Home شخصیات اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت

0
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت

از قلم: غلام جیلانی مرکزی اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت

اسلامی احکام کاایک بنیادی اور اہم ترین ماخذ اورادلۂ اربعہ میں سے کتاب اللہ کے بعد دوسری دلیل حدیث رسول اللہ ہے۔ اہلِ اسلام جہاں قرآنِ کریم سے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں وہیں شمعِ حدیث سے بھی نورِ ہدایت پاتے ہیں کہ گمراہی سے بچنے کے لیے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے جو دو نسخے عطا ہوئے ہیں ان میں سے ایک سنّت مبارکہ ہے جس کے جاننے کا ذریعہ احادیثِ مبارکہ ہی ہیں جیساکہ ہادی برحق،علیم وخبیر آقا ﷺ نے فرمایا ” تحقیق میں تم لوگوں میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک انہیں تھامے رکھو گے گمراہ نہ ہوگے (پہلی) اللہ کی کتاب ا ور (دوسری) میری سنّت(مشکٰوۃ المصابیح حدیث : 186)۔

ایک فقیہ و مفتی کے لیے جیسے قرآن کریم کے مفاہیم اور معانی پر مطلع ہونا ضروری ہے ویسے ہی احادیثِ طیبات پر آگاہی بھی لازم وضروری ہے ـ ماضی قریب کی عظیم روحانی ، علمی اور انقلابی شخصیت، مجدددین و ملت، امام اہل سنت سیدی سرکاراعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان نےجن جن موضوعات پر اپنی مایہ ناز تحقیقات اور گراں قدر تخلیقات پیش کی ہیں اُن ہی میں سے ایک علم حدیث بھی ہےجس میں آپ کو عظیم مقام و مرتبہ حاصل تھا، احادیث کریمہ کا ایک بحر بیکراں آپ کے سینہ میں موجزن تھا ۔ علم حدیث اورحفظ حدیث میں آپ کوجومقام حاصل تھااسے سمجھنےکےلیے یہ شعرکافی ہےشعر:۔

ان کی حدیث دانی کاعالم نہ پوچھیے لگتا ہے

گویا روح بخاری رضا میں ہے


امام اہل سنت، عاشق رسول اعظم، جہاں مجدد اعظم، فقیہ اعظم تھے وہیں ماضی قریب کے محدث اعظم بھی تھے، جس موضوع پر بھی آپ کا قلم اٹھتا اسلامی افکار و نظریات کی حمایت اور کفر وگمرہی کی تردید میں قرآن کریم سےاستدلال کےبعد احادیث کریمہ کا اتنا انبار لگا دیتے کہ پڑھنے والا موافق ہو تو اس کا کلیجہ ٹھنڈا اور آنکھیں روشن ہوں اور مخالف ہو تو زبان گونگی اور دل ماننے پر مجبور ہوجائے چند مثالیں ملاحظہ کیجئے :۔

۔۱) حضرت حاجی امداداللہ صاحب مہاجرمکی علیہ الرحمہ کے خلیفہ مولانا کرامت اللہ صاحب نے دہلی باڑہ ہندو رائے سے ۳۱۱ھ میں ایک استفتاء اس مضمون کا بھیجا کہ زید درود تاج وغیرہ پڑھنے کو شرک وبدعت کہتاہے کیوں کہ اس میں حضور سید عالم ﷺ کو ’’دافع البلا ء والوباء ‘‘ وغیرہ کہا گیا ہے جو کھلا شرک ہے العیاذ باللہ ۔

یہ پڑھ کر کلک رضا حرکت میں آ یا اور حضور کے دافع بلاء اور صا حب عطا ہونے کو تین سَو احادیث کریمہ کے ذریعہ ثابت فرماکر وہابیہ کے خود ساختہ شرک کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا اورایساجواب عطافرمایاکہ ایک مستقل رسالہ کی صورت اختیارکرگیا جو ’’ الامن والعلی‘‘ کےنام سےمشہورہے ۔(۲۲جلدوں والی فتاوی رضویہ میں یہ رسالہ ۱۹ ویں جلد میں اور ۳۰ جلدوں والی میں ۳۰ ویں جلد کے نصف اول میں موجود ہے صاحب طلب وہاں رجوع کرسکتے ہیں )۔

۔(۲) حضور نبی کریم علیہ الصَّلٰوۃ والتَّسلیم کو بےشمار دیگر فضائل کے ساتھ یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ خاتَم المرسلین و النبیین ہیں ، سیّدی اعلیٰ حضرت نے جب منکرینِ ختمِ نبوت بالخصوص مرزاقادیانی کی جعل سازیوں اور فتنوں کی بیخ کُنی کا ارادہ فرمایا تو اس موضوع پر “ جَزَآءُاللہِ عَدُوَّہٗ بِاِبَآئِہٖ خَتْمَ النُّبُوَّۃ “ نامی تصنیف رقم فرمائی جس میں دیگر دلائل کے علاوہ ایک سو اکیس احادیثِ طیبات بھی درج ہیں۔

۔(۳) سیّدی اعلیٰ حضرت کے استادِ گرامی حضرت مولانا غلام قادر بیگ رحمۃ اللہ علیہ کی معرفت اعلیٰ حضرت کے پاس ایک سُوال آیا کہ بعض لوگ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے افضلُ الْمُرسلین ہونے کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قراٰن و حدیث سے دلیل لاؤ ، اس کے جواب میں سیّدی اعلیٰ حضرت نے فرمایا : حُضور پُرنور سیّدُالمرسلین ﷺ کا افضلُ الْمُرسلین سیّدُالاَوّلین و الآخرین ہونا قطعی ، ایمانی ، اِجماعی ، اِیقانی مسئلہ ہے جس میں خلاف نہ کرے گا مگر گمراہ بددین بندۂ شیاطین۔ پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ کو ۱۰۰ احادیث کے ذریعے روشن و واضح فرمایا اور اس تصنیف کا نام “ تَجَلِّی الْیَقِیْن بِاَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن “ رکھا۔

۔(4) آپ سےسوال ہواکہ جمعہ کے دن اذان ثانی کہاں ہو ؟ امام احمد رضا محدث بریلوی نے جواب دیا کہ اذان مطلقاً اندورن مسجد مکروہ ہے۔ لہذا اذان اول ہو یا ثانی بیرون مسجد ہی ہوگی، اس کے ثبوت میں ایک کتاب ’’شَمائم العنبرفِی اداب النداءِاَمام المنبر ‘‘ نامی عربی زبان میں تحریر فرماگیےجس میں 45؍احادیث مبارکہ ذکرفرماکرہمیشہ کےلیےسائل کی تشنگی بجھادی ہے۔(یہ رسالہ ۲۲جلدوں والی فتاوی رضویہ میں چَھٹی جلدمیں اور۳۰ جلدوں والی میں ۲۸ویں جلد میں موجودہے)۔
افسوس ہے ان لوگوں پر جو آپ کے اس رسالہ کوپڑھ کریااس جواب کےحصول کے بعد بھی ہٹ دھرمی پہ تُلے ہیں اور اندرون مسجد اذان ثانی دلوارہے ہیں اللہ تعالی حق قبول کرنے کی توفیق عطافرماے۔

۔(۵) شریعتِ اسلامیہ میں غَیرُاللہ کے لیے سجدۂ تعظیمی ناجائز ہے خود حدیثِ مبارکہ سے اس کی ممانعت ثابت و واضح ہے ، اس موضوع پر جب خامۂ رضویہ احادیث ذکر کرتے ہوئے جوش پر آتا ہے تو پوری اربعین تیار ہوجاتی ہے جس کا نام “ اَلزُّبْدَۃُ الزَّکِیَّۃ لِتَحْرِیْمِ سُجُوْدِ التَّحِیَّۃ“ ہے۔اس کے علاوہ مختلف مقامات پرداڑھی کی ضرورت و اہمیت پر۵٦ احادیث ، والدین کے حقوق پر ۹۱ احادیث اور تصویر کے ناجائز ہونے پر ۲۷ احادیث بطورِ دلیل ذکر فرماگئیں، بایں طورآپ نےچہل حدیث کاایک ذخیرہ عوام اہل سنت کوعطا فرمادیا جس کی اہمیت وفضیلت اپنی جگہ مسلم ہے (بہت سے محدثین ، علما، ائمہ نے چہل حدیث لکھ کراپنےآپ کوفیض یاب کیا ہے) ۔

اربعینات کے علاوہ دیکھا جائے تو محدث بریلوی نےمختلف فتاویٰ میں اپنی تائید میں بعض اوقات درجنوں احادیث ذکر فرمایاہے جو کہ ذخیرۂ احادیث پر آپ کی علمی مہارت کا روشن ثبوت ہےیہ چند مثالیں تو حفظ حدیث پر تھیں علم اصول حدیث پر آپ نےجوکارہائے نمایاانجام دیاہےوہ بھی آب زرسےلکھنے کےلائق ہے، طوالت کےخوف سے میں فقط کتاب ”الھادالکاف فی حکم الضعاف“ کاذکرکرتاہوں جوکہ مرکزالدراسات الاسلامیہ جامعۃالرضا بریلی شریف میں درجۂ فضیلت کے نصاب میں شامل ہے(الحمدللہ اِس ناچیزراقم کوزمانۂ طالب علمی میں ہی اس کتاب کوپڑھنے کا شرف حاصل ہے)۔

یہ وہ کتاب ہے جس کی تعریف کرنےمیں عالم اسلام کی عظیم یونیورسیٹی جامعہ ازہرمصر کے استاد حدیث کےساتھ دیگراساتذہ بھی شامل ہیں ، اس کتاب میں آپ نے اصول حدیث کےگوہرنایاب بکھیرکر یہ ثابت فرمایاہے کہ کسی حدیث کے بارے میں محدثین کرام کا”لایصح“ کہنا اُس حدیث کو ضعیف نہیں کرتا، کیوں کہ یہ عبارت صحیح کے علاوہ حسن لذاتہ، حسن لغیرہ اور ضعیف کی دونوں قسموں کو شامل ہے؛ لہذا حدیث کے متعلق صحت کی نفی سے حدیث کے حَسَن یا خفیف ضعیف کی نفی کو مستلزم نہیں۔ اسی طرح مصطلح حدیث کے قضایا کے متعلق شرح و بسط کے ساتھ کلام کرتے ہوئےاپنے موقف کی تائید میں ائمہ علم حدیث کے کلام کوبھی پیش فرمایا ہے۔

اس پوری کتاب میں ایسی گفتگو ہے جو آپ کو صرف اسی کتاب میں ملے گی جس کی طرف محدث بریلوی نے بھی ”خذھذا“ سےاشارہ فرمایاہےعلم حدیث اوراصول علم حدیث پرآپ کے کارناموں کو دیکھتے ہوئے مولانا عبد المجتبیٰ رضوی بھی اپنےآپ کونہ روک سکےاوران کو تحریر کرنا پڑا ۔

میں پورے وثوق و اعتماد کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ اس دور کے بڑے بڑے محدثین اور ارباب علم و فن بھی اگر انصاف و دیانت کے ساتھ ان تحقیقات عالیہ اور اس وسعت مطالعہ کو دیکھ پائیں تو اپنا سارا دعوائے فضل وکمال بھول کر محدث اکبر امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے تلمذ و شاگردی کو اپنی عین سعادت سمجھیں۔(تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ صفحہ 412)۔

مفتی ازہاراحمدامجدی فاضل جامعہ ازہرمصرکی تحریرسےاپنی تحریرمکمل کرتاہوں اُنہوں نے اعلی حضرت کی حدیث دانی اور اصول حدیث پر اُن کی نگاہ کا تحقیقی جائزہ پیش کیاہے جس کے آخر میں آپ لکھتےہیں کہ ”راقم الحروف کی اتنی گفتگو سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ اصول حدیث میں اعلی حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ یگانہ روزگار تھے، علم حدیث میں آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی، اعلی حضرت محدث بریلوی رحمہ اللہ کے متعلق مذکورہ بالا اقوال علماے فن کےہیں

آپ کی تحقیقی افکار و نظریات اور کتب فن علم حدیث کے باوجود بھی اگر کوئی شخص اعلی حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کی حدیث دانی اور آپ کی علم حدیث میں مہارت کا انکار کرے یا شک و شبہ کی گنجائش رکھے؛ تو اس میں ہمارے ممدوح مکرم کا کوئی قصور نہیں بلکہ اس شخص کے دل و دماغ اورآنکھ کا قصور ہے جو اپنے تعصب و تعنت یا جہالت کی وجہ سے حق بجانب چڑھتے ہوئے سورج کو سلامی پیش کرنے اور اس کی بلندی کا اعتراف کرنے سے قاصر یا گریز کر نے کی کوشش کر رہا ہے ۔

دیدۂ کور کو کیاآئےنظر کیا دیکھے“عالم اسلام کا یہ آفتابِ درخشندہ مؤرخہ ۲۵؍ صفر المظفر 1340ھ مطابق ۱۹۲۱ء بوقت نماز جمعہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔ مزارِ پاک محلہ سودا گران بریلی شریف میں ہے۔ ہرسال ۲۵؍ صفر کو آپ کا عرس شریف منایا جاتا ہے

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی
خورشید علم ان کا درخشاں ہے آج بھی
سب ان سےجلنے والوں کے گل ہوگئے چراغ
احمدرضا کی شمع فروزاں ہے آج بھی

تحریر : غلام جیلانی مرکزی ( منیجنگ مدیر افکار رضا)۔
خطیب وامام مسجداہل قریش مومن پورہ گلبرگہ و سرپرست مجلسِ محبانِ اسلام گلبرگہ

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کی محدثانہ بصیرت

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here