تحریر: خورشید احمد مصباحی امجدی لو جہاد اور مسلمان
لو جہاد اور مسلمان
ادھر کچھ دنوں سے میڈیا کےذریعہ یہ سننےاوردیکھنےکومل رہاہےکہ مسلم لڑکے”لوجہاد”کےنام پرغیرمسلم لڑکیوں سےاپنی پہچان چھپا کران سےدوستی کرتےہیں پھرانھیں اپنی محبت کے جال میں پھنسا کران سے شادی کرنےاوردھرم بدلنے پرمجبورکرتے ہیں جب کہ حقیقت سےاس کا کوئی تعلق نہیں۔
کسی مسلمان سےایسی ذلیل حرکت کی توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی کودھوکا میں رکھ کراپنی شناخت چھپاکردوستانہ مراسم قاٸم کرے۔
پھراسےلالچ دےکرنکاح کرنےاورمذہب تبدیل کرنےپرمجبورکرے۔مذہب اسلام میں اس طرح کےرشتےکاکوئی تصورنہیں کیونکہ دین اسلام میں عورت کےسرپرست کی رضا مندی نکاح کا ایک اہم جزہے۔
اللہ کےرسول نےارشادفرمایا”لانکاح الابولی“یعنی ولی(سرپرست) کی اجازت کےبغیرنکاح نہیں ہوسکتا۔اسی طرح کسی کےساتھ دھوکہ فریب دین اسلام میں ایمان کے منافی قراردیا گیا ہے۔
حدیث میں ہے”من غش فلیس منا”یعنی دھوکا بازہم میں سےنہیں۔مطلب یہ کہ دھوکہ فریب چالبازی مٶمن کی شان نہیں ہے۔پھرایک مٶمن مسلمان ایسی مذموم حرکت کیسےکرسکتا ہے۔
خاص طورسےنکاح کےمعاملہ میں۔ تاہم اگرکہیں اس طرح کامعاملہ رونماہوجاتاہےتوپوری ایمانداری اوردیانت داری کےساتھ تفتیش کی ضرورت ہے۔کہیں ایسانہ ہوکہ “لوجہاد”کے نام پرکسی بےگناہ کوقصوروارٹھہراکراسےظلم وستم کانشانہ بنایا جاۓاوراس کی زندگی تباہ وبرباد کردی جاۓ۔خدارا”انصاف کریں۔
اورمسلمان بھاٸیوں بالخصوص مسلم نوجوان لڑکےاورلڑکیوں سےبھی میری درخواست ہےکہ وہ جانےانجانےمیں کوٸ ایسی مذموم حرکت ہرگزنہ کریں جو ان کے والدین اورخاندان کے لیے وبال جان بلکہ پورےمسلم سماج کے لیےذلت ورسواٸ کا سبب ہو۔
خاص طورسےنکاح کےمعاملے میں والدین کی رضامندی کواپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ سمجھیں کیوں کہ نکاح ایک پاکیزہ رشتے کا نام ہے۔نکاح آدھا دین ہے اور پیغمبر اسلام کی سنت بھی۔
اس لیے نکاح کے معاملے میں بہت سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔مذہب اسلام میں کسی کے ساتھ دھوکہ فریب، جبر و تشدد، بےحیائی بےشرمی اور جنسی بے راہ روی کی قطعا کوئی گنجائش نہیں۔
بد عملی اور بد کرداری مسلمان کا شیوہ نہیں ۔سچا مسلمان وہی ہے جو ہمیشہ اپنے کردارو عمل میں قانون اسلام اور اسوۂ رسول کو مد نظر رکھے
اس لیے مسلمان بھائیوں سے دردمندانہ گزارش ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہچانیں غیر اسلامی طور طریقوں اور مغربی تہذیب سے خود بھی دور رہیں اور اپنی نسلوں کو بھی بچائیں بچوں کی نقل و حرکت پر خوب کڑی نظر رکھیں کہ اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ۔
علماے کرام سے بھی مخلصانہ درخواست ہے کہ وہ اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے نکاح جیسے حساس مسئلے پر برابر روشنی ڈالتے رہیں اپنے اپنے حلقۂ اثر میں مسلم معاشرے کا جائزہ لیتے رہیں اور نکاح کے نام پر جہاں کہیں بدچلنی کے آثار دیکھیں جہاں تک ممکن ہو اس کے ازالہ کی کوشش کریں اور بغیر تحقیق و تفتیش کے کسی کا نکاح ہرگز ہرگز نہ پڑھائیں۔
بوقت نکاح احتیاطا دولھا دلہن اور ان کے سرپرستوں کا آئی ڈی پروف آدھار کارڈ وغیرہ نکاح نامہ کے ساتھ ضرور منسلک کریں۔اگر کوئی شخص غير اسلامی اور غیر قانونی طریقے سے نکاح کرتا ہے تو معلوم ہونے پر اس کے سماجی بائیکاٹ کا اعلان کر دیں
بلاشبہہ اگر ہم اپنے معاشرے کو بےحیائیوں اور برائیوں سے پاک و صاف کرنے میں کامیاب ہو گئے تو کسی کی ہمت نہیں کہ وہ ہم پر کسی قسم کا گھٹیا الزام لگاسکے۔
اللہ مسلمانوں کو توفیق دے آمین۔
خیر خواہ: خورشید احمد مصباحی امجدی بلرام پوری
صدر شعبۂ افتاء جامعہ رضویہ معراج العلوم
چلماں پور
و قاضئ شریعت گورکھپور
معاشرے میں طلاق اور خلع کی کثرت اسباب و تدارک