Home شخصیات سیدہ زاھرہ طیبہ طاہرہ

سیدہ زاھرہ طیبہ طاہرہ

0
سیدہ زاھرہ طیبہ طاہرہ
سیدہ زاھرہ طیبہ طاہرہ

 تحریر مفتی احتشام الحق رضوی سیدہ زاھرہ طیبہ طاہرہ جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

سیدہ زاھرہ طیبہ طاہرہ

علامہ مفتی ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب مد ظلہ العالی کی کلپ میں ” خطا ” سے مراد خطأ اجتہادی اور بمعنیٰ اجر و ثواب ہے گناہ، سیئہ، عیب، نقص اور خطا کار نہیں 

     اس بات پر تمام امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ عصمت انبیا اور ملک کا خاصہ ہے نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں ـ

المعتقد المنتقد میں ہے:فمنہ العصمۃ وھی من خصائص النبوۃ علیٰ مذھب اھل الحق (المعتقد المنتقد ص ۱۱۰)۔

    یعنی اہلِ حق کے نزدیک معصوم ہونا انبیائے کرام علیہم السلام کا خاصہ ہے ـــ

منح الروض الازھر میں ہے: وملائکتہ بانھم عباد مکرمون لایسبقونہ بالقول وھم بامرہ یعملون وانھم معصومون ولایعصون اللہ (منح الروض الازھر ص ۱۲)۔

اور فرشتے اللہ کے معزز بندے ہیں قول میں اس سے سبقت نہیں کرتے ہیں اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، وہ معصوم ہیں، نافرمانی نہیں کرتے ہیں ــــ

    فتاوی رضویہ شریف میں ہے: بشر میں انبیا علیھم الصلاۃ والسلام کے سوا کوئی معصوم نہیں  (فتاویٰ رضویہ شریف ج ۱۴ ص ۱۸۷)۔

    اس کے علاوہ اور بھی کتبِ معتمدہ و اسفارِ مستندہ میں مرقوم و مذکور ہے کہ عصمت انبیا اور ملک کا خاصہ ہے ـــ بشر میں انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ کوئی معصوم نہیں، ہاں البتہ یہ ہے کہ صحابہ کرام، اولیائے عظام وغیرھما کو اللہ عزوجل محفوظ رکھتا ہے ان سے گناہ ہوتا تو نہیں مگر ہو تو شرعا محال بھی نہیں ـ

شرح المقاصد میں ہے: واحتج اصحابنا علیٰ عدم وجوب العصمۃ بالاجماع علی امامۃ ابی بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنھم مع الاجماع علی انھم لم یجب عصمتہم (شرح المقاصد ج ۳ ص۴۸۴)۔ یعنی صحابۂ کرام معصوم نہیں ہیں 

   رسالۂ قشیریہ میں ہے ومن شرط الولی ان یکون محفوظا کما ان من شرط النبی معصوم یعنی ولی کا محفوظ ہونا شرط ہے جیسے کہ نبی کا معصوم ہونا شرط ہے ـ

      ان تمام دلائل و براہین سے آفتابِ نیم روز کی طرح آشکار ہوجاتا ہے کہ صرف انبیا و ملائکہ معصوم ہیں بقیہ اہلِ بیتِ اطہار، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اولیائے عظام رحمہم اللہ محفوظ ہوتے ہیں معصوم نہیں ــــــ

         اتنا سمجھ لینے کے بعد اب ہم اصل مسئلہ کی طرف اقدام کرتے ہیں کہ ڈاکٹر مفتی اشرف آصف جلالی صاحب مد ظلہ العالی نے اپنی متنازعہ کلپ میں جو ” وقوعِ خطا “کی نسبت حضرتِ سیدہ عابدہ زاھدہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی جانب کی ہے اس بابت وہ خطا پر ہیں یا نہیں؟

واضح رہے کہ یہاں “خطا ” گناہ، سیئہ، عیب اور قصور وغیرہ کے مترادف نہیں ہے بلکہ بمعنیٰ اجر و ثواب ہے جس کی ہم آخر میں تفصیلی وضاحت کریں گے ــــــ

        اولا یہ سمجھ لیں کہ اشرف آصف جلالی صاحب نے اپنی کلپ میں جو “خطا” کا لفظ کہا ہے وہ ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے، نیز یہ لفظ پیر سید مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک خاص پس منظر میں اپنی کتاب “تصفیہ ما بین سنی و شیعہ” میں بیان کیا ہے، اسی کو اشرف آصف جلالی صاحب نے مختصر وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے ــ

     ہم سرِ دست پیر سید مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عبارت کو نظرِ قارئین کرتے ہیں ــ 

     اس موضوع پر ایک اور دلیل فریقِ مخالف کی طرف سے دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بموجبِ آیتِ تطہیر اہلِ بیت علیہم الرضوان کو پاک گردانا ہے، لہذا سیدۃ النساء رضی اللہ تعالیٰ عنہا فدک کا دعویٰ کرتے ہوئے کسی ناجائز امر کی مرتکب نہیں ہو سکتیں ــ  (تصفیہ ما بین سنی و شیعہ ص ۵۳)۔

اقول: یہ فریقِ مخالف(جو کہ اہلِ بیتِ اطہار کے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں) کی جانب سے اہلِ سنت پر ایک اعتراض ہے کہ سیدۃ النساء رضی اللہ تعالیٰ عنہا فدک کا دعویٰ کرتے ہوئے کسی ناجائز امر کی مرتکب نہیں ہوسکتیں، اس اعتراض سے وہ اپنے موقف کو تقویت اور پختگی دینا چاہتے ہیں ـــ

اس اعتراض کا جواب پیر سید مہر علی شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب میں دیا ہے، آپ رقم فرماتے ہیں

          اس دلیل کا تفصیلی جواب آگے چل کر آیتِ تطہیر کی فصل میں دیا جائے گاـــــ یہاں اتنا کافی ہے کہ آیتِ تطہیر کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ یہ پاک گروہ معصوم ہیں، اور ان سے کسی بھی قسم کی خطا کا سرزد ہونا ناممکن ہے ـ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بمقتضائے بشریت ان سے کوئی خطا سرزد بھی ہو تو وہ عفو و تطہیرِ الٰہی میں داخل ہوگی (تصفیہ ما بین سنی و شیعہ ص ۵۴)۔

       اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ فریقِ مخالف کے اعتراض “فدک کا دعویٰ کرتے ہوئے کسی ناجائز امر کی مرتکب نہیں ہو سکتیں ” کا جواب ارشاد فرمارہے ہیں ــــ لیکن قربان جائیں آپ کی تعبیر پر آپ نے فرمایا: آیتِ تطہیر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ پاک گروہ معصوم ہیں اور ان سے کسی بھی قسم کی خطا کا سرزد ہونا نا ممکن ہے ــــــ اس کا مطلب یہ ہے اگر بمقتضائے بشریت ان سے کوئی خطا سرزد بھی ہو تو وہ عفو و تطہیرِ الٰہی میں داخل ہوگی ـ

اس طرح کی عبارت آپ نے اپنی کتاب “تصفیہ مابین سنی و شیعہ ” میں چار مقام پر رقم فرمائی ہیں ـ

ان تمام عبارتوں سے صاف ظاہر ہے کہ ان سے صدورِ خطا کا امکان ہے ــ

اور یہ مسلم قاعدہ ہے  ان الامکان اذا کان متعلقا بالماضی کان مستلزما للوقوع یعنی جب امکان ماضی کے ساتھ متعلق ہو تو وہ وقوع کو مستلزم ہوتا ہے ـــ

       اور یہاں ظاہر ہے کہ امکان ماضی کے ساتھ متعلق ہے اسی وجہ سے وضاحت کرتے ہوئے جلالی صاحب نے وقوعِ خطا کا قول کیا ہے ـ

اسی طرح حاشیۃ الکلنبوی علیٰ شرح الجلال الدوانی علیٰ العقائد العضدیۃ میں ہے فالامکان الوقوعی انما یستلزم وقوع الطرف الممکن بالفعل بالقیاس الی الزمان الماضی والحال لا الاستقبال

اس کا بھی مفہوم وہی ہے جو ماقبل میں بیان ہوا ــــ

ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب نے جو وقوعِ خطا کا قول کیا ہے اس سے مراد خطأ اجتہادی ہے اور اس کا صدور اہلِ بیتِ اطہار سے ممکن ہے، اور یہ “خطأ” عیب، نقص، قصور، کے مرادف نہیں ہے بلکہ اس خطأ پر تو اجر و ثواب ملتا ہےـــ

مزید اس کی وضاحت اصولِ فقہ کی ایک مایہ ناز، معتبر اور مستند کتاب بحر العلوم شرح مسلم الثبوت میں ہے

*واھل البیت کسائر المجتھدین يجوز عليهم الخطأ في اجتهادهم وهم يصيبون ويخطؤن وكذا يجوز عليهم الزلة وهي وقوعهم في أمر غير مناسب لمرتبتهم من غير تعمد كما وقع من سيدة النساء رضي الله تعالى عنها من هجر انها خليفة رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وأصحابه وسلم حين منعها فدك من جهة الميراث ولا ذنب فيه (فواتح الرحموت اصل الثال‍ث باب الاجماع صفحہ۲۷۹)۔

اہلِ بیتِ اطہار مجتہدین کی طرح ہیں، ان سے اجتہاد میں خطا کا صدور ممکن ہے، اجتہاد میں ان سے خطا بھی ہوتی ہے اور درستگی کو بھی پہونچتے ہیں، اسی طرح ان سے لغزش کا صادر ہونا بھی ممکن ہے، اور زلۃ اس کام کو کہتے ہیں جو ان کی شان کے لائق نہ ہو 

 جیسا کہ سیدۃ النساء فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا سے اجتہادی خطا کا صدور ہوا کہ انہوں نے فدک کی میراث نہ ملنے پر خلیفۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنا چھوڑ دیا ، اور اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ـ

پھر صاحبِ بحرالعلوم نے فواتح الرحموت میں اجتہادی خطا کی مثالیں بھی بیان فرمائیں ہیں ـــ من شاء فلیرجع الیہ

لفظِ خطا کی وضاحت

      ہم نے پہلے بتایا تھا کہ یہاں “خطا” عیب، گناہ، نقص، فتور اور خطا کار وغیرہ کے مرادف نہیں ہے بلکہ یہاں “خطا” بمعنیٰ اجر و ثواب ہے ـ

مفرداتِ الفاظ القرآن میں ہے:  والثانی ان یرید ما یحسن فعلہ ولکن یقع منہ خلاف ما یرید فیقال اخطأ ،اخطاء فهو مخطئ  یعنی ” خطا ” کہتے ہیں کہ کسی اچھے کام کا ارادہ کیا ہو اور لیکن خلافِ ارادہ کوئی چیز واقع ہوگئی ہو ـ

التوقیف علیٰ مھمات التعاریف میں ہے ان یرید ما یحسن فعلہ لکن یقع منہ بخلاف ما یرید، وھذا اصاب فی الارادۃ واخطأ فی الفعل، وھو المعنی بحدیث رفع عن امتی الخطأ وبخبرمن اجتهد فاخطأ فله اجر “۔

       یعنی “خطا” کہتے ہیں کہ کسی اچھے کام کا ارادہ کیا ہو لیکن اس سے خلافِ ارادہ امر واقع ہوگیا ہو، یعنی ارادہ میں درستگی ہو لیکن فعل میں خطا ہو اور یہی مراد ہے حدیثِ پاک “میری امت سے خطا کو اٹھا لیا گیا” سے اور خبر”جس شخص نے اجتہاد کیا اور اس سے خطا کا صدور ہوگیا تو اس کے لیے ایک اجر ہے” سے ــ

     یعنی یہاں خطا سے مراد قصور، عیب، گناہ اور نقص وغیرہ نہیں ہے بلکہ خطا سے مراد وہ فعل ہے جس پر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجر بیان فرمایا ہے ـ

اور وہ حدیثِ پاک سنن النسائی شریف میں ہے عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا حکم الحاکم فاجتھد فاصاب فلہ اجران، واذا اجتھد فاخطأ فلہ اجر “۔

         یعنی حضرتِ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم فیصلہ کرے اور اجتہاد کرکے درستگی کو پہونچے تو اس کے لیے دو اجر اور گر خطا کو پہونچے تو اس کے لیے ایک اجر ہے ــ (سنن النسائی رقمِ حدیث ۵۳۹۴)۔

      نیز اسی طرح بخاری شریف میں ہے

اذا حکم الحاکم فاجتھد ثم اصاب فلہ اجران واذا حکم ثم اخطا فلہ اجر ـــــ (بخاری شریف رقمِ حدیث ۷۳۵۲)۔

     یعنی جب حاکم فیصلہ کرے اور اجتہاد کرے پھر درستگی کو پہونچے تو اس کے لیے دو اجر ہے اور فیصلہ کرتے وقت اجتہاد کرے لیکن خطا کرجائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے ــــــــــ

       خلاصہ یہ کہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب نے متنازعہ کلپ میں جو  “ خطا  ” کا قول کیا ہے اس سے مراد ہے خطأ اجتہادی ہے اور یہ گناہ، عیب نقص، سیئہ، قصور اور خطا کار وغیرہ معانی کے مرادف نہیں ہے بلکہ یہ بمعنیٰ اجر و ثواب ہے ـــــ

لہذا بے جا تنقید کرنے والوں اور طعن و تشنیع کرنے والوں گزارش ہے کہ الزام تراشی اور بہتان طرازی سے اجتناب کریں اور اصولی کتابوں کا مطالعہ کریں ــ میں اپنی بات اس دعا پہ ختم کرتا ہوں

خدایا بحق بنی فاطمہ

کہ بر قولِ ایماں کنی خاتمہ

اگر دعوتم رد کنی ورقبول

من و دست دامانِ آلِ رسول

از قلم  مفتی احتشام الحق رضوی

Amazon   Flipkart

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here