Home مخزن معلومات مرد قربانیوں کا پیکر ہے

مرد قربانیوں کا پیکر ہے

0
مرد قربانیوں کا پیکر ہے
مرد قربانیوں کا پیکر ہے

 تحریر اسلامک ریسرچ اسکالر مفتی محمد ضیاءالحق قادری فیض آبادی مرد قربانیوں کا پیکر ہے

مرد قربانیوں کا پیکر ہے

مرد وہ ہے جو شادی کے بعد سب سے پہلے اپنی بیوی کے ناز ونکھرے اٹھاتا ہے۔

اس کی  آرایش و زیبائش کا  معقول انتظام  کرتا ہے۔

 جب حاملہ ہوتی ہے ۔ تو اس کے لئے مقوی غذا کا  انتظام  کرتا ۔ڈاکٹر کی فیسیں ادا کرتا ہے۔ لیبارٹری ٹیسٹوں کا خرچہ بھی برداشت  کرتا ہے ۔

پھر بچے کی ولادت کے وقت  بڑا خرچہ اپنے کاندھوں پر اٹھاتا ہے۔ جب اولاد کی ولادت ہو جاتی  ہے, تو ان کے دودھ پمپرز کپڑوں کا بندوبست بھی کرتا ہے۔

 پھر ان کی تعلیم و تربیت کا اچھی طرح سے  انتظام کرتا ہے ۔آفس میں کچھ بھی چلتا رہے گھر والوں سے اس بات کو پوشیدہ رکھتا ہے۔  ہر دکھ ہنس کے  سہتا ہے ۔

کبھی اپنے چہرے پر شکن نہیں لاتا ہے۔ دھوپ کی شدت ہو ,یا گرم ہوائیں یا سردی ہو حتی کہ ہر موسم میں اپنے اہل و عیال کے لئے رزق کا بندوبست کرتا ہے اپنی چھوٹی بڑی تکالیف کو مکمل چھپاۓ رکھتا ہے ۔

ایک مسکراتا ہوا مجسمہ  بن کر زندگی کے شب روز کو گذارتا رہتا ہے۔

 لیکن اس مرد کے متعلق ہمارے  معاشرے میں کبھی بھی کوئی آواز نہیں بلند کرتا ہے  کیونکہ ہر طرف سے ایک ہی آواز بلند ہوتی سنائی دیتی ہے ۔

 عورت کا استحصال ہو رہا ہے عورت ظلم کی چکی میں پس رہی ہے۔ عورت کو بکاؤ مال سمجھا جاتا ہے, عورت کو جنسی ضرورت پوری کرنے والی مشین سمجھا جاتا ہے عورت کو بچہ پیدا کرنے والی مشین سمجھا جاتا ہے

میرا سوال ان لوگوں سے ہے جو اس قسم کی نفرت معاشرے میں پھیلاتے ہوے نظر آ رہی  ہیں۔ کتنے فیصد عورتوں کیساتھ ایسا ہو رہا ہے؟؟ جتنی فیصد عورتوں کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے اتنے ہی فیصد مردوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو رہا  ہے اسے پیسہ کمانے کی مشین سمجھا جاتا ہے, اس کا استحصال ایسے کیا جاتا ہے کہ اسے دنیاوی خواھشات کے حصول کا ذریعہ  سمجھتے ہوئے اس پر مسلسل یہ ذمہ داری عائد  کی  جاتی ہے۔

مرد کو بھی بکاؤ مال ہمارے معاشرے میں  سمجھا جاتا ہے۔ نوکری  دیکھ کر کاروبار دیکھ کر اس سے رشتہ طے  کیا جاتا ہے۔

اسلامی عدل و مساوات   از قلم  گل حسن مصباحی

اس مرد پر اپنے خاندان کےساتھ ساتھ بیوی کی خاندانی روایات کو نبھانے کی ذمہ داری عائد کی جاتی ہے اتنی سب قربانیوں کے بعد  بھی بیوی کی نظر میں شوہر کے والدین بہن بھائی کا وہ مقام نہیں بن پاتا جو اس کے اپنے بہن بھائی اور ماں باپ کا ہوتا ہے۔

 یہ اسی شوہر پر اسی معاشرے میں یہی بیویاں ہی ہیں ۔جو اپنے شوہر کو اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ جلد سے جلد گھر الگ کر لو  اس بات کو  پوچھنا عیب سمجھا جاتا ہے کہ ماں سے جدا ہوتے وقت اس کی دل پر کیا گذرتی ہے۔ کہ اج وہ اپنی بیوی سے مجبور ہوکر  اپنے ماں کو چھوڑ رہا ہے ۔اس ماں کو جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے ۔ اس ماں پر کیا گزرتی ہوگی جو اپنے لخت جگر سے اج الگ ہو رہی ہے ۔

مرد کی غیرت   اس مضون کو بھی پڑھیں اور دوست و احباب کو شئیر کریں 

افسوس صد افسوس ؟وہ. شوہر اپنے اولاد کی محبت میں مجبور ہوکراس ماں کا گھر چھوڑ دیتا ہے جس نے اسے لوریاں دے کر سلایا راتوں کو جاگ جاگ کر اسے دودھ پلایا اور پروان چڑھایا وہ کسی سے کچھ نہیں کہتا  ہر ستم ہر دکھ ہنس کر گزار لیتا ہے

لیکن جب درد حد سے زیادہ ہو جاتا ہے تو وہ اپنے قریبی دوستوں میں کبھی کبھی رو یا ہنس کر دل کی بات کر لیتا ہے پوری زندگی اسی  محنت و مشقت کے ساتھ گذارنے کے بعد عمر کے نصف حصہ میں ہی کبھی شوگر تو کبھی عارضۂ قلب یا پھر فشار ِخون کی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے

اور پھر اچانک ہی خاموشی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے مرد بردبار ہوتا ہے لیکن اپنے حالات کا رونا نہیں روتا تکالیف کو مخفی رکھتا ہے اپنے حقوق کے لیے کوئی تحریک نہیں چلاتا ان تمام کاموں کو جو بیان کئے گئے اپنا فرئضہ  سمجھ کہ پوری زندگی انجام دیتا ہے

 مرد قربانیوں کا پیکر ہے لیکن اسے اس کے بدلے اسے اس کی آرائش کا   صلہ ملنا چاہئے۔ لہذا ہمیں اپنے معاشرے میں اس قسم کی روش کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

الله پاک ہر بیوی کو اپنے شوہر اس کے ساتھ ساتھ اس کے والدین بہن بہائی رشتہ دار وں کی عزت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے امین یا رب العالمین

از قلم سلامک ریسرچ اسکالر

مفتی محمد ضیاءالحق قادری فیض آبادی

رابطہ نمبر 9721009708

ہندو چین سرحد پر کشیدگی اور وادی گلوان کی حقیقت از قلم   ہاشم اعظمی مصباحی

Amazon     Bigbasket    Havelles   Flipkart

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here