Home احکام شریعت عورت کے متعلق 6 حقوق اور 10 تقاضے جو شوہر کو پورے کرنا ضروری ہے

عورت کے متعلق 6 حقوق اور 10 تقاضے جو شوہر کو پورے کرنا ضروری ہے

0
عورت کے متعلق 6 حقوق اور 10 تقاضے جو شوہر کو پورے کرنا ضروری ہے
عورت کے متعلق 6 حقوق اور 10 تقاضے جو شوہر کو پورے کرنا ضروری ہے

از قلم: مفتی خبیب القادری مدنا پوری عورت کے متعلق 6 حقوق اور 10 تقاضے جو شوہر کو پورے کرنا ضروری ہے قرآن وحدیث سے مزین ایک تحقیقی مضمون

عورت کے متعلق 6 حقوق اور 10 تقاضے جو شوہر کو پورے کرنا ضروری ہے

شوہر کے بیوی کے تیئں بہت سے حقوق ہیں ان میں سے چھ کا تذکرہ کیا جاتا ہے؛ جو بہت اہمیت کے حامل ہیں
نمبر1 حق مہر : جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے
فآتوھن اجورھن فریضۃ ( سورہ نساء آیت 24)۔  انہیں ان کے مقررہ حق مہر ادا کر دیا کرو
نیز فرماتا ہے وآتوھن اجورھن المعروف ( سورہ نساء آیت 25 )۔ اور حسب دستور ان کے مہر ادا کرو

نیز فرماتا ہے وآتوالنسآء صدقاتھن نحلۃ ( سورہ نساء آیت 4)۔ “عورتوں کو ان کا حق مہر بخوشی ادا کر دیا کرو”۔ 

اسلام نے مہر کو عورت کا حق قرار دیا ہے اور اسے ادا کرنا شوہر پر لازم کیا ہے لیکن یاد رہے یہ عورت کی قیمت نہیں ہے ؟ بلکہ یہ عورت کے اعزاز وتکریم کے خاطر خدا کی طرف سے عطیہ ہے؛ عورت کی اجازت اور رضامندی کے بغیر کوئی شخص نہ ہی اس کو کھا سکتا ہے؛ اور نہ ہی اس میں کسی طرح کا تصرف کر سکتا ہے

نمبر 2 نان و نفقہ : بیوی کا نان و نفقہ شوہر پر واجب ہے چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے
لینفق ذوسعۃ من سعتہ ومن وقدرعلیہ رزقہ فلینفق مماآتاہ اللہ (سورہ نساء آیت نمبر 7 )۔  خوش حال کو چاہئے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق نفع دے اور تنگ دستی اپنی گنجائش کے مطابق خرچ دے

اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا: عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ؛ اس لیے کہ تم نے ان کو اللہ کی امان سے لیا ہے ؛ اور اللہ کے کلمہ سے ان کے ستر کو حلال کیا ہے ؛ دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دینا تمہارے اوپر ان کا حق ہے (مسلم حدیث نمبر 1218 ؛ سنن کبریٰ للبیہقی حدیث نمبر 14774 )۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا : کہ تم اپنے اہل و عیال پر جو کچھ خرچ کرو گے آگے اس کا تمہیں اجر ملے گا حتی کہ تمہیں ان کا اجر ملے گا جو تم نے اپنی بیوی کے منہ میں محبت سے ڈالا ہوگا: (بخاری حدیث 1218 مسلم حدیث 1002۔ 1628 )
نوٹ “سب سے زیادہ اجر بھی اسی مال میں ہے جو اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا جائے:( مسلم شریف حدیث نمبر 946۔ 995 )۔ 

نمبر 3 رہائش :  عورت کے لیے رہائش مہیا کرنا مرد کے اوپر واجب ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتا ہے اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم (سورہ طلاق آیت 6)۔ “عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو جیسی بھی جگہ تمہیں میسر ہو “۔

دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے  وہ وعاشروھن بالمعروف (سورہ نساء آیت 19) “اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو”۔ 

نمبر 4 تعلیم و تربیت : جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے  یایھا الذین آمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا وقودھا الناس والحجارۃ ( سورہ تحریم آیت 6)۔ “ایمان والو اپنے آپ کو ؛اور اپنے اہل و عیال کو؛ اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں “۔

یہ بات کسی صاحب عقل پر مخفی نہیں ہے کہ جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے اصول؛ دین کی تعلیم ضروری ہے؛ خوف خدا؛ ارکان ایمان؛ ارکان اسلام؛ حلال و حرام ؛عبادت و معاملات اور مکارم اخلاق سکھا کر اہل و عیال کی تربیت کریں

نمبر 5 عزت و ناموس کی حفاظت : بیوی مرد کا گراں قدر اور قیمتی خزانہ ہے؛ اس کی عزت و ناموس کی حفاظت اس کا اہم فریضہ ہے ؛ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے نہایت غیرت مند ہو؛ اسے لوگوں کی نگاہوں اور زبان سے محفوظ رکھے

“شوہر کو چاہیے کہ اور جہاں بھی جائے تو اس کے ساتھ جائے کیوں کے عورتوں کو تنہا سفر کرنا حرام ہے “

نمبر 6 حسن معاشرت :حسن معاشرت کو آسان لفظوں میں بھلائی کے ساتھ زندگی بسر کرنے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے
جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے وعاشروھن بالمعروف (سورۃ نساء نمبر 19)۔ “اور ان کے ساتھ حسن معاشرت کا رویہ اپناؤ”( بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو )۔

حسن معاشرت کے چند تقاضے مندرجہ ذیل ہیں

تقاضہ نمبر 1 : عمدہ اخلاق سے پیش آنا

چناں چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے” ایمان کے لحاظ سے کامل مومن وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے؛ اور سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے سب سے بہتر ہے” (ترمزی حدیث نمبر 1162)۔

تقاضہ نمبر 2 : خوبیوں اور خامیوں کا موازنہ کرنا

ہر انسان میں کچھ خوبیاں اور کچھ خامیاں ہوتی ہیں؛عورت بھی ایک انسان ہے؛ لہذا وہ بھی اس اصول سے باہر نہیں؛ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آدمی صرف اس کی خامیوں پر نظر رکھے بلکہ اس کی خوبیوں اور خامیوں دونوں پر نظر رکھے

اور خوبیوں کے پہلو کو ترجیح دیں؛ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا: کوئی مومن اپنی مومنہ بیوی سے بغض نہ رکھے؛ اگر اس کی کوئی عادت نہ پسند ہو گی تو ضرور کوئی دوسری عادت پسند بھی ہوگی” ( مسلم شریف حدیث نمبر 1469)۔

تقاضہ نمبر 3 :خامیوں پر صبر کرنا

مرد کو چاہیے کہ اپنی بیوی کی خامیوں اور کوتاہیوں پر صبر کرے؛ غلطیوں کے پیچھے نہ پڑھا رہے؛ ہر بھول چوک پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے ؛ بلکہ اللہ تعالی کے حقوق کے سوا ؛ دیگر خامیوں کو نظر انداز کر دے؛ عورت جب غیض و غصہ اور غصہ میں وطیش میں ہو تو مرد کو برداشت کرنا چاہیے

تقاضہ نمبر 4  : چہرے کو شگفتہ رکھنا

چہرہ ہمیشہ ہنستا ؛ مسکراتا شگفتہ اور پھول کی طرح کھلا ہوا رہے؛ رسول اللہ صلی وسلم کا فرمان ہے کسی نیکی کو حقیر مت سمجھو اگرچہ اپنے مسلمان بھائی سے خندہ پیشانی اور شگفتہ گفتگو روی سے ملنا ہی کیوں نہ ہو وہ بھی ایک نیکی ہے” ( سنن ابو داود حدیث نمبر 4084)۔ 

اس نیکی کا بھلا بیوی سے زیادہ اور کون ہو سکتا ہے ؟

تقاضہ نمبر 5 : میٹھی باتیں کرنا
بیشتر اوقات بیوی کو ایک میٹھی بات اس قدر پسند ہوتی ہے کہ جس قدر قیمتی زیورات اور شاندار لباس بھی پسند نہیں ہوتے

تقاضہ نمبر 6 : رائے اور مشورے کا احترام کرنا
شوہر بیوی سے کسی بھی امر میں مشورہ لے؛ تو اس کی جو بھی رائے ہو اس کا احترام کرے

واضح رہے کہ عورت کا مشورہ صرف اس بنیاد پر قبول نہ کرنا کہ وہ عورت ہے بالکل لغو بات ہے ؛ جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں؛ کیوں کہ بعض موقعوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کے مشورے قبول فرمائے ہیں

تقاضہ نمبر 7 : گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا
جب مرد اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے اہل و عیال کو سلام کرے؛ اس لیے کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے فاذادخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم تحیۃ من عنداللہ مبرکۃ طیبۃ ( سورہ نور آیت 61)۔
“جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو؛ تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو؛ یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے”

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا ارشاد ہے “جب تم اپنے اہل و عیال پر داخل ہو تو سلام کرو؛ تمہارا سلام خود تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے برکت کا سبب ہے” (جامع الترمذی حدیث 2698)۔تقاضہ نمبر8 : راضی وخوشی رکھنا

مرد کو چاہیے کہ اپنی بیوی کو راضی و خوشی رکھنے کی پوری کوشش کرے ؛ اس کی خوب عزت و تکریم کریں جس سے وہ راضی رہے ؛ اس کے سامنے اس کے والدین اور گھر والوں کی تعریف کیا کرے ؛ ان کے یہاں آمدورفت رکھے؛ مختلف مواقع پر اپنے یہاں آنے کی انہیں دعوت بھی دے؛ اور ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کا برتاؤ کرے

تقاضہ نمبر 9 : دوا اور علاج کرنا
مرد کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ جب عورت بیمار ہو جائے تو اس کا علاج کرائے؛ خواہ مرض کی مدد کتنی بھی طویل کیوں نہ ہو جائے ؛ اور مرد بنفس نفیس اس کی دیکھ ریکھ اور نگرانی کرے؛ اس کی بیماری میں ہمیشہ اس کے ساتھ رہے
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ صرف اس وجہ سے جنگ بدر میں شریک نہ ہوئے کہ ان کی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا بیمار تھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم ان کے ساتھ رہوں تمہیں بدر میں حاضر ہونے والوں کا ثواب ملے گا اور مال غنیمت میں سے حصہ بھی (بخاری حدیث 3130 ؛ جامع الترمذی حدیث 3706)۔

تقاضہ نمبر 10 : گھریلو کاموں میں کام بٹانا
اگر مرد کو فرصت ملے تو گھریلو کاموں میں بیوی کا ساتھ دے اور اس کا ہاتھ بھی بٹا ئے ؛ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کا ہاتھ بٹاتے تھے اور جب نماز کا وقت ہوجاتا تو نماز کے لیے نکل جاتے ” ( بخاری حدیث نمبر 676)۔
تقاضہ نمبر 11 : بعد از وفات بھی ذکر خیر کرنا
اگر بیوی کا انتقال ہو جائے تو بعد از وفات بھی اس کی وفا داری قائم رکھی جائے ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات کے بعد بکثرت ان کی مدح وثناء فرمایا کرتے تھے؛ ان کی فضیلت بیان کرتے
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی وسلم حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا کو بہت کثرت سے یاد فرماتے تھے کبھی کبھی جب آپ بکری ذبح کرتے تو اس کے کئی ٹکڑے کاٹ کر حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا کی سہیلیوں میں بھیج دیا کرتے تھے “(بخاری حدیث 3816؛ 3818 ؛ مسلم حدیث 2435 )۔

اللہ تعالی ان چند سطور کو قبول فرمائے

از قلم : مفتی خبیب القادری

مدناپوری بریلی شریف یوپی

موبائل 7247863796

مفتی صاحب قبلہ کے مضامین کو پڑھنے کے لیے افکار رضا کو وزٹ کرتے رہیں

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here