از قلم: محمد مجیب احمد فیضی, بلرامپوری مسلمان کو یا رب مسلمان بنا دے
مسلمان کو یا رب مسلمان بنا دے
ہر سال کی طرح اس سال بھی بقر عید رب کی طرف سے انعام واکرام کی شکل میں محبتوں و مسرتوں کا پیغام لائ اور گزر بھی گئی اس لئے کہ وقت کبھی رکتا نہیں وہ غیر مستقر ہوتا ہے۔ اس کے اندر ٹہراؤ نہیں ہوتا۔
اور شاید اسی لئے فلسفیوں نے زمانہ کی تعریف غیر قارۃ مقدار للحرکۃ سے کی ہے۔حالات جیسے بھی رہیں۔ وہ تو ہمیشہ اپنے اوقات میں فرزندان توحید کیلئے امن شانتی کا سوغات پیش کرتی رہے گی۔ لیکن آپ نے کبھی سوچا ؟ اور آپ سوچ بھی کہاں سکتے ہیں? کیوں کہ اس دن تو اکثر لوگوں کی ساری توجہ اس مخصوص دن کی خاص ڈشوں پر مبذول ہوتی ہے۔
ساری توجہ مشروبات ومطعومات پر ہونے کے ساتھ لحم مشوی پر ہوتی ہے معاف کیجئے گا جملہ تلخ ہے لیکن حقیقت پرایسا مسلم ہے کہ اس کے حقائق سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا میری اپیل قوم کے ان فرزندان سے ہے جو آپسی نفرتوں کدورتوں واختلافات کی بھٹیوں میں اپنے آپ کو سلگنا تو دیکھ اور گوارا کر سکتے ہیںبغض ,حسد ,کینہ ,عداوت, پھوٹ, جیسے اوصاف مذمومہ کو بڑھاوا تو دے سکتے ہیں لیکن ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا چہرہ تک دیکھنا گوارہ نہیں کرسکتے چہ جائے کہ ملاقات۔
کبھی آپ نے سوچا میرے بھائی تم کہاں تھے اور کہاں پہونچ گئے۔ ہماری فکر کیا تھی؟ اور اب کیا ہو گئی؟کس لیے بھیجا گیا تھا؟ اور ہم کر کیا رہے ہیںَ؟ ہمارا مذہبی فریضہ کیا ہے؟اور ہم انجام کیا دے رہے ہیں؟اسلام کا اس معاملے میں تصور کیا ہے؟ اور ہم بڑھاوا کس چیز کو دے رہے ہیں؟ہم مثبت پہلو چھوڑ کر منفی پہلوؤں کو بڑھاوا کیوں دے رہے ہیں؟ آپ کی سماعتوں کی دہلیز پر یہ چند ایسے سوالات ہیں جس پر آپ کو غور وخوض کرنا ہوگا فکر کرنی ہوگی اپنے آپ کواسلامی تحفظ وتشخص کے ساتھ زمانے کے ساتھ بدلنا ہوگا اپنی سوچ بلند کرنی ہوگی ۔اپنی فکر کشادہ اور بڑھانی ہوگی۔
اندھیروں سے نکل کر اجالوں میں آنا ہوگا۔وحشت وبربریت کو چھوڑ کر امن وسکون کو گلے لگانا ہوگا۔محبتوں کی بتی پھر سے جلانی ہوگی۔گرتے ہوؤں کو تنفر کے قعر عمیق میں ڈھکیلنے کے بجائے ان کو گلے لگانا ہوگا۔آپسی کدورتوں کو مٹاکر الفتوں کے چراغ کو روشن کرنا ہوگا۔ریاکاری کو پس پشت ڈال کر رب کی رضا وخوش نودی خاطر خلوص کو جنم دینا ہوگا۔
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہونچے
اس خوب صورت اور منفردالمثال پیغام کو دور دور تک ارسال کرنا ہوگا۔ ایک دور تھا جب ہم اس کی ہم عملی تفسیر ہوا کرتےتھے۔اپنے اپنے تو اپنے ہیں پرائے بھی اس سے خوب خوب فائدہ اٹھایا کرتے تھے۔لیکن پتہ نہیں انہیں کس کی نظر لگ گئی۔
حدیث پاک میں پیغمبر اسلام حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : “کسی مسلمان کے لیے یہ روا نہیں ہے کہ اپنے مسلمان بھائ کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے “یعنی (بات چیت بند رکھے) [الحدیث] ۔
آپ اپنی ادنی سی توجہ اس فرمان مصطفوی کی جانب تھوڑی سی مبذول کریں ایک کلمہ گو یعنی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائ کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔اور آج کے نام نہاد مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ آپسی تھوڑی بہت رنجس کو لے کرایک ہی گاوں کے ایک ہی محلے میں رہ کر عمریں گزار دیتے ہیں لیکن بات چیت نہیں کرتے ۔
ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والی یہ قوم فرامین مصطفوی ﷺ کو بھول کر اتنی پستی میں چلی جائے گی ,اتنا گر جائے گی یہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔سوچنے کا مقام ہے کف افسوس ملنے کا مقام ہے!!۔
کیا یہی ہے اسلامی تعلیمات؟ کیا یہی ہیں اسلام کے اصول وضوابط؟ کیا ایک مسلمان کا یہی کام ہے؟صحیح کہا تھا کسی موقع پر شاعر مشرق ڈاکٹر” اقبال” نے آہ————- اسلام ترے چاہنے والے نہ رہے جن کا تو چاند تھا افسوس وہ ہالے نہ رہے
اور موجودہ دور کے فقط نامی مسلمانوں کی اس غیر شرعی رویے کو دیکھ کر کسی عاشق زار نے صحیح صحیح عکاسی کیا تھا کہ
مسلماں کو یارب مسلماں بنا دے
مسلماں کو پھر اہل ایماں بنا ے
اس کتاب کو خریدنے کے لیے کلک کریں
موجودہ دور کے مسلمانوں کی حالت اسلامی نقطۂ نظر سے ناگفتہ بہ ہونے کے ساتھ لائق افسوس ہے۔عملی میدان میں اگر ان کے احوال کا سرسری جائزہ لیا جائے تو ایک دم کورا اذان ہو رہی ہے بجائے خانۂ خدا کی طرف آنے کے ہوٹلوں کی جانب جاتے ہوئے دکھتے ہیں۔
انہوں نے مساجد کم ہوٹلیں زیادہ آباد کی ہیں۔ جھوٹ سے لے کر زنا جیسی فعل بد تک ایسا کوئی گناہ نہیں ایسا کوئی جرم نہیں جس کو انجام دینے میں شرم محسوس کرے۔اور تو اور ہے اغیار ہمارے اس زبوں حالی اور خستہ حالی پر خوش ہیں۔
بات بات پر ہمیں تنقیدانہ انداز میں دیکھتے ہیں ۔ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔غور کرنے کا مقام ہے!!جس قوم نے پوری دنیا کو اپنے حسین کارناموں میں تعجب کرنے پرمجبور کیا تھا اس زمیں کو سیراب کیا تھا آج وہی تشنہ لبی کے شکار ایسا کیوں؟جس قوم نے پوری دنیا کو تہذیب وتمدن سکھایا آج وہ غیر متمدن وغیرمہذب کیوں؟۔
آج سے بہت پہلے قوم کے رہ نماؤں نے ہماری حالات کا اندازہ لگایا اس کو مختلف طریقۂ کار سے سدھارنے کی بھر پور کوشش بھی کی یہ اور بات ہے کہ مکمل کام یابی نہ ملی۔اب جب حالات بد سے بدتر اور ناقابل ںیاں ہو چکے ہیں تو ہمیں کم ازکم اب تو ان اسباب پر غور کرنا چاہئیے جس کی وجہ سے ہم ذلت ورسوائ سے محفوظ ومامون ہو سکیں۔
اگر خود کو اللہ رب العزت کے غضب سے بچانا ہے تو ہمیں قرآن وسنت کی پیروی کرنی ہوگی اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات کی حیثیت سے اپنے دل ودماغ میں جگہ دینی ہوگی اور اسے اپنے روز مرہ کی زندگی میں عملی جامہ پہنانا ہوگا اور جہاد فی سبیل اللہ کی راہ اختیار کرنی ہوگی۔
تحریر : محمد مجیب احمد فیضی بلرام پوری
سابق استاذ/دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف
رابطہ نمبر:8115775832
اس کو پڑھیں : ہمارے لیے آئیڈیل کون ہیں؟۔
ONLINE SHOPPING
گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع