Home شخصیات مولانا اشرف رضا اشرف

مولانا اشرف رضا اشرف

0
مولانا اشرف رضا اشرف
مولانا اشرف رضا اشرف

از قلم آصف جمیل امجدی مولانا اشرف رضا اشرف کا عروج اقبال دنیائے شعریت میں۔

مولانا اشرف رضا اشرف


 لک الحمد یا اللہ والصلات والسلام علیک یا رسول اللہ

۔ ۱۳/جون سن ۲۰۱۹ ع بروز جمعرات نماز فجر سے فارغ ہوکر ابھی ذکر و ازکار میں ہی مصروف تھا کہ اسی اثناءمیں موبائل کی گھنٹی بجی فون رسیو کیا تو ڈاکیہ نے بتایا کہ آپ کے نام ایک پوسٹ کتاب کی شکل میں آیا ہے

یہ فرحت بخش خبر سن کر چاہئے تو یہ تھا کہ مَیں خوشی کے پیراہن میں نہ سماتا لیکن برعکس اس کے مجھ پے اضطرابی کیفیت طاری ہوگئی، وجہ یہ تھی کہ میرے کرم گستر محب گرامی وقار حضرت علامہ مولانا محمد اشرف رضا اشرف اعظم العزتہ و اطال اللہ عمرہ نے مجھ ناچیز پر کرم اس قدر فرمایا کہ بغیر کوئی اطلاع دیے اپنی گراں قدر تصنیف “اے عشق تیرے صدقے” بذریعۂ ڈاک ارسال فرمادیےـ

محب گرامی عزیز القدر،مصلح قوم و ملت،صاحب قرطاس و قلم، خلیفئہ امین شریعت و تاج الشریعہ مدیر اعلی سہ ماہی امین شریعت حضرت مولانا اشرف رضا قادری آپ بہت سی خوبیوں کی بنا پر حلقۂ علماء وعوام میں کافی مقبول و محبوب ہیں ـ آپ متعدد جہتوں سے خدمت دین و اشاعت مسلک اعلی حضرت میں سرگرمِ عمل ہیں اور الحمدللہ مسلسل کامیابیاں حاصل کررہے ہیں اللھمـ زد فزد ـ آمین 

مولانا موصوف علم و فن شعروادب اور زندگی کے دوسرے مسائل کے بارے میں ایک خاص رائے رکھتے ہیں جو انکے خیالات اور تجربات کی بنیادوں پر قائم ہوتی تھیں،آپ کی ایک رائے یہ ہے کہ شعروادب کا ملکہ اور ذوق سلیم خدا کا عظیم عطیہ اور ناقابل تسخیر ہتھیار ہے جس سے افکار و معاشرت میں انقلاب لایا جاسکتا ہے اور فاسد ماحول کے خلاف دلوں میں غضب و انتقام اور طبیعتوں میں اضطراب پیدا کیا جاسکتا ہے۔

اور پھر غلط نظریات کی جڑ کاٹ کر صالح اور صحت مند اقدار کی آبیاری کی جاسکتی ہے اس لئے شاعر و ادیب کے قلم میں وہ تاثیر اور قوت تسخیر ہونی چاہیے جو عصائے موسیٰ،یدِ بیضا اور دمِ عیسیٰ میں تھی اسے دلیری اور قاہری کیساتھ عالمِ انسانیت میں پیامبری کا رول بھی ادا کرنا چاہیے ـ

شعروشاعری سرمایہ داروں کی فرمائش، کسی لالچ، کسی سطحی جزبہ کی تسکین یا دل کی تسلی اور محض ذوق جمال کی تشفی اور خوشامد کے لئے استعمال کیا جائے وہ رائیگا اور مظلوم شعر ہے جسے نہ خاطر خواہ مقام ملا نہ اس سے صحیح کلام لیا گیا ـ

پیشِ نظر کتاب “اے عشق تیرے صدقے” صدسالہ عرسِ امام احمدرضـا کی مناسبت سے ۱۰۰ کلاموں کا عطربیز گلدستہ ہے جوکہ بڑی ذمہ داری اور عرق ریزی سے لکھی گئی ہےـ نعت گوئی یقینا انتہائی مشکل،معظم فن اور عبادت بھی ہے ـ

 جتنی عظیم و مکرم وہ شخصیت ہے جس کے طفیل یہ وجود میں آئی اس کی تصدیق اور اس کا اعتراف عرفی جیسے شاعر نے کیا، خوب کیا ہے جو اپنے پندارِ شاعری کے سامنے مشکل سے کسی اور کی بڑائی خاطر میں لاتا ہے، جو اپنے دعویٰ کی تائید میں رہ رہ کر لوح وقلم کی شہادت پیش کرتا ہے لیکن نعت کی وادی میں قدم قدم پر اپنے کو باخبر رہنے کی تاکید کرتا ہے 

ع ـ عرفی مشتاب ایں رہِ نعت است ـ یا آہستہ! کہ رہِ بردمِ تیغ است قدم را ـ

پھر کہتا ہے        

        ہشدار! کہ نتواں بیک آہنگ سرودن

نعت شہِ کونین و مدیحِ کے وجم را

کلام رضا واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا مکمل کلام پڑھنے کے لیے کلک کریں

مولانا موصوف کے نعتیہ کلام میں معنوی بلندی کے ساتھ ساتھ لفظوں کی بندش ہم آہنگی اتار چڑھاؤ روانی و تسلسل اس قدر زیادہ ہے کہ الحمد للہ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہےـ دعائیہ کلمات پیر طریقت نبیرئہ اعلی حضرت حضرت علامہ الشاہ مفتی سلمان رضا خان مد ظلہ العالی ـ

 کلماتِ تبریک شاعر خوش فکر مخزن علم و ادب حضرت علامہ و مولانا محمد سلمان رضا فریدی مصباحی مسقط عمان و کلمات تہنیت پیر طریقت غیاث ملت شیر کالپی حضرت علامہ الشاہ سید محمد غیاث الدین ترمذی مد ظلہ النورانی ـ

ان نفوس قدسیہ کے مقدس کلمات کے بعد مزید کسی اور تبصرے کی ضرورت نہیں تھی “لاعطر بعد العروس” مگر مولانا اشرف رضا اشرف کی خواہش کے احترام میں یہ چند سطریں نظرِ قارئین ہو گئی ہیں ـ میری دعا ہے کہ رب تعالیٰ موصوف کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور نظر بد سے بچائے نیز تادم آخر مسلک اعلی حضرت کی خدمت لیتا رہے ـ آمین ……. فقط مع السلام 

آصف جمیل امجدی 

9161943293

Amazon Flipkart

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here