محمد مجیب احمد فیضی خدا کی شان وہ نادان ہمیں گونگا سمجھتا ہے
خدا کی شان وہ نادان ہمیں گونگا سمجھتا ہے
ایک ٹمٹماتے اور بجھتے ہوئے چراغ نے سورج کو آنکھ دکھانے کی احمقانہ کوشش کی ہے۔ منزل من السماء کتاب (قرآن) جو آج بھی بے شمار حفاظ کے سینوں میں محفوظ ہے۔پوری دنیا کے مسلمانوں کی شان اور ملت طاہرہ کی آن ہے۔
اس کو نقصان پہونچانے کی مکمل سعئ نجس کوئ عقل سے عاری وخالی انسان کے علاوہ یہ حماقت کون کر سکتا ہے۔
ابھی ماضی قریب میں ایک ملعون ومردود لائق سب و ستم بد بخت کم بخت شخص نے آیات قرآنیہ کو حذف کرنے کے واسطے عدالت عظمی کادروازہ کھٹکھٹایا اس کی یہ حرکت صاف صاف ظاہر کرتی ہے کہ واقعی یہ چال کسی بدمذہب شیطان مردود کی ہے جس نے ملعون جیسے اعلی قسم کے جاہل اور ولڈ کے مستند منافق اور نمبر ایک بے غیرت شخص کا استعمال کیا ہے۔
لیکن قرآن کی آیتوں کا بدلنا یا حذف کرنا تو کجا ایک حرف کو بدلنے کی کسی انسان تو کیا کسی مخلوق کی طاقت وقوت میں نہیں۔
یقین نہ ہو تو عدالت عظمی کے سارے کے سارے اراکین اس پر طبع آزمائ کرلیں اس کی عظمت ورفعت کا اندازہ خودبخود لگ جائے گا۔ساڑھے چودہ سو بر س کاایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس کے حرکات وسکنات پر فرق نہیں آیا
اور قیامت تک آئے گا بھی نہیں کیوں کہ اس کی تحفظ وبقا کی ضمہ داری اللہ جل مجدہ الکریم نے اپنے ضمۂ کرم پر لیا ہے اور ارشاد فرمایا” بیشک ہم نے ہی قرآن کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں” اتنی بلند رتبہ کتاب ہے کہ جس کی حیثیت اور پاکی کی آج بھی قسم کھائ جاتی ہے اور رہتی دنیا تک کھائ جائے گی۔
چار آسمانی بڑے کتابوں میں قرآن ہی وہ واحد اور آخری کتاب ہے جسے ام الکتاب کہاگیا ہے۔
یہ وہ واحد اور لاجواب کتاب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ رب کردگار نے خود لیا ہے۔اور تینوں آسمانی کتب تورات ہو یا زبور یاپھر انجیل مبارک سب میں اہل کتاب اور ان کے علما نے مل جل کراپنی مرضی اور منشاء کے مطابق ردوبدل تحریف کرلیا۔
اور وہ کتب سماویہ آج اپنی اصلی شکل میں باقی نہ رہیں۔مگر حضور تاجدار مدینہ سرور قلب وسینہ سید المرسیلن خاتم النبین روحی فداہ جناب احمد مجتبی محمد مصطفی علیۃ التحیۃ والثناء پر اللہ عزوجل نے جو کتاب نازل فرمائ وہ ہے قرآن پاک جو نہ مٹا ہے اور نہ مٹے گا۔ مٹانے والے خود مٹ جائیں گے لیکن قرآن نہ مٹا ہے نہ مٹے گا۔
اور پھر کلام باری مادر وطن ہندوستان کی تاریخ تھوڑی ہےجو بدل دی جائے گی قرآن مجید اسکول کالجز کا نصاب نہیں جسے حکومت اور عدالت بدل دے گی یا حذف کردے گی ہزارہا کوششوں کے بعد بھی نہ ارباب سیاست وسیادت اس کو مٹا سکتے ہیں
اور نہ ارباب حکومت اگر یقین نہ ہو راقم الحروف کے اس چیلنج پر کوشش کر کے دیکھ لیں سوائے ذلت ورسوائی اور ہلاکت کے شاید کچھ ہاتھ نہ آئے ، قرآن اس دیش کی اردو زبان ٹھوڑی ہے جسے رکھنا یا مفقود کرنا حکام کے زیر سایہ اور ان کے بس میں ہے۔
فزندان توحید کا ایمان اللہ جل مجدہ الکریم پراس کے رسول پر اس کے تمام ملائکہ پر ,اس کی کتابوں پر ہے۔مسلمانان عالم کا اس بات پر ایمان ہے کہ قرآن یہ اللہ کا کلام ہے اس میں کوئ تبدیلی کر ہی نہیں سکتا کیوں کہ اس کی تحفظ وبقا کی ذمہ داری اللہ رب العزت نے خود اٹھا رکھی ہے
کسی بھی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والا ہو کسی بھی مسلک اور فرقے سے تعلق رکھنے والا ہو سب کا اس بات پر اعتقاد ضرور ہے کہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں اس کے اندر قیامت تک زیر زبر پیش کا فرق پڑ ہی نہیں سکتا۔ملعون ومقہور عذاب خداوندی کا مکمل حقدار وسیم رضوی نے اپنا یہ ناپاک قدم اٹھا کر یہ ثابت کردیا کہ شیطان کی طرح اسلام جیسے پاک اور پوتر دھرم کا کھلا ہوا دشمن ہے۔
اسلام دشمنوں یعنی اغیاروں نے خود اسے دفنانے کے لئے اسی کے ہاتھ سے اس کی قبر کھدوائ ہےاس لیے وہ اسلام دشمنوں کا آلۂ کار بنا ہوا ہے۔اسلام کی پاک اور مقدس کتاب جس شعبۂ حیات کے تمام کا حل موجود ہے جو جینے کا صحیح سلیقہ اور انسانیت کے مکمل آداب سکھاتی ہے۔
اس کتاب کو جادوگر نما جاہل ,ضمیر کےسوداءگر جیسے شخص نے چیلنج کیا۔
ہائے افسوس صد افسوس!!! اس ظالم کو باالفور اپنا نام بدل لینا چاہیے ۔ وہ مسلمانوں کے نام پر ایک انمٹ کلنک اور دھبے کی مثل ہے۔اس کی بولی اور حرکت بتا رہی ہے کہ یہ اندھ بھگتوں اور حکومت کے چاپلوسوں کی بولی بول رہا ہے۔
یہ ملعون جس عہدے پر ہو اس کو فوری طور پر برخاست کیا جاےاور سپریم کورٹ سے اپیل کی جائے کہ ایسی درخواست کو نہ صرف رد کیا جاے بلکہ اس ملعون کو قرآن کے توہین کے جرم میں سخت سے سخت سزا تجویز کرے ، تاکہ اس کی طرح پھر کوئ سر پھرا دوبارہ قرآن کے متعلق لب کشائی کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
اور اس کی تمام ملکیت جو ایک مسلم گھرانے سے ملی ہیں سلب کر جائیں۔اور سچ تو یہ ہے کہ اس مردود کا یہ عمل واقعی معافی کے قابل نہیں۔اس نے ام الکتاب یعنی قرآن مجید پر انگلی اٹھا کر یہ ثابت کردیا کہ اس کی حیثیت کیا ہے
بی جے پی جیسی غیر مناسب پارٹیوں میں شامل شدہ بنام مسلمانوں کو ہوکیا گیا ہےکیا دولت دنیا اتنی طاقتور ہے کہ اس سے ایمان کا سوداء ہو سکے۔لعنت بھیجتے ہیں ہم ایسے جاہل ضمیر فروش بنام مسلمان پر ایسے لوگوں کے بارے میں کلام باری میں آیا ہے کہ آخرت میں ان لوگوں کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے۔
آخیر میں میں رب کردگار کی بارگاہ صمدیت میں دست بدعا ہوں کہ میرے مالک امت مسلمہ دلوں میں فرقان حمید کی خوب خوب محبت ڈال دے ۔ قرآن کے متعلق صحیح سوجھ بوجھ کی توفیق بخش دے۔آمیں یا رب العلمین بجاہ سیدالمرسلین۔
تحریر: محمد مجیب احمد فیضی
رابطہ نمبر 8115775931
اس کو بھی پڑھیں : قرآن مجید کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں