ہندو راشٹر میں مسلم شب و روز
از قلم: محمد فہیم الدین بجنوری
فرقہ پرست جماعت کے اقتدار میں ہندوستان کے مسائل تنوع، کثرت اور سنگینی کے باوجود “مسئلۂ مسلم” کے حق میں دست بردار ہو گئے ہیں، اب ہمارے یہاں بھک مری ہے نہ غربت، ناخواندگی ہے نہ جہالت، بیماری ہے نہ علاج کی قلت، بے روزگاری ہے نہ مہنگائی، سڑکوں میں گڈھے ہیں نہ تنگی، علاج میں اخراجات نہیں، افراط زر کی رسائی سے والا ہیں، دولت بہہ رہی ہے
بہبودی اسکیموں کا ہجوم ہے، فلاحی ریاست میں دان لینے والا میسر نہیں، خوش حالی کا دور دورہ ہے، اچھے دن آگئے ہیں، رشکِ یورپ و امریکہ بن گئے ہیں، تحریکِ چین و جاپان کہلاتے ہیں، ملک ہر مسئلے سے فارغ فقط مسئلۂ مسلم سے دوچار ہے اور اب اسے بہ ہر صورت اس مسئلے سے نمٹنا ہے۔ہمارے دشمن اس وقت “مسلم مکت بھارت” کے فیصلے کن نعرے تک پہنچ گئے ہیں، اس سنگ میل نے مراحل دیکھے ہیں، یہ خطرناک صورت حال راتوں رات پیدا نہیں ہوئی، بابری مسجد نزاع کے وقت ہندو یہ باور کراتے تھے کہ بس ایک مسجد کا مطالبہ ہے
دوسری کوئی مسجد زد میں نہیں آئے گی، ہمارے بکاؤ مفکرین، عاجل الفکر بہی خواہ اور کوتاہ بین افراد ہاں میں ہاں ملاتے؛ مگر ملت کے دور اندیش رہنماؤں نے متنبہ کر دیا تھا کہ بابری مسجد بڑا بند ہے، اگر یہ بند ٹوٹ گیا تو مساجد پر انہدام کا سیلاب آئے گا، اس وقت یہ تنبیہ زائد سمجھی گئی؛ مگر وقت نے خطرے اور اندیشے کو صحیح ثابت کیا، بابری مسجد طاق نسیان ہوئی اور اب ہر دن نئی مسجد زیر دعوی ہے۔
اس وقت ہندو لیڈر کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ہمیں مسجد اور مدرسہ مکت بھارت چاہیے، یہ باتیں آن ریکارڈ، آن کیمرہ اور ٹیلی ویژن ہر کہی جا رہی ہیں، ہمارے سادہ لوح مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں بعض دیوانوں کی بڑ ہیں؛ وقت ثابت کر دے گا کہ ہندو لیڈروں کے یہ جارح بیانات معانی بھی رکھتے تھے، نیز وہ ان کی ذاتی بکواس نہیں تھی، مقتدرہ کے اشارے پر منظم مہم تھی، آنے والے وقت کی تمہید قائم کی جا رہی تھی، اگر آج میں یہ بات کہوں کہ بھارت میں تمام مساجد توڑنے کی بات کرنے والے ہندو وادی لیڈر سنجیدہ ہیں تو خود ہمارا طبقہ اسے مبالغہ اور توہم قرار دے گا
لیکن یہ وہی خود فریبی ہے جس میں بابری مسجد کے وقت امت مبتلا کی گئی تھی، وقت کا آئینہ دکھا رہا ہے کہ بات بابری تک محدود نہیں تھی۔اس وقت ہندوستان میں یومیہ بنیاد پر مساجد منہدم کی جا رہی ہیں، ان میں صدیوں پرانی مساجد شامل ہیں، سرحدوں پر سیکیورٹی کا بہانہ ہے، سڑکوں پر تنگی کا، ہندو آبادی میں مذہبی ساخت کی تبدیلی کا، مسلم آبادی میں کاغذات کا، ہندوستان میں کاغذات کا اہتمام قدیم دور میں بالکل نہیں تھا، قبضہ اور استعمال ہی سب کچھ تھا، آج وہ صدیوں پرانی مساجد سے دستاویزات کا مطالبہ کرتے ہیں اور نہ ملنے کی صورت میں بلڈوزر حاضر سروس ہو جاتا ہے، پرانی زمینوں کے کاغذات درست نہیں کیے جا سکتے
لہذا ہر مسجد انہدام کی فہرست کا حصہ ہے، جسے اس میں کوئی بھی شبہ ہے وہ مزید زہریلی فضا کا انتظار کرے، ممکن ہے ہماری حیات میں یہ نہ ہو؛ مگر منصوبہ غیر حقیقی ہے یہ ہم تسلیم نہیں کرتے، وہ ایسا چاہتے ہیں، اس کے لیے پرعزم ہیں اور سرگرم عمل بھی۔انھوں نے گہرے غور وفکر کے بعد مساجد و مدارس کو دستاویزات کی کسوٹی پر رکھا ہے؛ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ مسلمان بچاؤ کے لیے عدالتوں میں جائیں گے، جہاں کاغذات ہی حق نطق رکھتے ہیں، یوں وہ مساجد بدست خود سپرد کرنے پر مجبور ہوں گے، ہندوستان میں قدیم مذہبی عبادت گاہیں فقط استعمال پر قائم ہیں، مندروں، گردواروں اور گرجوں کی صورت حال مساجد سے مختلف نہیں، مندروں کا تو خیر اس وقت ذکر ہی کیا، ان کو مقدس استثنا حاصل ہے، پرانے چھوڑیے نئے مندر بھی غیر قانونی ہوتے ہیں
بل کہ آج کے ہندوستان میں صرف وہی مندر مقبول ہیں جو عوامی، سرکاری زمین پر زبردستی بنائے جاتے ہیں، قدیم مندر عملا غیر آباد ہیں۔نئے ہندوستان میں صرف مساجد نشانے پر ہیں، مندر تو سرکاری عبادت گاہ کا درجہ اختیار کر گئے ہیں؛ مگر گردواروں کے ساتھ کوئی تعرض نہیں، کسی ہندو لیڈر کی ہمت نہیں کہ سکھوں کی عبادت گاہ سے کاغذات طلب کر سکے، امت شاہ نے سی اے اے اور این آر سی میں مذہبی امتیاز اور تفریق کی ایسی بنیاد رکھ دی ہے جو ہندوستان کی مذہبی زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کرے گی، لوگ اسے شہریت کی محدود عینک سے دیکھ رہے تھے
مگر یہ بہت گہری اسکیم تھی، اس کے اثرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں اور آتے ہی رہیں گے، مذہبی امتیاز کو باقاعدہ قانون بنانے کے اثرات دور رس نہ ہوں یہ ممکن ہی نہیں، کہاں سی اے اے اور کہاں عبادت گاہوں سے دستاویزات طلبی میں امتیاز؟ مگر یہ ہو رہا ہے اور سب کے سامنے ہو رہا ہے۔اب شتر مرغ والی گنجائش بھی باقی نہیں؛ کیوں کہ ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف مار کاٹ کی باتیں کھلے عام کہہ رہے ہیں، ویڈیوز موجود ہیں، انتظامیہ کے علم میں ہیں، ہتھیار لہرا کر دھمکیاں دی جاتی ہیں، قتل عام کے عزائم علانیہ ظاہر کیے جاتے ہیں
میرا تجزیہ یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام صرف اس لیے رکا ہوا ہے کہ جب وہ فساد کرتے ہیں تو مسلم نوجوانوں کی طرف سے جواب دیا جاتا ہے، گو کہ بعد کی پولیس کارروائیوں میں زندگیاں تباہ ہوتی ہیں؛ مگر وقت کے مردانہ سینے زعفرانی خاکوں سے رنگ چھین لیتے ہیں، یہاں فساد کو روکنے کا سہرا پولیس کے سر نہیں ہے، پولیس تو ان کی دھمکیوں پر خاموش رہتی ہے، یہ امن مسلم جوانوں کی بدولت ہے، جنھوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کے ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں ہے، مجبور ہو کر ہندو فسادیوں نے یہ راستہ نکالا کہ دس بیس کا گروپ بنا کر کسی تنہا مسلمان کو گھیر لیتے ہیں اور جے شری رام بول کر اس کا قتل کر دیتے ہیں، یہ ایک کام وہ بخوبی اور بہ آسانی کر رہے ہیں۔
ہم نو عمری میں ہندو راشٹر کے نعرے سنتے تو خدو خال کا تجسس ہوتا، تازہ ہندوستان نے خدو خال دکھا دیے، جن ریاستوں میں بی جے پی حکومت ہے وہ سب ہندو راشٹر ہیں، وہاں ہندو مذہبی حکومت قائم ہے، ہندو مذہب کا فروغ ان کا نصف کام ہے، باقی نصف وقت وہ اسلام کے تعاقب میں گزارتے ہیں، بی جے پی ریاستوں میں مسلم مخالف چہرے کے لیے مقابلہ جاری ہے، مسجدوں کو گرانے کا مسابقہ ہو رہا ہے، ان حکومتوں کے پاس کوئی کام نہیں ہے، وہ مسجد، مدرسہ، مسلمان اور اسلام تک محدود ہیں۔مسلمانوں پر شکنجہ سخت ہے
قوانین صرف مسلمانوں سے مخاطب ہیں، ہندو سے زیادتی خاص سرخ لکیر ہے، مسلمان ملزم کا فوری طور پر انکاؤنٹر ہوتا ہے، عدالتی کارروائی کو موقع نہیں دیا جاتا، تمام اہل خانہ گرفتار ہوتے ہیں، گھر منہدم کر دیا جاتا ہے، اس علاقے کی مساجد اور مدارس گرادیے جاتے ہیں، پورے مسلم محلے کو ٹارچر کیا جاتا ہے، جمعہ روکنے کی دھمکی دی جاتی ہے، باہر سے ہندو تنظیمیں آکر احتجاج کرتی ہیں، مسلمانوں کو علانیہ دھمکی دیتی ہیں، پولیس کے سامنے قتل عام کی باتیں دہراتی ہیں، ہتھیاروں کے ساتھ مارچ کرتی ہیں، پورے علاقے کو میدان جنگ بنادیتی ہیں، کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔