تعزیت نامہ
اتر گئے منزلوں کے چہرے امیر کارواں گیاہے
کئی دماغوں کا ایک انساں میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
نہایت ہی رنج و غم کے ساتھ یہ خبر پڑھی اور سنی جارہی ہے کہ خلیفہ حضورمفتی اعظم ہند ، شیخ طریقت اشرف الفقہاء استاذالعلماء منبع رشد و ہدایت حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی مجیب اشرف صاحب رضوی اعظمی ثم ناگپوری علیہ الرحمہ شیخ الحدیث دارالعلوم امجدیہ ناگپور کا 15 /ذی الحجہ 1441 ہجری 6/اگست 2020 بروز جمعرات کو صبح دس بج کر چالیس منٹ پر حضرت علیہ الرحمہ کے اپنے گھر پہ وصال ہوگیا ہے
انا للہ و انا الیہ راجعون
اتنی باوقار جلیل الشان ذات ہم اہل سنت کے درمیان سے رخصت ہوئی جن کا مقام جہان سنیت میں مضبوط و مستحکم رہنما کی شکل میں تھی.بیدار مغز خطیب ,اعلی علم وعمل کے شیخ طریقت،حاضر جواب لاجواب متکلم , اونچی شان والے مفتی دین , ہرمحاذ پہ بہت ہی عمدہ کردار واطوار کے مالک ،بڑھ چڑھ کر اہل سنت کی نمائندگی کرنے والے، تبلیغی اسفار کثیر مصروفیات کے باوجود تصنیف و تالیف کا انمول ذخیرہ، درجنوں مساجد و مدارس کے سرپرست و نگراں , قوم وملت کے مصلح و بہی خواہ
مختصر یہ کہ حضرت علیہ الرحمہ نے حیات کے ہر سانس کو قوم و ملت کی خدمات کیلئے وقف کررکھی تھی حضرت علیہ الرحمہ سے دو مرتبہ ملاقات کاشرف رہا اعلی اخلاق کے حامل، اشاعت سنیت میں سرشار ,متبع شریعت و سنت نظرآئے، آپ کے انتقال سے پوری سنیت سوگوار ہوگئی اور جماعت اہل سنت کے افراد بہت بڑے صاحب علم وفضل سے محروم ہوگئے
اہل سنت کے ایک نمایاں سرگرم شخصیت کا رخصت ہونا باعثِ رنج و ملال اورایک علمی عہد کا خاتمہ اور بہت بڑا علمی خلاء ہے- جس کا بظاہر پر ہونا نظر نہیں آتا. حضرت علیہ الرحمہ کے وصال کے صدمے سے نہ یہ کہ جامعہ امجدیہ سے منسلک افراد اور ان کے اہل خانہ ,تلامذہ ,مریدین متاثر ہوئے بلکہ اہل سنت کے تمام ادارے جامعات، مدارس اور ان کی زندگی کے کارہائے نمایاں،ملک و بیرون ملک میں دینی خدمات میں مصروف بیشمار افراد متاثر ہوئے
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کائنات کے طبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ وسلم کے صدقہ وطفیل پسماندگان ,تلامذہ، مریدین،معتقدین کو صبر جمیل اجرجزیل عطافرمائے اور آپ کا نعم البدل جماعت اہل سنت کو عطافرمائے. آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ و سلم
شرکاے غم
گدااہنے کریم کامحمد شاکرالقادری فیضی
(خلیفہ حضور تاج الشریعہ )خادم دارالافتاء فیضان تاج الشریعہ اودےپور راجستھان
خادم مشن قطبِ اعظم ماریشس و افریقہ و خلیفہ مجاز حضور تاج الشریعہ
محمد غفران رضا قادری رضوی
بانی دارالعلوم رضاےمصطفےٰ خوشتر و جامعہ رضاے فاطمہ
قصبہ سوار ضلع رامپور انڈیا
