تحریر آصف جمیل امجدی کرونا وائرس اور آذان
کرونا وائرس اور آذان
آج سے ٹھیک تین مہینہ قبل کی بات ہے (مارچ سن 2020 ء) تقریبًا رات کے دس بجے کا وقت تھا اور میں کھانا تناول کررہاتھا اچانک اک آواز کانوں میں پڑی “اللّٰہ اکبر”,”اللّٰہ اکبر” میں سوچ میں پڑ گیا اس وقت اذان مگر جلد ہی ہمارا پورا علاقہ اذانوں سے گونجنے لگا۔ میں زندگی میں پہلی بار بنا وقت کے اذان کا تجربہ کر رہا تھا ،تبھی دل میں غیبی سوچ پیدا ہوئی کہ جب خدا ناراض ہو جاتا ہے اور انسان کچھ نہیں کر سکتا تب خدا کو ہی پکارا جاتا ہے۔۔۔ یہ کرونا وائرس کی وجہ سے اذان دی جا رہی ہے تا کہ اللہ ہماری سن لے اور یہ عذاب ہم سے اٹھا لے۔۔۔
میں گہری سوچ میں ڈوب گیا بھلا اب خدا ہم سے ناراض بھی نہ ہوتا خدا نے خود ہی کہا ہے کہ میں ظلم کا بدلہ دنیا میں بھی دیتا ہوں، ہمیں تو ہمارا بدلہ ہیمل رہا تھا
آج پہلی بار اذان کے الفاظ پورے پورے سمجھ آ رہے تھے لوک ڈاؤن کی وجہ سے ہم گھروں میں محصور تھے آج محسوس ہو رہا تھا کہ جن مسلم ماؤں کے لعل کو زندہ آنکھوں کے سامنے جلا دیا گیا، تو کسی معصوم سی ننھی کلی کو ماں کی نظروں کے سامنے ظالموں نے بوٹی بوٹی کردیا کیسا محسوس کر رہی ہونگی یہ ان پر کیۓ جانے والے ظلم کا بدلہ تھا۔۔۔
کئی عرصہ سے شامی مسلمانوں پر بم برسائے جا رہے تھے اور دنیا بشمول مسلمان ممالک اس ظلم کو دیکھتی جا رہی تھی یہ اس آنکھ بند کر لینے کا بدلہ تھا
چینی بائکاٹ کے نام عوام کی آنکھوں دھول جھوک رہی ہے گورنمنٹ اس مضمون کو بھی پڑھیں اور شئیر کریں
اور پھر بات یہاں تک ہوتی تو خدا معاف کر بھی دیتا مگر ہم تو ظلم میں بہت آگے نکل چکے تھے بچیوں کو زنا کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا، منافع خور رمضان جیسے مقدس مہینوں میں بھی منافع کمانے سے باز نہ آتے تھے، لوگ فرقوں میں بٹ کر باہم لڑتے جھگڑتے تھے، چھوٹے چوروں کو قید خانوں میں ہی مار دیا جاتا تھا جبکہ بڑے چوروں کو ملک سے باہر فرار ہونے میں مدد دی جاتی تھی
عورتوں کی برہنہ تصاویر انٹرنیٹ پر اپلوڈ کر کے انکی عزتوں کا جنازہ نکال دیا جاتا تھا، جسم کی بھوک مٹانے کی غرض سے محبت کے ڈھونگ رچا کر پیدا ہونے والی زندگیوں کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی گندے نالوں میں بہا دیا جاتا تھا
مزدور کو اسکی اجرت نہ دی جاتی تھی غرضیکہ کوئ ایسا ظلم نہ تھا جو انسانوں نے انسانوں پر نہ کیا ہو اور پھر اس سے بڑا ظلم یہ تھا کہ ہم انسانوں نے یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے آنکھیں بند رکھیں تھیں ہمارے کانوں تک مظلوموں کی آہیں اور سسکیاں جب نہ پہنچنے پائیں
تو وہ خدا جو کافروں کا بھی خدا ہے ، مسلمانوں کا بھی خدا ہے، اسنے سب سن لیا سبھی سسکیاں، سبھی آہیں، سبھی فریادیں آج پہلی بار اذان سن کر مجھ پر خوف طاری ہو گیا تھا یوں لگا جیسے قیامت آ گئ ہو
سبھی اس خدا کو پکار رہے تھے کیا کافر اور کیا مسلمان سب اوپر کی جانب آنکھیں ٹکاۓ ہوئے تھے آج مجھے معلوم ہو چکا تھا ہم کتنے ظالم ہیں
۔ ✍ آصف جمیل امجدی