از قلم ۔۔خلیفہ حضور تاج الشریعہ محمد غفران رضا قادری رضوی بانی دارالعلوم رضا ۓ خوشتر و جامعہ رضاۓ فاطمہ قصبہ سوار ضلع رامپور انڈیا مقیم حال نانکاررانی یوم مزدور تاریخ کے آئینہ میں
یوم مزدور تاریخ کے آئینہ میں
سال میں درجنوں عالمی دن منائے جاتے ہیں،اور کسی بھی عالمی دن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر دن جو ہم مناتے ہیں اپنی جگہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن ہے اور ہر سال اس دن ہمارے سکول، کالج ، یونیوسٹیاں سرکاری دفاتر ، ادارے ، مارکیٹیں اور دکانیں غرضیکہ تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند ہوتے ہیں۔
شدت کی گرمی اور تیز دھوپ میں جلسے جلوس ریلیاں نکالی جاتی ہیں کیونکہ یہ محنت کشوں کا عالمی دن ہے۔ دہقانوں کا دن ہے، معماروں کا دن ہے ،کسانوں کا دن ہے ،اور مزدوروں کا دن ہے۔ تمام مزدور اس دن فیکٹریوں اور ملوں کو بند کرکے جلوس کی شکل میں سڑک پراُمنڈ آتے ہیں۔ پُر امن جلوس بھی ہوتے ہیں نعرے بازی بھی ہوتی ہے کہیں کہیں توسڑکوں پر تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔
سرخ جھنڈے لہرا کے قراردادیں پیش کی جاتی ہیں ۔ حصولِ حقوق کے لئے مزدور ہر سال اپنا حق مانگتے ہیں اور بس مانگتے ہی رہے جاتے ہیں،یوم مزدور منانے کا مقصد یہ تھا کہ مالک و مزدور کے مابین قربت بڑھے اس لئے اسے رواج دیا گیا تھا۔مگر یوم مزدور منانے کے بعد بھی مزدوروں کو کتنا حق ملا ہے و ہمیں اور آپ کو بخوبی معلوم ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہب اسلام میں مزدور کو ایک خاص مقام حاصل ہے،مزدور کی اُجرت اس کا پسینہ خشک ہو نے سے قبل ادا کرنے کا درس خود بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ۔۔اسلام نے مستقل ایک نظام پیش کیاہے جسے سامنے رکھ کے ہر دوراور ہر معاشرہ میں مالک و مزدور ہر دو کو مساوی حقوق دلائے جا سکتے ہیں۔
یکم مئی کی حقیقت کیا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ انیسیویں صدی کے نصف میں روس میں مزدوروں سے روزانہ انیس بیس گھنٹے کام یا مزدوری لی جاتی تھی اور معاوضہ بہت کم دیا جاتا تھا اتنا بھی نہیں کہ دو افراد اسے پورا کر سکیں پھر وہ اور ان کے بیوی بچے دو وقت پیٹ کیسے بھر سکتے تھے۔ وہ ہاتھ جو فصلیں اگانے اور کٹائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے ان کے بچے اچھے کھانے کو ترستے تھے وہ جوان اور بوڑھے ہاتھ ہاتھ جو کھڈیوں اور فیکٹریوں میں ہزاروں اور لاکھوں گز کپڑا بنتے ان کی عورتیں اپنے لئے عمدہ لباس کو ترستی تھیں۔
اس زمانہ میں اورفیکٹری کے کسی حصے میں آگ بھڑک اٹھتی تو کئی مزدور جل کرراکھ ہو جاتے تو اُن کا کوئی پرسان حال نہ ہوتا۔ سرمایہ دار یہ کہتے ہوئے نظر انداز کر دیتے کہ ’’کام کے دوران حادثات ہو سکتے ہیں ٹھیک ہے ایک حادثہ ہوگیا۔
’’مزدوری کرتے وقت ایسے حادثات ہو جایا ہی کرتے ہیں‘‘ انہیں مزدوروں کی وجہ سے خام مال تیار شدہ مصنوعات میں تبدیل ہو رہا تھا۔ زردار سرمایہ دار بن رہے تھے اور سرمایہ دارانہیں غریبوں کا خون چوس رہے تھے۔
اوقات کار کا تعین نہ ہونے کے سبب امریکہ میں بھی مزدوروں سے سولہ سولہ گھنٹے کام لیا جانے لگا۔امریکہ اور روس کی متمدن تہذیب کایہ حال تھا کہ وہاں چلانے والے بیل کی طرح مزدور کو مشین چلانے والا ترقی یافتہ جانور سمجھا جاتا تھا اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے غلام سمجھے جاتے تھے۔
اور فطری بات ہے کہ جس قانون میں ظلم ہو انسان اس سے تنگ آ جاتا ہے۔یورپ اور روس کے محنت کشوں نے دس گھنٹے کام کرنے کی تحریک کا آغاز کیا۔ لیکن سرمایہ دار اور جاگیر دار حکومتیں مزدوروں کی ہر جائز جدوجہد کو خلاف ضابطہ قرار دے کر ہمیشہ کے لئے دبانے کے درپے تھیں۔
چنانچہ اس تحریک کو پوری قوت اور بے دردی سے کچل دیا گیا ۔ پھر دوسری مرتبہ امریکی مزدوروں نے یکم مئی1886ء میں بے روزگاری اور سرمایہ داروں کے مظالم کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا اس مرتبہ مزدور بپھرے ہوئے تھے اور امریکہ کے صنعتی شہر شکاگو میں فیکٹریاں اور کارخانے بند تھے،کالے اور گورے تمام مزدور امریکی قانون کوبُرا بھلا کہہ رہے تھے جس میں مزدور کو تحفظ نہیں تھا اور سرمایہ دار کی ہوس پرستیوں کو روکنے کے لئے کوئی لگام بھی نہیں تھی۔
مزدور نعرے لگا رہے تھے۔’’اوقات کار میں کمی کرو اتنی اجرت دو کہ زندہ رہ سکیں‘‘۔ہڑتال کا آغاز یکم مئی سے ہوا،اور جب 3 مئی کو بھی ہڑتال رہی تو پولیس نے سرمایہ داروں کے حکم سے ہڑتال کرنے والے مزدوروں پر فائر کھول دیا۔ کئی مزدور ہلاک ہوگئے۔ 4 مئی کو محنت کشوں نے ہلاک ہونے والوں کے سوگ میں ایک اور جلوس نکالا۔ مزدوروں کی ایک بڑی تعداد شکاگو مارکیٹ کے چوراہے میں جمع ہوگئی۔
اس مرتبہ پولیس اور فوج نے مل کر حملہ کیا سڑکیں اور دیواریں مزدوروں کے خون سے سرخ ہوگئیں۔اپنے مطالبات منوانے کے لئے جو انہوں نے سفید پرچم اٹھا رکھے تھے سرخ ہوگئے۔
بعض نے اپنی قمیضیں پھاڑکر اپنے بھائیوں کے سرخ خون سے رنگ کے پرچم بنالیے اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے انہوں نے جو صدا بلند کی تھی اس کے جرم میں نہ صرف ان کو گولیوں کا نشانہ بننا پڑا بلکہ وہ تختہ دار پر بھی کھینچے گئے ۔ مزدور تحریک کی قیادت کرنے والے مزدور راہنمائوں کو گرفتار کر لیا گیا۔سب کو بے دردی سے سولی پر چڑھا دیا گیا۔
آج دنیا کے مختلف ممالک میں اس واقعہ کی یاد میں یہ دن منایا جاتا ہے جس کا آغاز 1886ء میں امریکہ کے شہر شکاگو سے ہوا اس سے قبل اس کا وجود نہیں تھا۔ اس دن نے امریکی دہشت گردی اور ظلم کے نتیجہ میں جنم لیا۔ مذہب اسلام کسی پر ظلم کرنا جائزنہیں سمجھتا بلکہ اسلام تو ہر ایک کو اس کے حقوق دیتا ہے اور اسلامی تاریخ نے کبھی کوئی ایسا ظلم کا اجتماعی نظارہ پیش نہیں کیا ہے۔
آیئے ہم دیکھتے ہیں اسلام میں مزدوروں کے حقوق کیا ہیں مذھب اسلام نے مزدوروں کتنا بلند ترین مقام عظمہ عطا فرمایا ہے۔
ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا اپنی محنت کی کمائی۔ (مشکٰوۃ)۔
محنت کی عظمت ہم سب نے سنی ہے اور سنتے رہتے ہیں، پڑھی ہے اور پڑھتے رہتے ہیں۔ لیکن بس سنتے ہی ہیں، پڑھتے ہی ہیں، اس پر عمل کرنے کی ضرورت تھی تاکہ ہم اپنے سماج کو اسلام کے زریں اور آفاقی اصولوں پر استوار کرتے اور سکون پاتے، لیکن ہم نے اس کے برعکس کیا۔
ہمارے سماج میں محنت سے جڑے پیشے اس قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے جیسے کہ ان کا حق ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ ہم نے محنت کشوں کا بدترین استحصال کیا ہے اور کرتے ہی چلے جارہے ہیں۔
اﷲ تعالیٰ نے محنت کی عظمت اور مزدوروں کے حقوق بیان فرمائے اور اس کے آخری رسول سرور کائنات ﷺ ان احکامات خداوندی پر مکمل عمل پیرا ہوئے اور محنت کشوں کے حقوق خود ادا فرمائے اور پوری امت کو ان پر عمل کرنے کی تلقین فرمائی۔ اﷲ کے حبیب ﷺ نے محنت کشوں کوﷲ کے دوست کا اعزاز عنایت فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
مزدور کو مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔ (ابن ماجہ)۔
جناب رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
یہ تمہارے بھائی ہیں جن کو ﷲ نے تمہارے ماتحت بنادیا ہے ان کو وہی کھلاؤ جو خود کھاؤ‘ وہی پہناؤ جو خود پہنو ان سے ایسا کام نہ لو کہ جس سے وہ بالکل نڈھال ہوجائیں، اگر ان سے زیادہ کام لو تو ان کی اعانت کرو‘‘ (بخاری و مسلم)۔
حضورنبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے ماتحتوں سے بدخلقی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوسکتا (ترمذی)۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ملازم اگر ستر بار غلطی کرے تب بھی اسے معاف کر دو‘‘
محنت کی عظمت بیان فرماتے ہوئے آقاۓد جہاں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہے، جو آدمی اپنے ہاتھوں سے کماکر کھاتا ہے۔ ( مشکٰوۃ شریف)
حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے اپنی روزی کماتے تھے اسی طرح حضرت موسٰی علیہ السلام کی مزدوری کا قرآن پاک میں جو ذکر ہے اس کا ذکر کرکے حضور تاجدار کائنات امام الانبیاء والمرسلین ﷺ نے فرمایا : انہوں نے آٹھ یا دس برس تک اس طرح مزدوری کی کہ اس پوری مدت میں وہ پاک دامن بھی رہے اور اپنی مزدوری کو بھی پاک صاف رکھا۔ (مشکٰوۃ شریف)۔
حضور رحمۃ للعالمین ﷺ نے ان چند انبیا کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام ہی کا اْسوہ پیش نہیں کیا بلکہ ایک حدیث میں فرمایا: خداوند قدوس نے جتنے انبیاء کرام علیھم الصلوٰۃ والسلام بھیجے ہیں ان سب نے اپنے ہاتھوں سے مزدوری کیں کسی نےبکریاں چرائی ہیں،توکسی نے کچھ اور محنت کا کام کیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ ﷺ آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔ فرمایا ہاں میں نے بھی بچپن میں اپنی والدہ حلیمہ سعدیہ کی بکریاں چرائیں، میری امت اس طبقہ کیلئے سنت بن جائے ۔
(مشکٰوۃ شریف باب الاجارہ)
ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا اپنی محنت کی کمائی۔ (مشکٰوۃ)۔
بعض صحابہ کرام رضوان علیھم اجمعین رزق حلال کے لیے ہرقسم کی محنت و مشقت کرتے تھے۔ مختلف پیشوں سے اپنی روزی کماتے تھے۔ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوہار تھے، حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ چرواہے تھے، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیرساز تھے، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ درزی تھے، حضرت بلا ل بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھریلو ملازم تھے اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کپڑا بیچتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی اکثریت محنت کش اور مزدوروں پر مشتمل تھی۔
حضرات ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن گھروں میں اْون کاتتی اور کھالوں کی دباغت کرتی تھیں۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کھالوں کی دباغت کرتی تھیں۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا جانوروں کی خدمت اور جنگل سے لکڑیاں چن کر لا نے کا کام کرتی تھیں۔ کچھ صحابیاتِ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کھانا پکا کر فروخت کر نے کا م کرتی تھیں۔ کچھ دایہ کا کام کرتی تھیں، کچھ زراعت کرتی تھیں اور کچھ تجارت کرتی تھیں، کچھ خوش بو فروخت کرتی تھیں، کچھ کپڑا بنتی تھیں اور کچھ بڑھئی کا کام کرتی تھیں (بخاری شریف)۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ رسول اکرمﷺ کے بارے میں فرمایا۔ ’’ وہ اپنی محنت سے کماتیں اور اﷲ کی راہ میں صدقہ کرتیں تھیں (صحیح مسلم شریف )۔
اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے میں راہ نما اصول وضع کیے۔ کھانے پینے کے آداب سے لے کر ایک حسین اور متوازن معاشرے کی بنیاد تک ہمیں ہر شعبے میں راہ نما اور زریں اصول نظر آتے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم ایک حسین معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ لیکن دنیا میں دیگر مظلوم طبقات کے ساتھ مزدور بھی ہیں، جنہیں ہر دور میں تیسرے درجے کا شہری سمجھا گیا اور ان کے حقوق کی بدترین پامالی کی گئی۔ ایسے ہی استحصالی گروہ کو جناب رسالت مآب ﷺ نے خبردار فرمایا کہ
’’قیامت کے دن جن تین آدمیوں کے خلاف میں مدعی ہوں گا ان میں ایک وہ شخص ہوگا جو کسی کو مزدور رکھے اور اس سے پورا پورا کام لے مگر مزدوری پوری نہ دے‘‘ (بخاری شریف)۔
سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جب تم میں سے کسی کا خادم اس کا کھانا لائے تو اگر وہ اسے اپنے ساتھ نہیں بٹھا سکتا ہو تو کم از کم ایک یا دو لقمے اس کھانے سے کھلا دے کیوںکہ اس نے کھانا پکاتے وقت اس کی گرمی اور تیاری کی مشقت برداشت کی۔
ایک اور موقع پر حضور پر نور تاجدارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ تمہارے کچھ بھائی ہیں جنہیں اﷲ تعالی نے تمہارے ہاتھوں میں دے رکھا ہے۔ اگر کسی ہاتھ میںﷲ تعالیٰ نے اس کے بھائی کو دیا تو اس کو چاہیے جو کچھ خود کھائے وہی اپنے مزدور یا ملازم کو کھلائے جو خود پہنے وہی اسے پہنائے۔ اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ان پر ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔ خادم اور نوکر کا یہ بھی حق ہے کہ اسے تحفظ ملازمت ہو‘‘۔
حضورنبی کریم ﷺ اپنے خادموں کے کاموں میں ان کی مدد فرمایا کرتے تھے۔ اور اپنے خادموں کی کوتاہیوں کو نظر انداز فرما دیتے تھے۔
صحیح بخاری میں آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ’’ کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے‘‘۔
خون پسینہ ایک کرکے حلال روزی کمانا عبادت اور رضائے خداوندی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ ﷲ تعالیٰ پاکیزہ اور حلال روزی ہی قبول کرتا ہے۔ پاکیزہ اور حلال مال سے جو صدقہ، خیرات دیا جائے ﷲ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی روزی محنت اور حلال طریقے سے حاصل کرنی چاہیے۔ کیوںکہ یہ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی اور خوش گوار احساس عطا کرتی ہے۔ محنت کی حلال روزی کردار سازی کرتی، باعزت بناتی اور عزتِ نفس بڑھاتی ہے۔
رزق طیّب صحت کا ضامن ہے۔ اسلام نے مثبت طور پر رزق حلال کی جدوجہد کی ترغیب دی ہے اور اسے ہر مسلمان پر فرض کیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم فجر کی نماز پڑھ لو تو اپنی روزی کی تلاش سے غافل ہوکر سوتے نہ رہو‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص دنیا کو جائز طریقے سے حاصل کرتا ہے کہ سوال سے بچے اور اہل و عیال کی کفالت کرے اور ہمسائے کی مدد کرے تو قیامت کے دن جب وہ اٹھے گا تو اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہوگا‘‘۔
اسلام نے حصول رزق کے ان تمام ذرایع کو ممنوع اور حرام قرار دیا ہے جو ظلم و زیادتی اور دوسروں کی حق تلفی پر مبنی ہوں۔
ﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ (پارہ،۱۰، سورہ التوبہ،آیت۳۴)۔
(ترجمہ کنزالعرفان)
اے ایمان والو!بیشک بہت سے پادری اورروحانی درویش باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کررکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ ۔
{لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ :باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھا جاتے ہیں۔[ پادری اور روحانی درویش اس طرح باطل طریقے سے مال کھاتے ہیں کہ دین کے احکام بدل کر لوگوں سے رشوتیں لیتے ہیں اور اپنی کتابوں میں مال و دولت کے لالچ میں تحریف وتبدیل کرتے ہیں اور سابقہ کتابوں کی جن آیات میں سردارِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت مذکور ہے مال حاصل کرنے کے لئے ان میں فاسد تاویلیں اور تحریفیں کرتے ہیں۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۳۴، ۲ / ۲۳۴)۔
دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنانے کی مذمت
اس آیت سے معلوم ہو اکہ دین کا علم اس لئے حاصل کرنا تاکہ اس کے ذریعے دنیا کا مال، دولت، عزت، منصب اور وجاہت حاصل ہو یہ انتہائی مذموم اور اپنی آخرت تباہ کردینے والا عمل ہے۔ احادیث میں بھی اس کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے، چنانچہ
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس نے وہ علم حاصل کیا جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کی جاتی ہے لیکن ا س نے وہ علم (اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بجائے) دنیا حاصل کرنے کے لئے سیکھا تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو نہ پائے گا۔ (ابو داؤد، کتاب العلم، باب فی طلب العلم لغیر اللہ، ۳ / ۴۵۱، الحدیث: ۳۶۶۴)۔
حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جو اس لیے علم طلب کرے تاکہ علماء کا مقابلہ کرے یا جُہلاء سے جھگڑے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرے تو اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ آگ میں داخل کرے گا۔ (ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فیمن یطلب بعلمہ الدنیا، ۵ / ۲۹۷، الحدیث: ۲۶۶۳)۔
حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’علماء کے سامنے فخر کرنے، بیوقوفوں سے جھگڑنے اور مجلس آراستہ کرنے کے لئے علم نہ سیکھو کیونکہ جو ایسا کرے گا تو (اس کے لئے ) آگ ہی آگ ہے۔ (ابن ماجہ، کتاب السنّۃ، باب الانتفاع بالعلم والعمل بہ، ۱ / ۱۶۵، الحدیث: ۲۵۴)۔
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے لوگوں کے دلوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے عمدہ گفتگو سیکھی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی فرض عبادات قبول فرمائے گا نہ نفل۔ (ابو داؤد، کتاب الادب، باب ما جاء فی المتشدق فی الکلام، ۴ / ۳۹۱، الحدیث: ۵۰۰۶)۔
{وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ:اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔}اس سے مراد یہ ہے کہ وہ بخل کرتے ہیں ، مال کے حقوق ادا نہیں کرتے اور زکوٰۃ نہیں دیتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہودی و عیسائی علماء و پادریوں کی حرصِ مال کا ذکر فرمایا تو مسلمانوں کو مال جمع کرنے اور اس کے حقوق ادا نہ کرنے سے خوف دلاتے ہوئے فرمایا کہ وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کررکھتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ ۔( خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۳۴، ۲ / ۲۳۵)۔
کَنز کی وَعید میں کون سا مال داخل ہے؟
حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ جس مال کی زکوٰۃ دی گئی وہ کنز نہیں (یعنی وہ اس آیت کی وعید میں داخل نہیں ) خواہ دفینہ (زمین میں دفن شدہ خزانہ) ہی ہو اور جس کی زکوٰۃ نہ دی گئی وہ کنز ہے جس کا ذکر قرآن میں ہوا کہ اس کے مالک کو اس سے داغ دیا جائے گا۔ (تفسیر طبری، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۳۴، ۶ / ۳۵۷-۳۵۸)۔
کس مال کو جمع کرنا بہتر ہے؟
حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کی کہ سونے چاندی کا تو یہ حال معلوم ہوا ،پھر کون سا مال بہتر ہے جس کو جمع کیا جائے ۔ارشاد فرمایا :ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اور نیک بیوی جو ایماندار کی اس کے ایمان پر مدد کرے (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ التوبۃ، ۵ / ۶۵، الحدیث: ۳۱۰۵) یعنی پرہیزگار ہو کہ اس کی صحبت سے طاعت و عبادت کا شوق بڑھے۔
مال جمع کرنے کا حکم اور مالدار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے واقعات
یاد رہے کہ مال کا جمع کرنا مباح ہے مذموم نہیں جبکہ اس کے حقوق ادا کئے جائیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور حضرت طلحہ وغیرہ اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم مالدار تھے ۔ اسی مناسبت سے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی مالداری کے چند واقعات ملاحظہ ہوں۔ حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مالداری تو ویسے ہی بہت مشہور ہے، ان کے علاوہ چند مالدار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم یہ ہیں
۔(1)…حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ :تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کثیر مال عطا فرمایا اور اپنی مالداری کے باوجود بکثرت صدقہ و خیرات بھی کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقدس زمانے میں آپ نے اپنے مال میں سے پہلے چار ہزار درہم صدقہ کئے، پھر چالیس ہزار درہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خیرات کئے ،ا س کے بعد چالیس ہزار دینار صدقہ کئے، پھر پانچ سو گھوڑے اورا س کے بعد پانچ سو اونٹ راہِ خدا میں صدقہ کئے۔ (اسد الغابہ، باب العین والباء، عبد الرحمٰن بن عوف، ۳ / ۴۹۸)۔
ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا تجارتی قافلہ آیا، ا س قافلے میں گندم، آٹے اور کھانے سے لدے ہوئے سات سو اونٹ تھے، حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھانے شور سنا تو اس بارے دریافت فرمایا تو انہیں بتایا گیا کہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا تجارتی قافلہ واپس آیا ہے جس میں گندم، آٹے اور طعام سے لدے ہوئے سات سو اونٹ ہیں۔
حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنت میں گھسٹتے ہوئے داخل ہوں گے۔ جب یہ بات حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو معلوم ہوئی آپ نے کہا: اے میری ماں ! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے یہ تمام اونٹ اپنے سازو سامان کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں صدقہ کر دیئے۔ (اسد الغابہ، باب العین والباء، عبد الرحمٰن بن عوف، ۳ / ۴۹۸)۔
جب حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کاا نتقال ہوا تو آپ کے ترکہ میں حاصل ہونے والے سونے کو کلہاڑوں سے کاٹا گیا یہاں تک کہ لوگوں کے ہاتھوں میں آبلے پڑ گئے، اس کے علاوہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ترکے میں ایک ہزار اونٹ، تین ہزار بکریاں اور ایک سو گھوڑے شامل تھے جو بقیع کی چراگاہ میں چرتے تھے۔ (اسد الغابہ، باب العین والباء، عبد الرحمٰن بن عوف، ۳ / ۵۰۰)۔
۔(2)…حضرت طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: حضرت طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عراقی زمینوں سے ہونے والی آمدنی چار سے پانچ لاکھ درہم تک تھی اور سُرَّاۃ کی زمینوں سے ہونے والی آمدنی دس ہزار دینار کے لگ بھگ تھی یونہی اعراض سے بھی آمدنی ہوتی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بنو تمیم کے ہر ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کرتے ، ان کی مدد کرتے ، ان کی بیواؤں اور غیر شادی شدہ افراد کی شادیاں کراتے اور ان کے قرض اتارا کرتے تھے نیز ہر سال زمین کی پیداوار کی آمدنی سے دس ہزار درہم حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھاکو بھجوایا کرتے تھے۔ (الطبقات الکبری، طبقات البدریین من المہاجرین، الطبقۃ الاولی، طلحۃ بن عبید اللہ، ۳ / ۱۶۶)۔
۔(3)…حضرت زبیر بن العوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: حضرت ہشام بن عروہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ترکے کی قیمت پانچ کروڑ دس لاکھ یا پانچ کروڑ بیس لاکھ درہم تھی، مصر، اسکندریہ اور کوفہ میں آپ کی رہائشگاہیں تھیں ، بصرہ میں آپ کی حویلیاں تھیں ، مدینہ منورہ کی زمینوں سے آپ کے پاس غلے کی پیداوار سے آمدنی آتی تھی۔ حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے چار بیویاں چھوڑیں جن میں سے ہر ایک کو گیارہ گیارہ لاکھ ملے۔ (الطبقات الکبری، طبقات البدریین من المہاجرین، الطبقۃ الاولی، ومن بنی اسد بن عبد العزی بن قصی، الزبیر بن العوام، ۳ / ۸۱)
ان کے علاوہ حضرت عمرو بن العاص، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت زید بن ثابت، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم بھی مالدار صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ خیال رہے کہ مالدار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم در حقیقت مالدار کی تربیت کیلئے مشعلِ راہ تھے ، وہ اپنا مال شرعی مَصارِف میں خرچ کرتے تھے اور اسی لئے مال جمع رکھتے تھے ،ان کے اَموال اظہارِ فخر کے لئے نہ تھے اور نہ ہی دنیائے فانی کے مال کی محبت میں اسے جمع کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ مالدار مسلمانوں کو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
اگلی آیت مبارکہ میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے
یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ (پارہ،۱۰،سورہ التوبہ، آیت،۳۵)۔
(ترجمہ کنزالعرفان)
جس دن وہ مال جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوؤں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا (اور کہا جائے گا) یہ وہ مال ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کر رکھا تھا تو اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو۔
{یَوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ:جس دن وہ مال جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا۔} یعنی وہ مال جس کی زکوٰۃ نہ دی تھی قیامت کے دن اسے جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا یہاں تک کہ شدت ِحرارت سے سفید ہوجائے گا پھر اس کے ساتھ زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کی پیشانیوں اور ان کے پہلوؤں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا یہ وہ مال ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کر رکھا تھا تو دنیا میں اپنا مال جمع کر کے رکھنے اور حق داروں کو ان کا حق ادا نہ کرنے کے عذاب کا مزہ چکھو۔(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۳۵، ۲ / ۲۳۶)۔
زکوٰۃ نہ دینے کی وعیدیں
احادیث میں زکوٰۃ نہ دینے پر سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ، ان میں چنداَحادیث ذیل میں درج کرتا ہوں
۔(1)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص سونے چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق ادا نہ کرے تو جب قیامت کا دن ہوگا اس کے لیے آگ کے پتلے ٹکڑے بنائے جائیں گے ان پر جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی اور اُن سے اُس کی کروٹ اور پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی، جب ٹھنڈے ہونے پر آئیں گے پھر ویسے ہی کر دئیے جائیں گے۔
یہ معاملہ اس دن کا ہے جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے، اب وہ اپنی راہ دیکھے گا خواہ جنت کی طرف جائے یا جہنم کی طرف۔ اور اونٹ کے بارے میں فرمایا: جو اس کا حق نہیں ادا کرتا، قیامت کے دن ہموار میدان میں لٹا دیا جائے گا اور وہ اونٹ سب کے سب نہایت فَربہ ہو کر آئیں گے، پاؤں سے اُسے روندیں گے اور منہ سے کاٹیں گے، جب ان کی پچھلی جماعت گزر جائے گی، پہلی لوٹے گی۔
اور گائے اور بکریوں کے بارے میں فرمایا: کہ اس شخص کو ہموار میدان میں لٹائیں گے اور وہ سب کی سب آئیں گی، نہ ان میں مُڑے ہوئے سینگ کی کوئی ہوگی، نہ بے سینگ کی، نہ ٹوٹے سینگ کی اور سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی۔(مسلم، کتاب الزکاۃ، باب اثم مانع الزکاۃ، ص۴۹۱، الحدیث: ۲۴(۹۸۷)۔
۔(2)…حضرت بُریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو قوم زکوٰۃ نہ دے گی اللہ تعالیٰ اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔ (معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ عبدان، ۳ / ۲۷۵، الحدیث: ۴۵۷۷)۔
۔(3)…امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’خشکی و تری میں جو مال تَلف ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے سے تلف ہوتا ہے۔ (الترغیب والترہیب، کتاب الصدقات، الترہیب من منع الزکاۃ۔۔۔ الخ، ۱ / ۳۰۸، الحدیث: ۱۶)
۔(4)…امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’فقیر ہرگز ننگے بھوکے ہونے کی تکلیف نہ اٹھائیں گے مگر مال داروں کے ہاتھوں ، سن لو! ایسے مالداروں سے اللہ تعالیٰ سخت حساب لے گا اور انھیں دردناک عذاب دے گا ۔(معجم الاوسط، باب الدال، من اسمہ دلیل، ۲ / ۳۷۴، الحدیث: ۳۵۷۹)۔ ([1])۔
۔[1]۔۔۔۔۔ زکوٰۃ سے متعلق احکام و مسائل کی معلومات حاصل کرنے کیلئے کتاب’’ حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ کی= بہارے شریعت‘‘ اور امام احمد رضا مجدد اعظم محدثِ بریلوی کی’’ فتاویٰ رضویہ شریف،، کا مطالعہ فرمائیں۔
اسلام دینِ فطرت ہے۔ یہ دین مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے اپنے ماننے والوں کی زندگی کے ہر میدان میں راہ نمائی کی ہے۔ معاشرے میں کوئی بھی فرد ہو، اس کی کوئی بھی حیثیت ہو، اسلام میں ہر کسی کے حقوق مقرر ہیں۔ درحقیقت دنیا میں انسانی حقوق کی بنیاد رکھنے والا مذہب ہی دینِ اسلام ہے۔ جب تک معاشرہ ان حقوق و فرائض کی پابندی کرتا رہتا ہے، امن و آتشی کا گہوارہ ہوتا ہے۔ محنت کرکے کما کر کھانا والے کی معاشرے میں عزت و احترام ہوتا ہے۔
اسلام نے مزدور کی سماجی حیثیت، عزت اور مقام کو بلند کیا۔ اسلام ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو محنت کرکے اپنی روزی کماتے ہیں۔ اسلام نے ان لوگوں کی شدید مذمت کی ہے جو محنت کیے بغیر دولت جمع کرتے اور محنت کشوں کا استحصال کرتے ہیں۔ سب سے پہلے اسی دین نے ہی مزدور کو وسیع اور جامع ترین حقوق دیے۔ یہی دین مزدورں کے حقوق کا سب سے بڑا علم بردار ہے۔
حضورنبی اکرم ﷺ نے حرام طریقے سے رزق کمانے والوں کے متعلق فرمایا: ’’وہ آدمی جو حرام ذریعے سے مال جمع کرتا ہے وہ خوش نہ ہوگا، اگر وہ اسے خیرات بھی کرے گا تو وہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور جو باقی رہے گا وہ جہنم کے لیے زادِراہ ثابت ہوگا۔‘‘ خطبہ حجۃ الوداع جو انسانی حقوق کا مکمل منشور وضابطہ حیات ہے۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنے غلاموں کے معاملے میں ﷲ سے ڈرو، ان سے بہتر سلوک کرو، جو خود کھاؤ انھیں کھلاؤ، جو خود پہنو انھیں پہناؤ، ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو‘‘۔
اسلام مزدور اور محنت کشوں کو ﷲ کا دوست قرار دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم ﷲ کے ان دوستوں کے دشمن بن بیٹھے ہیں اور خودفریبی یہ ہے کہ ہم سے ﷲ راضی رہے گا ۔ ہمیں اپنی مزدور دشمنی کی بد روش سے باز آجانا چاہیے ، اگر ہم نے کسی بھی محنت کش کے حقوق غصب کیے تو رب کائنات کے غضب سے نہیں بچ پائیں گے۔
الکاسب حبیب اللہ ۔ محنت کش: ﷲ کا دوست
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ محنت کش اﷲ کا دوست ہے
اگر انسان کی محنت خدا کے قرب اور دوستی کا وسیلہ اور ذریعہ ہے تو پھر کسی بھی انسان کی بے کاری اور سہل پسندی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ ہر انسان اپنی جگہ اہمیت کا حامل، اور عقل و شعور سے مزین ہے۔ سب انسان باہم رشتۂ اخوت و مساوات میں جڑے ہوئے ہیں اور انسانیت میں کسی بھی قسم کی تقسیم اور طبقات کا وجود انسانی عظمت و شرف کی حد درجے پامالی کا مظہر اور فطرت کے لازوال اصولوں کے منافی ہے۔
لیکن دور حاضر کا یہ المیہ اور کس قدر بد قسمتی ہے کہ آج ہم محنت کی عظمت سے ناآشنا اور بے خبر ہیں۔ جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ سماج میں محنت و مشقت کے دھنی افراد کو حشرات الارض جتنی اہمیت بھی نہیں دی جاتی اور ان محنت کشوں کی محنت اور ثمرات پر گلچھرے اڑانے والے سرمائے کے پجاریوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔
جس کا ردعمل یوں ہوتا ہے کہ محنت کی عظمت کا انکار سامنے آتا ہے۔ محنت کی حوصلہ شکنی اور محنت کش کی تحقیر اور استہزا کا چلن عام ہوجاتا ہے۔ لوگ محنت سے جی چرانے لگتے ہیں اور اس طرح کے معاشرے اجتماعی طور پر زوال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جب کہ اس کے مقابلے میں محنت کی عظمت ایک عالم گیر صداقت اور مسلمہ اصول ہے، جس کو اپنانے والی اقوام مسلسل آگے بڑھتے ہوئے عالمی قیادت کی دعوے دار ہیں اور جن اقوام کے ہاں یہ اصول جڑ نہیں پکڑ سکا وہ اپنے ہاں قدرتی خزانوں اور وسائل سے انجان دوسروں کی دست نگر ہیں۔
ہمیں اگر عزت سے جینا ہے تو اپنے دست یاب قدرتی وسائل اور افرادی قوت پر تکیہ کرکے انہی کو بحق قوم اور انسانیت بروئے کار لانا ہوگا۔ اسی طرح مقتدر طبقات کو یہ التزام بھی کرنا ہے کہ عوام کو بلا امتیاز عزت کے ساتھ روٹی بھی میسر آئے اور ساتھ ہی ان کے لیے باعزت روزگار کے مواقع بھی پیدا کرنے ہوں گے۔
اور پھر پوری قوم تقسیم اور طبقات سے اوپر اٹھ کر اجتماعیت، مساوات اور عدل کی اساس پر محنت کی عظمت کو لازم پکڑے اور خود کفالت اور اجتماعی ترقی کے اہداف کو پانے کے لیے کمر بستہ ہوجائے اور اس طرح سرمائے کے مقابلے میں محنت کو بنیادی اور کلیدی اہمیت دے کر زراعت، صنعت اور تجارت میں اسلام کے عادلانہ اصولوں کے عین مطابق آجر اور اجیر کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا اور اک نیا جہان تخلیق کیا جاسکتا ہے۔ جہاں جبر ہو اور نہ کوئی جابر و مجبور اور نہ ہی بندۂ مزدور کو تلخیٔ ایام کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے باعث معذور ہونا پڑے۔
آج بالعموم سرکاری اور نجی سطح پر مزدور کا حق محنت پورا ادا نہیں کیا جاتا جس کے باعث مشقت کے باوجود محنت کش کو ضروریات زندگی حاصل نہیں ہوپاتیں۔
حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو‘‘ (ابن ماجہ)۔
استحصال یہ بھی ہے کہ مزدور کو حقیر سمجھا جائے۔ حالاںکہ تمام انبیا اور برگزیدہ ہستیوں نے مختلف پیشے اختیار فرمائے اور خود نبی اکرمؐ نے مزدوری، تجارت، گلہ بانی اور پتھر اٹھانے جیسی مشقتیں بحسن و خوبی سرانجام دیں۔
مدینہ منورہ میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مال دار صحابی تھے۔ جنھیں لوگوں نے کسی جگہ اپنی دولت، معاشرتی رتبے اور فضیلت کا ناروا اظہار کرتے ہوئے دیکھا۔ اس کی اطلاع آپؐ کو پہنچی تو آپؐ نے بلاکر فرمایا۔
’’سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیا یہ مال جس پر تم فخر کرتے ہو، یہ تمہارے زور بازو کا صلہ ہے؟ ہرگز نہیں یاد رکھو! تمہاری امتیازی اور مالی حیثیت کا اصل ذریعہ معاشرے کے محنت کش اور غریب لوگ ہیں۔ یوں مت اتراؤ اور اپنی مال داری کا ذکر کرتے ہوئے محنت کش طبقے کی کبھی تحقیر نہ کرو۔‘‘
حضورنبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ غریب، محروم اور محنت کش لوگوں کا غیر معمولی خیال رکھا۔ مدینہ میں ایک مزدور صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پسینے میں شرابور کھڑے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا۔ مزدور صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا اور پیچھے تشریف لاکر اپنے دست مبارک اس کی آنکھوں پر رکھ دیے۔ آپؐ کی خوش بو سے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمجھ گئے کہ اس خوب صورت ڈھب سے اظہار محبت کرنے والے کون ہیں؟
اس لیے جان بوجھ کر اس مزدور نے اپنے پسینے سے تر جسم کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ جوڑ دیا اور جب تک اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل خوش نہیں ہوگیا آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس کی پسینہ کی بو کے باوجود اس کے ساتھ چمٹے رہے۔ ایک اور مزدور کے مشقت سے نشان زدہ ہاتھوں کو دیکھ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بے اختیار چوم لیا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محض رسمی طور پر سال میں ایک دفعہ ’’یوم مزدور‘‘ منانے سے چند قدم آگے بڑھیں۔ ہمیں اپنے زوال کو عروج و اقبال میں بدلنے کے لیے ماہ و سال کے تمام صبح و شام بندۂ مزدور کے نام کرنے ہوں گے اور ﷲ کے اس دوست کے پسینے کی بو اک اعلیٰ ترین خوشبو کی مانند اپنے اوپر چھڑکنا ہوگی اور محنت کش کی دست بوسی کا راز جان کر آقائے دو جہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اس عظیم سنت کا احیا کرنا ہوگا۔
خدا ۓقدروجبار ذوالجلال والاکرام رازق مطلق رب العالمین عزوجل اپنے حبیب سرور کائنات فخر موجودات حضور رحمۃ للعالمین سیئد الانبیاء والمرسلین امام اولین والاخرین خاتم النبیین جناب محمد مصطفٰی احمد مجتبیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے صدقے وطفیل میں ہر ایک کے حقوق قرآن وسنت کی روشنی میں ادا کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے اور حلال طیب روزی کمانے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم اجمعین۔
سورہ فاتحہ کا مختصر تفسیری خلاصہ
ان مضامین کا مطالعہ ضرور کریں اور ثواب کی نیت سے اپنے دوست و احباب میں شئیر بھی کرتے جائیں