محمد اسلام فیضی شعبئہ تعلیمات جامعہ ملیہ اسلامیہ نئ دہلی۔ کا یہ خوبصورت اور سبق آموز مضمون ضرور پڑھیں کورونا وائرس اور مسلمان ہند کی ذمہ داریاں
کورونا وائرس اور مسلمان ہند کی ذمہ داریاں
پوری کائنات رب تعالٰی کی خو بصورت تخلیق ہے ،اسے انسان کی جسمانی اور روحانی ضروریات کو مدنظر رکھ کر مکمل کیا گیا،انسان نے پتھر کے دور سے جدید ترقی یافتہ دنیا کا سفر بڑی تیزرفتاری سے کیا ،مگر اس ترقی کے ساتھ ساتھ مختلف تبدیلیاں بھی نمودار ہوئیں جس نے انسان پر منفی اثرات مرتب کیے۔
جنگیں،کہیں ایٹمی تجربات کبھی زلزلے ،کبھی بارش اور انو کھی بیماریاں انسان پر قیامت بنکر ٹوٹ پڑیں، جس سے لمحوں میں لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے، مگر انسان نے کسی سے کوئی سبق نہیں لیا بلکہ فطرت کے منافی اقدامات کر کے اپنے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بنا۔
حالیہ دنوں میں کرونا وائرس نے دنیا کے 180 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کچھ ہی دنوں میں یہ وائرس ایک سے دوسرے کو لگتے ہوئے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گے۔
اس کی دہشت نے پوری دنیا کو لاک ڈاؤن پر مجبور کر دیا اور جدید سائنسی ایجادات و تجربات کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے ۔بے شک اس نظام کو چلانے والی ہستی سب سے با لادست ہے۔
وضو جہاں جسمانی صفائی کا ذریعہ ہے اسی طرح اس طرح کے وبائی امراض اور نا گہانی آفات جو نہ صرف احتیاطی تدابیر کا تقاضا کرتی ہیں، وہاں آزمائش کی اس گھڑی میں انسانیت بھی ایک امتحان سے گزر رہی ہے ،بلا شبہ موت کا ایک وقت مقرر ہے مگر اپنابچاو کر نا بھی لا زمی قرار دیا گیا ہے
دنیا میں عذاب الہی کی صورتیں ازعلامہ غفران رضا قادری
مشکل کی اس گھڑی میں سب سے زیادہ متاثر وہ ہو رہے ہیں جو دیہاڑی دار ہیں جن کے گھر کا چو لہا اس وقت جلتا ہے جب شام کو وہ کچھ روپے لے کر گھر پہنچتے ہیں ،یعنی اس سنگین صورت حال میں ایک تو اس موذی وائرس کا مقا بلہ کر نا ہے دوسرا بھوک اور افلاس کے ہاتھوں اموات سے بھی بچانا ہے ۔
اس وقت انسان پر ایک آزمائش نازل ہوئی ہے کہ وہ کیا کر تا ہے،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے لیے آسانی پیدا کرے مگر اس کے ساتھ ساتھ بحیثیت انسان بحیثیت مسلمان کچھ معا شرتی ،سماجی اور سب سے بڑھ کر مذہبی طور پر بھی وقت کا تقاضا ہے کہ اپنے بچوں کے ساتھ دوسرے افراد کا بھی بازو بن جائیں ۔
آپ کی وجہ سے اگر کسی کو کچھ بھی نقصان پہنچا خواہ وہ کسی بھی مذہب یا کسی بھی مسلک کا ہو،چاہے وہ آپ کا دشمن ہی کیوں نہ ہواگر وہ بھوکا رہ کر مر گیا تو مان لیجیے کی آپ انسانیت کے دشمن ہیں اور مسلمان کہلانے کے تو بلکل لائق ہی نہیں ہیں ۔
کیونکہ آپ ہم سب کے نبی حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کو بھول گئے ہیں ،جنکے اخلاق،کردار،صداقت ،انصاف ،دیانت اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعریف اس وقت کے سب سے بڑے مخالف ابو سفیان (ایمان لانے سے قبل)ملک شام کے بادشاہ ہرقل کے سامنے تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اور بلخصوص بوڑھوں کا خیال رکھیں۔
بھوک اور بیماری کا کوئی مذہب نہیں ہوتا از جاوید اختر بھارتی
چائینہ سے شروع ہونے والے اس وائرس سے عالمی معیشت کو بہت نقصان پہنچا، ہماری کمیونٹی بھی شدید پریشانی کا شکار ہے۔مارکیٹس میں روزمرہ کی اشیاء میں قلت پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے۔
دکانداروں نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شرمناک طریقے سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جو کہ قابل مذمت ہے اس حوالے سے مسلمانوں کو مثبت کردار ادا کرتے ہوئے برٹش ہیلتھ کی حفاظتی گائڈ لائن پر عمل کرنا ہو گا اورسیز کمیونٹی کو بھی غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
یہ بات یقینی ہے کہ مسافروں ،مزدوروں اور غریب پریواروں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔امید ہے حکومت ہند تارکین وطن کی سہولت کے لیے کوئی راستہ ضرور نکالے گی ۔
عالمی وباء کورونا وائرس سے پوری دنیا میں وسیع پیمانے پر انسانیت ہلاک ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ کب ختم ہوگا خدا ہی بہتر جانتا ہے نفسا نفسی کا دور دورہ ہے اور معاشی میل جول ختم ہو کر رہ گیا ہے۔
اربوں افراد اب خوراک کی تلاش میں نکل پڑے ہیں اگر یہ بحران کچھ عرصہ مزید جاری رہا تو عین ممکن ہے کہ انسان ہی انسان کی خوراک بن جائے جیسا کہ زمانہ قدیم میں ہوتا تھا ۔
جنگلی جانور بھوکے مریں گے تو انسان بھی بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ چاند، سورج ، آسمان اور زمین بنانے والے خالق کی یہ ناراضگی کا اظہار نہیں تو اور کیا ہے ۔
بڑی بڑی طاقتیں اور ان کے بادشاہ اپنے آپ کو سپر پاور سمجھتے تھے مگر چند ہی لمحوں میں خدا وند کریم نے انسان کے بے بس اور مجبور ہونے کا احساس دلا دیا ہے اسی کا ذکر قران پا ک میں بار بار آیا ہے اے انسان تو اپنی تخلیق پر غور کر تو خواہ آسمان کی بلندیوں پر چلا جا یا زمین کی تہہ میں جو وقت تیری موت کا مقرر ہے موت کو تجھے اس وقت گھیر ہی لینا ہے۔
ہم سب غفلت کا شکار تھے اور اس کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے کہ پوری دنیا خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں اجتماعی توبہ کر کے اللہ کی ناراضگی کو دور کر سکتے ہیں ۔
ہمارے اللہ کے حضور مانگنے میں تو دیر لگ سکتی ہے مگر اس کے معاف
کرنے میں کوئی دیر نہیں لگتی ۔معاف کرنا اس کی شان ہے ۔کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر سے اربوں افراد نہ صرف بیروزگار ہو رہے ہیں بلکہ تڑپ تڑپ کر جان بھی دے رہے ہیں۔
پیغمبر خداﷺ کی یہ ہدایت بعینہ آج کی ریاستوں کی طرف سے وبائی بیماری کے وقت اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر کا نچوڑ ھے جسے دنیا میں ’’سینٹ لوئس ماڈل‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس کے تحت متاثرہ لوگوں کو قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ انسانوں کی نقل و حرکت کو کم سے کم کرکے بیماری کو پھیلنے سے روکھا جائے۔
دنیا میں ’’نوول کرونا‘‘ کوئی پہلی وبائی بیماری نہیں بلکہ اس سے پہلی بھی بہت سی وبائی امراض پھوٹے ہیں چودہویں صدی میں دنیا میں ’’طاعون‘‘ کی وباء پھیلی جب تک اس کو کنٹرول کیا جاتا اس نے کچھ ہی عرصہ میں بیس کروڑ انسانی زندگیوں کا خاتمہ کر دیا تھا۔
۔1666 میں برطانیہ میں طاعون سے ایک لاکھ انسان ہلاک ہوئے تھے۔ انیسویں صدی میں ہیضہ کی وباء پھوٹ پڑی تھی جس نے کروڑوں انسانوں کو متاثر کیا تھا
۔۔1950 میں پولیو کی بیماری کی تشخیص ہوئی جس سے اب تک لاکھوں انسان متاثر ہیں اور یہ بیماری اب تک موجود ہے ۔
ٹی بی کو بھی ایک عرصہ تک متعدی بیماری سمجھا جاتا رہا مگر اس کے علاج کی دریافت کے بعد اس کا خطرہ اب کم ہوگیا ہے مگر پھر بھی2018 وہ سال تھا جس میں ٹی بی سے دنیا میں13 لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔
چیچک کا مرض اٹھارہویں صدی میں سامنے آیا تھا لیکن 1950 میں اس نے وبائی شکل اختیار کرلی تھی جس سے دو دھائیوں کے دوران تین کروڑ انسان متاثر ہوئے تھے۔1970 میں اس مرض کی وبائی شکل پر قابو پا لیا گیا تھا۔
۔1918 میں زکام کی شکل میں ’’سپینش انفلونزائ‘‘ پھیل گیا اور بہت بڑے پیمانے پر انسانی ہلاکتیں ہوئیں جن سے یورپ میں دس کروڑ انسان متاثر ہوئے تھے اور امریکہ میں بیس لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے تھے۔
کرونا کا وائرس کوئی ستر سال سے دنیا میں موجود ہے۔ پرندوں اور سمندری وہیل جبکہ زیادہ تر چمگادڑوں میں یہ موجود ہوتا ہے جس میں معمولی سا زکام ہوتا ہے اور انسان جلد ٹھیک ہو جاتا ہے ۔مگر موجودہ وائرس کو ’’نوول کرونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس وائرس کا خوف2019 سے پھیلنا شروع ہوا اور اب رفتہ رفتہ پوری دنیا میں اس کا خوف بڑھ رہا ہے جو اس وائرس کی سب سے مہیب اور جلد پھیلنیےوالی شکل ہے۔
کیا یہی محبت کا صلہ ہے از شعیب رضا نظامی فیضی
حفظ ماتقدم کے طور پر علاج، احتیاط، صفائی، حلال اور پاک خوراک کی ترغیب اسلام نے دی ہے۔ ہر طرح کی بیماریوں کے حوالے سے ماہرین طب کے مشوروں پر عمل کرنا چاہیے۔
انسانی ہمت تدبیر اور اس کا نتیجہ تقدیر ہے مگر اس کے ساتھ حکومت کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ قوم میں عمومی خوف پھیلانے اور علاج معالجے کی سہولیات کیلئے دنیا سے بھیک مانگنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھائے۔
ہم ایک پسماندہ ریاست میں رہ رہے ہیں جس میں زندگی کی دوسری بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔ ایسے میں عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق تمام ضروری اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔
تحریر محمد اسلام فیضی
شعبئہ تعلیمات جامعہ ملیہ اسلامیہ نئ دہلی
mdislamfaizi@gmail.comرابطہ
آن لائن شاپنگ کے لیے ان کمپنیوں کو وزٹ کریں