تحریر: طارق انور مصباحی کیرلا اختلاف و انتشار کا سبب کیا ہے قسط یازدہم
اختلاف و انتشار کا سبب کیا ہے قسط یازدہم
متکلم پر ضلالت وگمرہی کا فتویٰ شرعی اصول وضوابط کے خلاف
فریق دوم نے متکلم کی ضلالت وگمرہی ثابت کرنے کے واسطے یہ بھی کہا کہ علمائے دین کی بے ادبی کفر ہے اور متکلم نے موجودہ اختلاف کے موقع پر متعددعلماے کرام کی بے ادبی کی ہے۔
یہ بات صحیح ہے کہ عالم دین کی محض اس لیے بے ادبی کرنا کہ وہ عالم دین ہےیہ کفر ہے ،کیوں کہ یہ دین اسلام اورعلم دین کی بے ادبی ہے۔ اسی طرح کسی مومن سے محض اس لیے دشمنی وعداوت رکھنا کہ وہ مسلمان ہے تو یقینا یہ کفر ہے،کیوں کہ یہ دین اسلام سے عداوت ہے ۔
دین وایمان کے علاوہ کسی ذاتی اور دنیاوی سبب سے مومن سے دشمنی رکھنا ،اورکسی دنیاوی اور ذاتی سبب سے عالم دین کو برابھلاکہنا کفر نہیں ،بلکہ ناجائز وحرام ہے۔ موجودہ اختلافی صورت حال میں دیگر علماےکرام نے متکلم کی مخالفت کی تو متکلم نے اپنی ذاتی مخالفت کے سبب ان کو برابھلا کہا ۔
اگرمحض عالم دین ہونے کے سبب کسی عالم کو برابھلا کہنا ہوتا تویہ کبھی بھی ہوسکتا تھا۔خاص اختلافی موقع پر طعن وتشنیع کرنا اورصرف ان حضرات پر طنز کرنا جنہوں نے متکلم کی مخالفت کی ہے ،یہ واضح قرینہ ہے کہ باہمی تنازع اورآپسی مخالفت کے سبب ایک دوسرے پر سخت تنقیدہوئی ،اور غیر مناسب سلوک کیا گیا ۔
فریق دوم نے حکم شرعی بیان کرنے میں متعددمرجوح اقوال پیش کیے ۔حکم شرعی کے بیان میں شرعی اصول وقوانین کی رعایت نہیں کی۔
بلاوجہ شورش اور فتنے کو ہوا دی گئی اور عوام وخواص اضطراب میں مبتلا ہوئے ۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا :’’ کسی خاص عالم کو کسی دنیوی وجہ سے گالی دینے سے عورت نکاح سے نہیں نکلتی ۔ہاں ،مطلقاًعلما کو یاخاص کسی عالم کو بوجہ علم دین برا کہنے سے آدمی کافرہوجاتا ہے۔عورت فوراً نکاح سے نکل جاتی ہے ‘‘۔(فتاویٰ رضویہ جلد ششم :ص154-رضا اکیڈمی ممبئ)۔
سوال:مذکورہ اختلافی موقع پر دین کی بات بولنے کے سبب متکلم نے علما کو برابھلا کہا تو یہ دین کے سبب برابھلاکہنا ہوا؟۔
جواب:وہ علما روزانہ دین کی بات کہتے ہیں ،لیکن متکلم نے کبھی ان کو اس سبب سے برابھلا نہیں کہا تھا ۔
یہاں باہمی تنازع کا سبب دین کی بات بیان کرنا نہیں ہے،بلکہ ایک دوسرے کی مخالت کرنا تنازع کا سبب بن گیا ۔اگر وہ علما بھی وہی بات کہتے جومتکلم نے کہی تھی تو تنازع نہیں ہوتا ،پس یہاں دینی بات کہنا تنازع کا سبب نہیں ،بلکہ ایک دوسرے کی مخالفت تنازع کا سبب ہے۔
سوال: دیگر علما کو اپنی رائے پیش کرنے کا حق ہے یا نہیں؟ ۔
جواب:ظنی اور غیر منصوص مسائل میں ماہر عالم کو اپنی تحقیق پیش کرنے کا حق حاصل ہےلیکن تحقیقی اور اجتہادی مسائل میں کسی کو اس دعوی کا حق نہیں کہ اس کا بیان کردہ مسئلہ سو فی صد صحیح اور دوسرے کا بیان کردہ مسئلہ سو فی صد غلط ہے۔
در اصل اسی دعوی کے سبب تنازع ہوتا ہے اور اختلاف بڑھتا ہے۔ایسا دعوی ظاہری طور پر نہیں ہوتا ہےلیکن فریق دیگر کو اپنی بات ماننے پر مجبور کرنا اسی دعوی کو ظاہر کرتا ہے:واللہ تعالی اعلم
تحریر: طارق انور مصباحی
مدیر: ماہنامہ پیغام شریعت، دہلی
اعزازی افکار رضا
afkareraza.in
اختلاف و انتشار کا سبب کیا ہے : اس کے دیگر قسطوں کے لنک حاضر ہے مطالعہ فرمائیں
ONLINE SHOPPING
گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع