڑی باتیں ہوئیں، تنظیم بنانے پر اتفاق ہوا، نام ڈکلیئر ہوا، عہدے بٹے، کچھ آگے بڑھے تو رجسٹریشن ہوا، چند بار میڈیا کی سرخیاں بنیں، پھر وہیں سے اختلاف شروع ہوا اور اس سے پہلے کہ پھل آتے، اندر کے کم ظرف مالیوں اور باہر کے راہ گیروں نے کچھ ایسی سنگ باریاں کیں کہ سر اٹھانے سے پہلے ہی سر نگوں ہو گئے۔
جبکہ دہلی/ بمبئی/ کلکتہ/ حیدر آباد جیسے بڑے شہروں سے اٹھ کر قدرے قد کاٹھی رکھنے والے نیشنل/ انٹرنیشنل ٹائٹلز کا مآل یہ ہوتا ہے کہ وہ شروع تو بڑے بلند بانگ دعووں کے ساتھ ہوتے ہیں -کیوں کہ بڑے شہروں میں رہنے والوں کو بڑی باتیں کرنی پڑتی ہیں- لیکن قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان انھیں آہستہ آہستہ شخصیات کا مقدس حصار بنا دیتا ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہی ان کا خلوص دل زبانی جمع خرچ اور ان کی انا خود داری کا نام لیتی چلی جاتی ہے۔
لفظوں کی اس بازی گری میں وہ میدان میں تو حاوی رہ جاتے ہیں، اپنے نقادوں کو خاموش بھی کر دیتے ہیں، سالانہ بیورو بھی پیش کر دیتے ہیں بلکہ اپنے حلقہ یاراں کی طرح اپنے دل کو بھی طفل تسلی دے ہی لیتے ہیں لیکن نفسانیت کی اس گتھم گتھا میں تائید الہی کھو بیٹھتے ہیں۔
جب کہ راہ سلوک کی طرح یہی وہ نازک گھڑی ہوتی ہے جب من جانب اللہ فیصلے مقدر ہونے ہوتے ہیں۔ اختلاف رائے کی تمام گنجائشوں کے ساتھ اس موقع پر فقیر کو ذاتی تجربہ کی روشنی میں ماضی قریب میں اپنے مستقبل کو تحفظ فراہم کرنے والی سنی تنظیم صرف دعوت اسلامی نظر آتی ہے جس نے تنظیمی انا اور عیش و مستی کی ایسی قربانی دی کہ اللہ کرے اگر اس کا یہی رویہ باقی رہا تو وہ موجودہ تنظیموں میں بائیسویں صدی میں بھی باقی رہے گی، ورنہ جیسے ہماری جماعت کی نام چیں شخصیات کی سرپرستی/ سربراہی/ صدارت میں کلکتہ/ بمبئی/ دہلی/ بریلی سے چلنے والی اپنے زمانوں کی بہت سی نام دار تنظیمیں آج لائیبریریز کے تنگ خانوں میں کسی ورق اور تراشے تک محدود ہیں یا ان بزرگوں کے جیسے تیسے اخلاف کی ان ڈکلیئر گھریلو جاگیر ہیں
بہت قوی امکان ہے کہ یہ صدی پوری ہونے سے پہلے پہلے منہاج القرآن اور اس جیسی بہت ساری دعوتی/ مسلکی/ مشربی/ رفاہی انڈین تنظیمیں اپنے امیروں کی تدفین کے ساتھ ہی داستان پارینہ بن جائیں کیوں کہ جیسے ان بزرگوں کے خلوص میں کوئی کمی نہیں تھی لیکن تنظیمی نظم و نسق نہ ہونے، نئی لیڈرشپ نہ تیار کرنے اور محض شخصیات کے حصار تک ہی تنظیموں کو محدود رکھ کر شخصیات کو بڑا کرنے کی وجہ سے وہ تنظیمیں مریں، شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کے نقش پا کی پیروی کرنے والی موجودہ تنظیموں کا حشر بھی اس قدرتی نظام سے ہٹ کر ہونے والا نہیں۔ یہ کسی کا محض تلخ تجزیہ نہیں، قدرت کا تاریخی نظام ہے۔
بطور اختصار پیش کردہ ہمارا یہ وہ تنظیمی حشر ہے جو قبل از تقسیم سے اب تک چل رہا ہے اور جس کی راکھ تلے جانے کتنے بلند ترین دعوے/ جذبات/ شخصیات دفن ہیں اور موجودہ روش کے مطابق ہنوز جانے کتنوں کو دفن ہونا ہے۔
دراصل بنیادی بات یہ ہے کہ کسی بھی تنظیم کی زندگی کے لیے جیسے خلوص دل روحانی شرط ہے، ویسے ہی تنظیمی مینجمنٹ مادی شرط ہے۔ دعوت اسلامی کی خوبی یہ ہے کہ اس نے تزکیہ نفس اور نفس کشی کے ذریعہ اپنی روحانیت کے بقا کا سامان کیا ہے اور مجلس شوریٰ کی شکل میں جو تنظیمی مینجمنٹ کیا ہے، وہ اس کی مادی ضرورت ہے، جو اسے زمانے سے ہم آغوش رکھتی ہے اور جو تنظیم ان دونوں لازمی شرطوں کی تکمیل کرتی ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ زندہ رہتی ہے جب کہ تنظیم سے زیادہ شخصیت کو مرکز توجہ بنانے والا نظم و نسق تنظیمی شکل کا تو ہو سکتا ہے
لیکن زندہ تنظیم کبھی نہیں بن پاتا اور بد قسمتی سے یہ ہماری وہ غلطی ہے جو ایک مدت سے دوہرائی جا رہی ہے، جس پر نالاں ہونے کی بجائے، بہت سنجیدگی سے اس کی اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ ہم نہیں، ہمارا مشن اور ویژن بڑا ہو اور نتیجتاً اگر ہم دنیا سے چلے جائیں -جو دیر سویر بہر حال جانا ہے- تب بھی ہمارا ترکہ ہمارا مشن ہو، جو در حقیقت ہر نجات کا ضامن ہے۔
تنظیم سازی کا موڈ بنانے والوں کو اپنے وقت تضحیک سے پہلے ایک بات یہ بھی خیال میں رکھنی چاہیے کہ تنظیمیں شوق سے نہیں، تنظیمی مزاج سے چلائی جاتی ہیں، ورنہ ہر دن کے ڈوبتے سورج کے ساتھ صرف ہمارے ملک کے طول و عرض میں پھیلے سرکاری دفتروں میں روزانہ کئی سو تنظیمیں رجسٹرڈ ہوتی ہیں لیکن جیسے ان کے رجسٹریشن کی رفتار تیز ہوتی ہے، ویسے ہی اپنا رہا سہا حوصلہ ہارتے ہوئے دنیا جہان سے بد ظن ہو کر ان کے جیتے جی مرنے کی اسپیڈ بھی دو پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔
تنظیمی مزاج کی حامل شخصیات کو تنظیم سے پہلے اپنی شخصیت پر محنت کر کے یہ پہچاننا ضروری ہوتا ہے کہ قدرت نے انھیں کس قسم کی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔
ہر شخص میں تمام تر صلاحیتیں کبھی نہیں سمٹ سکتیں، ویسے ہی جیسے ناکارہ سے ناکارہ نظر آنے والے انسان میں بھی قدرت نے بہت سی خوبیاں ودیعت کی ہوتی ہیں۔ لیڈر کا بنیادی کام اپنے احباب کی انھی خوابیدہ یا پوشیدہ صلاحیتوں کا ادراک کرنا اور انھیں مناسب کام دینا ہوتا ہے۔
کسی شخص کا یہ پہچان لینا کہ وہ کیا کیا نہیں کر سکتا، یا کیا کچھ نہیں جانتا، عیب نہیں، بہت بڑی خوبی ہے جبکہ اس کے بالمقابل ایک ہی شخص کا بیک وقت بڑا خطیب ہونا، مصنف بنے رہنے کے شوق میں جتنا از خود لکھ سکتے ہیں
اس سے کہیں زیادہ مقدس بہانوں سے کرایے پر کتابیں لکھوانا، دنیا جہان کی سیر کرنا، تعلیمی اداروں کا بانی بننا، شیخ طریقت بننا اور پھر کام یاب تنظیم بھی چلانا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یا تو بہت مضبوط تنظیمی مینجمنٹ نہ ہو، یا پھر دن دہاڑے ما تحتوں کی صلاحیتوں کا استحصال نہ ہو۔
مذہبی تنظیموں میں ہم نے یہ پریشانی نوٹ کی ہے کہ ان کا دائرہ کار طے نہیں ہوتا اور وہ ہر طرف کچھ اس انداز سے ہاتھ پاؤں مارتی ہیں کہ کہیں کی نہیں رہتیں جبکہ کسی تنظیم کی خوب صورتی یہ ہے کہ وہ اپنی حد بندیاں طے کرے اور پھر انھی تک محدود رہے۔
مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا کی یہ بہت اچھی بات ہے کہ وہ صرف اسکولنگ کے اسٹوڈنٹس کے لیے کام کرتی ہے اور انھی کے لیے کام کرنا چاہتی ہے۔
بڑا جگر گردہ لیڈرشپ کی بنیادی خصوصیات میں سے ہے۔ شہرت، تنظیمی مینجمنٹ، اختلاف رائے اور عہدوں میں تنگ دلی کا مظاہرہ کام یاب لیڈرشپ کی راہ کا روڑا ہے۔
لیکن ساتھ ہی اپنے احباب کو یہ بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اختلاف رائے اور سیکولر ازم کا مطلب کیا ہوتا ہے کیوں کہ ماضی قریب میں ٹرانس پیرنسی کے نام پر ملت کے ذہنوں میں جس خیال نے جگہ بنا رکھی ہے، وہ سیکولر ازم اور ٹرانس پیرنسی نہیں، انارکی ہے۔
بڑکپن کی طرح ہی انصاف پسندی اور حق بیانی بھی سیرت النبی کا وہ قائدانہ وصف ہے جس سے آج حکمت و مصلحت کے بہانے بلا کی چشم پوشی کی جا رہی ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جہاں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا: تم پر میرے ماں باپ قربان ۔ وہیں بارہا آپ اتنے غضب ناک بھی ہوتے کہ حدیث پاک کے مطابق گویا مبارک رخساروں میں انار نچوڑ دیا گیا ہو۔ در اصل کام یاب لیڈرشپ کے لیے یہ ہر دو عنصر ضروری ہیں۔
امید ہے اس پوری بحث کے بعد ہمیں اس سوال کا جواب مل گیا ہوگا کہ: ہماری تنظیمیں کام یاب کیوں نہیں ہوتیں
تحریر :- خالد ایوب مصباحی شیرانی
چیرمین : تحریک علمائے ہند، جے پور
ان مضامین کو بھی پڑھیں: ڈاکٹر طاہر القادری کا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری سے موازنہ
قاضی سید محمد ایوب ہمدانی متنوع شخصیت تھے
ONLINE SHOPPING
گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع
