جامعہ امجدیہ رضویہ ہند کے برصغیر کی ایک عظیم دینی درسگاہ ہےـ جو قوم و ملت کی فلاحی و بہبودی نیز مسلكِ اعلیٰ حضرت کی سچی ترجمانی و پاسبانی کا بیش قیمتی فریضہ انجام دے رہا ہےـ کرونا وائرس اور لاک ڈاون کا زہریلا اثر مدارسِ اسلامیہ خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے کم و بیش سب پر پڑاـ
ایسی بھیانک صورتِ حال میں محبینِ امجدیہ اور جملہ فرزندانِ امجدیہ نے جو مالی تعاون پیش کیا ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے،اسی سلسلے کی ایک کڑی خاص طور سے تنظیم فارغینِ امجدیہ²⁰¹⁰ء کے فارغ التحصیل علماء و ممبران نے اخلاص و وفاء کا جو ثبوت پیش کیا ہے وہ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے ـ
یقینًا جب راقم الحروف (آصف جمیل امجدی) نے امجدی برادران کو اس نازک صورتِ حال میں مادرعلمی کی سسکیوں پر کان دھرنے کی دعوت دی تھی ـ اس وقت یہ تصور کہ ہم پوری جماعت یعنی سن ²⁰¹⁰ء کے فارغین امجدی برادران اس دعوت پر لبیک کہیں گےـ دشتِ تمنا کے ایک خوش نما سراب سے زیادہ نہ تھا ـ مگر اس سراب نے اتنی مختصر مدت میں حقیقت کی چادر اوڑھی کہ ہم خود حیران و ششدر رہ گیےـ
تنظیم ھٰذا کے جملہ ممبران کی جانب سے الحمدللّٰہ ثم الحمدللّٰہ “ایک لاکھ سات سو نوے روپئے” بتاریخ ۲۰/جون بروز شنبہ کو حضرت مولانا عبدالکلام امجدی صاحب جامعہ جاکر ناظم صاحب قبلہ کو دیئے ہیں الحمدللّٰہ رسید بھی مل گئی…..!!!۔
نوٹ :— آپ حضرات کے اس نیک کام میں ہم آپ کے بے حد شکرگزار ہیں، ان شاءاللّٰہ آگے نیک خواہشات کی آرزو رکھتے ہیں ـ
۔★دعا ہے کہ خدائے پاک آپ کی اس خدماتِ دینی کو قبولِ تام فرمائے، اور آپ حضرات کو دارین میں اس کا بہتر صلہ عطا فرمائے ـ اللھم آمین★۔