Home مخزن معلومات آئینہ دیکھ کر کیا سیکھا

آئینہ دیکھ کر کیا سیکھا

0
آئینہ دیکھ کر کیا سیکھا
آئینہ دیکھ کر کیا سیکھا

تحریر انصار احمد مصباحی آئینہ دیکھ کر کیا سیکھا

آئینہ دیکھ کر کیا سیکھا

ینہ تو آپ روز دیکھتے ہیں اور کئی بار دیکھتے ہیں۔ دیکھنا چاہیے، یہ برا بھی نہیں ہے؛ لیکن آج کے بعد یہ تبدیلی پیدا ہو جائے گی کہ اب کے جب بھی آپ آئینہ کی طرف دیکھیں گے، میری یہ تحریر آپ کو سر گوشی ضرور کرے گی، کبھی کبھی کچوکے بھی لگائے گی۔ 

   چلیے…!  مضمون پڑھتے ہیں 

   ہر شخص کو اپنی شکل و صورت، خط و خال سے محبت ہوتی ہے، اسے سجانے سنوارنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ انسان ”اشرف المخلوقات“ ہونے کے ساتھ ساتھ، ”احسن المخلوقات“ بھی ہے۔ اللہ عزّ و جلّ فرماتا ہے: ”بے شک ہم نے انسان کو اچھی صورت پر بنایا“۔ (التین: 4) ۔

   انسانی جسم کا حسین ترین حصہ چہرہ ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ انسان اپنا چہرہ خود نہیں دیکھ سکتا؛ اس کے لئے آئینہ کا سہارا لیتا ہے۔ آئینے کے سامنے آتے ہی انسان مرد ہو یا عورت، اپنی صورت میں کہیں کھو جاتا ہے، ظاہر اس پر غالب آنے لگتا ہے، تھوڑی دیر کے لئے وہ دین و دنیا سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ اس موقع پر حضور نبی کریم ﷺ نے ایک بہترین دعا کی تعلیم فرمائی ہے:

 ”اللّهمَّ حسَّنتَ خَلقي، فحُسِّن خُلُقي“۔ ترجمہ: اے اللہ! تونے مجھے خوب صورت بنایا ہے، میرے اخلاق بھی حسین کردے!

حسن و جمال:   حسن و جمال کو پسند کرنا انسانی فطرت ہے۔ ”حسن“ کی دو قسمیں ہیں: ایک ظاہری دوسری باطنی۔ 

   ظاہری حسن تھوڑے تفاوت سے ہر آدمی میں ہوتا ہے۔ کسی ماں سے اس کے بچے کی خوب صورتی کے قصے سنیے! ہر انسان کسی نہ کسی کا بیٹا/ بیٹی یا میاں/ بیوی ضرور ہے۔ یہاں تک کہ ایک شخص خود سے زیادہ کسی اور کو حسین ماننے کے لئے مشکل ہی سے تیار ہوتا ہے۔ اس حسن کو نکھارنے کے لئے صابون، تیل کا استعمال کیا جاتا ہے، عمدہ کپڑے اور گہنے پہنے جاتے ہیں، کریم پاؤڈر خریدے جاتے ہیں۔ 

   دوسرا حسن، باطنی حسن ہے، جسے ” حسن خلق “ کہا جاتا ہے۔ حدیث میں اسی حسن کے توفیق کی دعا مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

دل بینا بھی کر خدا سے کر طلب

آنکھ کا نور،   دل کا نور  نہیں  (ڈاکٹر اقبالؔ)۔

   در اصل دین اسلام کا بڑا حصہ ”اخلاق حسنہ“  پر مشتمل ہے۔ ارشاد نبوی ہے، ”حسنُ الخلقِ نِصْفُ الدّينِ“۔ (الجامع الصغیر: 3718) یعنی خوش خلقی آدھا دین ہے۔ روے زمین پر حضور رحمت عالم ﷺ کی بعثت، نوع انساں کے لئے سب سے بڑی نعمت ہے

ہمارے پیارے نبی، حضور اقدس ﷺ اپنی بعثت کا ایک مقصد یوں بیان فرماتے ہیں: ” انما بعثتُ لاتممُ مكارمَ الاخلاق“. (ابو داؤد: 1400) ترجمہ: بے شک میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ قرآن نے حضور کی ایک صفت بتائی ہے اور صفت کیا، سمندر کو چھوٹی سی آیت میں سمیٹ دیا ہے۔ ” وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ“ ترجمہ: بے شک آپ کے اخلاق بڑے شان کے ہیں۔  (القلم: 4)۔

حسن خلق:   در اصل ”اخلاق حسنہ“ یا ”حسن خلق“ اسلام کا اہم رکن اور اس کی تمام اچھی باتوں کی جامع ترین تعبیر ہے۔ نماز، روزہ، زکات، حج وغیرہ سارے ارکانِ اسلام ”حسن خلق“ سے بہت قریب تر نظر آ رہے ہیں۔ قرآن  کریم میں نماز کا حکم اس طرح دیا گیا ہے: ” وَأَقِمِ الصَّلاةَ إِنَّ الصَّلاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ“۔ (العنكبوت:45) ۔

  اس آیت کا دوسرا ٹکڑا حسن اخلاق کی اعلا تعلیم پر مشتمل ہے. نماز کا مقصد بتایا جارہا ہے کہ وہ بُری باتوں اور بے حیائیوں سے روک کر انسان میں اخلاق حسنہ کا جوہر پیدا کر دیتی ہے 

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ   از  محمد ہاشم اعظمی مصباحی

    اسی طرح روزے کی فضیلت میں نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ”جس کے اخلاق اچھے نہ ہوں اور جو جھوٹ اور چغلی سے باز نہ آیا، اس کا بھوکا پیاسا رہنا (روزہ رکھنا) کچھ کام نہ آئے گا“۔ (ترمذی: 707 )۔

   اسی طرح سے اسلام میں زکات فرض ہے۔ اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ انسان بخل، لالچ، دنیا پرستی، ذخیرہ اندوزی، چوری چماڑی، دست درازی وغیرہ کی برائیوں سے پاک رہے اور مال و اسباب کے ساتھ ساتھ اس کے دل و دماغ بھی پاکیزہ اور صاف ستھرا رہیں۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ” خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ“۔ (التوبة: 103)۔

 ترجمہ: اے محبوب! ﷺ ان کے مال میں سے زکات لو، جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعاے خیر کرو! بے شک تمھاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے۔ 

    حج کے بارے میں اللہ نے فرمایا: ” الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ“۔ (البقرة: 197)۔

 ترجمہ: حج کے کئی معلوم مہینے ہیں، تو جو ان میں حج کی نیت کرے تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو؛ نہ کوئی گناہ؛ نہ کسی سے جھگڑا، حج کے وقت تک۔ اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے؛ اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے اچھا توشہ پرہیز گاڑی ہے۔ 

  آیت اور اس کا ترجمہ دوبارہ پڑھیے! پوری آیت حسن اخلاق کی بیش قیمتی اور بنیادی تعلیم و تربیت پر مشتمل ہے۔ 

اچھے اخلاق؛ احادیث کی روشنی میں

       حضور نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ”خيرُكم احسنُكم اخلاقا“ ترجمہ: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے، جن کے اخلاق اچھے ہوں“۔(بخاری: 5688 )۔

  حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں دس سال حضور رسول کریم ﷺ کی خدمت میں رہا؛ مجھے آپ نے کبھی ”اف“ تک نہ کہا، کسی چیز کے بارے یہ نہیں فرمایا کہ ”ایسا کیوں کیا“ یا ”ایسا کیوں نہ کیا“ اور رسول اللہ ﷺ سب سے اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ (صحیح البخاری: 1872)۔

 ماں عائشہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے کپڑوں میں پیوند لگاتے، نعلین صاف کرتے اور گھر میں وہ سارے کام کرتے، جو عام لوگ کرتے ہیں۔ (مسند احمد: 24861)۔

  حضرت ابو درداء سے حدیث مروی ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ” مَا مِنْ شَيءٍ أَثْقَلُ في ميزَانِ المُؤمِنِ يَومَ القِيامة مِنْ حُسْنِ الخُلُقِ“۔ ترجمہ: قیامت کے دن، میزان میں حسن اخلاق سے زیادہ کوئی چیز وزنی نہیں ہوگی“۔ (ترمذی: 2133)۔

حضرت ماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں، رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انسان اپنے اچھے اخلاق سے ”صائم الدہر“ کا مقام حاصل کر لیتا ہے“۔ (ابو داؤد: 4798؟)۔

اور فرماتے ہیں: ”انسان کو اچھے اخلاق سے بڑی کوئی دولت نہیں دی گئی“۔ (طبرانی: 1/ 189)۔

اپنے اندر حسن اخلاق کیسے پیدا کریں ؟ 

آج کا انسان فیشن اور اسٹائل کا دل دادہ ہے۔ آج ” لک “   کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ کریم، سرجری اور پارلروں کی بہتات کے بیچ، انسان کا اصلی چہرہ کہیں کھو گیا ہے۔ ؎۔

اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتا

کب سے میں نقانوں کی تہیں کھول رہا ہوں

اس کو بھی پڑھیں   زبان کی تباہ کاریاں از محمد ایوب  مصباحی

   ایسے میں اپنی اور بچوں کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ اچھے اخلاق سیرت رسول ﷺ کے سرمایے سے حاصل ہوں گے، احادیث سے، صوفیہ کے اقوال سے حاصل ہوں گے۔ انبیاء اور صالحین کی تابندہ زندگیوں کو پڑھنے اور سننے سے حاصل ہوں گے۔ آقاے کائنات ﷺ کا ارشاد ہے: ” انما العلمُ بالتعلم  و انما الحلْمُ بالتحلُّم. من يتحيّرُ الخيرَ، يعْطِه و مَنْ يّتَّقِ الشَّرَّ، يُوْقِه “. ترجمہ: ”علم سیکھنے سے آتا ہے اور برد باری کوشش سے ملتی ہے۔ جو شخص بھلائی تلاش کرتا ہے، اسے بھلائی مل جاتی ہے اور جو برائی سے بچنا چاہتا ہے، وہ بچ جاتا ہے“۔ (شعب الایمان: 342) ۔

    تقوی اور پرہیز گاری، زہد و ورع، مجاہدہ، خاموشی، تواضع و انکساری، خوف و رجاء، صبر و قناعت، ایثار و قربانی، توکل و رضا، اخلاص، محبت، بھائی چارہ، جود و سخا، ذکر و فکر وغیرہ ۔ یہ سب حسن اخلاق کے مظاہر ہیں

   اسی طرح ۔۔۔  معافی و در گزری، معاملہ فہمی، خندہ پیشانی اور شگفتہ کلامی، کردار کی پاکیزگی، مہمان نوازی اور لایعنی کاموں سے بچنا۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسی خوبیاں ایک ”اخلاق مند “ انسان کی پہچان ہے۔ حسن خلق کا پیکر شخص امداد و تعاون میں پیش پیش رہتا ہے؛ پڑوسیوں کی خبر گیری کرتا ہے؛ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اچھے اور مفید مشورے دیتا ہے۔ یہی عادتیں انسان کو محبت کی زنجیروں سے آپس میں باندھے رکھتی ہیں۔ 

آخری بات :   لوگوں میں ہماری شکل و صورت سے زیادہ ہمارے اخلاق و کردار کی اہمیت ہے۔ اچھی باتیں دیر تک چھاپ چھوڑ تی ہیں؛ جب کہ دولت و ثروت اور حسن و جمال کی یاری نا پائیدار ہوتی ہے۔ ہمیں بدن سے زیادہ  روح سنوارنے کی ضروت ہے۔ ہماری (قوم مسلم کی) مظلومیت کے ظاہرے اسباب جو بھی ہوں؛ ایک داخلی وجہ بھی ہے اور وہ ہے اخلاقی پستی۔

۔✍🏻 انصار احمد مصباحی

aarmisbahi@gmail.com رابطہ

  9860664476

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here