Home شخصیات جس سمت آگئے ہو سِکّے بٹھا دیے ہیں

جس سمت آگئے ہو سِکّے بٹھا دیے ہیں

0
جس سمت آگئے ہو سِکّے بٹھا دیے ہیں
جس سمت آگئے ہو سِکّے بٹھا دیے ہیں

   محمد حشم الدین رضا مصباحی سیتامڑھی جس سمت آگئے ہو سِکّے بٹھا دیے ہیں

جس سمت آگئے ہو سِکّے بٹھا دیے ہیں

   یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس خاک گیتی پر جن بزرگانِ دین نے اپنی جہد مسلسل اورکرامات سے رشد و ہدایت کے چراغ کو پورے اکناف عالم میں روشن کیا ، ان میں سے کچھ ایسی انمول ہستیاں ہیں جنھیں دنیا کبھی ان کے علمی کارناموں کی وجہ سے یاد کرتی ہے اور کبھی تبلیغی خدمات کے باعث ۔

 ان پاک طینت ہستیوں کو ان کے اخلاق و کردار اور روحانی مقام و مرتبے کے لحاظ سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ 

     جن علماے اہل سنت نے اپنے علم و عمل اور تقویٰ و تورع کے ذریعے مذہب اسلام کی خدمات میں کوشاں رہے اور ان کی تعلیمات کو عام کیا ، کفر و شرک اور بدعت و خرافات کے ایوان میں زلزلہ برپاکیا انھیں میں سے ایک ایسی عظیم المرتبت شخصیت ہے جنھیں ساری دنیا امام عشق و محبت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے نام سے جانتی اور مانتی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ پورے عالمِ اسلام نے اس عظیم الشان ہستی کو مجدد دین و ملت تسلیم کیا ہے ۔ 

حیات و خدمات اعلیٰ حضرت قدس سرہ    از قلم   علامہ غفران رضا قادری

کیوں رضا آج گلی سونی ہے اٹھ مرے دھوم مچانے والے   از قلم علامہ عبد المبین نعمانی قادری 

     امام احمد رضا خان بریلوی

 اس شخصیت کا نام ہے جو سن صغری میں ہی بلند پرواز شاہین کی طرح اونچی اڑان بھر کر علوم و فنون کے آفاق میں چھا گئے ۔ اس چودہویں صدی کے امام نے چودہویں چاند کی طرح اپنے علوم وفنوں سے پوری دنیا کو رخشندگی بخشی۔

     بلاشبہ آپ کی ذات برہان الہی اور معجزہ رسول ﷺ ہے اور وہبی علوم و فنون کا ایک ایسا بحر ذخار ہے جس کی گہرائی و گیرائی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ، فقہ و تدبر کا ایسا عمیق سمندر ہے جس میں غوطہ لگانے والا ایسے ایسے نادر و نایاب موتی لیکر نکلتا ہے جس سے تحقیقی میدان چلنے والے کو روشنی ملتی ہے ، اہل اسلام کے ایمان و ایقان کو جلا ملتی ہے اور عقائد و اعمال کی تزئین کاری ہوتی ہے 

  پچاس سے زیادہ علوم و فنون میں ان کی گراں قدر تصانیف سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ایسا یکتاۓ روزگار محقق و فقیہ صدیوں میں نظر نہیں آتا ۔ فقہ و افتا میں قوت استحضار ، ندرت استدلال ، دلائل کی کثرت ، فقہا کے مختلف اقوال میں تطبیق و ترجیع ان سب کے ساتھ ساتھفضل الہی و عطائے رسول اکرم ﷺ‌ سے علم کے دلکش نظاروں نے *امام احمد رضا خان بریلوی* کی ذات کو اصحاب علم وفضل اور سبھی عوام و خواص کا مرجع فتاویٰ بنادیا ۔ 

     امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے تقریباً 14 چودہ سال کی عمر میں ١٤ شوال المکرم ١٢٨٦ ہجری سے اپنے والد ماجد علامہ نقی علی خان علیہ الرحمۃ الرضوان کی نگرانی میں فتاویٰ نویسی کا آغاز کیا ، جب علامہ نقی علی خان کا انتقال ہوگیا تو کلی طور پر  امام عشق ومحبت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فتویٰ نویسی کے فرائض انجام دینے لگے ۔

 جدید تحقیق کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کو ١٠٥ ایک س پانچ سے زیادہ علوم و فنون میں مہارت تاما حاصل تھی ۔ فقہ حنفی اور اس کی جزئیات پر *آپ رضی اللہ عنہ* کو جو عبور حاصل تھا ‌اس کی نظیر ملنا‌ آج مشکل ہو چکا ہے اس دعویٰ پر آپ کا مجموعہ فتاویٰ فتاویٰ رضویہ شاہد ہے 

   آپ رضی اللہ عنہ ایک عدیم المثال فقیہ تھے فقہ میں  آپ رضی اللہ عنہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے سچے جانشین تھے ۔ جب آپ نے پہلا فتویٰ چودہ سال کی عمر میں تحریر فرمایا تو آپ کے فتویٰ نویسی کی شہرت دور دور تک پھیل گئی ، ملک و بیرون ملک سے آپ کی بارگاہ میں استفتا آتا اور حال یہ ہوتا تھا کہ بیک وقت پانچ پانچ سو استفتے جمع ہوجاتے۔

 اور آپ سب کا جواب اسی وقت سنجیدگی کے ساتھ فرماتے ۔ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ  العطایا النبویۃ فی الفتاویٰ الرضویہ ہے جو بارہ ضخیم جلدوں اور ہزارہا ہزار صفحات پر مشتمل ہے یہ ایک عظیم فقہی خزانہ ہے جس کو رہتی دنیا تک لوگ فراموش نہیں کرسکتے ہیں ۔ 

     فقہ و افتا میں  امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ کا طرۂ امتیاز یہ رہا کہ آپ مسئلہ کی نزاکت ، حال و احوال کی ضرورت کے پیش نظر بہت سارے سوالوں کے جواب میں مسئلہ‌ کی شرح و بسط کے ساتھ اس شان سے صراحت و وضاحت فرماتے کہ مسئلہ دائرہ کا کوئی بھی گوشہ تشنئہ تحقیق نہ رہتا ، نہ اس پر مزید کچھ لکھنے کی گنجائش ، نہ مخالف کو مجال دم زدن اور وہ مسائل ‌کے جواب میں ایک مستقل رسالہ کی تصنیف ہوتی جس کو آپ تاریخی نام کے ساتھ موسوم بھی فرماتے ۔     ابر رحمت تیرے مرقد پر گہر باری کرے 

 محمد حشم الدین رضا مصباحی

سیتا مڑھی ، بہار (انڈیا) ۔

 موبائل نمبر : 8887602415 

واٹس ایپ نمبر   7654168100 

Bigbasket        Amazon        Flipkart

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here