از قلم: طارق انور مصباحی مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے قسط پنجم
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے
مبسملا وحامدا : ومصلیا ومسلما
کفرکلامی کے صحیح فتویٰ میں اختلاف کی گنجائش نہیں
متعدد صورتوں کے ذریعہ اس مسئلہ کی تفہیم کی کوشش ہوگی،تاکہ جس کو جو صورت سمجھ میں آجائے،وہی اس کے حق میں دلیل ہوگی۔
ہر ایک انسان کی نہ فطرت یکساں ہے،نہ ہی سب کی عقل وخرد مساوی ہے۔
۔(الف) کفر کلامی میں فقہا کو اختلاف کی اجازت نہیں
امام غزالی نے فر مایا کہ کفرکلامی کی دلیل قطعی ہوتی ہے تو فقہا اسے سمجھ سکتے ہیں۔ بالفرض اگر سمجھ میں نہ آئے تو بھی فقہا کو متکلمین کا فتویٰ تکفیر ماننا فرض ہے،جیسے کسی کو صدق نبوت کی دلیل سمجھ میں نہ آئے توبھی نبی کونبی ماننا فرض ہے۔
فقہا کو فتوی تکفیر سمجھ میں نہ آئے توبھی ماننا فرض ہے۔اسی طرح عوام کو بھی ماننا فرض ہے,خواہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔
مذہب شافعی میں اجماع شرعی میں غیر کافر بدعتی کا لحاظ ہوتا ہے، کافر بدعتی کا نہیں۔
اگر فقہاے شوافع کوکسی کافر بدعتی کے کفر کا علم نہ ہو سکا اور فقہا نے اس کافر بدعتی کے اختلاف کے سبب اجماع کو غیرمنعقد سمجھا تو اس صورت کا حکم بیان کرتے ہوئے امام غزالی نے تحریر فرمایا کہ اگر فقہا کو اس بدعتی کے کفریہ قول کا علم تھا تو فقہا پر لازم تھا کہ اس کا حکم متکلمین سے دریافت کرتے،اورپھر متکلمین کا فتویٰ ماننا ان پر لازم ہوتا۔
اگر فقہا کواس بدعتی کے غلط قول کی اطلاع ہی نہیں تھی توفقہا عدم علم کے سبب اجماع کوغیر منعقد قرار دینے میں معذور ہوں گے۔
قال الغزالی:(فان قیل:فَلَو تَرَکَ بَعضُ الفقہاء الاجماعَ بِخِلَافِ المبتَدِعِ المُکَفَّرِ اِذَا لَم یَعلَم اَنَّ بدعتہ تُوجِبُ الکُفرَ-وَظَنَّ اَنَّ الاجماع لاینعقد دونہ-فَہَل یُعذَرُ من حیث اَنَّ الفقہاء لایطلعون عَلٰی مَعرفَۃِ مَا یُکَفَّرُ بِہ من التاویلات؟قلنا لِلمَسءَلَۃِ صُورَتَانِ۔
۔(1) اِحدَاہُمَا اَن یَقُولَ الفقہاء:نحن لَا نَدرِی اَنَّ بدعتہ توجب الکفرَ اَم لَا؟ففی ہذہ الصورۃ لاَ یُعذَرُونَ فِیہِ اِذ یَلزَمُہُم مُرَاجَعَۃُ علماء الاصول،ویجب علی العلماء تعریفُہم،فاذا اَفتوہُم بکُفرِہ فعلیہم التقلید-فَاِن لَم یَقنَعہُمُ التَّقلید-فَعَلَیہِمُ السُّوَالُ عن الدلیل،حَتّٰی اذا ذُکِرَ لہم د لیلُہ،فَہِمُوہُ لَامَحَالَۃَ-لِاَنَّ دَلِیلَہٗ قَاطِعٌ،فَاِن لَم یُدرِکہُ فَلَا یَکُونُ مَعذُورًا،کَمَن لَایُدرِکُ دَلِیلَ صدق الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم فانہ لَاعُذرَ مَعَ نَصبِ اللّٰہِ تَعَالٰی الاَدِلَّۃَ القَاطِعَۃَ۔
۔(2) الصورۃ الثانیۃ اَن لَا یکونَ بَلَغَتہُ بِدعَتُہ وَعَقِیدَتُہ فَتَرَکَ الاِجمَاعَ لِمُخَالَفَتِہ فَہُوَ مَعذُورٌ فِی خَطَأِہٖ وَغَیرُ مُوَاخَذٍ بِِہٖ)۔
(المستصفٰی من علم الاصول جلد اول ص184)
توضیح : جب متکلمین کفرکلامی کافتویٰ صادر کردیں تو فقہاکو تقلید لازم ہے۔اگر فقہا اس کی دلیل دریافت کریں تو متکلمین دلیل بیان کریں گے،اور فقہا یقینی طورپراس دلیل کوسمجھ لیں گے،کیوں کہ تکفیرکلامی کی دلیل قطعی بالمعنی الاخص ہوتی ہے۔اس میں کوئی احتمال نہیں ہوتا۔اگر فقہا کو دلیل تکفیرسمجھ میں نہ آئے تو بھی انہیں فتویٰ تکفیر ماننا لازم ہے۔
امام غزالی قدس سرالقوی کے قول (فَاِن لَم یُدرِکہُ فَلَا یَکُونُ مَعذُورًا)سے بالکل واضح ہو گیا کہ جو کافرکلامی کے کافرکلامی ہونے کے دلائل کونہ سمجھ سکے،وہ معذور نہیں ہے،بلکہ اس کوحکم شرعی ماننا ہوگا۔
جیسے کسی کو نبی کی صداقت کی دلیل سمجھ میں نہ آئے تووہ معذور نہیں ہوگا،بلکہ نبی کونہ ماننے کے سبب کافر ہوگا،کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے دلائل قائم فرمادئیے،یعنی نبی کی نبوت کوثابت کرنے کے واسطے معجزہ ظاہر فرمادیا۔
۔(ب)کفر کلامی میں متکلمین کو اختلاف کی اجازت نہیں
خلیفہ چہارم شیرخداحضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں عبد اللہ بن سبا کے غلط اثرات سے متاثر ہوکر بعض لوگوں نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خدا ہونے کا دعویٰ کیا۔اس دعویٰ کے سبب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں مرتد قرار دے کر جلادیا۔
اسی طرح بعض دیگر خلفا نے دعویداران نبوت کو مرتد ہونے کے سبب قتل کردیا ۔ان زمانوں کے علماے کرام نے بھی اس عمل پر اتفاق ظاہر کیا اور ان مرتدین کو مرتد ہی سمجھا،اور ایسے مرتدین کے کفر و ارتداد کی مخالفت کرنے والوں کوبھی کافر قرار دیا۔
منکرین تکفیر کے کافرہونے کا حکم مطلق ہے۔ ایسا نہیں کہ کسی عالم کواپنی ذاتی تحقیق میں جہات ثلاثہ یعنی کلام ومتکلم وتکلم میں کوئی احتمال نظر آئے تو اسے انکار کا حق ہے اور غیر عالم کو انکار کا حق نہیں،بلکہ عالم وغیر عالم کسی کو انکار کا حق نہیں۔
جہات ثلاثہ اور دیگر شرائط مفتی اول کی نظر میں ثابت ہونے چاہئے,نہ کہ تمام عوام وخواص کی نظر میں۔
قال القاضی:(وَقَد اَحرَقَ علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ مَن اِدَّعٰی لَہُ الاِلٰہِیَّۃَ-وقد قتل عبد الملک بن مروان الحارث المتنبی وَصَلَبَہ-وَفَعَلَ ذلکَ غیر واحدٍ من الخلفاء والملوک باشباہہم-وَاَجمَعَ علماء وقتہم علٰی صواب فعلہم-وَالمُخَالِفُ فِی ذٰلِکَ مِن کُفرِہِم کَافِرٌ)۔
(کتاب الشفاء جلددوم ص297)
قال الخفاجی:((واجمع علماء وقتہم علٰی صواب فعلہم)ای تصویبہ اَو ہو من اضافۃ الصفۃ للموصوف -وذلک لکذبہم عَلَی اللّٰہ بِاَنَّہ نَبَّأہُم و تکذیب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی-انہ خاتم الرسل-وَاَنَّہ لَا نبی بعدہ(و) اَجمَعُوا اَیضًا عَلٰی(اَنَّ المُخَالِفَ فِی ذٰ لِکَ)اَی تَکفِیرِہِم بِمَا إدَّعُوہُ(مِن کُفرِہِم)ہومفعول المخالفِ اَی مَن خَالَفَ مَذہَبَہُم فی تکفیرہم فَقَالَ:لَا یُکَفَّرُونَ(کَافِرٌ)لانہ رضی بِکُفرِہِم وَتَکذِیبِہِم لِلّٰہِ وَرَسُولِہ)۔
(نسیم الریاض جلد چہارم ص536-دارالکتاب العربی بیروت)
قال الملا علی القاری:((والمخالف فی ذلک)الفعل(مِن کُفرِہِم)اَی مِن جہتہ (کَافِرٌ) لِجَحدِہ کُفرَہُم)۔
(شرح الشفاء للقاری جلدچہارم ص536-دارالکتاب العربی بیروت)
قال المحشی علی محمد البجاوی المصری:(من خالف مکفرہم فی تکفیرہم،فقال: لا یکفرون،ہذا المخالف کافر،لانہ رضی بکفرہم وتکذیبہم للّٰہ ورسولہ)۔
(حاشیۃ الشفا: ص1091-دارالکتاب العربی بیروت)
توضیح : منقولہ بالا عبارات میں یہ بتایا گیا کہ اگر کسی پر کفرکلامی کاحکم عائدہوچکا تو اس کی تکفیر کا منکر کافر ہے۔
یہاں عالم وغیر عالم کی تفریق نہیں،بلکہ عدم اختلاف کا حکم سب کے لیے ہے۔
ضروری تحقیق کے بعد ہی کفر کلامی کا حکم نافذکیا جاتا ہے،پھر اس سے انکار کیوں کر کیا جا سکتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ کفر کلامی کے فتویٰ میں علمائے حق کا اتفاق ہی ہوتا ہے۔کتاب الشفا کی منقولہ عبارت (وَاَجمَعَ علماء وقتہم علٰی صواب فعلہم)سے مراد یہ ہے کہ علماے حق نے اپنے اتفاق کا اظہار بھی کیا۔
اگر اتفاق ظاہر نہ بھی کریں تو بھی ہرایک کوکافرکلامی کے کافر ہونے کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔
آج لوگ حسام الحرمین کی تصدیق پر اعتراض کرتے ہیں۔مذکورہ عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ اظہار اتفاق سے کسی حکم کی تقویت وتائید ہوتی ہے،ورنہ کفر کلامی کا صحیح حکم ایک مفتی نے بھی جاری کیا ہوتو بھی اس کا انکار کفر ہی ہے۔
۔(ج) صرف مفتی اول کے لیے احتمالات کا خاتمہ لازم
اگر کلام متعین فی الکفر بھی ہوتو علمائے مابعد کو اپنی تحقیق کے وقت احتمال فی المتکلم اور احتمال فی التکلم کی صورت درپیش ہو سکتی ہے، مثلاً آج سے پانچ سوسال قبل کسی نے صریح ومتعین(مفسر) لفظوں کے ساتھ اپنی نبوت کادعویٰ کیا- اس کلام ودعویٰ نبوت میں کسی قسم کے احتمال کی گنجائش نہ تھی۔
مفتی کے پاس اس مدعی نبوت نے اپنے دعوی نبوت کو دہرایا اور اقرار کیا۔مفتی نے آزمائش کر کے دیکھ لیا کہ یہ آدمی ہوش وحواس کے ساتھ بلاجبر واکراہ،اپنے قصدو رضامندی کے ساتھ تمام معانی ومطالب کوسمجھ لینے کے بعد محض اپنی شقاوت قلبی کے سبب دعوی نبوت کررہا ہے۔
اب کلام، متکلم و تکلم میں سے کسی جہت میں بھی کسی قسم کا احتمال باقی نہ رہا،اس لیے اس مفتی نے کفر کلامی کافتویٰ جاری کیا۔اس عہد کے تمام اہل حق علما نے اس فتویٰ پراتفاق کرلیا۔ بادشاہ اسلام نے دعوی نبوت کے سبب اس مجرم کو قتل بھی کردیا۔
اب بعد والوں کو وہ فتوی ماننا فرض ہے,کیوں کہ مفتی اول کے لئے تمام جہات محتملہ یقینی تھیں۔اس صورت میں وہ فتوی صحیح تھا اور کفر کلامی کے صحیح فتوی کو ماننا فرض اور انکار کفر ہے۔
سوال : پانچ سو سال بعد ہمیں مذکورہ بالا مدعی نبوت کا صرف دعویٰ اور قول ملا،اور علماے کرام کے فتویٰ کفر کی تفصیل معلوم ہوئی
لیکن اس مدعی کے دیگر احوال ہم سے پوشیدہ ہیں، اس لیے جہت متکلم وجہت تکلم میں احتمال ہوگیا،اب کس طرح جہت متکلم وجہت تکلم میں پایا جانے وہ احتمال دور کیا جائے؟
یہاں کوئی صورت موجود نہیں کہ اس احتمال کا خاتمہ کیا جاسکے،ایسی صورت میں ہم اسے مومن تسلیم کریں یاکافر؟
جواب : ہمیں اس مدعی نبوت کوکافر ماننا ہوگا،کیوں کہ جب کفر کلامی کا فتویٰ دیا گیا تھا تو سارے احتمالات ختم تھے۔اب دوبارہ احتمالات کیسے پیدا ہوگئے؟
احتمالات کا خاتمہ مفتی اول کے لیے ہونا ضروری ہے,جس کو فتوی جاری کرنا ہے۔
اس فتویٰ کو تسلیم کرنے والے سارے لوگوں کے لیے احتمالات کا خاتمہ ضروری نہیں ہے،بلکہ اس فتویٰ پرمطلع ہونا ضروری ہے۔
جس کو اس فتویٰ کا علم ہی نہیں،نہ قطعی علم ہے،نہ ظنی علم ہے تو اس پر شخص مذکور کوکافر ماننے کا حکم نہیں۔
مسیلمہ کذاب،ودیگر مدعیان نبوت کو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے مر تد قرار دیا۔ان مرتدین کوہم مرتد مانتے ہیں،جوان مدعیان نبوت کومرتد نہ مانے،وہ بھی مرتد ہوگا
حالاں کہ ان مدعیان نبوت میں سے کسی سے متعلق جہت تکلم وجہت متکلم کا تیقن آج کے عہد میں نہیں ہوسکے گا،بلکہ ان میں سے ہرایک کے کفریہ کلمات بھی منقول نہیں،لیکن ان تمام کومرتد ماننا ہوگا۔ ان کے کفر کا انکار کرنے والا کافر ہو گا۔
سوال : کیا جس عہد میں کفر کلامی کا فتویٰ دیاگیا،اس عہد میں کسی متکلم وعالم کو اس فتویٰ کے انکار کا حق حاصل ہے؟
جواب : کفر کلامی قطعی ہوتا ہے ، یعنی ہر محتمل جہت سے ہر قسم کا احتمال ختم ہو جاتا ہے اور کفر آفتاب کی طرح روشن ہوجاتا ہے،تب کفر کلامی کا فتویٰ جاری ہوتا ہے۔
ایسی صورت میں عہدفتویٰ میں کسی محقق کا انکار اس کی قطعیت کو ختم نہ کرسکے گا۔
ہاں،اگر وہ ہٹ دھر می و تعنت کے سبب انکار کرتا ہے تو وہ خود اسلام سے منقطع ہوجائے گا۔
اگر اس محقق کو کسی جہت میں کوئی احتمال نظر آتا ہے تو حکم جاری کرنے والے مفتی کے پاس اپنا احتمال پیش کرے،تاکہ مفتی وہ احتمال دور کردے،اور جس طرح ہرجہت اس مفتی کے پاس قطعی ویقینی ہے،اسی طرح اس محقق کی نظر میں بھی قطعی ویقینی ہو جائے۔
جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے مانعین زکات سے جہاد کا حکم فرمایا توحضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا شبہہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان فرمایا تھا،پھر وہ جواب سے مطمئن ہوکر اس حکم جہاد کے قائل ہوگئے۔
اسی طرح شبہہ ہونے پر اصل مفتی کی طرف رجوع کرنا ہے,یا جو جواب کے اہل ہوں,ان سے دریافت کرنا ہے:واللہ الہادی الی سبیل الحق
تحریر: طارق انور مصباحی
مدیر: ماہنامہ پیغام شریعت، دہلی
اعزازی مدیر: افکار رضا
مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے: گذشتہ تمام قسطوں کے لنک ملاحظہ فرمائیں
ONLINE SHOPPING
گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع