تحریر انور علی رضوی مصباحی اسلامک اسکالر؛ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ شوشل میڈیا کی نفرت نے سبزی کو ہندو مسلم بنا دیا
شوشل میڈیا کی نفرت
اس وقت کورونا وائرس کی وجہ سےجو حال لوگوں کا ہے یقیناً وہ تشویش ناک اور قابل افسوس ہے کہ کسی کے پاس پیسے نہیں، کسی کے پاس کھانا نہیں، کسی کے پاس روزی روٹی کا ذریعہ نہیں تو کسی کے پاس کپڑے نہیں، کسی کو اپنے بچوں کی پرورش کی فکر ہے،کوئی بیمار ہے جسے اپنےعلاج کی ضرورت ہے۔بلا شبہ اس وقت انسان ان تمام مشکلات کا سامنا کر رہا ہے جو دید و شنید ہے ۔
ایسے نازک حالات میں ضرورت ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کی جائے، کہ اس سے دیش میں انتی کی راہیں ہموار ہوں گی، غریبوں کا خیال رکھا جائے ،اگر کوئی شخص خرید و فروخت سے اپنی ضرورت پوری کرنا چاہے تو اس کی مدد کرکے بھائی چارگی قائم کر نے کی کوشش کی جائے، نہ کہ سبزی و پھل فروش شخص سے اس کے ذات پات، مذہب ملت وغیرہ پوچھا جائے، تاکہ سبزی فروش اپنے بال بچوں کے لیے چار پیسے اکھٹے کر سکے اور اپنی ضروریات کو پورا کر سکے۔
پال گھر لنچنگ ماضی کی تربیت کا نتیجہ
مگر بڑے افسوس کی بات ہے اور شاید ہم نے اس سے پہلےکبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ ہمیں یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا کہ فٹ پاتھ پر پھل اور سبزی بیچ کر چار پیسے کمانے والے ان غریبوں سے مذہب بھی پوچھا جائے گا اور سبزیوں کو ہندو مسلم دیکھ کر خریدا جائے گا۔
یہ نہایت شرمناک اور قابل مذمت بات ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان کی راجدھانی دلی، یوپی اور کئی سارے اضلاع میں مسلم سبزی والوں کو بھگایا جا رہا ہے، ان سے ادھار کارڈ مانگا جارہا ہے،نام دیکھ کر سبزی خریدی جارہی ہے ۔اور کئی جگہ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ہندو سبزی والوں نے اپنے ٹھیلوں پر بھگوا جھنڈے لگا لیے۔
یہ سب اس وقت سے دیکھنے کو ملا جب سے تبلیغی جماعت کا معاملہ سامنے آیا اور شوشل میڈیا پر ان کے خلاف نفرت بھری تصویریں دکھائی گئیں، جب کہ اس دیش میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ سبزی والے کو ادھار کارڈ دکھانے کی ضرورت ہو اور نہ ہی عام آدمی کو یہ اجازت ہے کہ وہ راہ چلتے آدمی سے ادھار کارڈ طلب کرے اور نہ ہی کوئی اس زمین کا مالک ہے جسے بھگانے کا لائسنس ملا ہو، لیکن یہ سب کچھ ہو رہا ہے جو سوشل میڈیا کا نتیجہ ہے۔
میڈیا نے لوگوں کے اندر اتنی نفرت پیدا کر دی ہے جس کو وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سبزی بیچنے والوں سے پہلے ان کا مذہب پوچھا جا رہا ہے پھر سبزی خریدی جا رہی ہے حال ہی میں ایسے کئی سارے واقعات سامنے آ چکے ہیں جس میں اگر مسلمان کسی ہندو بستی میں چلا گیا تو اسے مار مار کر بھگا دیا گیا کہ ہم مسلمان سے سامان نہیں خریدیں گے۔
اس کی نظیر دہلی کا واقعہ ہے کہ ایک سبزی والا کسی ہندو بستی میں جاتا ہے وہاں کے لوگ اس سے اس کا نام پوچھتے ہیں، وہ اپنا نام محمد سالم بتاتا ہے، جیسے ہی اس نے نام بتایا تو وہاں پر موجود ایک شخص نے اس پر لاٹھیاں برسانا شروع کر دیں، یہ کہاں کا قانون ہے؟۔
اب خبر ملی ہے کہ دلی پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایسے ہی ایک جاوید نامی شخص کسی گلی میں ٹیھلا لے کر جاتا ہے لوگ اس سے سبزی خریدنے کے بجائے آدھارکارڈ مانگتے ہیں کہ اپنا ادھار کارڈ دیکھاؤ، جب اس نے ادھار کارڈ نہیں دکھایا تو ایک شخص کہتا ہے کہ آپ کو ادھار کارڈ ساتھ لے کر چلنا چاہیے، اگر آپ کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے تو گلی سے باہر چلے جاؤ، آدھارکارڈ لاو گے تو سبزی بیچو گے۔
جب جاوید کو لگا کہ مسلم سبزی والے سے ہندو سبزی نہیں خریدیں گے تو وہ سنجے بن کر سبزی بیچنے لگا، لیکن پکڑا گیا، کیا یہ ہم سب کے لیے تکلیف دہ بات نہیں ہے کہ کوئی پیھری لگانے والا اپنا نام بدل کر سبزی بیچنے پر مجبور ہو جائے؟ یقیناً تکلیف دہ اور شرم کی بات ہے۔
مسلم سبزی کے بعد اب ہندو سبزی دیکھیے کہ بلند شہر میں ہندو سبزی والوں نے اپنے اپنے ٹھیلوں پر بھگوا جھنڈے لگا لیے جب سبزی فروش رام سنگھ سے جھنڈے لگانے کی وجہ پوچھی گئی تو وہ کہتا ہے ہندوؤں کی وجہ سے لگائیں ہیں اس سے ہمارا سامان زیادہ بکتا ہے۔ وہیں کا ایک اور پیھری والا کہتا ہے کہ جھنڈے اس لیے لگائیں ہیں کہ ہم ہندو ہیں اور اس سے ہماری آمدنی صحیح سے ہو جاتی ہے۔
جب ملک کے اندرونی حالات و معاملات ایسے ہوں کہ ایک دوسرے کے خلاف سخت نفرت پیدا کردی ہو، سبزیوں کو ہندو مسلم سے جوڑ دیا ہو تو وہ ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے؟ کیسے بھائی چارگی کو فروغ مل سکتا ہے؟کیسے ہم ایک ہو کر کورونا جیسی مہلک بیماری سے لڑ سکتے ہیں؟۔
اگر ہمیں کامیاب ہونا ہے تو امن و سکون قائم کرنا ہوگا آپسی اختلاف، مذہبی نفرت کو ختم کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا
انور علی رضوی مصباحی
اسلامک اسکالر؛ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
پتہ : رام پور، یو پی
فون نمبر: 6386463147