Home مخزن معلومات کورونا کو بھگانا ہے ہر فرد کو ذمہ دار بننا ہے

کورونا کو بھگانا ہے ہر فرد کو ذمہ دار بننا ہے

0
کورونا کو بھگانا ہے ہر فرد کو ذمہ دار بننا ہے
کورونا-ہر-فرد-کو-ذمہ-دار-بننا-ہے

 کورونا ائرس پوری دنیا میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے مزدوروں غریبوں کی زندگی مشکل سے کٹ رہی ہے اس لیے ہمیں اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے غریبوں کی مدد کرنا لازمی ہے اسی کو بیاں  کرتا ہے آج کا یہ مضمون کورونا کو بھگانا ہے ہر فرد کو ذمہ دار بننا ہے 

کورونا کو بھگانا ہے 

                 کوِڈ ۱۹   پوری دنیا میں آگ کی طرح پھیل رہے،کوروناوائرس نےلوگوں کے اندر دہشت اور خوف وہراس بھر دیا ہے۔

اب تک پورے عالم میں لاکھوں افراد اس مہلک بیماری کی زد میں آچکے ہیں۔ تقریبا بیس ہزار افراد موت کا مزہ چکھ چکے ہیں ۔ چین سے پھیلنے والے اس خطرناک وائرس نے ہنگامہ محشر بپا کردیا ہے۔

تمام متاثرہ ممالک کی حکومتیں اس وبا کی نشر اشاعت کو روکنے کے لیے اوراس پر قابو پانے کے لیےہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ اس وائرس کو پوری دنیا کی انسانیت کے لیے ایک شدید خطرہ کے طور پر دیکھا جارہاہے۔

اسی سنگینی کو دیکھتے ہوئےہمارے ملک ہندوستان میں بھی اس کی روک تھام اور ہندوستانیوں کو اس کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے وزیر اعظم کی طرف سے سخت قدم اٹھایا گیا ہےاور اکیس دن کے لیے پورے بھارت کو لاک ڈاون کردیا گیا ہے۔

اس سے پہلے بائیس مارچ کو جنتا کرفیو کا نفاذ کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے اس نازک وقت سے لڑنے کے لیے تمام لوگوں سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں رہیں ، بلا ضرورت باہر نہ نکلیں۔

آپ کے گھر کی دہلیز ہی آپ کے لیے لکشن ریکھا ہے۔ کسی حال میں کوئی بھی اسے توڑنے کی جسارت نہ کرے۔ ساتھ ہی وزیر اعظم نے اس کے برے نتائج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس پر سختی سے عمل نہیں کیا گیا تو ہمارا دیش اکیس سال پیچھے چلا جائے گااور کئی خاندان کو جان سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔

 کوروناسے لڑنا ہم سب کی ذمہ داری 

                کوروناجیسے خطرناک وبا سے لڑنا اور اسے ہرانا یہ صرف حکومت کے اعلان،ڈاکٹروں کی بے لوث خدمت اور قانونی عملے اور میڈیا کے مجاہدانہ کردار اور کارناموں سےاس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا ہے جب تک ملک کا ہر باشندہ اورہر فرد اس کے لیے اپنا بہتر سے بہتر تعاون پیش نہ کرے۔

ہم سب کو مل کر اس کے خلاف سخت قدم اٹھانا پڑے گا۔ ہمیں اس بات کا پابند بننا پڑے گا کہ چاہے جو بھی ہو، ہم بلا ضرورت نہ تو گھر کی دہلیز پھلانگیں گے اور نہ ہی کسی بھیڑ کا حصہ بنیں گے۔

حکومتی طور پر جو پابندیاں ہم پر عائد کی گئیں ہیں ان پر سختی سے خود بھی کاربند رہیں گے اور دوسروں کو بھی اس بات کی تلقین کریں گے۔

یاد رکھیں! یہ صرف فرد واحد کی لڑائی نہیں ہے بلکہ ملک کے ہر فرد کی لڑائی ہے۔اگر ہم یہ دماغ میں بٹھا لیں کہ جو کچھ کر نا ہے حکومت کو کرنا ہے،ہسپتالوں اور ڈاکٹروں پر ساری ذمہ داریاں چھوڑ دیں تو یقین مانیں،ہم کرونا وائرس جیسے مہلک وبا سے جنگ ہار جائیں گے۔

ہمارے اوپر بھی اس وقت بہت ساری ذمہ داریاں ہیں۔ ہمیں اس سے بچاو اور حفاظت کے لیے جو بھی گائڈلائن جاری کی جارہی ہیں ان پر پوری ایمان داری سے عمل پیرا ہوں۔

مثال کے طور پر ہم ایک دوسرے سے بالکل بھی ہاتھ نہ ملائیں، باربار صابن سے ہاتھ دھوئیں، چھینک یا کھانسی آنے پر اپنے منہ اور ناک پر رومال رکھ لیں، بغیر کسی شرم کے ماسک لگائیں،سماجی دوری بنائے رکھیں۔

 روزانہ نہائیں ۔ گھر کے آس پاس اور خاص کر اندرون خانہ صفائی اور ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔ اکثر لا پروائی کی وجہ سے گھر کےاندرزیادہ آلودگی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس کی وجہ سے نقصان دہ جراثیم اور بیکٹیریا اس گھر کو اپنا مسکن بنالیتے ہیں اور پھر موقع بہ موقع ہمارے جسم پر اثر انداز ہوتےرہتے ہیں۔

لہذا گھر کو خوب صاف رکھیں اور چیزوں کو ترتیب سے رکھیں۔اور سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم افواہوں سے خود بھی دور رہیں اور اس کی نشرواشاعت میں واسطہ نہ بنیں۔

            ہمارے فرائض میں سے ہے کہ ہم اس وقت مذہبی و غیر مذہبی اجتماعات میں جانے سے یقینی طور پر اجتناب کریں۔ جیسے جلسوں،تہواروں،مالز حتی کہ نماز باجماعت سے بھی ممکن ہوتو گھر میں بھی علیحدہ رہنے،کھانے اور سونے کی کوشش کریں۔

خود بھی مصیبت سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔کیوں کہ ہماری طرف سے ایک چھوٹی سی غفلت، بے احتیاطی اور غیر مناسب قدم پورے سماج اور دیش کو تمام تر کوششوں کے باوجودایک بڑی مصیبت میں لاکر کھڑا کر دے گا۔

 سماجی اور قومی کارکنان سے گزارش

               اس بیماری کی وجہ سے اکیس دن کے لاک ڈاون کا حکومتی اعلان کر دیا گیاہے جس کا اکثر حصہ گزر چکا ہے۔اس کو ہر کو ئی ایک اچھا قدم بتا رہا ہے۔

مگر اس لاک ڈاون کی وجہ سے جہاں ملک کی معیشت مزید سست روی کا شکار ہے وہیں پر لاک ڈاون کی مار سب سے زیادہ ان غریب اور مزدور طبقے کے لوگوں پر زیادہ دیکھنے کو مل رہی ہے جو روزانہ کماتے اور کھاتےہیں۔

ان کے یہاں جمع خوری کا کو ئی سرمایہ نہیں ہے۔ بہت سارے مزدوروں کو ایسا بھی دیکھا گیا ہے جوتنہا کما کر اپنے پورے گھر کا پیٹ بھرتے ہیں۔ اس ملک بندی کے دور میں ان کاپورا کا پورا گھرفاقہ کشی کے دن گزارنےپر مجبور ہے۔

حکومت کی طرف سے راحت پیکیج کا اعلان ضرورہوا ہے جوایک راحت بھری خبر ہے۔مگراس کے باوجود بھی بہت سارے افراد ایسے ہیں جن تلک کسی وجہ سے یہ امدادی تعاون نہیں پہنچ پارہا ہے۔ایسے لوگوں کے تئیں جو پریشان حال ہیں،مسافر ہیں یا خوشحال افراد ہوں مگر اپنے دل کی بات اپنی خودداری کے باعث دوسروں سےشیئر نہ کر پاتے ہوں ۔

الغرض ایسے تمام افراد جن کو آپ مصیبت میں مبتلا پائیں ان کے لیے آپ سہارا بنیں اور ان کے راحت وسکوں کا سامان مہیا کریں۔یہی اس وقت سب سے بڑی سماجی خدمت ہے اور انسانی اور قومی ضرورت بھی ۔

کورونا وزیر اعظم اور دِیا  از  ٘محسن رضا ضیائی 

ضرورت مندوں کی بھی عزت کریں

مصیبت اور پریشانی کے وقت میں کسی کی مدد کرنا یقینابہت بڑے ثواب کا کام ہے۔مگر جس کی آپ مدد کر رہے ہیں اس کی تذلیل کرنا نہ تو آپ کا حق ہے اور نہ ہی یہ طریقہ آپ کے لیے سودمند ہوگا۔مگر بد قسمتی کہیے کہ۔

 آج کل لوگوں کی نیت اس کار خیر میں کسی کی مدد کرتے وقت بس اتنی سی ہوتی ہے کہ کسی طرح ہماری شہرت ہوجائے۔مگر ان شہرت کے پجاریوں کو ان غیرت مندوں کی عزت نفس کا بالکل بھی خیال نہیں آتا کہ وہ کس طرح صرف اور صرف پیٹ کے لیے اپنے ضمیر تک سودا کرنے کو مجبور ہیں ۔

سوشل میڈیا اور اخبار کے ورقوں میں سر جھکائے اور چہرہ چھپاتے ہوئے ان بے سہارے کی تصویریں دیکھی جا سکتی ہیں اور ہم ہیں کہ صرف نام ونمود کے لیے اپنے انسان ہونے کے فرض کو فراموش کرکے اپنے ہی کیے ہو ئے پر پانی پھیر رہے ہو تے ہیں۔

 اور ہمیں شہرت کے نشے میں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا ہےکہ وہ بھی انسان ہیں اور ان کی بھی سماج اور معاشرہ میں عزت اور وقار ہے۔ یاد رکھیں! امیری اور سرمایہ داری نہ ہی برتری کی علامات ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے ہمیں ضرورت مندوں اور کمزوروں کو کمتر آنکنے کا کوئی حق پہنچتا ہے۔

وہ بھی انسان ہیں ۔اللہ کی مخلوق ہیں ۔اولاد آدم ہیں ۔ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں متذکرہ اوصاف میں وہ بندگان خدا بھی ہمارے مساوی ہیں ۔

اگرچہ مفلوک الحال ہیں۔امیری اور غریبی اللہ تعالی دیتا ہے ،جسے چاہے امیر بنادے اور جسے چاہے غریب کردے۔اس کی وجہ سے کسی کو ذلیل کرنا چاہیے اور نہ ہی سمجھنا چاہیے۔امداد اور تعاون کرتے وقت ہمیں ہر کسی کی عزت نفس کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیےاور اللہ کی اس عظیم نعمت پر شکر بجا لانا چاہیے کہ اس نے ہمیں اپنے بندوں کی خدمت کے منتخب فرمایا۔

 نعیم الدین فیضی برکاتی 

رانی پور،پورندرپور مہراج گنج(یو۔پی)۔

mohdnaeemb@gmail.com

عورتوں کے حقوق قرآن و سنت نبوی  کی روشنی کی 

Amazon   Flipkart

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here