رشحات قلم: مفتی خبیب القادری حسین اور حسینیوں پر یزید خبیث کا ظلم و ستم
حسین اور حسینیوں پر یزید خبیث کا ظلم و ستم
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پہلے خلیفہ اور جانشین بنے ان کے بعد حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ خلیفۂ دوم مقرر ہوئے ان کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے ان کے بعد حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں نے چوتھا خلیفہ تسلیم کیا
اس دوران حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ اختلاف ہوا اور پھر معاملہ بہتر ہوگیا 19 رمضان المبارک 40 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ان کے بعد لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کرلیا ادھر حضرت امیر معاویہ طویل عرصے سے شام کے گورنر تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد انہوں نے بھی خلافت کا اعلان کیا کچھ عرصہ تو اختلاف رہا۔
اور پھر 6 ماہ بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سے معزولی کا اعلان کر دیا حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا جس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بعد اپنے خاندان میں خلافت منتقل نہیں کریں گے بلکہ شوری کے ذریعے انتخاب ہوگا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہٗ پچھلے بیس سال سے یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے شام کے گورنر تھے اور اب وہ عالم اسلام کے متفقہ خلیفہ بن گئے مسلمانوں کےدرمیان جاری رسہ کشی کا بھی خاتمہ ہوگیا۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عالم اسلام کی بہتری کے لیے کئی اہم تاریخی کارنامے انجام دیۓ ؛انہوں نے بحری بیڑا فوج تشکیل دی؛اسی طرح سمندری فوج تشکیل دینے والے وہ پہلے خلیفہ ہیں؛انہوں نے قسطنطنیہ پربھی حملہ کیا اسی جنگ میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بھی شہید ہو گئے اور انہیں وہیں دفن کر دیا گیا آج بھی ان کی قبر انور استنبول (ترکی)میں موجود ہے؛اپریل 680 عیسوی میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوگیا
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد یزید خبیث تخت پر بیٹھ گیا اور اپنی بیعت کا اعلان کردیا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا اسی طرح حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی انکار کیا اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی انکار کیا اس لیے کہ یزید فاسق ؛فاجر؛زانی؛ شرابی ؛تارک نماز اور نااہل تھا
جیسے ہی یزید کو پتہ چلا کہ حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے بیعت سے انکار کر دیا ہے تو اس نے فورا عبیداللہ بن زیاد کے ذریعے زبردستی بیعت کرانے کا حکم جاری کردیا
ادھر کوفہ والوں نے حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے تقریبا 18 ہزار خطوط لکھے جن کا خلاصہ یہ تھا آپ نواسہ رسول ہیں آپ ہم میں تشریف لائیے ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ہم یزید کو اپنا خلیفہ ہرگز تسلیم نہیں کرتے
الغرض
حسین رضی اللہ تعالی عنہ 72 جانثاروں اور 19 اہل بیت کے ساتھ کوفہ روانہ ہوئے اس قافلے میں حضرت امام حسین کے تین صاحبزادے حضرت علی اوسط( زین العابدین) حضرت علی اکبر حضرت علی اصغر اور ایک صاحبزادی حضرت سکینہ رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے اور آپ کی دو بیویاں حضرت شہر بانو دوسری علی اصغر کی ماں رضی اللہ عنھن۔
اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے چار نوجوان صاحبزادے حضرت قاسم حضرت عبداللہ حضرت عمر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنھم آپ کے ہمراہ تھے جو کربلا میں شہید ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے پانچ فرزند حضرت عباس بن علی حضرت عثمان بن علی حضرت عبداللہ بن علی حضرت محمد بن علی حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے سب نے شہادت پائی۔
اور حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کے فرزندوں میں حضرت مسلم رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی شہادت پالی تھی تین اور فرزند تھے حضرت عبداللہ بن عقیل حضرت عبدالرحمن بن عقیل حضرت جعفر بن عقیل رضی اللہ عنھم ہمراہ تھے سب نے شہادت پائی حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ کے دو پوتے حضرت محمد بن عبداللہ حضرت عون بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی تھے دونوں نے شہادت پائی صاحبزادگان اہل بیت میں سے کل 17 نے شھادت پائی
حضرت امام زین العابدین اور حضرت عمر بن حسن محمد بن عمر بن علی اور دوسرے کم عمر صاحبزادے قیدی بنائے گئے رضی اللہ عنھم
کربلا کی شہادت سے مدینہ کے لوگوں میں غصہ بھڑک اٹھا اور انہوں نے یزید خبیث کی بیعت کو توڑ دیا
یزید خبیث بہت غصہ میں ہوگیا اس نے مدینہ اور باشندگان مدینہ پر بیس ہزارفوج حملہ کرنے کے لیے بھیجی
اس فوج نے 1700 سو مہاجرین و انصار صحابہ و تابعین کو شہید کردیا رضی اللہ عنھم
۔700 سو حافظ قرآن کو شہید کردیا 97 سرداروں کو اور دس ہزار مرد وزن اور بچوں کو قتل کر دیا
اور ایک ہزار مدینے کی باعزت عورتوں کے ساتھ زنا بالجبر کرایا جس کے نتیجے میں ایک ہزار عورتوں کے بطن سے ناجائز اولادیں پیدا ہوئیں
مسجد نبوی کے مقدس ستونوں سے گھوڑے باندھے کئی روز تک مسجد نبوی کتوں بلیوں اور گھوڑوں کی لید سے آلودہ رہی یزیدی فوج گھروں میں گھس گئی سارا مال و اسباب لوٹ لیا اور بے انتہا ظلم و جبر کیا: یزیدی فوج جب مدینہ منورہ پر ظلم سے فارغ ہوئی تو مکہ مکرمہ کی طرف گئی اور مکہ مکرمہ میں اس طرح ظلم کیا کہ خانہ کعبہ کے غلاف کو جلا دیا؛خانہ کعبہ کی چھت کو گرا دیا ؛مسجد حرام کے ستونوں کو شہید کردیا ۔
بیت اللہ شریف کے دروازے کا پردہ نکال کر جلا دیا ؛حرم کے باہر سے حرم کے اندر گولے بارود برسائے ؛حجر اسود ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا؛ حرم کے دروازے توڑ کر فوج حرم میں داخل ہوئی اور عین حرم شریف میں خلیفہ وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا غرض یہ کہ سینکڑوں لوگوں کو حرم میں شہید کیا گیا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے وقت جو مینڈا جنت سے فدیہ کے طور پر آیا تھا اس کے سینگ کعبہ کی چھت میں رکھے تھے وہ بھی جلا دیئے شامی یزیدیوں نے منجنیق کے ذریعہ اس قدر پتھر برسائے کہ خانہ کعبہ کے احاطے میں پتھروں کے ڈھیر لگ گئے( تاریخ طبری وغیرہ)۔
ان 72 جانثاروں کے نام جو کربلا میں شہید ہوئے مندرجہ ذیل ہیں
۔1 حضرت امام حسین
۔2 حضرت عباس بن علی
۔3 حضرت علی اکبر بن حسین
۔4 حضرت علی اصغر بن حسین
۔5 حضرت عبداللہ بن علی
۔6 حضرت جعفر بن علی
۔7 حضرت عثمان بن علی
۔8 حضرت ابوبکر بن علی
۔9 حضرت ابوبکر بن حسن بن علی
۔10 حضرت قاسم بن حسن بن علی
۔11 حضرت عبداللہ بن حسن
۔12 حضرت عون بن عبداللہ بن جعفر
۔13 حضرت محمد بن عبداللہ بن جعفر
۔14 حضرت عبداللہ بن مسلم بن عقیل
۔15 حضرت محمد بن مسلم
۔16 حضرت محمد بن سعید بن عقیل
۔17 حضرت عبدالرحمن بن عقیل
۔18 حضرت جعفر بن عقیل
۔19 حضرت حبیب ابن مظاہر اسدی
۔20حضرت أنس بن حارث اسدی
۔21 حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی
۔22 حضرت قیس بن عشر اسدی
۔23 حضرت ابو ثمامہ بن عبداللہ
۔24 حضرت بریر ہمدانی
۔25 حضرت ہنزلہ بن اسد
۔26 حضرت عابس شاکری
۔27 حضرت عبدالرحمن رہبی
۔28 حضرت سیف بن حارث
۔29 حضرت عامر بن عبداللہ ہمدانی
۔30 حضرت جندا بن حارث
۔31 حضرت شوذب بن عبداللہ
۔32 حضرت نافع بن حلال
۔33 حضرت حجاج بن مسروق مؤذن
۔34 حضرت عمر بن کرضہ
۔35 حضرت عبدالرحمن بن عبد رب
۔36 حضرت جندا بن کعب
۔37 حضرت عامر بن جندا
۔38 حضرت نعیم بن عجلان
۔39 حضرت سعد بن حارث
۔40 حضرت زہیر بن قین
۔41 حضرت سلمان بن مضارب
۔42 حضرت سعید بن عمر
۔43 حضرت عبداللہ بن بشیر
۔44 حضرت وھب کلبی
۔45 حضرت حرب بن عمر-شیخ الاسلام قیس
۔46 حضرت ظہیر بن عامر
۔47 حضرت بشیر بن عامر
۔48 حضرت عبداللہ ارواح غفاری
۔49 حضرت جون غلام ابوذر غفاری
۔50 حضرت عبداللہ بن امیر
۔51 حضرت عبداللہ بن یزید
۔52 حضرت سلیم بن امیر
۔53 حضرت قاسم بن حبیب
۔54 حضرت زید بن سلیم
۔55 حضرت نعمان بن عمر
۔56 حضرت یزید بن سبیت
۔57 حضرت عامر بن مسلم
۔58 حضرت سیف بن مالک
۔59 حضرت جابر بن حجاج
۔60 حضرت مسعود بن حجاج
۔61 حضرت عبدالرحمن بن مسعود
۔62 حضرت بیکر بن حئ
۔63 حضرت عمار بن حسن تائی
۔64حضرت زرغامہ بن مالک
۔65 حضرت کینانہ بن عتیق
۔66 حضرت عقبہ بن سولت
۔67 حضرت حر بن یزید تمیمی
۔68 حضرت عقبہ بن سولت
۔69 حضرت حبلہ بن علی شیبنی
۔70 حضرت کنب بن عمر.
۔71 حضرت عبداللہ بن یکتیر
۔72 حضرت اسلم غلام ای ترکی رضوان الله تعالى عليهـم اجمعین
تحریر: مفتی خبیب القادری مدنا پوری
بریلی شریف یوپی
7247863786
ONLINE SHOPPING
گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع