ازقلم : واثق علی رشیدی عرفانی میرے نبی ﷺ کی زندگی
میرے نبی ﷺ کی زندگی
نحمدہ ونصلي علي رسوله الكريم
امابعد
فاعوذ بااللہ من الشیطٰن الرجیم
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
نبی مکرم شفیع آعظم رحمت دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم کا نسب،طیب وطاہراور پوری دنیاسےزیادہ شریف اور پاک ہے(دلائل ابونعیم میں مرفوعاً روایت ہے)کہ سیدالملٰئکة حضرت جبرئیل امیں عَلَی٘ہ السَّلام فرماتےہیں،کہ میں مشرق سے مغرب تک پھرا،میں خاندان بنی ہاشم سےزیادہ رب کی بارگاہ میں کوئی فضیلت والانہیں دیکھا،اور یہ وہ بات ہےجوتمام کفار مکہ سرخم تسلیم کرتے،حضرت ابوسفیان رَضِی٘ اللّٰہُ تعالیٰ عنہ نےشاہ روم کےسامنے بحالت کفر اس کا اقرار کیا،حالاں کہ وہ چاہتےتھے بنی ہاشم کومعیوب کریں۔
شجرۂ نسب
والد ماجد کی طرف سےآپ کا نسب یہ ہے
محمد ( ﷺ ) بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصّی بن کلاب بن مرّہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن المنفہ بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضربن معدبن عدنان۔ یہاں تک سلسلئہ نسب آپ صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم کا باجماع امت ثابت ہے۔علماے کرام فرماتےہیں یہاں سے ابوالبشر حضرت سیدناآدم عَلَی٘ہ السَّلام تک بےشماراختلاف ہیں۔ کوئی صحیح قابل اعتبار روایات نہیں ہیں۔اس لیے اب آگے ترک کیا جارہا ہے۔
والدہ ماجدہ کی طرف سےآپ کانسب یہ ہے
محمد ( ﷺ ) بن آمنہ بنت وہب عبدالمناف بن زہرة بن كلاب۔اس سےمعلوم ہواکہ کلاب بن مرّہ میں آپکےوالدین کانسب جمع ہوتاہے۔ (بحوالہ سیرت خاتم الانبیاءصَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم صفحہ 20 21)۔
آپ کی نبوت کا ثبوت
سرکارمدینہ راحت قلب وسرور سینہ سیدالانبیاء جناب احمد مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وسلم نےفرمایا
حدیث : عن العرباض بن سارية عن رسول اللّٰه صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم انّه قال اني عندالله مكتوب خاتم النبيين وان اٰدم لمنجدل في طينتهٖ (مشکوٰة شرىف صفحہ ٥١٣ مواہب مع زرقانی صفحہ ٣٩)۔
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہُ عنہ سےروایت ہے،حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم نےفرمایا۔بے شک میں رب تعالیٰ کےنزدیک خاتم النبیین ہوچکا تھا،اورحضرت سیدنا آدم عَلَی٘ہ السَّلام ہنوزاپنےخمیرمیں ہی پڑے تھے ،
(روایت کیااس کو احمد اور بیہقی نے اورحاکم نےصحیح الاسناد بھی کہا ہے)
مسنداحمدشریف کی ایک روایت ہےآپ صلی اللہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم نےارشادفرمایا۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےاس وقت میرے شانے پہ ختم نبوت کا مہرلگایا،جب ابوالبشر پیدا بھی نہیں ہوئےتھےیعنی ابھی ان کاخمیرہی تیارہورہا تھا،پھرمیرے نبی نےارشاد فرمایا میں تم لوگوں کواپنےمعاملہ کی ابتدا بتاتا ہوں،
میں اپنےباپ حضرت سیّدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام کی دعا ہوں
رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿سورہ بقرہ ۱۲۹﴾۔
لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ، (ٰاٰل عمران آیت 164)۔
ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۲﴾۔
میں بشارتِ حضرت عیسیٰ عَلَی٘ہ السَّلام ہوں
یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ ؕ (قرآن سورة الصف آيت ٦)۔
میں والدہ ماجدہ کےخواب کا جائےظہورہوں۔
حدیث
حين حملت برسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقيل لها : إنك قد حملت بسيد هذه الأمة ، فإذا وقع إلى الأرض فقولي : أعيذه بالواحد ، من شر كل حاسد ، ثم سميه محمدا . ورأت حين حملت به أنه خرج منها نور رأت به قصور بصرى ، من أرض الشام (سیرت ابن ہشام)۔
آپ کی ولادتِ باسعادت
اس بات پر اجماع امت ہےکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ماہ ربیع النور میں پیرشریف کےدن اسی سال ہوئی جب اصحاب فیل نےمکہ پرحملہ کیااور اللہ رب العزت نےچند حقیرجانوروں سےشکست دی جنہیں ابابیل کہاجاتا ہے۔
ہاں البتہ تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے،ایک روایت کےمطابق آپ دو کوتشریف لائے،ایک قول کےمطابق آپ آٹھ کو تشریف لائے،ایک قول کےمطابق آپ دس کو تشریف لائے،ایک قول کےمطابق آپ بارہ کو اس فرش گیتی پر جلوہ افروز ہوئے۔
بعض مؤرخین نےلکھاہے،کہ واقعہ اصحاب فیل( 20 اپریل سنہ 571 عیسویں میں ہوا،جس سےیہ معلوم چلا سرکارمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم کی ولادتِ باسعادت حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السّلام سے پانچ سواکہتر سال بعد میں ہوئی۔
دنیا کی تاریخ
امام حدیث-ابن عساکر نےدنیاکی مجمل تاریخ اس طرح تحریرفرمائی،
۔(1)حضرت سیّدنا آدم علیہ السّلام سےحضرت نوح علیہ السّلام تک ایک ہزار دوسوبرس کا فاصلہ ہوا۔
۔(2)حضرت نوح علیہ السّلام اور حضرت ابراہیم علیہ السّلام کےمابین ایک ہزار ایک سوبیالیس سال کافاصلہ ہوا۔
۔(3)حضرت ابراہیم علیہ السّلام سےحضرت موسیٰ علی نبینا علیہ السّلام تک پانچ سوپینسٹھ برس کا فاصلہ گذرا۔
۔(4)حضرت موسیٰ علیہ السّلام سےحضرت داؤد علیہ السلام تک پانچ سوبہتر سال کا طویل عرصہ گذرا۔
۔(5)حضرت داؤد علیہ السّلام سےحضرت عیسیٰ عَلَی٘ہ السَّلام تک ایک ہزار تین سوچھبیس برس کافاصلہ ہوا۔
۔(6)حضرت عیسیٰ عَلَی٘ہ السَّلام سےمیرےپیارےپیغمبر جناب محمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم تک پانچ ہزاربیس سال کی مدت گذری۔
نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم ابوالبشر سے6 ہزارسال یعنی ساتویں ہزار سال میں کتم عدم سےمنصئہ شہود پرجلوہ افروزہوئے۔
آپ کا اسم گرامی
آسمان دنیامیں احمد اور فرش زمین پر محمد مشہور ہوا۔
آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے آپ ایک عرب کےمشہورومعروف خاندان سےتعلق رکھتے ہیں جسےزمانہ بنوہاشم سےجانتا ہے۔
آپ کی ولادتِ باسعادت سے دنیاروشن ہوگئی،جتنےسوکھے پیڑپودے تھےسب ہرے ہوگئے،موقوف سمندرمیں روانی آگئی، پرندے چہچہانے لگے ، موسم سہانہ ہوگیا،ہوا بھی مشکبارہوگئیں،جنتی حوریں جھوم جھوم کےیہ ترانےگنگنانےلگیں،کہ
طلع البدر علینا،من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا،ماداع للہ داع
والد ماجد کا داغ مفارقت دینا
آپ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم ابھی شکم مادر میں ہی تھے حضرت عبداللّٰہ رضی اللہ عنہ کوان کے والد ماجد حضرت عبدالمطلب نے حکم دیا کہ وہ مدینہ سے کھجوریں لائیں حضرت عبداللّٰہ رضی اللہ عنہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم کوبصورت حمل چھوڑ کرمدینہ منورہ کےلیے رخت سفرباندھا،اوراللہ رب العزت کا کرشمہ دیکھیں وہیں آپ اس فرش گیتی سےمالک حقیقی سےجاملے۔اور آپ دریتیم پیدا ہوئے۔
ایک روایت کےمطابق آپ کے والد ماجد کا وصال تب ہواجب آپ کی عمرشریف سات ماہ کی تھی لیکن زادالمعاد میں ابن قیم نےاس قول کومرجوح قراردیاہے۔(زادالمعاد جلد 1صفحہ 8)۔
اس مضمون کو بھی پڑھیں: کائنات کی سب سے بااثر شخصیت
رضاعت وطفولیت کا دور
سب سے پہلےآپ کو آپ کی والدہ ماجدہ نے دودھ پلایا،پھر چندروزکےبعد یہ موقع ابولہب کی کنیز ثوبیہ کوملی، پھریہ دولت منتقل ہوتا ہوا حلیمہ سعدیہ کی مقدر میں آئی۔
آپ کا سب سے پہلا کلام
آپ صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم کی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی آپ کو دودھ چھڑایا گیا توسب سے پہلا کلام جو آپ کے زبان مبارک سے جاری ہوا ، وہ یہ تھے۔
اللّٰهُ اَكٌبَركَبِيـٌرَا وَالٌحَمٌدُالِلّٰهِ حَمٌدًاكَثِيٌرًا وَسُبٌحَانَ اللّٰهِ بُكٌرَةً وَّاَصِيٌلَا (اخرجہ البیہقی عن عباس کذافی الخصائص جلد1 صفحہ 55)۔
والدہ ماجدہ کا وصال
جب آپ کی عمرشریف چار یاچھ سال کی ہوئی توحضرت آمنہ بنت وہب( رضی اللہ عنھا) آپ کو لیئےمدینہ سےواپس ہو رہی تھی راستےمیں مقام ابواء میں ایک ریت کےٹیلے پر آپ کی طبیعت اچانک ناساز ہوتی ہےاور آپ کوعلم ہواجاتا ہےکہ اب یہ آخری لمحئہ زندگانی ہے،سیدہ نے اپنےبیٹےمحمد صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم کےسرپردست شفقت پھیرا
اور فرمایا کہ بیٹا ہرنئی چیزپرانی ہوجائےگی، اورہرباقی فانی ہو جائے گی وذکرباق وولدت طہرا لیکن میراذکر نہیں مٹےگا،اس لیے کہ تیرے جیسا ستھرا بیٹاچھوڑ کےجا رہی ہوں،یہ آخری کلمات تھے سیدہ کہ اس کے بعد سیدہ اپنےخالق سےملاقات کےلیےروانہ ہوجاتیں ہیں، نبی ﷺ اپنی والدہ کو کہتے ہیں بولیئے مگر کیا کریں بولتا ہوا چمن خاموش ہوگیا، لہلہاتا چمن سوکھ گیا، پھرسرکارنے وہیں تہجیز و تدفین کی، آپ یتیم الطرفین بن کےام ایمن کے ساتھ مکہ تشریف لائے۔
کفالت حضور
پھرآپ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم داداکی کفالت میں آئے ابھی دوسال کاعرصہ گذرا نہیں تھاکہ پھرایک سائیباں سرسےغائب ہوگیا، پھرچچاکی کفالت میں آئےایک وقت ایسا آیا کہ وہ بھی داغ مفارقت دے گیے،اوراسی سال آپ کی شریک حیات ام المومینین کا بھی وصال ہوگیا اس سال کا نام عام الحزن دکھوں کا سال رکھا۔
آپ کی ازواج مطہرات
۔(1)حضرت خدیجہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا
۔(2)حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا
۔(3)حضرت عائشہ صدیقہ رضہ اللہُ تعالیٰ عنہا
۔(4)حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
۔(5)حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
۔(6)حضرت ام سلمہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا
۔(7)حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالٰی عنہا
۔(8)حضرت جویریہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
۔(9) حضرت ام حبیبہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا
۔(10)حضرت ام صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
۔(11) حضرت میمونہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا
یہ گیارہ ازواج ہیں!۔
ان گیارہ ازواج میں سے دو آپ صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم کی حیات میں ہی وفات پاگئیں تھیں جن میں حضرت خدیجتہ الکبری بھی شامل ہیں۔
باقی نو آپ کی وفات کے وقت موجود تھیں۔۔۔واللہ اعلم
ازقلم َ: واثق علی رشیدی عرفانی
تاراباڑی پورنوی
ONLINE SHOPPING
گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع
نوٹ :افکار رضا کے تمام مضامین اب گوگل ایپ کے ذریعے بھی پڑھ سکتے ہیں پلے اسٹور سے ضرور ایپ ڈاؤن لوڈ کریں لنک نیچے ہے