جنازے کے ساتھ چاول لےجانا کیسا ؟ پانچویں قسط (5) بعض جگہ بالخصوص علاقہ گوال پوکھر اتر دیناج پور میں پھیلے ہوئے خرافات اور غلط فہمیوں کی تزلیل و تردید بنام احسن الکلام فی اصلاح العوام
سوال
١ ہمارے علاقہ گوال پوکھر میں ایک رواج یہ بھی ہے کہ جب کسی میت کا جنازہ لےجایا جاتا ہے تو اُس میت کے کفن کے کپڑوں میں سے ایک ٹکڑے کپڑے میں سیر بھر چاول بھی قبرستان لے جایا جاتا ہے پھر جب تدفین کا کام مکمل ہوجاتا ہے تو وہی قبرستان میں موجود جو فقیر ہوتا ہے اسے وہ چاول دے دیا جاتا ہے ایسا کرنا کہاں تک درست ہے؟
جواب
میت کے جنازہ کے ساتھ قبرستان تک چاول لےجانا بیکار اور عبث ہے ۔ اگر میت کی جانب سے (میت کے ایصال ثواب کے لیے ) کسی فقیر کو چاول دینا اور صدقہ کرنا چاہتے ہیں تو گھر ہی میں دے دیں یہی بہتر ہے ۔ چاول کا ساتھ لے جانا بے معنی اور فضول ہے ۔ لہذا اس سے بچا جائے۔
اعلی حضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی نے سوال کیا کہ “مردہ کے ساتھ کھانا لےجانا حلال ہے یا حرام ؟
تو آپ اس سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ “مردہ کی طرف سے تصدق (صدقہ ) کرنا چاہیے اور ساتھ لےجانا فضول ہے۔ ( فتاوی رضویہ ، جلد چہارم ،ص: ١٦٢)
فقط واللہ سبحانہ تعالی ورسولہ الاعلی اعلم ۔
اللہ تعالی ہم سب کو اِن باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
نوٹ : کہیں کوئی غلطی نظر آئیں تو اصلاح سے نواز کر ممنون و مشکور فرمائیں۔
ازقلم : محمد ساحل پرویز اشرفی جامعی عفی عنہ
7047076428