Home احکام شریعت حلالہ کے لیے عمر دراز یا مراہق یامجنون یا خصی سے نکاح کرنے سے شوہر اول کے لیے کافی ہے یا نہیں

حلالہ کے لیے عمر دراز یا مراہق یامجنون یا خصی سے نکاح کرنے سے شوہر اول کے لیے کافی ہے یا نہیں

0
حلالہ کے لیے عمر دراز یا مراہق یامجنون یا خصی سے نکاح کرنے سے شوہر اول کے لیے کافی ہے یا نہیں
حلالہ کے لیے عمر دراز یا مراہق یامجنون یا خصی سے نکاح کرنے سے شوہر اول کے لیے کافی ہے یا نہیں

از قلم: مفتی شمیم القادری احمدی رضوی حلالہ کے لیے عمر دراز یا مراہق یامجنون یا خصی سے نکاح کرنے سے شوہر اول کے لیے کافی ہے یا نہیں

حلالہ کے لیے عمر دراز یا مراہق یامجنون یا خصی سے نکاح کرنے سے شوہر اول کے لیے کافی ہے یا نہیں ؟

اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ
کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلہ میں (مسئلہ حلالہ)؟
حلالہ کیلے بہت زیادہ عمر والے سے نکاح کیا جو وطی پر قادر نہ ہو یا وطی تو کی انزال نہ ہوا ایسے ہی مراہق سے نکاح کیا تو طلاق کب دیا جاےگا یا مجنون یا خصی سے نکاح ہوا ایسی صورت میں حلالہ کا مسئلہ کیا ہے حلالہ کیلے جو وطی شرط ہے کیا انزال بھی شرط ہے اور عقد نکاح یعنی ایجاب وقبول میں حلالہ کی شرط لگانا یہ حکم شریعت میں کیسا ہے بحوالہ کتب جواب عنایت فرمائیں ؟

سائل : ایــک بـــندۂ خــــدا

وعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

الجوابـــــ بعون الملکــــ الوہابــــــ


صورت مسئولہ میں حلالہ کے لیے عمر دراز شخص سے نکاح کیا جو وطی پر قادر نہ ہو یا مراہق یا مجنون یا خصی سے نکاح کیا اور اس نے کسی بھی ترکیب سے اپنے عضو تناسل کو داخل کر دیا تو یہ وطی حلالہ کے لیے کافی نہیں ہاں اگر آلہ میں کچھ انتشار پایا گیا اور کسی بھی طرح آلہ تناسل کو داخل کیا گیا تو یہ وطی حلالہ کے لیے کافی ہے، اگر چہ انزال نہ ہوا ہو!۔

کیوں کہ حلالہ کے لیے منی کا خارج ہونا شرط نہیں 

بلکہ حلالہ کی صحبت کے لیے بنیادی شرط ہے یہ ہے کہ لذت جماع کا احساس ہو  

حدیث پاک میں ہے لاحتی تذوق عسیلتہ ویذوق عسیلتک سے ثابت ہوا کہ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رفاعہ قرظی رضی الله تعالیٰ عنہ کی مطلقہ عورت سے فرمائی تھی / جب انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے نکاح میں آنے کے بعد بلا جماع شوہر اول کے پاس جانے کی خواہش ظاہر کی تھی  آپ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں یہاں تک کہ تم اس کا مزہ چکھ لو اور وہ تمہارہ مزہ چکھ لیں،

فتح القدیر میں ہے

ولو أولج الشيخ الكبير الذی لا يقدر علی الجماع بِقوَّتِه بل بمساعدة اليد لا يحلها الا إن نتعش و عمل والصغير الذى لا يجامع مثله اولى لأنه لا يجد لذة أصلاً بخلاف من فى آلته فتور و اولجها فيها حتى التقى الختانان فانها تحل به ۔۔۔۔

اسی میں ہے

والشرط الايلاج دون الانزال لأنه كمال و مبالغة فيه والكمال قيد زائد ( و الصبي المراهق في التحليل كالبالغ ) لوجود الدخول في نكاح صحيح وهو الشرط بالنص ؛ لم يبلغ و مثله يجامع جامع امراته وجب عليها الغسل و احلها على الزوج الأول!۔ 

( فتح القدیر جلد چہارم صفحہ، 160 : کتاب الطلاق ، باب الرجعة ، فصل فیما تحل له به المطلَّقة ، دار الکتب العلمیہ بیروت )

فتاوی ہندیہ میں ہے

ولو أولج الشيخ الكبير الذی لا يقدر علی الجماع بِقوَّتِه بل بمساعدة اليد لا تحل للاول إلَّا أن تنتشر آلته و تعمل كذا فی البحر الرائق
اسی میں ہے
الصبي المراهق في التحليل كالبالغ إذا جامعها قبل الْبلوغ وطلقها بعد البلوغ لأَن الطلاق منه قبل البلوغ غير واقع كذا في التتارخانية ” اھ

( جلد اول صفحہ، 473 : کتاب الطلاق الباب السادس في الرجعة ، فصل فیما تحل به المطلقة )

فـقـــــيه اعـــظم حضــــور صـــــدرالشـــــريعــــــه بــــدرالطــــريــــقه عـــــلامــــه مـفــــتـى محــــــمد امجـــد عـــلى اعــــظمــى رضــوى عــــليــــه الـــرحـــمة والــــرضـــوان تحــــريـــر فــرمـــاتـے ھــیں
‼️بہت زیادہ عمر والے سے نکاح کیا جو وطی پر قادر نہیں ہے اُس نے کسی ترکیب سے عضو تناسل داخل کر دیا تو یہ وطی حلالہ کے لیے کافی نہیں!!!۔

ہاں اگر آلہ میں کچھ انتشار پایا گیا اور دخول ہوگیا تو کافی ہے ۔

دوسرا نکاح مراہق سے ہوا ( یعنی ایسے لڑکے سے جو نا بالغ ہے مگر قریب بلوغ ہے اور اُس کی عمر والے جماع کرتے ہیں ) اور اُس نے وطی کی اور بعد بلوغ طلاق دی تو وہ وطی کہ قبل بلوغ کی تھی حلالہ کے لیے کافی ہے

مگر طلاق بعد بلوغ ہونی چاہیے کہ نابالغ کی طلاق واقع ہی نہ ہوگی مگر بہتر یہ ہے کہ بالغ کی وطی ہو کہ امام مالک رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک انزال شرط ہے اور نا بالغ میں انزال کہاں ۔
مجنون یا خصی سے نکاح ہوا اور وطی کی تو شوہر اول کے لیے حلال ہوگئی “
( بہار شریعت جلد دوم صفحہ ، 178 / 179 : رجعت کا بیان )

اور عقد نکاح میں حلالہ کی شرط لگانا مکروہ تحریمی ہے

درمختار مع رد المحتار میں ہے

۔ ( وكره ) التزوج للثاني ( تحريما ) لحديث ” لعنِ المحلل و المحلل له بشرط التحليل ) كتزوجتكِ على أن أحللكِ ( وَ إِنْ حلّتْ للأول ) لصحة النكاح و بطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق كما حققه الكمال ، خلافا لما زعمه البزازي ” اھ

۔ (جلد سوم صفحہ، 415 : کتاب الطلاق ، باب الرجعة مطلب : فی العقد علی المبانة ، دار الفکر بیروت )۔

بہار شریعت میں ہے

نکاح بشرط التحلیل ( حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرنا ) جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی وہ یہ ہے کہ عقد نکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اور یہ نکاح مکروہ تحریمی ہے زوج اول و ثانی اور عورت تینوں گناہ گار ہوں گے مگر عورت اِس نکاح سے بھی بشرائط حلالہ شوہر اول کے لیے حلال ہو جائے گی ۔ اور شرط باطل ہے ۔ اور شوہر ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں ۔ اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگر چہ نیت میں ہو تو کراہت اصلاً نہیں بلکہ اگر نیت خیر ہو تو مستحق اجر ہے ” اھ

( بہار شریعت جلد دوم صفحہ، 180 / رجعت کا بیان )

واللــه و رســوله اعــلم بالصــواب هـــذا مــاظهــرلـى والعـــلم بـــالحــق عــنده عــلمــه

کتبہ: اسیر حضور تـــاج الــشريعه

حضـــرت عــلامــه مـفـــتى محـــــمد شــــميم القــادرى احـــمدى خــوش محــمد

ساکن: کـھڑکــمن، پنچــائـت گـوروکھـال
پوســٹ کـوئـماری پـوٹھیـا کـشن گنــج بہــار
رابـطـــہ نـمبـــر  8070567216

ONLINE SHOPPING

حضرت مفتی صاحب قبلہ کے اس فتاوی کو بھی پڑھیں” شمشان گھاٹ میں کام کرنا کیسا ہے؟ 

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here